local bodies polls in February

سندھ میں بلدیاتی انتخابات کس اصول کےتحت ہوں گے؟

جمہوریت کے ثمرات اُس وقت تک عام عوام تک پہنچ ہی نہیں سکتے،جب تک کہ کسی ملک میں مستحکم بلدیاتی نظام حقیقی معنوں میں قائم نہیں کردیا جاتا ہے۔ سادہ الفاظ میں یوں سمجھ لیجیے کہ جمہوریت کی بنیادی اساس ہی بلدیاتی نظام پر استوار ہوتی ہے۔لیکن کتنی عجیب بات ہے کہ ہمارے ہاں! ہر جمہوریت پسند سیاسی جماعت اور جمہوریت کی راہ میں جان و مال کی قربانی دینے کے بلند و بانگ دعوے کرنے والے تمام سیاسی رہنما ہمہ وقت ”جمہوریت“ کا راگ تو ضرور الاپتے ہیں، لیکن جب کبھی اِن کے سامنے غیر جانب دارانہ اور منصفانہ بلدیاتی نظام نافذ کرنے کا مطالبہ رکھ دیا جائے تو پھر ان سب کی مجرمانہ خاموشی دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے۔

یہ مضمون بھی پڑھیے: ایف آئی آر کے خلاف سندھ حکومت کی قانونی کارروائی

شاید یہ ہی وجہ ہے پاکستان میں جب بھی طاقت ور بلدیاتی نظام قائم کرنے کا خواب شرمندہ تعبیر ہوا ہے، اُس وقت بظاہر ایک آمر کی حکومت تھی۔ جبکہ جمہوری ادوار میں برسراقتدار کون سی ایسی جماعتوں کا نام لیا جائے،جنہوں نے بلدیاتی نظام کے نفاذ کی راہ میں حتی المقدور مختلف حیلوں بہانوں سے آئینی،قانونی اور سیاسی روڑے اٹکانے کی کامیاب کاوش اور کوشش نہ کی ہو۔ حالانکہ اِن میں بعض سیاسی جماعتوں کا تو بنیادی دعوی ہی یہ رہا ہے کہ ”وہ اختیارات کو نچلی سطح تک پہنچانے کا پختہ عزم و ارادہ رکھتی ہیں“۔ مگر جب منصب اقتدار انہیں حاصل ہوتاہے تو اِ ن جماعتوں کے رہنما اور قائدین بلدیاتی نظام کے نام سے بھی ایسے بدکنے لگتے ہیں کہ جیسے کسی نے اُ ن کے سامنے مثالی جمہوری عہد میں آمریت کا کوئی ”کالا قان“ نافذ کرنے کی بات چھیڑ دی ہو۔

کہنے کو گزشتہ آٹھ برس سے پاکستان میں جمہوریت کا راج سنگھاسن اپنے پورے طمطراق سے قائم ہے اور جمہوریت کے پروردہ جماعتیں حصہ بقدر جثہ کے ”انتخابی فارمولے“ کے تحت اقتدار کے مزے بھی لوٹ رہی ہیں۔مگر افسوس کی بات یہ ہے کوئی بھی برسراقتدار سیاسی جماعت، بلدیاتی نظام اپنے علاقے میں قائم کرنے میں راضی بہ رضا دکھائی نہیں دیتی۔ پنجاب میں اگر تحریک انصاف بلدیاتی انتخابات کروانے میں لیت و لعل سے کام لے رہی ہے تو ماشاء اللہ سے صوبہ سندھ میں پاکستان پیپلزپارٹی بھی کسی ایسے آئینی سقم کی تلاش میں گزشتہ دس، بارہ سال سے سرگرداں ہے کہ جس کا سہارا لے کر بلدیاتی انتخابات کے جھنجھٹ میں پڑنے سے ہی گلو خلاصی حاصل کرلی جائے۔

