سیاچن محاذ پرنئی دہلی کی بڑھتی ہوئی مشکلات

دنیا کے سب سے بلند ترین اور یخ بستہ محاذ ِ جنگ سیاچن سے افواج بلانے کی بات تو دنیا نے سب سے پہلے پاکستان کے سفارتی حلقوں کی جانب سے سنی تھی اور پاکستانی حکام نے مختلف عالمی فورمز پراپنے اس دو ٹوک موقف کو اتنی بار دہرایا تھاکہ بالآخر عالمی ماحولیات کے تحفظ کے ذمہ دار ادارے بھی یہ بات اچھی طرح سمجھ گئے کہ سیاچن گلیشئر پر تما م تر عسکری مہم جو ئی کا اگر کوئی ایک ملک مجرم قرار دیا جاسکتاہے تو وہ صرف اور صرف بھارت ہے۔ جبکہ پاکستانی افواج اپنے ملک کی سرحدکے دفاع کے لیئے بحالتِ مجبوری سیاچن پر موجود ہیں۔ شاید یہ ہی وجہ ہے کہ گزشتہ چند برسوں میں جیسے جیسے عالمی ماحولیات کی صورت حال دگرگوں ہونے کی خبریں تواتر کے ساتھ عالمی ذرائع ابلاغ پر آنا شروع ہوئی،ویسے ویسے عالمی اداروں کی جانب سے بھی بھارت پر دباؤ بڑھنا شروع ہوگیا کہ وہ اپنی افواج کو سیاچن گلیشئر سے نیچے اُترنے پر مجبور کرے۔ یہ اس دباؤ کی انتہائی صورت ہی ہے کہ گزشتہ ہفتے بھارتی افواج کے سربراہ نے سیاچن گلیشئر سے بھارتی اور پاکستانی افواج واپس بلانے کی پاکستانی تجویز کے جواب میں پہلی بار مثبت مگر مشروط جواب دیتے ہوئے ہوے کہاہے کہ ”اگر پاکستان بھارت کی پیش کردہ شرائط کومن و عن تسلیم کرلے تو بھارت سیاچن سے اپنی افواج کو واپس میدانی علاقوں کی بیرکوں میں بلوالے گا“۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ بھارت نے سیاچن گلیشئر سے فوجی انخلاء کی پاکستان کی طرف سے پیش کی گئی تجویز کو قبول کرنے کے لیئے جو شرائط پیش کی ہیں، وہ پاکستان کے لیئے کسی بھی صورت قابل ِ قبول نہیں ہوسکتیں۔مثال کے طور پر بھارتی فوج کے سربراہ جنرل منوج مکندانر نے اپنی سالانہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ”ہم سیاچن کو غیر عسکری بنانے کے مخالف نہیں ہیں، لیکن اس کے لیے پیشگی شرط یہ ہے کہ پاکستان کو ایکچوئل گراؤنڈ پوزیشن لائن یعنی اے جی پی ایل کو قبول کرنا ہو گا“۔

واضح رہے کہ ایکچوئل گراؤنڈ پوزیشن لائن دراصل وہ لکیر ہے جو سیاچن گلیشیئر پر پاکستانی اور انڈین افواج کی موجودہ پوزیشنز کی نشاندہی کرتی ہے۔ 110 کلومیٹر طویل اس لائن کا آغاز پاکستان اور انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کو تقسیم کرنے والی لائن آف کنٹرول کے شمال میں آخری پوائنٹ سے ہوتا ہے۔ تاہم پاکستان کے لیے یہ مطالبہ منظور کرنا اس لیئے ممکن نہیں ہے کہ سیاچن گلیشئر مکمل طور پر پاکستانی ملکیت ہے اور اس گلیشئر کے جس علاقے کو بھارت اپنے قبضہ میں رکھ کر مستقل سرحد قرار دینے پر بضد ہے۔ یہ ہی پاکستانی علاقہ تو بھارت نے 1984 میں سیاچن گلیشئر پر اپنی افواج اُتار کر حاصل کیا تھا۔ لہذا پاکستان کا ہمیشہ سے یہ موقف رہا ہے کہ بھارت کو 1984 سے قبل والی پوزیشن کو قبول کر کے سیاچن گلیشئر سے مکمل طور پر اپنی افواج کا انخلاء یقینی بنا نا ہو گا، تب ہی پاکستان بھی سیاچن گلیشئر سے اپنی افواج کو واپس بلانے میں لمحہ بھر کی تاخیر نہیں کرے گا۔

