Feudalism

سندھ میں وڈیرہ سسٹم کے طاقت ور مظاہرے

سندھ میں برسوں سے جاری وڈیرہ شاہی نظام کا ایک شکار، ابھی کچھ عرصہ قبل ہی ناظم جوکھیوبنا تھا، لیکن ہم اسے آخری شکار اس لیئے نہیں قرار دے سکتے کہ”وڈیرا سسٹم“ سندھ بھر میں اس قدر مضبوط ہے کہ اسے صرف ناظم جوکھیو کو انصاف دلانے کی دن رات دہائیاں دے کر ختم نہیں کروایا جاسکتا۔ بلکہ یہ کہنا عین قرین قیاس ہوگا کہ ناظم جوکھیو کے قتل کے بعد سندھ بھر میں ”وڈیرا سسٹم“ کے خلاف ہونے والے نفرت آمیز عوامی ردعمل سے متاثر ہوکر جن سادہ لوح افراد نے یہ اُمید باندھ لی تھی کہ سندھ میں وڈیرا سسٹم کے دن گنے جاچکے ہیں، یقینا وہ تمام لوگ احمقوں کی جنت میں ہنسی خوشی رہ رہے ہوں گے۔ یہ نتیجہ ہم اس لیئے بھی اخذ کر نے پر مجبور ہیں سندھ بھر میں وڈیرا شاہی نظام نہ صرف آج بھی پوری طرح سے مضبوط ہے بلکہ جگہ جگہ متحرک اور کام کرتا ہوا کھلی آنکھوں سے دیکھا بھی جاسکتاہے۔ ناظم جوکھیوکے قتل پر ذرائع ابلاغ کا شور شرابہ اپنی جگہ، انسانی حقوق کی تنظیموں کے اونچے اونچے راگ، راگنیاں اپنے مقام پر ہیں۔جبکہ سوشل میڈیا پر جنم لینے والی وقتی احتجاجی اُبال اور طوفان کی طاقت سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا۔

لیکن یہ سب مل کر بھی ”وڈیرا سسٹم“ کے سامنے اس قدر بے بس ہیں کہ اس کا ایک بال بھی بیکا نہیں کرسکتے۔اس کا تھوڑا بہت اندازہ اس تازہ ترین خبر سے لگایا جاسکتاہے۔جس کے مطابق ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ملیر کی عدالت نے ناظم جوکھیو قتل کو دہشت گردی قرار دیتے ہوئے 5ملزمان کی ضمانتیں منسوخ کردیں اور تحریری فیصلہ جاری کر تے ہوئے ریمارکس دیئے کہ”ملزمان نے قتل معاشرے میں خوف اور برادری میں دھاک بٹھانے کیلئے کیا،عدالت کا ماننا ہے یہ کیس دہشت گردی کے زمرے میں آتا ہے۔ لہٰذا یہ عدالت اب ملزمان کی درخواست ضمانت کا فیصلہ نہیں کرسکتی ہے۔ جوڈیشل مجسٹریٹ کیس کے چالان پر آزادانہ طور پر فیصلہ کریں۔ ملزمان کو دی گئی عبوری ضمانتیں منسوخ کی جاتی ہیں“۔ لیکن ادھر ناظم جوکھیو قتل کیس میں ملوث ملزمان کی ضمانت مسترد ہوئی اور اگلے ہی فیصلہ کن لمحات میں ضمانت منسوخی پر پانچوں ملزمان عدالت سے فرار ہو گئے۔

مگر المیہ یہ نہیں ہے کہ ناظم جوکھیو قتل کیس میں نامزد ملزمان ضمانت منسوخ ہونے پر فرار ہوگئے بلکہ لطیفہ تو یہ ہے کہ معزز عدالت میں رونما ہونے والے اس واقعہ پر جب سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقو ق نے ناظم جوکھیو قتل کے پانچ ملزمان کے فرار ہونے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ”یہ پوری قوم کے منہ پر طمانچہ ہے“۔تو اس کے جواب میں آئی جی سندھ نے قائمہ کمیٹی کو آن لائن بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ”عدالت نے ان افراد کی گرفتاری کا کہا نہیں تھا، جن لوگوں کی ضمانت منسوخ ہوئی وہ ہمیں درکار ہی نہیں تھے جب ثبوت ہی نہیں تو ان کو گرفتار کیوں کریں۔ علاوہ ازیں تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ اِن5ملزمان کو شواہد کی عدم دستیابی پر پہلے ہی تفتیش سے فارغ کر دیا تھا“۔یہاں ہم یہ توخواب و خیال میں بھی تصور نہیں کرسکتے کہ آئی جی سندھ پولیس نے جو کچھ بھی قائمہ کمیٹی کو آن لائن بریفنگ میں بتایا اُس میں سے کچھ حقیقت کے برخلاف ہوگا۔ کیونکہ آئی جی سندھ کی قابلیت، ایمان داری اور فرض شناسی کی تو ایک دنیا قائل ہے۔ اس لیئے سب سے مستند تو وہ ہی ہے جو آئی جی سندھ نے سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کے گوش گزار کیاہے۔