لیکن دوسری جانب مصیبت یہ ہے کہ عدالت عالیہ، سندھ حکومت کو جلدازجلد بلدیاتی انتخابات کروانے کا حکم صادر فرماچکی ہے تو وہیں الیکشن کمیشن آف پاکستان بھی ملک بھر کی طرح صوبہ سندھ میں بھی بلدیاتی انتخابات آئندہ چند ماہ میں کروانے پر کمربستہ دکھائی دیتا ہے۔ ایسی صورت حال میں سندھ حکومت کی جانب سے جلد ازجلد سندھ بھر میں بلدیاتی انتخابات کروانے کا اعلان پیپلزپارٹی کی فطری جمہوری خواہش سے زیادہ آئینی و قانون مجبور ی زیادہ لگتی ہے۔ بہرحال بلدیاتی انتخابات کا انعقاد،دل سے کروایا جائے یا بے دلی سے،ہوں گے تو وہ بلدیاتی انتخابات ہی۔ اس لیئے صوبہ سندھ میں آئندہ منعقد ہونے والے بلدیاتی انتخابا ت کے متعلق یہ سوال انتہائی اہم ہے کہ وہ کیسے ماحول،کس اصول اور کن خدوخاول کے مطابق منعقد کیئے جائیں گے؟۔

اُصولی طور پر یہ اُمور پاکستان پیپلزپارٹی اور اپوزیشن جماعتوں کو باہمی طو ر پر مل جل کر سندھ اسمبلی میں بہت پہلے طے کرلینے چاہئے تھے۔ مگر یہاں مصیبت یہ ہے کہ سندھ حکومت تو رہی، ایک طرف، بدقسمتی سے سندھ اسمبلی میں موجود دیگر اپوزیشن جماعتوں کو بھی بلدیاتی انتخابات کی کوئی خاص پرواہ نہیں ہے۔یعنی اَب تازہ ترین صورت حال یہ ہے کہ سندھ حکومت کی جانب سے بلدیاتی انتخابات کروانے پر مکمل طور پر آمادگی تو ظاہر کردی گئی ہے،لیکن کیا یہ بلدیاتی انتخابات جمہوری اُمنگوں کے عین مطابق ہوں؟۔ یقینی طور پر کچھ یقین سے نہیں کہا جاسکتا۔ بہرحال غیر ضروری سیاسی آپا دھاپی میں ایک اچھی خبریہ ضرور سننے کو ملی ہے کہ امیرجماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے جماعت اسلامی کی طرف سے وزیر اعلیٰ سندھ کوبلدیاتی نظام میں اصلاحات سے متعلق اپنی تجاویز ارسال کردی ہیں۔

امیر جماعت اسلامی کراچی کی جانب سے وزیراعلی سندھ سید مرادعلی شاہ کو بھیجی گئی تجاویز میں بلاشبہ کئی نکات انتہائی معنی خیز ہیں۔ مثال کے طور انہوں نے تجویز دی ہے کہ ”بلدیاتی ایکٹ میں کراچی کو میٹر و پولیٹن کارپوریشن کے بجائے میگا سٹی گورنمنٹ کا درجہ دیا جا ئے،میئر اور ڈپٹی میئر کا انتخاب بالغ رائے دہی کی بنیادپر براہ راست کروایا جائے،کے ڈی اے،کے ڈبلیو ایس بی،ایم ڈی اے،کے ڈی اے سمیت دیگر ادارے میگا سٹی گورنمنٹ کے حوالے کیے جا ئیں،موٹر وہیکل ٹیکس،جائیداد منتقلی ٹیکس،غیر منقولہ جائیدا ٹیکس،پراپرٹی ٹیکس سمیت دیگر ٹیکسز جمع کر نے کا اختیار بھی میگا سٹی گورنمنٹ کو دیا جائے۔سٹی پولیس اور ٹریفک پولیس کو بھی میگا سٹی گورنمنٹ کے ماتحت کیا جائے۔نیز صوبے میں تمام شہر وں کو بھی بلدیاتی طور بااختیار بنایا جا ئے اور ہر ضلع کیلئے ڈسٹرکٹ میونسپل کمیٹی کا نظام ختم کیا جائے۔ جبکہ کراچی جو 32سب ڈویژنز پر مشتمل ہے، یہاں ٹاؤن کا نظام نافذ کیا جائے اور میگا سٹی گورنمنٹ میں ٹاؤن کو نسل کو10 سے 15 ہزار کی آباد ی کے لحاظ سے تقسیم کیا جائے،تاکہ تمام مسائل نچلی سطح پر بہترین طریقے سے حل ہوں سکیں“۔