کیونکہ سیاچن گلیشئر درحقیقت پاکستان کا حصہ ہے اور دنیا کے تمام نقشوں میں اسے پاکستانی علاقے میں دکھایا گیا ہے۔نیز دنیا بھر سے جتنی بھی کوہ پیما ٹیمیں اس علاقے کی چوٹیاں سر کرنے آئیں، ان سب نے حکومت پاکستان سے ہی اجازت نامہ حاصل کیا تھا کیوں کہ سیاچن گلیشئر کو پاکستان کا ہی حصّہ سمجھا جاتا ہے۔پاکستان کی طرف سے سیاچن گلیشئر جانے کے لیے گلگت سے سکردو اور سکردو سے آگے ”ڈم سم” کے علاقے کی طرف جانا پڑتا ہے۔ لیکن 1984 میں انڈیا کی فوج نے اس علاقے پر اچانک سے قبضہ کرلیا تھا جس کا مقصد پاکستان اور چین کے درمیان رابطے کو کاٹنا تھا۔ اس وقت سے لے کر آج تک یہ مسئلہ بھارت اور پاکستان کے درمیان تنازع کا باعث بنا ہوا ہے۔ اس بلند ترین جگہ سے بھارت کا قبضہ ختم کرانے کے سلسلے میں بھارت اور پاکستان کی قیادتوں کے درمیان میں کئی مرتبہ بات چیت ہو چکی ہے جس میں ٹریک ٹو ڈپلومیسی بھی شامل ہے، لیکن ہنوز اس تنازع کا کوئی حل نہیں نکل سکا ہے۔ویسے تو بھارت اور پاکستان کے مابین اس علاقے میں اکثر جھڑپیں ہوتی رہتی ہیں لیکن جنگ کے مقابلے میں سیاچن کا سخت سرد موسم دونوں ممالک کی افواج کے لیئے زیادہ خطرناک اور مہلک ثابت ہوا ہے۔ 2012 میں سیاچن کے گیری سیکٹر میں برفانی تودے تلے دب کر شہید ہوجانے والے 140 فوجیوں کی شہادت پاکستان کے لیئے ایک بڑا سانحہ تھا۔

دوسری جانب سیاچن کے بلند ترین محاذ پر بھارتی افواج پاکستانی افواج کے مقابلے میں کم و بیش دس گنا زیادہ جانی نقصان اَب تک برداشت کر چکی ہے۔یاد رہے کہ بھارتی افواج کے زیادہ جانی نقصان اُٹھانے کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ سیاچن محاذ پر بھارتی افواج ایک سے سات یا ایک سے دس کے تناسب سے تعینات کی گئی ہے۔ یعنی ہر پاکستانی فوجی کے مقابلے میں سات یا پھر دس بھارتی سپاہی سیاچن میں موجود ہیں۔ سیاچن گلیشیئر پر گرمیوں میں بھی درجہ حرارت منفی دس کے قریب رہتا ہے۔ جبکہ سردیو ں میں منفی پچاس ڈگری تک جاپہنچاتا ہے۔ جس کے نتیجے میں یہاں سال بھر کسی قسم کی زندگی کے پنپنے کا کوئی امکان نہیں رہتا۔ جو فوجی وہاں تعینات ہوتے ہیں ان کے لیے اس درجہ حرارت پر کھانا پینا ہی نہیں سانس لینا تک ایک انتہائی دشوار کام ہے۔

واضح رہے کہ سیاچن کا وہ آخری میدان جہاں پاکستانی افواج کے سپاہی مادرِ وطن کے دفاع کے لیئے ہمہ وقت چوکسی کے ساتھ کھڑے ہیں،وہاں پیش آنے والی مشکلات کو الفاظ میں رقم کرنا کتنا مشکل ہے۔ اس کا اندازہ صرف اس بات سے لگالیا جائے کہ سیاچن کے ابتدائی مقام تک پہنچنا بھی ایک عام آدمی کے لیئے کارِ محال سے کم نہیں ہے۔ کیونکہ ٹھنڈی اور یخ بستہ ہواؤں کی موجودگی میں سیاچن کا سفر اتنا مشکل ہے کہ منزل تک پہنچتے پہنچتے کئی دن اور کئی راتیں لگ جاتی ہیں۔جبکہ سیاچین کی چوٹیوں پر بغیر آکسیجن ماسک نہیں جایا جا سکتا اور وہاں تک جانے کے لیے ماسک کے علاوہ خصوصی لباس بھی درکار ہوتا ہے۔جس میں بھاری بھر کم لباس، ہیلمٹ اور خاص جوتے شمال ہوتے ہیں۔

