China Pak trade

پاک چین تجارت ڈالر کی قید سے آزاد ہوگئی

ایک بار کسی دانشور نے کہا تھا کہ ”امریکا کا سب سے طاقت ور ہتھیار نہ آبدوز ہے،نہ ہوائی جہاز ہے،نہ ٹینک ہے،نہ لیزر میزائل بلکہ واشنگٹن کے پاس ایک ایسا مہلک عسکری ہتھیار موجود ہے جو نہ گولی کی طرح چلتا ہے، نہ جنگی طیارہ کی طرح اُڑتا ہے اور نہ بم کی مانند پھٹتا ہے اور امریکا کے اِس سب سے طاقتور جنگی ہتھیار کا نام ”ڈالر“ہے“۔ جی ہاں! یہ بات سوفیصد درست ہے کہ آج کی جدید دنیا میں امریکا کی کاغذی کرنسی، ڈالر واشنگٹن کی سب سے بڑی عسکری طاقت ہے اور ہر،امریکی حکمران اسے مہارت سے استعمال کرتے ہوئے،فقط امریکی ڈالرسے ہی اپنے دوستوں کو نوازتاہے اور دشمنوں کو سنگین سزا دیتا ہے۔ کیونکہ دنیا بھر کی بچت کا 60 فیصد، عالمی ادائیگیوں کا 80 فیصد اور تیل کی عالمی خریداری کا لگ بھگ سو فیصد امریکی ڈالر کی صورت میں ہی انجام پاتا ہے۔یعنی امریکی ڈالر کے بغیر نہ دنیا کا کوئی ملک کسی دوسرے ملک سے کچھ خرید سکتاہے اور کچھ بیچ سکتاہے۔

اگر آج امریکا عالمی سپر پاور ہے تو صرف ڈالر کی وجہ سے ہی ہے اور جب تک امریکا کی پشت پر ڈالر کی قوت موجود ہے،اُس وقت دنیا کا کوئی بھی قوم یا ملک چاہے کتنی بڑی ہی معاشی قوت بن جائے مگر وہ عالمی سپر پاور نہیں بن سکتا۔ سادہ الفاظ میں یوں سمجھ لیجئے کہ جب تک امریکی ڈالر کی طاقت موجود ہے، تب تک امریکا کی سیاسی وقت کو چیلنج نہیں کیا جاسکتا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ماضی میں کئی بار امریکی ڈالر کے متبادل کرنسی رائج کی جانے کی کوشش کی جاتی رہی ہے مگر کوئی بھی کرنسی، امریکی ڈالر کے سامنے ایک مؤثر متبادل شرح تبادلہ کی صورت میں بطور ایک معاشی نظام کے عملی طور اختیار نہ کی جاسکی۔ بہرکیف تازہ ترین خبر یہ ہے کہ چین نے امریکی ڈالر کے متبادل کے طور چینی کرنسی عالمی تجارت کے لیئے بطور شرح تبادلہ متعارف کروانے کے لیئے پہلی بار پاکستان اور چین کے درمیان باقاعدہ ایک بینکنگ سسٹم کا آغاز کردیا ہے۔

یوں ڈالر کے لمحہ بہ لمحہ بدلتے ایکسچینج ریٹ کی وجہ سے پہلی بار چینی کرنسی آر ایم بی اور پاکستانی کرنسی روپے کے درمیان ایک ایسا کرنسی تبدیلی کانظام تشکیل دے دیاگیا ہے۔ جس کے تحت امریکی ڈالر کو استعمال میں لائے بغیر بھی،چینی اور پاکستانی سرمایہ کار ایک دوسرے کے ساتھ بینکنگ سسٹم میں رہتے ہوئے تجارت کرسکیں گے۔نیزاِس نئے نظام کی بدولت چینی سرمایہ کار 10 ملین روپے کے لین دین پر نصف ملین پاکستانی روپے کی باآسانی بچت بھی کر سکیں گے۔ چینی کرنسی آرایم بی اور پاکستانی کرنسی روپیہ کو دونوں ممالک کے بینکنگ سسٹم کا حصہ بنانے کے لیے پیپلز بینک آف چائنا کی کرا چی برانچ کو دونوں ممالک یعنی چینی اور پاکستانی کرنسیوں کے لیے کلیئرنگ بینک کے طور پر کام کرنے کا مکمل انتظامی اختیار تفویض کردیا گیا ہے۔

