Census

مردم شماری کو کامیاب بنانا ہم سب کی ذمہ داری ہے

حکومت پاکستان کی جانب سے ملک بھر میں پہلی بار ڈیجیٹل مردم شماری کروانے کا فیصلہ صرف اِس لیئے کیا گیا ہے کہ ماضی میں روایتی طریقے سے ہونے والی ہر مردم شماری کے نتائج پر معاشرہ کے مختلف طبقات کی جانب سے سنگین نوعیت کے اعتراضات عائد کردیے جاتے تھے۔ خاص طور پر بعض سیاسی اور لسانی جماعتوں کی جانب سے مردم شماری کرنے والے شمار کنندگان پر یہ الزامات لگائے جاتے تھے کہ وہ مختلف علاقوں میں آبادی کی تعداد میں ہیر پھیر کے مرتکب ہوتے ہیں۔ لہٰذا، حکومت نے دنیا بھر میں مردم شماری کروانے کا سب سے مؤثر اور غیر متنازعہ ”ڈیجیٹل مردم شماری“ کروانے کا فیصلہ کیا۔ مگر افسوس ابھی ڈیجیٹل مردم شماری کا آغاز ہوئے چند دن بھی مشکل سے نہیں گزرے ہیں کہ بعض حلقوں کی جانب ابھی سے ڈیجیٹل مردم شماری پر پیشگی اعتراضات عائد کیئے جانے کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے اور کئی عاقبت نااندیش لوگوں نے تو ڈیجیٹل قومی مردم شماری کو رکوانے کے لیئے عدالت میں دارخواستیں بھی دائر کرنا شروع کردی ہیں۔ جبکہ سندھ گریجوئٹس ایسوسی ایشن نے وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف کے نام ڈیجیٹل قومی مردم شماری 2023 پر اعتراضات پر مبنی ایک اپیل بھی قومی اخبارات میں شائع کروائی گئی ہے۔جس میں اُن سے ڈیجیٹل مردم شماری کو فوری طور پر رکوانے کی استدعا کی گئی ہے۔

جہاں تک سندھ گریجوئٹس ایسوسی ایشن کے ڈیجیٹل قومی مردم شماری پر اُٹھائے جانے والے اعتراضات اور تحفظات کا تعلق ہے تو یقینا اُنہیں نہ صرف حکومت وقت کو توجہ کے ساتھ سننا چاہیے بلکہ اُن کے جو بھی تحفظات بالکل جائز اور درست معلوم ہوں اُنہیں فوری طور پر دُور بھی کرنا چاہیے۔ مثال کے طور پر سندھ گریجوئٹس ایسوی ایشن کو ایک یہ اعتراض ہے کہ گزشتہ برس کے سیلاب کے باعث بے شمار مکانات اور گھر تباہ و برباد ہوگئے اور اُن کے مکین اپنے علاقوں سے در بدر ہیں۔ اُن کا مذکورہ ڈیجیٹل مردم شماری کس طریقہ کار کے تحت انداراج کیا جائے گا؟۔ بلاشبہ یہ ایک ایسا توجہ طلب سوال اور مسئلہ ہے جس کا تسلی بخش جواب معترضین کو ضرور ملنا چاہیئے۔مگر سندھ گریجوئٹس نے ڈیجیٹل مردم شماری کے حوالے جو کئی اعتراضات کیئے ہیں،اُن کا کوئی سر پیر ٹھیک سے سمجھ نہیں آتا۔جیسے مقررہ مدت سے پہلے یعنی دس سال سے پہلی نئی مردم شماری نہیں ہونی چاہیے۔ بھئی اِس شرط پر عمل تو صرف اُسی صورت میں ممکن ہو سکتا تھا کہ جب پرانی مردم شماری کے نتائج کو پوری قوم کی جانب سے تسلیم کرلیا جاتا۔ جب پچھلی مردم شماری کے نتائج ہی متنازعہ ہیں تو پھر اُنہیں درست کرنے کے لیئے حکومت کبھی بھی مردم شماری کروانے کا حق محفوظ رکھتی ہے۔