دراصل سیاچن میں منفی 40 درجہ حرارت پر جسم کا کوئی بھی حصّہ ننگا کرنے کا مطلب یقینی موت ہے اور فقط چند گھنٹے منفی 40، 50 درجہ حرارت میں چلنے سے پاؤں مکمل طور پر شل ہو جاتے ہیں اور پھر پاؤں کاٹنے کے سوا کو چارہ نہیں رہ جاتا۔سیاچن کے جس میدان میں پاکستانی سپاہی ڈیوٹی انجام دے رہے ہیں، اُس کے بار میں تو یہاں تک کہا جاتا ہے کہ تمام حفاظتی اقدامات کے باوجود وہاں 20 دن سے زیادہ زندہ نہیں رہا جا سکتا۔شاید اسی لیے وہاں 20 دنوں کے بعد نئے فوجی کمک بھجوائی جاتی ہے لیکن اس احتیاط کے باوجود ان میں سے بھی بہت سے فوجی”سنو بائیٹ“کا شکار ہو جاتے ہیں۔یاد رہے کہ”سنو بائیٹ“ کا مطلب ہے کہ اتنی سردی کی شدّت میں ہاتھ بغیر دستانے اگر کسی چیز کو چھو جائے تو وہاں کا دوران خون رک جاتا ہے اور مذکورہ شخص یوں لگتا ہے کہ جیسے اُس کا خون جم گیا اور ہاتھ سُن ہو گیا ہے۔ اس کفیت کو جدید طبی اصطلاح میں ”سنو بائیٹ“ کا نام دیا گیا ہے۔”سنو بائیٹ“ کا شکار ہونے والے انسانی جسم کا عضو یکسر بے کار جاتاہے اور بالآخر اسے کاٹنا ہی پڑتاہے۔

سیاچین بلتی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ہیں سیاہ گلاب یا جنگلی گلاب اور یہ تو قارئین جانتے ہی ہوں گے کہ گلیشئر برفانی تودے کو کہا جاتا ہے۔ اس مناسبت سے سیاچن گلیشئر کا لفظی مطلب ہوا ”جنگلی گلابوں والا برفانی تودہ“۔70 کلومیٹر لمبے اور4.8 میٹر چوڑے اس وسیع و عریض گلیشئر پر کوئی انسانی آبادی نہیں ہے۔ سیاچین دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کے ٹو سے 70 کلومیٹر جنوب مشرق میں پاک چین سرحد پر واقع درہ اندرہ کول سے شروع ہوتا ہے اور جنوب مشرق کی سمت سالتورہ رینج کے ساتھ ساتھ آگے بڑھتے ہوئے لداخ کے قریب مقبوضہ کشمیر میں واقع رنگزلما نامی ایک چھوٹے سے گاؤں کے قریب دریائے نبرا پر ختم ہوجاتاہے۔ چونکہ سیاچن کے آخری سرے وادی لداخ پر چینی افواج قابض ہے اور ابتدائی مقام پر پاکستانی افواج موجود اس نئی صورت حال میں بھارتی افواج مکمل طور پر دو اطراف سے گھیری جاچکی ہے۔ بعض عسکری ماہرین کو تو یہ بھی خیال ہے اگر چین اور پاکستان کرلیں تو وہ سیاچن پر موجود بھارتی افواج کے ایک ہلہ میں جہنم رسید کرسکتے ہیں اور عین ممکن ہے کہ نئی دہلی تک اس کی اطلاع کئی ہفتے گزرنے کے بعد پہنچے۔جیسا کہ وادی لداخ میں چینی افواج کی عسکری کاروائی کے نتیجے میں ہوا تھا۔

سچی بات یہ ہے کہ ”جنگلی گلابوں والا برفانی تودہ“ یعنی سیاچن گلیشئر کو بھارت کے توسیع پسندانہ عزائم اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے سخت نقصان پہنچ رہا ہے اور ماہرین موحولیات کے مطابق یہاں جنم لینے والی انسانی سرگرمیوں کی وجہ سے آبی حیات اور جنگلات پر پڑنے والے مہلک اثرات کے ساتھ ساتھ گلیشئر بھی بڑی تیزی کے ساتھ پگھل رہاہے۔ جس کی وجہ سے بھارت اور پاکستان کے کئی علاقے شدید سیلاب کی زد پر ہیں۔مغربی ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی ایک جدید تحقیق کے مطابق سیاچن گلیشئر کا تقریباً نصف حصہ پگھل چکا ہے۔یعنی سیاچین گلیشیئر جو کبھی ڈیڑھ سو کلو میٹر طویل تھا اب سکٹر کر صرف آدھا رہ گیا ہے۔سیاچن گلیشئر کو بچانے کا واحد راستہ وہی ہے جو پاکستان بے شمار بار عالمی برادری کو دکھاچکا ہے۔ یعنی بھارت اور پاکستان کی افواج غیر مشروط طورپر 1984 سے قبل والی پوزیشن پر لوٹ جائیں اور سیاچن گلیشئر کو ایک بین الاقوامی ”امن پارک“ میں تبدیل کردیا جائے۔ مگر نئی دہلی کا جنگی جنون اس راہ میں بڑی رکاوٹ ہے۔

حوالہ: یہ کالم سب سے پہلے روزنامہ جرات کراچی کے ادارتی صفحہ پر 03 فروری 2022 کی اشاعت میں شائع ہوا۔

راؤ محمد شاہد اقبال

اپنا تبصرہ بھیجیں