یہ انقلابی اقدام پاکستان میں چینی سرمایہ کاری اور دونوں ملکوں کی باہمی تجارت میں ترقی ہماری قومی معیشت کی بحالی اور فروغ کیلئے کلیدی اہمیت کا حامل ہے اور یہ طریق کار چینی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں زیادہ بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری پر راغب کرنے کا بڑا سبب بنے گا۔ دراصل ماضی کے روایتی مالیاتی نظام میں، چینی تاجروں اور سرمایہ کاروں کو پہلے چینی کرنسی کو امریکی ڈالر میں اور پھر پاکستانی روپے میں تبد یل کر نا پڑتا تھا اور امریکی ڈالر کے مقابلہ میں پاکستانی روپیہ کی غیر مستحکم قیمت کی وجہ سے شرح مبادلہ کا نقصان کبھی پاکستانی اور زیادہ تر چینی تاجروں اور سرمایہ کاروں کو برداشت کرنا پڑتا تھا۔ جس سے ان کی حوصلہ شکنی ہوتی تھی لیکن چینی کرنسی اور روپے کے براہ راست تبادلوں نے یہ مسئلہ ہمیشہ کے لیئے حل کردیا ہے لہٰذ، معاشی ماہرین کو اُمید ہے کہ اس سہولت سے چینی سرمایہ کاروں کی بڑی تعداد پاکستان میں سر مایہ کاری کی طرف راغب ہوگی۔

دوسری جانب چین اس تجربہ کو بنیاد بنا کر ایک ایسے عالمگیر بینکنگ نظام کی بنیاد بھی رکھنا چاہے گا، جس میں چینی کرنسی عالمی تجارت میں امریکی ڈالر کے متبادل کے طور پر آزادانہ استعمال کی جاسکے گی۔ تاکہ واشنگٹن امریکی ڈالر سے بعض ممالک کی معیشت کو تباہ و برباد نہ کرسکے۔ واضح رہے کہ وائٹ ہاؤس اَب تک درجن بھر ممالک کی معیشت کو امریکی ڈالر کے مصنوعی اُتار چڑھاؤ سے برباد کرچکا ہے۔ مثال کے طو رپر ستمبر 1992 میں برطانوی پاونڈ پر ہونے والے ایک حملے کے نتیجے میں 17 ستمبر 1992 کو بینک آف انگلینڈ کو کرنسی pegتوڑنا پڑ گیا۔ جس کی وجہ سے برطانوی پاؤنڈ ڈالر کے مقابلے میں 25% گر گیا تھا۔ برطانوی معیشت پر ہونے والے اِس حملے کا الزام جارج سوروس پر لگایا جاتا ہے جس نے ایک دن میں ایک ارب ڈالر منافع کمایا۔ 1994 میں میکسیکو کی کرنسی پر امریکی ڈالر سے حملہ کیا گیا،جس کے نتیجے میں پیسو کی قدر آدھی رہ گئی اور ملک میں شرح سود 80 فیصد تک جا پہنچی۔امریکی ڈالر سے ایک بار ارجنٹینا کی کرنسی پر بھی حملہ کیا گیا تھا، مگر ارجنٹینا اپنی کرنسی بچانے میں کامیاب رہا۔ لیکن اسے بھاری قرضے لینے پڑے جس کے نتیجے میں 2018 میں اس کی کرنسی ڈوب گئی اور شرح سود 60 فیصد تک جا پہنچی۔ 2 جولائی 1997 کو تھائی لینڈ کو ایسے ہی ایک کرنسی حملے کے نتیجے میں کرنسی پیگ توڑنا پڑ گیا تھا۔ جنوری 1998 تک تھائی کرنسی بھات کی قدر ڈالر کے مقابلے میں 120 فیصد گر چکی تھی۔جبکہ جون 1997 سے جون 1998 کے دوران میں انڈونیشیا، فلیپائن، تائیوان، کوریا، ملیشیا اور ہندوستان کی کرنسیوں کو بھی امریکی ڈالر کے حملہ کے باعث زبردست نقصان اٹھانا پڑا تھا۔ کسی ملک کی معیشت پر امریکی ڈالر کے حملہ کی تازہ ترین مثال یوکرین،روس جنگ ہے۔یعنی مارچ 2022 میں جب روس نے متعدد وارننگ کے بعد یوکرین پر حملہ کیا تو امریکہ نے یوکرین کا ساتھ دینے کے لیے روس کے 600 ارب ڈالر سے زائید کے اثاثے ضبط کر لیے اور اسے سوئفٹ سے منقطع کر دیا تاکہ روس دنیا بھر سے تجارت نہ کر سکے۔

چونکہ جدید عالمی معاشی نظام میں تجارتی لین دین کے لیئے صرف امریکی ڈالر کا استعمال ہوتا ہے اور امریکی ڈالر میں لین دین کرنے والے ممالک کے کارسپانڈنگ بینکوں کے اکاؤنٹ امریکہ کے فیڈرل ریزرو بینک میں ہوتے ہیں۔ اس لیے امریکہ کی پابندیوں کی صورت میں بلیک لسٹ ہونے والے اداروں کے لیے لین دین میں شدید مشکلات حائل ہوجاتی ہیں۔یوں واشنگٹن جب چاہتا ہے،امریکی ڈالر کا ہتھیار استعمال کر کے کسی بھی ملک کی معیشت کو نیست و نابود کرکے اُسے اپنے آگے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیتاہے۔ یہاں عام آدمی کے ذہن میں دو سوال جنم لے رہے ہوں گے۔پہلا سوال یہ کہ آخر دنیا کے سارے ملک امریکی ڈالر میں لین دین کرتے ہی کیوں ہیں؟۔دوسرا سوال یہ کہ دنیا کے تمام ممالک نے صرف امریکی ڈالر عالمی کرنسی کے طور پر کیوں قبول کرلیا تھا؟۔

