جسے رہبر سمجھتے ہو، وہ رہزن ہو بھی سکتاہے

بانی پاکستان،رہبر ملت قائد اعظم محمد علی جناح جب کوئٹہ میں رہائش پذیر تھے،تو اُن سے ملاقات کے لیئے ایک دن یحیی بختیار تشریف لائے اور دورانِ ملاقات یحیی بختیار نے قائداعظم کو اپنے کیمرے سے کھینچی ہوئی کچھ تصاویر دکھائیں۔ قائد اعظم کو یحیی بختیار کی کھینچی ہوئیں تصاویر بے حد پسند آئیں اور قائد اعظم نے اُن سے اپنی بھی کچھ تصویریں کھینچنے کی فرمائش کردی۔ دوسرے دن یحیی بختیار، اپنا کیمرہ اور فلیش لے کر قائداعظم کی قیام گاہ اُن کی تصویریں کھینچنے کے لیئے پہنچ گئے۔ اتفاق سے اُس وقت قائداعظم احادیث پر مشتمل ایک کتاب جس کے سر ورق یعنی ٹائٹل ”الحدیث“ تھا،پڑھ رہے تھے۔ یحیی بختیار تصویر کھینچے ہوئے چاہتے تھے کہ وہ قائداعظم کی تصویر ایسے زاویہ سے لیں کہ کتاب کا سرورق بھی واضح طور پر تصویر میں میں آجائے۔ تاکہ تصویر دیکھنے والے ہر شخص کو معلوم ہوجائے کہ قائداعظم مذہبی کتب کا مطالعہ کس قدر شوق اور ذوق سے فرماتے ہیں۔ لیکن قائداعظم، یحیی بختیار کے ارادہ کو بروقت بھانپ گئے اور انہوں نے اپنی تصویر کھنچوانے سے پہلے اپنے ہاتھ میں موجود حدیث کی کتاب اُلٹ کر علیحدہ رکھ دی اور یحیی بختیار کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ”میں ایک مقدس کتاب کو اس قسم کی تشہیر کا موضوع بنانا پسند نہیں کرتا“۔

بانی پاکستان کے مذکورہ طرزِ عمل سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ قائد اعظم، مذہب کو سیاست کے لئے استعمال کرنے سے کس قدر احتیاط اور گریزسے کام لیتے تھے۔دوسری جانب ہمارے ملک میں، الا ماشاء اللہ،تمام سیاست دان ہی اپنی ذاتی تشہیر کے لیئے مذہب کا بے دریغ استعمال کرنے کے خبط میں مبتلا ء ہے۔اگر مذہبی جماعتوں کے قائدین اور سربراہ اپنی سیاست کو چمکانے کے لیئے مذہب کا استعمال کریں تو بات پھر بھی کسی حد تک سمجھ میں آتی ہے۔ کیونکہ ہم اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ ان رہنماؤں کا حلقہ اثر زیادہ تر مذہبی خیالات اور رجحانات رکھنے والے پیروکاروں پر ہی مشتمل ہوتا ہے۔لہٰذا، دینی جماعتوں کے قائدین کے لیئے مذہبی نعروں سے پاک خالص سیاست کرنا مشکل ہی نہیں، کسی حد تک ناممکن بھی ہے۔ لیکن جب اپنی سیاست اور اقتدار کو طول دینے اور اپنے سیاسی حریفوں کو نیچا دکھانے لیئے سیاسی جماعتوں کے قائدین،میدان ِسیاست میں مذہب کا بے دریغ استعمال کرنا شروع کردیں تو پھر سیاست، سماجی و سیاسی جدوجہد سے کئی قدم آگے بڑھ کر حق و باطل کی ایک خوف ناک جنگ بن جاتی ہے۔

واضح رہے کہ سیاست اگر حق و باطل کے معرکہ میں تبدیل ہوجائے تو پھر اس جنگ میں برسرپیکار سیاسی قائدین اپنے اپنے کارکنان کے نزدیک مقدس ہستیاں قرار پاتی ہیں اور جب سیاست دان،عوامی خدمت گار کے بجائے”خدائی خدمت گار“ کی حیثیت اختیار کرلیں تو پھر اُ ن کی انتظامی و سیاسی کارکردگی پرکوئی نقطہ اعتراض یا سوال نہیں اُٹھایا جاسکتا۔جبکہ ”خدائی خدمت گار“بن جانے والے سیاست دان کی بڑی سے بڑی ناکامی بھی سیاسی کامیابی اور اُس کی حاصل کردہ چھوٹی سے چھوٹی کامیابی،ایک فقید المثال سیاسی کارنامہ کہلاتی ہے۔ سادہ الفاظ میں یوں سمجھ لیجئے کہ ”خدائی خدمت گار“ مقبولیت کے سر پٹ دوڑتے گھوڑے پر سوار ہوکر سیاست کے ساتویں آسمان پر جاپہنچتا ہے اور اُس کے حریف عامی سیاست دان زمین پر کھڑے ہوکر بھی اہل ِ زمین کے طعن و تشنیع اور تنقید کا نشانہ بن رہے ہوتے ہیں۔

