خدا حافظ پیارے چین؟

کیا چین ہم سے ناراض ہے؟ یا پھر ہم نے چینیوں کو ناراض کردیا ہے؟بظاہر یہ دو بالکل الگ الگ سوال دکھائی دیتے ہیں لیکن ان دونوں سوالوں کا جواب بین السطور میں ہی چھپا ہوا ہے۔یعنی ہم پاکستانیوں نے کمال سفاکی سے چینیوں کو ناراض کردیا ہے اور اَب چین واقعی ہم سے ناراض ہے۔اگر چین ہم سے ناراض نہ ہوتا تو کیا چینی اساتذہ کبھی پاکستان چھوڑ کر جاتے؟۔یقینا کبھی نہیں۔یاد رہے کہ تعلیمی دنیا کا مسلمہ اُصول ہے کہ کلاس ختم ہونے کے بعد شاگرد سب سے پہلے باہر نکلتے ہیں اور اُستاد سب سے آخر میں کمرہ جماعت سے باہر جاتاہے۔مگر یہاں تو معاملہ ہی اُلٹ ہوا ہے، شاگرد، تعلیم و تدریس کی غرض سے کلاس میں ابھی تک بیٹھے ہوئے ہیں اور چینی اُساتذہ اپنی کلاسیں چھوڑ کر جاچکے ہیں۔جی ہاں! پاکستانی جامعات میں طلباء و طالبات کو چینی زبان سکھانے کے لیئے چین کے تعاون سے قائم کیئے گئے تمام کنفیوشس انسٹیوٹ کے چینی اساتذہ پاکستان چھوڑ کر اپنے وطن مالوف چین واپس جاچکے ہیں۔یہاں سوال تو یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا چینی اساتذہ کو اُن کے ہر دلعزیز پاکستانی شاگردوں نے روکنے کی کوشش نہیں کی ہوگی؟۔ بالکل کی تھی جناب، حد تو یہ ہے کہ چینی اساتذہ بھی اپنے ہونہار شاگردوں کو چینی زبان و بیان کی تدریس کے بیچ منجدھار میں چھوڑ کر جانا نہیں چاہتے تھے۔ مگر افسوس کہ امریکی مداخلت کے بل بوتے پر بننے والی نئی متحدہ حکومت نے امریکی صدر بائیڈن کو خوش کرنے کے لیئے جان بوجھ کر جومعاندانہ سفارتی رویہ چین کے ساتھ روا رکھا۔اُس کے بعد بھلا چینی اساتذہ پاکستان میں رُک بھی کیسے سکتے تھے۔

واضح رہے کہ چینی اساتذہ کے پاکستان چھوڑ کرواپس جانے سے ہمارے طلباء و طالبات کا بہت بڑا تعلیمی نقصان ہوا ہے کیونکہ ہزاروں پاکستانی طلبہ عصر حاضر کے تقاضوں کو مد نظر رکھتے ہوئے، چینی اساتذہ سے چینی زبان کے ایڈوانس لیول کی تدریس کررہے تھے۔یہ وہ ایڈوانس لیول ہے،جس کی تعلیم چینی اساتذہ کے علاوہ کوئی دوسرا فراہم کرہی نہیں سکتا۔چینی اساتذہ کی اچانک رخصتی کی بظاہر وجہ یہ بیان کی گئی ہے کہ جامعہ کراچی کے باہر ہونے والے خود کش دھماکہ میں چینی اساتذہ اور پاکستانی ڈرائیور کے جاں بحق ہونے کے بعد چینی اساتذہ نے اپنے وطن چین واپس لوٹنے کا فیصلہ کیا تھا۔ مگر ہم پاکستانی اچھی طرح جانتے ہیں کہ چینی اساتذہ ڈر کر نہیں بلکہ نئی پاکستانی حکومت کے رویے سے شدید مایوس ہو کر چین واپس گئے ہیں۔اگر چینی ڈرپوک ہوتے تو اُس وقت پاکستان چھوڑ کر جاتے نا! جب ہر دوسرے تیسرے روز پاکستان کے کسی نے کسی شہر میں خودکش دھماکے ہورہے تھے اور کئی خودکش حملوں میں تو چینیوں کو براہ راست اور باقاعدہ اعلان کرکے نشانہ بھی بنایا جاتا تھا۔ مگر بے شمار جانیں گنوانے کے باوجود ماضی میں کبھی چینی ورکرز اور اساتذہ ایسے اچانک واپس نہیں گئے جیسے اَب جارہے ہیں۔ شاید چینی جان گئے ہیں، ہمارے جو”نادان دوست“ آج بھی امریکا کے ایک اشارہ ابرو کے غلام ہیں،وہ آنے والے کل بھی غلام ہی رہیں گے اور غلاموں پر سرمایہ کاری چاہے کسی بھی صورت میں ہو،بے سود ہوتی ہے۔

