مطالعہ: ہر مسئلہ کا حل ، ہر مرض کی دوا

پچھلی صدی کے معروف مصنف ”سمر سٹ ماہم“ نے کہا تھا کہ ”مطالعہ کی عادت اختیار کرلینے کا مطلب یہ ہے کہ آپ نے دنیا جہان کے دکھوں سے بچنے کے لیئے ایک محفوظ پناہ گاہ ڈھونڈلی ہے“۔مطالعہ انسانی جبلت،ذہنی کارکردگی اور جسمانی کیفیت پر کیسے،کیونکر اور کس قسم کے مثبت یا منفی اثرات مرتب کرتا ہے۔جدید سائنس اس حوالے سے طویل عرصہ سے تحقیق و جستجو میں مصروف ہے۔کیا مطالعہ افسردگی و پژمردگی دُور کرنے کا سبب بن سکتاہے؟ کیا پڑھنے سے بے چین طبیعت،حالتِ سکون میں آسکتی ہے؟۔کیا ایک منتشر اور پراگندہ ذہن کو مطالعہ کی عادت سے یکسو کیا جاسکتا ہے؟۔کیا پڑھنے سے واقعی یاد داشت بہتر ہوجاتی ہے؟۔کیا خاص مزاج کے افراد کے لیئے مخصوص مزاج کی کتب کا مطالعہ زیادہ بہتر ہوتا ہے؟۔ مذکورہ سوالات کے جوابات سائنس کے نقطہ تحقیق کی نگاہ سے جاننے سے پہلے اِس بات کی وضاحت کرنا بھی ازحد ضروری ہے کہ یہاں مطالعہ سے مراد، نہ تو کمپیوٹر، لیپ ٹاپ اورموبائل فون پرکسی اپلی کیشن وغیرہ کی مدد سے اخبار یا رسالہ کا انٹرنیٹ ایڈیشن پڑھنا ہے اور نہ ہی پی ڈی ایف فارمیٹ میں کسی کتاب یا ای بُک کو پڑھناہے۔ بلکہ زیر نظر مضمون میں لفظ مطالعہ کی اصطلاح فقط حقیقی کاغذ پر چھپے ہوئے، اخبار، رسالہ اور ہر اُس کتاب کے لیئے استعمال کی گئی ہے۔جسے چھوا بھی جاسکتا ہو اور اپنے ہاتھوں میں تھام کر پڑھا بھی جاسکتاہو۔

اونگھ،نیند اور مطالعہ
اکثر افرادکو آپ نے یہ شکایت کرتے ہوئے ضرور سنا ہوگا کہ ”ہم کتاب کا مطالعہ کرنا چاہتے ہیں لیکن مصیبت یہ ہے کہ کتاب کی ورق گردانی کے دوران ابھی مشکل سے دو، تین صفحات ہی پلٹ پاتے ہیں کہ نیند کے تیز جھونکے آنا شروع ہوجاتے ہیں اور ہم مطالعہ ادھورا چھوڑ کر نیند کی پرسکون وادی میں گم ہو جاتے ہیں“۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ دوران مطالعہ نیند اور اونگھ آنے کی اُلجھن کا سامنا فقط،کبھی کبھار اورقسمت سے کتاب کا مطالعہ کرنے والے افراد کوہی نہیں کرنا پڑتا بلکہ مطالعہ کے عادی اور رسیا قارئین بھی اکثر وبیشتر کتاب پڑھتے پڑھتے ہی دنیا مافیاسے بے خبر ہوکر گہری نیند سو جاتے ہیں۔ نیند اور مطالعہ کے باہمی تعلق کا سراغ لگانے کے لیئے کی گئی مختلف سائنسی تحقیقات کے بعد سائنس دانوں نے جو نتائج اخذ کیئے ہیں اُن کے مطابق مطالعہ کا آغاز کرتے ہی ذہنی تھکان کم ہونا شروع ہوجاتی ہے اور انسانی دماغ یک لخت پرسکون حالت میں آجاتا ہے۔ جس کی وجہ سے کتاب پڑھنے والے کو نیند کے تیز جھونکے آتے ہیں اور وہ نہ چاہتے ہوئے بھی اونگھنے لگتاہے۔