ویسے تو پاکستانی سیاست میں ابتداسے ہی ہر سیاسی جماعت کے قائد نے اپنے تئیں مذہب کو ذاتی تشہیر اور سیاسی کامیابی کے لیئے بھرپور انداز میں استعمال کرنے کی کوشش کی ہے۔مگر کوئی بھی پاکستانی سیاست دان، دین کا سیاست میں استعمال کر کے اُس مقامِ جلیلہ تک نہیں پہنچ سکا تھا،جہاں آج پاکستان تحریک انصاف کے رہنما عمران خان پہنچ چکے ہیں۔ بظاہر کہنے کو پاکستان تحریک انصاف ایک خالص سیاسی جماعت ہے مگر اس جماعت کے کارکنان اپنے رہنماکے ہر سیاسی نعرے اور موقف پر بالکل ویسے ہی آمنا و صدقنا کہتے ہیں۔جیسے کسی مذہبی جماعت کے پیروکار اپنے رہنما کی کہی گئی ہوئی بات کو حرف ِ آخر سمجھ کر اُس پر لبیک کہا کرتے ہیں۔ بلکہ بعض سیاسی معاملات کی اندھی تقلید میں تو پی ٹی آئی کے کارکنان مذہبی جماعتوں کے پیروکاروں سے بھی ایک قدم بڑھ کر اپنے رہنما کے ساتھ باہم منسلک دکھائی دیتے ہیں۔

مثال کے طو رپر تحریک عدم اعتماد کے بعد پی ٹی آئی نے ایک ملک گیر سیاسی تحریک کا آغاز کیا جس میں سابق وزیراعظم عمران خان نے خاص طور پر ”امر بالمعروف اور نہی عن المنکر“کی قرآنی آیت، جس کا مطلب نیکی کی تبلیغ اور برائی کو روکناہے،کو بنیادی عنوان قرار دیا۔ جس کے بعد سے پاکستان تحریک انصاف کے جملہ کارکنان نے اپنی دانست میں یہ فرض کرلیا ہے کہ اُن کے مخالف جو بھی سیاسی قوت کھڑی ہوگی،وہ سراسر برائی ہے۔لہٰذا،وہ اُسے اپنے زورِ بازوسے روک کر ہی دم لیں گے۔ اَب چاہے اُس کے لیئے اُنہیں کسی بھی قسم کی اخلاقی و سیاسی حدودکو پار کرنا پڑے اور اپنے اِس ہدف کو عوام میں زیادہ سے زیادہ مہمیز دینے کے لیئے تحریک انصاف اپنے ہر جلسہ کا تھیم بھی ”امر بالمعروف“ رکھتی ہے۔

بعض سیاسی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ پاکستان تحریک انصاف مذہبی رجحان رکھنے والے افراد کے ووٹ بنک کوحاصل کرنے کے لیئے پاکستانی سیاست میں مذہب کو ایک سیاسی آلہ کے طور پر استعمال کررہی ہے اور اپنی اِس بات کو درست ثابت کرنے کے لیئے تجزیہ کار،قومی ذرائع ابلاغ میں زیر گردش ایک واقعہ کو بطور دلیل اور مثال بھی پیش کرتے ہیں کہ جس وقت کابینہ اجلاس میں سابق وزیراعظم عمران خان رحمت اللعالمین اتھارٹی بنانے کی منظور ی دے رہے تھے تو دورانِ اجلاس عمران خان کے ساتھ بیٹھے ہوئے لوگوں نے ان سے پوچھا کہ”آپ اسلامی نظریاتی کونسل کے ہوتے ہوئے، اس موضوع پر ایک نئی اتھارٹی کیوں بنا رہے ہیں؟“تو سابق وزیراعظم عمران خان کا فوری جواب تھا کہ ”دیکھیں تحریکِ لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے پاس کتنے لاکھوں کا ووٹ بینک موجود ہے، ہم صرف اس ووٹ بینک کو کیپ چر (اپنی طرف راغب) کرنا چاہتے ہیں“۔جب ایک سیاست دان کی نگاہیں مذہبی جماعتوں کے ووٹ بنک پر مرکوز ہوجائیں تو پھر اُس سیاسی جماعت کی ساری سیاست مذہب کے گرد ہی گھومتی ہے۔جبکہ وہ سیاست دان اپنے کارکنان کے لیئے ایک ایسی مقدس شخصیت بن جاتاہے،جس کے کسی بھی اچھے یا بُرے طرز عمل پر سوال نہیں اُٹھایا جاسکتا۔ایسے سیاست دان کو آپ چاہے کچھ بھی کہہ لیں لیکن قائد اعظم ثانی بہرحال کسی صورت بھی نہیں کہہ سکتے۔کیونکہ قائداعظم محمد علی جناح مذہب کو ذاتی تشہیر کے لیئے استعمال کرنے کے سخت مخالف تھے۔
سیاست نقلی نوٹوں کی طرح دھوکے سے چلتی ہے
جسے رہبر سمجھتے ہو، وہ رہزن ہو بھی سکتاہے

حوالہ: یہ کالم سب سے پہلے روزنامہ جرات کراچی کے ادارتی صفحہ پر 26 دسمبر 2022 کی اشاعت میں شائع ہوا۔

راؤ محمد شاہد اقبال

اپنا تبصرہ بھیجیں