Five people killed after transformer explodes in Hyderabad

حیسکو قاتل بھی مقتول بھی

پاکستان میں اوّل تو لوڈشیڈنگ کی وجہ سے بجلی آتی ہی نہیں ہے لیکن جب آتی ہے تو عوام کو راہی ملک عدم کا مسافر بناکر ہی دم لیتی ہے۔ ویسے تو بجلی کی ترسیل اور تقسیم کا نظام پورے ملک میں سخت ابتری اور بوسیدگی کا شکار ہے لیکن بجلی کی فراہمی کے نظام کی جو حالت ِ زارسندھ میں ہے اُس کی مکمل تصویر کشی کرنے کے لیئے”تنگی الفاظ“ تحریر کی دسترس سے بھی باہر ہے۔

واضح رہے کہ سندھ میں بجلی کی کئی تقسیم کار کمپنیاں حکومت وقت کی اجازت سے صوبہ بھر میں بجلی کی فراہمی کے لیے مصروف عمل ہیں۔مگر افسوس کی بات یہ ہے ہر کمپنی بدانتظامی، نااہلی اور کرپشن کا گڑھ بن چکی ہے۔ خاص طور حیسکو پاور کمپنی،جس کے پاس حیدارآباد سے لے کر نواب شاہ تک ایک طویل علاقے کو بجلی فراہم کرنے کا انتظام ہے، اپنی تاریخ کے بدترین حالات سے گزر رہی ہے۔ لائن لاسز، بجلی چوری،اووربلنک، اوور ریڈنگ،میٹر چوری، اقربا پروری، سیاسی مداخلت اور بلیک میلنگ سمیت کونسا ایسا جرم ہے جس میں حیسکو حکام منظم انداز میں ملوث نہیں ہیں۔ ابتداء میں حیسکو کا نشانہ زیادہ تر صارفین کی جیبیں ہوتی تھیں مگر گزشتہ چند برسوں سے حیسکونے اپنے صارفین اور ملازمین کی زندگیوں سے بھی کھیلنا شروع کردیا ہے۔

یہ مضمون بھی پڑھیے: بجلی بند ، میٹر چالو۔ ۔ ۔

تازہ ترین الم ناک واقعہ جس نے صوبہ بھر کی عوام کے قلوب کو دہلا کر رکھ دیا، عید کے دوسرے روز پیش آیا ہے، جب حیدرآباد شہر میں لطیف آباد یونٹ 8 کے علاقے میں نصب ٹرانسفر(پی ایم ٹی) پھٹنے سے جلتا ہوا تیل گرگیا تھا، جس کے نتیجے میں کم ازکم 6 معصوم افراد جاں بحق اور دو درجن کے قریب عام افراد اور حیسکو ملازمین شدید زخمی ہوگئے۔یا در رہے حیدرآباد شہر میں ایک ماہ کے قلیل عرصے میں ہونے والا یہ دوسرا واقعہ ہے جس میں حیسکو کے نصب کردہ ٹرانسفر(پی ایم ٹی) کے پھٹنے کی وجہ سے لوگوں پر جلتا ہوا تیل گرا ہے۔حالیہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب حیسکو عملہ ٹرانسفارمر کو ٹھیک کرنے کے بعد اس کو بحال کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔

اہل محلہ کے مطابق حیسکو عملہ بجلی بند کیے بغیر ٹرانسفارمر کی مرمت کرنے کی کوشش کررہا تھا۔حالانکہ مختلف تکنیکی وجوہات کی وجہ سے پہلے بھی حیسکو حکام نے متعدد مرتبہ ٹرانسفارمر کی مرمت کرنے کی کوشش لیکن ٹرانسفر کا تیکنیکی نقص مکمل طور پر دور نہ ہوسکا، جس کی وجہ سے عید کے دوسر روز اس میں ایک مرتبہ پھر خرابی پیدا ہوگئی اور علاقہ مکینوں نے نوٹ کیا کہ تیل ٹرانسفارمر سے ٹپک رہا تھا اور اس کے نتیجے میں انہوں نے حیسکو عملہ کو آگاہ کیا جس پر انہوں نے کہا کہ”اس میں پریشانی کی کوئی بات نہیں ہے۔یہ مسئلہ چھوٹا سا ہے جسے ہم ابھی درست کیئے دیتے ہیں“۔یوں حیسکو ملازمین نے کھمبے میں نصب ٹرانسفر کی مرمت کرنا شروع کردی اور کچھ دیر بعد ہی ایک دھماکہ سے ٹرانسفر پھٹ گیا۔

جس کے نتیجے میں ٹرانسفر کی مرمت کرنے والے حیسکو ملازمین اورکھمبے کے نیچے کھڑے ہوکر نظارہ کرنے والے عام افراد بھی ٹرانسفر سے نکلنے والے کھولتے ہوئے تیل کا نشانہ بن گئے۔ المیہ تو یہ ہے کہ حیدرآباد میں دورانِ مرمت ٹرانسفر کے پھٹ جانے کا یہ کوئی پہلا بدقسمت واقعہ نہیں تھا۔ اس سے قبل 18 جون کو اوڈون سنیما کے علاقے میں بھی ٹرانسفر(پی ایم ٹی) کا تیل لوگوں پر گرنے سے 3 بچے جاں بحق اور چار زخمی ہوگئے تھے۔کتنے افسوس کی بات ہے کہ حیسکو نے ابھی تک سانحہ 18 جون کے متاثرین کے لیے معاوضے کا کوئی اعلان نہیں کیا تھا کہ لطیف آباد میں ایک اور جاں گسل واقعہ پیش آگیا۔