واضح رہے کہ دوسری عالمی جنگ سے پیدا ہونے والی صورت حال کے جائزہ کے لیے جنگ کے دوران ہی 1944 میں 44 ممالک کے 730 مندوبین امریکہ کی ریاست نیو ہیمپشائر کے علاقے بریٹن وڈز میں جمع ہوئے۔ اس اجلاس کا بنیادی مقصد دنیا کے لیے زرِمبادلہ کا ایسا نظام تشکیل دینا تھا جس سے ان ممالک کی معاشی مشکلات کا ازالہ ہو جائے۔مندوبین نے طے کیا کہ جنگ سے پیدا ہونے والی صورت حال کی وجہ سے اب زرِمبادلہ کے ذخائر سونے میں رکھنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ اس لیے کرنسی کی قدر کے لیے ڈالر کو معیار مقرر کر لیا جائے۔ڈالر کا انتخاب کرنے کی ایک وجہ تو یہ تھی کہ اس وقت دنیا میں سونے کے سب سے زیادہ ذخائر امریکہ کے پاس تھے اور ڈالر کی قدر کا تعین بھی سونے ہی سے ہوتا تھا جو کہ اس وقت 35 ڈالر فی اونس(دو اعشاریہ 43 تولہ) تھی۔امریکی ڈالر کو زرِمبادلہ کے لیے معیار بنانے کے اس سمجھوتے کو ”بریٹن وڈز معاہدہ“ کہا جاتا ہے اور شاید یہ ہی وجہ ہے کہ اس معاہدہ کے تحت زرِ مبادلہ کے لیے قائم ہونے والے نظام کو’’بریٹن وڈز سسٹم‘‘کا نام دیا گیا۔بنیادی طور پر معروف برطانوی معیشت داں جون مینار کینس اور امریکہ کے محکمہ خزانہ کے چیف بین الاقوامی ماہرِ اقتصادیات ہیری ڈیکسڑ وائٹ نے یہ نظام تشکیل دیا تھا۔اس معاہدے کے بعد امریکی ڈالر کو’’ریزرو کرنسی‘‘یا زرِمبادلہ کے لیے استعمال ہونے والی کرنسی کی حیثیت حاصل ہو گئی۔

یاد رہے کہ ریزرو کرنسی سے مراد یہ ہے کہ،دنیا بھر کے ممالک کو سرمایہ کاری، ترسیلات، بین الاقوامی قرضوں اور درآمدات و برآمدات کی ادائیگیوں کے لیے اور مقامی سطح پر اپنی کرنسی کی قدر کے تعین کے لیے جس ایک کرنسی کے ذخائر رکھنا ضروری ہوں۔ریزرو کرنسی ہی کی بنیاد پر مختلف اشیائے صرف، سونے اور تیل وغیرہ کی قیمتوں کا تعین بھی کیا جاتا ہے کیوں کہ ان کی خریداری کے لیے بھی جو زرِ مبادلہ درکار ہوتا ہے وہ اسی ریزرو کرنسی یعنی ڈالر میں ادا کیا جاتا ہے۔اس لیے کسی بھی ملک میں ڈالر کی قدر میں اضافہ یا کمی وہاں کے معاشی حالات سے براہ راست تعلق رکھتی ہے۔ڈالر کو ریزرو کرنسی کی حیثیت ملنے کے بعد دنیا کے دیگر ممالک نے سونے کے ذخائر جمع کرنے کی بجائے امریکی ڈالر خریدنا شروع کر دیے اور یوں امریکی ڈالر،واشنگٹن کا سب سے مہلک جنگی ہتھیار بن گیا۔ مشہور فرانسیسی فلاسفر وولٹیر کا کہنا تھا کہ کاغذی دولت انجام کار اپنی اصلی قدر تک پہنچتی ہے جو صفر ہے۔ دنیا کی 775 کاغذی کرنسیوں میں سے 599 ڈوب چکی ہیں کیا اَب امریکا ڈالر بھی ڈوبنے والا ہے؟۔بس پردہ اٹھنے کی منتظر ہے نگاہ۔

حوالہ: یہ مضمون سب سے پہلے روزنامہ جرات کراچی کے ادارتی صفحہ پر یکم دسمبر 2022 کی اشاعت میں شائع ہوا۔

راؤ محمد شاہد اقبال
Latest posts by راؤ محمد شاہد اقبال (see all)

اپنا تبصرہ بھیجیں