جبکہ سندھ گریجوئٹس ایسوی ایشن کا یہ اعتراض بھی زیادہ وزن نہیں رکھتا کہ چونکہ صرف 57 فیصد پاکستانیوں کے پاس موبائل فون کی سہولت موجود ہے۔لہٰذا،حکومت کو ڈیجیٹل مردم شماری نہیں کروانا چاہیے تھی۔ یہ اعتراض کرنا فقط اُس وقت درست ہوتا جب ڈیجیٹل خود شماری کا اندراج حکومت کی جانب سے ہر فرد کے لیئے لازمی قرار دیا گیا ہوتا،یا پھر حکومت کی جانب سے تربیت یافتہ شمارکنندہ گھر گھر جاکر قومی مردم شماری کے لیئے اعداد وشمار جمع نہیں کررہے ہوتے۔ یا درہے کہ آن لائن خود شماری آپشنل ہے اور جو لوگ بھی یہ سہولت استعمال نہ کرنا چاہیں تو کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ کیونکہ ادارہ شماریات کے تربیت یافتہ ہزاروں شمار کنندگان یکم مارچ سے یکم اپریل تک گھر گھر جا کر نہ صرف مردم شماری کے کوائف جمع کریں گے بلکہ آن لائن طریقہ کار کے تحت سسٹم میں جمع کردہ کوائف کی تصدیق بھی کریں گے۔ یعنی آن لائن خود شماری کے ذریعے غلط اعدادوشمار مہیا کرنا اِس لیئے ناممکن ہوگا کہ شمار کنندگان ہر شخص کے کوائف کی گھر گھر جا کر اچھی طرح سے تصدیق بھی کریں گے۔

ہماری ناقص رائے یہ ہے کہ چونکہ ڈیجیٹل قومی مردم شماری کا آغاز ہوچکا ہے۔لہٰذا، ضرورت اِس امر کی ہے کہ معاشرے کے مختلف طبقات گھر گھر آنے والے شمارکنندگان کے ساتھ بھرپور تعاون کریں اور اپنی اپنی سطح پر عام لوگوں کوڈیجیٹل قومی مردم شماری میں شرکت کے لیئے بھرپور آگہی فراہم کریں۔ تاکہ ملک بھر میں جاری قومی مردم شماری کے نتائج کے حوالے سے جن خدشات کا پیشگی اظہار کیا جارہا ہے، وہ یکسر غلط ثابت ہوسکیں۔ ویسے بھی ڈیجیٹل مردم شماری کا سارا عمل مکمل ہوئے بغیر اُس کے متوقع نتائج کے حوالے سے بھانت بھانت کے پیشگی تحفظات کا اظہار کرنا کوئی مناسب طرز عمل نہیں ہے۔دراصل کسی بھی جاری عمل یا سرگرمی کے دوران اُس کے سارے طریقہ کار پر اعتراضات اُٹھانے سے عام لوگوں کے ذہنوں میں اُس سارے عمل کے حوالے سے سنگین نوعیت کے شکوک و شبہات پیدا ہونا شروع ہوجاتے ہیں۔ جس کی وجہ سے خدانخواستہ، قومی مردم شماری کرنے والے شمار کنندگان کو بعض علاقوں میں غیر متوقع خطرات کا سامنا بھی کرنا پڑسکتاہے۔

یقینا کسی بھی انسانی سرگرمی کو غلطیوں سے مکمل طور پر پاک اور مبرا قرار نہیں دیاجاسکتاہے۔ اِس لیئے حالیہ جاری قومی خانہ مردم شماری کی سرگرمی مکمل ہونے کے بعد جو بھی تیکنیکی یا انتظامی نوعیت کے نقائص سامنے آتے ہیں۔اُنہیں اگلی بار ہونے والی قومی خانہ و مردم شماری میں دورکرکے درست اور ٹھیک کر لینا چاہیے۔واضح رہے کہ کسی بھی انسانی معاشرہ میں کاملیت کا عمل بتدریج روبہ عمل ہوتا ہے اور صرف ایک بٹن دبا کر سب کچھ چند سیکنڈوں میں درست کرلینا کسی بھی حکومت کے لیئے ممکن نہیں ہوتا۔ ہم تسلیم کریں یا نہ کریں مگر سچ یہ ہی ہے کہ وفاقی ادارہ شماریات اور نادرا نے باہمی اشتراک سے ملک بھر میں پہلی بار ڈیجیٹل قومی و خانہ مردم شماری کا انعقاد یقینی بنا کر ملکی تاریخ میں ایک اہم سنگِ میل عبور کیا ہے۔جس کی من حیث القوم ہم سب کو خوب ستائش کرنی چاہیے اور اُمید رکھنی چاہیے مذکورہ مردم شماری کے نتائج ماضی میں ہونے والی تمام خانہ و مردم شماری سے زیادہ بہتر اور معاشرے کے تمام طبقات کے لیئے یکساں قابل قبول ہوں گے۔

حوالہ: یہ کالم سب سے پہلے روزنامہ جرات کراچی کےادارتی صفحہ پر 03 مارچ 2023 کی اشاعت میں شائع ہوا۔

راؤ محمد شاہد اقبال

اپنا تبصرہ بھیجیں