دراصل یہاں ”وڈیر ا سسٹم“ کی انتظامی کارستانی ملاحظہ کے لائق ہے کہ اُس نے کس طرح سے ایسے ایسے بے گناہ افراد کو بھی ناظم جوکھیو قتل کیس میں بطور ملزم نامزد کروادیا کہ جن کا اس کیس سے دور دور تک کوئی لینا دینا بھی نہیں ہوگا۔ دراصل وڈیراشاہی نظام کا یہ پرانا طریقہ واردات رہا ہے کہ وہ ایک وڈیرے کے خلاف بننے والے مقدمے میں پورے پورے گاؤں کو بھی اُس کے ساتھ کمال انتظامی مہارت سے ایف آئی آر میں شامل کروالیتی ہے۔ جس کی وجہ سے عدالت اور تفتیش کاروں کے لیئے اَن گنت ملزمان میں سے حقیقی مجرم کا سراغ لگانا ایک ایسا کارِ محال بن جاتاہے کہ جیسے کسی شخص کے لیئے وسیع و عریض صحرامیں سوئی تلاش کرنے کی ذمہ داری سونپ دی جائے۔ ناظم جوکھیو قتل میں بھی ”وڈیرا سسٹم“ کی جانب سے معزز عدالت اور تفتیش کاروں کو کچھ ایسے ہی مشکل امتحان میں مبتلا کردیا گیا ہے۔

دوسری جانب اگر بالفرض محال کسی طاقت وڈیرے کی موٹی تازی گردن تک قانون کے ہاتھ پہنچ بھی جائیں تو اسے جیل کی سلاخوں کے پیچھے منتقل کرنے کے بجائے علاج معالجہ کے نام پر انتہائی نگہ داشت کے لیئے مستقل طور پر ہسپتال منتقل کردینا بھی سندھ میں ایک معمول کا واقعہ سمجھا جاتاہے۔ ابھی رواں ہفتے ہی کراچی میں بااثر قیدی جیل کی بجائے اسپتالوں میں رکھنے کا نیٹ ورک موجود ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔اس بابت تفتیش کرنے والے اعلیٰ سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ با اثر قیدیوں کو شہر کے کم از کم پانچ نجی اور تین سرکاری اسپتالوں میں رکھا جاتا رہا ہے۔ کراچی کے نجی اسپتالوں میں مالدار اور بااثر قیدیوں کو رکھا جاتا ہے جبکہ ماضی میں چند دیگر نجی اسپتالوں میں بھی بااثر قیدیوں کو رکھا جاتا رہا ہے۔ شہر کے جن تین سرکاری اسپتالوں میں بھی بااثر قیدیوں کو لمبے عرصے تک رکھنے کا انکشاف ہوا ہے، اُن میں این آئی سی وی ڈی، جناح اور سول سپتال شامل ہیں۔

تاہم بااثر قیدیوں کو جیل سے نجی اسپتال میں رکھنے پر وزیراعلی سندھ کے حکم پرسینئر سپرٹینڈنٹ کراچی سینٹرل جیل محمدحسن سہتو کو معطل کردیا گیا ہے اور محکمہ سروسزجنرل ایڈمنسٹریشن اینڈ کوآرڈی نیشن نے ان کی معطلی کا نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے حسن سہتو کو محکمہ داخلہ میں رپورٹ کرنے کا بھی حکم دیا گیا ہے۔واضح رہے کہ وزیراعلی سندھ کے حکم پر بااثر قیدیوں کو جیل سے اسپتال میں رکھنے کا معاملے پر ایڈیشنل سیکریٹری جیل خانہ جات محکمہ داخلہ تحقیقات کررہے ہیں،جس کی مفصل رپورٹ بعد ازاں وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ کو فراہم کرنے کا عندیہ دیاگیا ہے۔ مگر سوال پھر وہی ہے کہ کیا اس سنگین معاملے پر وزیراعلیٰ سندھ کچھ کر سکیں گے؟یا ”وڈیرا سسٹم“اس بار بھی انتظامی محکموں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی آنکھوں میں دھول جھونکنے میں کامیاب رہے گا؟۔یقینا”وڈیراسسٹم“ کا یہ جادوئی مظاہرہ بھی دیکھنے کے لائق ہوگا۔

حوالہ: یہ کالم سب سے پہلے روزنامہ جرات کراچی کے ادارتی صفحہ پر 17 جنوری 2022 کی اشاعت میں شائع ہوا۔

راؤ محمد شاہد اقبال
Latest posts by راؤ محمد شاہد اقبال (see all)

اپنا تبصرہ بھیجیں