کوئی مانے یا نہ مانے لیکن سچ یہ ہی ہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان کی حکومت کے خاتمے کے بعد چینی سرمایہ کاروں نے اپنی رقم پاکستان سے نکالنا شروع کر دی ہے، گوادر میں کام کرنے والی سب سے بڑی کمپنی ایچ کے سنز نے گزشتہ ہفے اپنی کمپنی بند کر دی اور اس کمپنی کے سرمایہ کار اور دیگر عملہ فوری طور پر چین واپس روانہ ہوگیا ہے۔جبکہ امریکی مداخلت کی تھپکی سے بننے والے وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کی حکومت نے آتے ہی اپنے بھائی میاں محمد نواز شریف کو پاسپورٹ جاری کرنے کے بعد جو دوسرا سب سے اہم ترین کام کیا ہے، وہ چین پاکستان اقتصادی راہداری سے متعلق قائم سی پیک اتھارٹی کو ختم کرنے کا فیصلہ تھا۔ لطیفہ تو یہ ہے کہ سی پیک اتھارٹی کو ختم کرنے کے لیئے وزیر منصوبہ بند ی،احسن اقبال نے دلیل یہ دی ہے کہ ”یہ ادارہ حکومت ِ پاکستان پر ایک بوجھ بن گیا ہے جس پر بے تحاشا مالی وسائل ضائع کیے جارہے ہیں جبکہ اس اتھارٹی کی وجہ سے سی پیک منصوبوں پر عمل درآمد سست روی کا شکار ہے“۔ حالانکہ سی پیک اتھارٹی کا قیام سی پیک منصوبوں میں مسائل سامنے آنے کے بعد،منصوبوں کی مانیٹرنگ اور انہیں تیزرفتاری کے ساتھ مکمل کرنے کے لیئے چین کی خواہش پر لایا گیاتھا۔

یاد رہے کہ پاکستان اور چین کے درمیان تقریباً 62 بلین ڈالر کے ان عظیم الشان منصوبوں کو سی پیک کا نام دیا گیا ہے جن کا آغاز 2013 میں ہوا۔ ان معاہدات کے تحت چین پاکستان کے مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کرے گا۔ ان معاہدوں میں راہداری اور توانائی کے شعبے سے متعلق منصوبوں کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے آتے ہی سی پیک اتھارٹی کا قیام عمل میں لایا گیا۔خیال رہے کہ چین کے ساتھ پاکستان نے سی پیک کا معاہدہ مسلم لیگ نواز کی گذشتہ حکومت کے دور میں کیا تھا مگر سی پیک اتھارٹی جیسے کسی ادارے کو ان معاہدوں کی نگرانی نہیں دی گئی تھی اور اسی قانونی اور انتظامی سقم کو ختم کرنے کے لیئے سابق وزیراعظم پاکستان عمران خان نے چین کی دیرینہ خواہش پر سی پیک اتھارٹی قائم کی تھی۔اس اتھارٹی کا بنیادی کام سی پیک منصوبہ کی فیسلیٹیشن، کوآرڈینیشن اور مانیٹرنگ تھااورچینی کنٹریکٹر اس اتھارٹی سے بہت ”انتظامی سکون‘‘محسوس کرتے تھے کیونکہ سی پیک اتھارٹی ان کے لیے ”ون ونڈو“ کے طور پر کام کرتی تھی، یعنی چینیوں کو سی پیک اتھارٹی کی موجودگی میں اپنے کاموں کے لیے مختلف سرکاری وزارتوں اور محکموں کے چکر نہیں لگانے پڑتے تھے اور اس سی پیک اتھارٹی کی وجہ سے پاک چین اقتصادی راہداری کے منصوبے بلا کسی سرکاری رکاؤٹ کے انتہائی تیز رفتاری کے ساتھ مکمل ہونا شروع ہو گئے تھے اور یہ بات بائیڈن انتظامیہ کو ایک آنکھ نہیں بھاتی تھی۔

بہرکیف آج وائٹ ہاؤس انتظامیہ بہت خوش ہوگی کہ انہوں نے جن گیارہ جماعتوں کو نئی حکومت بنانے کے لیئے بیرونی مداخلت کی غیبی امداد فراہم کی تھی، اُس حکومت نے اپنے ملک کی عوام کے لیئے کوئی کام ڈھنگ سے کیا ہو یا نہ کیا ہو،مگر سی پیک اتھارٹی کو چشم زدن میں ختم کرکے امریکا کی راہ سے ایک بڑا کانٹا ضرور ہٹا دیاہے۔ بلاشبہ امریکی وزیر خارجہ، انٹونی بلنکن نے اپنے ہم منصب اورنئے نکور پاکستانی وزیرخارجہ بلاول بھٹو زرداری کو متحدہ حکومت کی جانب سے یہ خدمت انجام دینے پر دل کھول کر شاباش بھی ضرور دی ہوگی اور ساتھ ہی تہدیث نعمت کے طور پر بلاول بھٹو زرداری کو امریکا پرچم کے سامنے کھڑا کر کے چین کو ایک ایسا واضح پیغام دیا گیاہے،جسے چین کے علاوہ شاید ہی کوئی دوسرا ملک سمجھ سکے۔ تاہم ہماری دُعا ہے کہ زرداری، شہباز حکومت والے غور کریں ان کے دور حکومت کے صرف ایک ماہ میں PSX 4000 پوائنٹس ڈوب گیا ڈالر17 رپے مہنگا ہوچکا عدم تحفظ کی وجہ سے چینی ماہرین قطار لگا کر پاکستان سے بھاگ رہے ہیں۔کیا چین کو خداحافظ کہنے کا کوئی اس سے بہتر سفارتی راستہ نہیں ہوسکتاتھا؟۔

حوالہ: یہ کالم سب سے پہلے روزنامہ جرات کراچی کے ادارتی صفحہ پر 23 مئی 2022 کی اشاعت میں شائع ہوا۔

راؤ محمد شاہد اقبال

اپنا تبصرہ بھیجیں