حافظ نعیم الرحمن نے مزید یہ تجاویز بھی دی ہیں کہ”بلدیاتی ایکٹ کی حدود میں شامل محکمے سٹی گورنمنٹ کے اختیار میں ہونے چاہئیں اور سول ڈیفنس، ماہی گیری،سماجی بہود،انفارمیشن ٹیکنالوجی،فنی تعلیم،ہاسپٹل،چھوٹے،بڑے کالج،ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن،ضلعی سڑکوں وعمارتوں،ماس ٹرانزٹ سسٹم، انڈسٹریل اسٹیٹ،آئی ٹی پارکس سمیت دیگر محکمے 2021میں بلدیات کے ماتحت تھے،اب انہیں میگا سٹی گورنمنٹ کے ماتحت کر دینا چاہیے۔ نیزمیگا سٹی گورنمنٹ کومختلف اداروں میں 17گریڈ سے اوپر سمیت تمام ملازمین کی تقرر ی تبادلوں کا اختیار بھی ہونا چاہیے۔

جبکہ طے شدہ فارمولہ 2002 کے مطابق،کراچی کے لیے ضلع آکٹرائے ٹیکس میں اصل حصہ بحال کیا جائے،مختلف کونسلوں سے صوبائی مالیاتی کمیشن (PFC) کے اراکین، حکومت کی طرف سے نامزد نہیں بلکہ متعلقہ کونسلوں سے منتخب ہونے چاہئیں،شہری کونسل کے منتخب اراکین کو صوبائی مالیاتی کمیشن کی طرح صوبائی لوکل گورنمنٹ کمیشن میں بھی نمائندگی دی جانی چاہیے،سندھ کچی آبادی بورڈ میں کونسلز کے منتخب اراکین کی نمائندگی ان علاقوں کی آبادی کے تناسب سے رکھی جائے،سٹی پولیس کے انچارج سمیت کراچی میگا گورنمنٹ کے محکموں کے سربراہوں کی سالانہ کارکردگی کی رپورٹیں میگا سٹی گورنمنٹ کے میئر کے دفتر کے زیر اہتمام تیار ہوں، کراچی شہر کی زمینوں سے تمام محصولات، ٹیکس، جرمانے وغیرہ کی وصولی میگا سٹی گورنمنٹ کو واپس کی جائے،مذکورہ بالا مجوزہ اصلاحات کی روشنی میں یہ ایکٹ تبدیل کیا جانا چائیے“۔

یہ تو ہم نہیں کہہ سکتے کہ امیر جماعت اسلامی کراچی کی جانب سے پیش کی گئی تمام تجاویز لازماً بلدیاتی نظام کا حصہ ہونا چاہیئے لیکن اتنا ضرور کہا جا سکتاہے اگر وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ اِن پیش گئی تجاویز پر صرف جماعت اسلامی ہی سے نہیں بلکہ دیگر سیاسی جماعتوں کے ساتھ بھی مشاورت کا آغاز کریں تو یقینا اِن تجاویز میں سے ضرور ایسے نکات نکل آئیں گے، جنہیں اگر آئندہ بلدیاتی نظام کا حصہ بنالیا جائے تو یقیناسندھ میں قائم ہونے والے بلدیاتی نظام ملک کے دیگر حصوں میں قائم ہونے بلدیاتی نظام کے مقابلے میں زیادہ طاقت ور، مفید اور کارآمد ثابت ہوسکتاہے۔ ویسے بھی صوبہ سندھ کے آئندہ بلدیاتی انتخابات میں جیتنے والوں کو اکثریت کا تعلق پاکستان پیپلزپارٹی سے ہی ہوگا۔ اس لیئے صوبہ سندھ میں ایک طاقت اور مضبوط بلدیاتی نظام سب سے زیادہ سندھ حکومت اور پاکستان پیپلزپارٹی کو ہی سندھ میں مزید مستحکم کرنے کا باعث بنے گا۔

حوالہ: یہ کالم سب سے پہلے روزنامہ جرات کراچی کے ادارتی صفحہ پر 18 نومبر 2021 کی اشاعت میں شائع ہوا۔

راؤ محمد شاہد اقبال

اپنا تبصرہ بھیجیں