بظاہر اس سانحہ کے متاثرین کی اشک شوئی کے لیئے حیسکو کے بورڈ آف ڈائریکٹرز (بی او ڈی) نے ہر ہلاک شدگان کے لیے فی کس ساڑے 7 لاکھ روپے، شدید زخمی ہونے والوں کے لیے فی کس 5 لاکھ جبکہ کم زخمی ہونے والوں کے لیے فی کس 3 لاکھ روپے معاوضے کی منظوری دی ہے۔لیکن کیا اس پیسے سے جاں بحق اور زخمی ہونے والے افراد کے لواحقین کو قرار مل سکے گا؟۔ یقینا نہیں کیونکہ سب اچھی طرح سے جانتے ہیں حیسکو حکام کی جانب سے امدادی رقم کا اعلان عوامی غیض و غضب کو ٹھنڈا کر نے کی ایک وقتی کوشش ہے۔ جیسے ہی اس ہولناک حادثہ کی یادیں دھندلانے لگیں گی،حیسکو اپنی پرانی روش پر پھر سے لوٹ آنے میں لمحہ بھر کی تاخیر نہیں کرے گا۔ ویسے بھی اَب حیسکو کی جانب سے اعلان شدہ رقم کے حصول میں لواحقین کو حیسکو دفاتر کے چکر کاٹ کر جتنی ذلت کاسامنا کرنا پڑے گا،اُس کے بعد غالب امکان یہ ہی ہے کہ لواحقین امدادی رقوم کے حصول سے از خود ہی دستبردار ہوجائیں گے۔

ستم بالائے ستم تو یہ ہے کہ حیسکو کے اعلیٰ حکام کی جانب سے حیسکو کے اُن ملازمین کو ہی واقعہ کا ذمہ دار ثابت کرنے کی کوشش کی جارہی ہے،جو بے چارے ٹرانسفر کی مرمت کے دوران جاں بحق یا زخمی ہوچکے ہیں۔ دراصل حیسکو اس سارے معاملے کو اپنے ملازمین کی”مجرمانہ غفلت“قرار دے کر اپنے افسران بالا اور اعلیٰ قیادت کو صاف بچانے کا قوی فیصلہ کرچکاہے۔ حالانکہ اگر سیاسی دباؤ سے بالاتر ہوکر غیر جانب دارانہ تحقیقات کروائی جائیں تو عین ممکن ہے کہ انکشاف ہوکہ ٹرانسفر کی مرمت کے دوران جاں بحق ہونے افراد حیسکو کے مستقل ملازمین ہی نہ نکلیں۔ کیونکہ عرصہ دراز سے حیسکو کا یہ وطیرہ رہا ہے کہ لائن مین کا خطرناک کام کرنے کے لیئے ٹھیکے پر معمولی جرت پر نجی ملازمین کی خدمات حاصل کرلیتاہے۔ جبکہ حیسکو کے اصل لائن مین یونین بازی میں مصروف رہتے ہیں یا پھر گھر بیٹھ کر سرکار سے بھاری تنخواہیں اور دیگر مراعات وصول کرتے رہتے ہیں۔ کچھ عرصہ قبل نواب شاہ میں حیسکو کا ایسا ہی ایک نجی ملازم ٹرانسفر کی مرمت کے دوران بجلی کی تاروں میں لٹک کر جاں بحق ہوچکا ہے۔ چونکہ وہ شخص حیسکو کا باقاعدہ ملازم نہیں تھا،اس لیے اُس کے لواحقین کو مرحوم کے کفن دفن اور اہل خانہ کی کفالت کے لیئے بھی علاقے کے مخیر اور اہل ثروت افراد سے مدد کی بھیک مانگنا پڑی تھی۔

سچی بات تو یہ ہے کہ حیسکو بجلی کی تقسیم کار کمپنی کے بجائے مکمل طور پر ایک ”سیاسی پارٹی“ بن چکا ہے۔یعنی حیسکو پر سندھ کی چند بڑی سیاسی جماعتوں سے ہمدردی اور تعلق رکھنے والے افراد کی مکمل اجارہ داری ہے اورحیسکو میں کام کرنے والے یہ ہی وہ”سیاسی ملازم“ ہیں جو اپنے سیاسی متعلقین اور کارکنان کو نوازنے کے لیے جان بوجھ کر بجلی چوری کرواتے ہیں۔ اگر پاکستان بھر میں کام کرنے والی بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے اعدادو شمار اکھٹے کیئے جائیں تو کچھ بعید نہیں کہ ہے ملک کی سب سے بڑی بجلی چور کمپنی حیسکو ہی نکلے۔ واضح رہے کہ حیسکو کی چھتری تلے بجلی چوری کے واقعات میں عام عوام نہیں بلکہ سیاسی خواص ملوث ہیں۔ کیا وفاقی حکومت حیسکو کو لگام ڈال سکتی ہے، یہ وہ سوال ہے جس کا جواب حیسکو صارفین کو ایک مدت سے درکار ہے۔

حوالہ: یہ کالم سب سے پہلے روزنامہ جرات کراچی کے ادارتی صفحہ پر 29 جولائی 2021 کی اشاعت میں شائع ہوا۔

راؤ محمد شاہد اقبال
Latest posts by راؤ محمد شاہد اقبال (see all)

اپنا تبصرہ بھیجیں