بہرکیف، دورانِ مطالعہ اونگھ یا نیند آنے کی پریشانی یا اُلجھن کی وجہ سے قاری کو کتب بینی کی عادت ہرگزترک نہیں کرنی چاہیئے۔کیونکہ نیند کے کچے قارئین کے لیئے دنیائے سائنس سے اچھی خبر یہ ہے کہ میساچوسٹس میں برانڈئیس یونیورسٹی کے سائنس دانوں کی ایک ٹیم نے اپنی سائنسی تحقیق میں انکشاف کیا ہے کہ نیند، یادداشت اور سیکھنے کے عمل کا آپس میں بڑا گہرا تعلق ہے،کیونکہ جوعصبی نظام انسانی دماغ میں نیند کو فروغ دینے کا باعث ہے، وہی یادداشت کو بھی محفوظ رکھنے کا ذمہ دار ہے۔مذکورہ تحقیق کے مطابق ہمارے دماغ میں ابتدائی معلومات کو حافظے میں محفوظ بنانے کا نظام سائنسی اصطلاح میں ”میموری کنسولیڈیشن“کہلاتا ہے اور نیند اس نظام کی فعالیت میں اضافہ کرتی ہے۔جبکہ انسانی دماغ میں یادداشت سے متعلق حصہ ”ہیپو کیمپس“ قلیل مدتی یادوں کو طویل مدتی یادوں میں تبدیل کرنیکا عمل انجام دیتا ہے اور یہ نظام بھی نیند سے قبل بہت زیادہ سرگرم ہو جاتا ہے۔لہٰذا، نیند آنے سے قبل نیم غنودگی کے عالم میں پڑھی گئی کسی کتاب یا رسالہ کے چند صفحات کا کیا گیا مطالعہ ضائع نہیں جاتابلکہ وہ انسانی حافظہ میں محفوظ ہوجاتاہے۔شاید یہ ہی وجہ ہے کہ اپنی نیند کو مختلف حیلے،بہانوں سے بھگا کر رات گئے تک مطالعہ کرنے والے طلبا ء طالبات امتحانات میں اپنے دیگر ہم جماعتوں کے مقابلہ میں زیادہ بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کے سب کو حیران کردیتے ہیں۔

مطالعہ فرمائیں، ذہنی اضطراب سے نجات پائیں
2009 میں کیئے گئے ایک تحقیقی مطالعے سے سسیکس یونیورسٹی کے محققین نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ”پڑھنے سے ذہنی تناؤ یعنی ڈپریشن میں 68 فیصد تک حیرت انگیز کمی لائی جاسکتی ہے۔ قطع نظر اس سے کہ پڑھنے والا کس عنوان پر کون سی کتاب کا مطالعہ کرتا ہے۔یعنی ہر وہ کتاب میں جسے قاری بھرپور دلچسپی سے پڑھے، وہی کتاب اُس کی روزمرہ پریشانیوں اور ذہنی اضطراب کو دُور کرنے کا سبب بن سکتی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ برطانیہ سمیت کئی مغربی ممالک میں ذہنی تناؤ کے مریضوں کی شفایابی کے لیئے مطالعہ کو بطور علاج استعمال کرنے کی باضابطہ طو رپر منظوری دے دی گئی ہے۔ اس طریقہ علاج کو طبی اصطلاح میں ”بائبلیو تھراپیپی“ کہا جاتاہے اور بعض مغربی ممالک میں ڈاکٹرز کو اپنے کلینک پر ذہنی تناؤ کا شکار افراد کو ”بائبلیو تھراپی“ کے تحت کوئی اخبار،کتاب یا رسالہ بطور نسخہ تجویز کرنے کی مکمل آزادی حاصل ہے۔ تاہم مریض کو بطور نسخہ پڑھنے کے لیئے کس عنوان پر اور کون سی کتاب تجویز کرنی ہے،اس کا فیصلہ مریض کو لاحق بیماری کی نوعیت، علامات اور اُس کے ذہنی رجحان کو پیش نظر رکھ کر کیا جاتاہے۔ جبکہ ذہنی تناؤ کا شکار مریض کے مرض کی شدت اور کیفیت کے پیش نظر بعض اوقات ڈاکٹراُسے دن کا بیشتر حصہ دفتر یا گھر کے بجائے لائبریری میں گزارنے کا مشورہ بھی دے سکتا ہے۔ سب سے حوصلہ افزا بات یہ ہے کہ ذہنی تناؤ کا شکار اکثر مریضوں پر ”بائبلیو تھراپی“ طریقہ علاج تیر بہدف کی مانند اکسیر ثابت ہواہے اور وہ فقط مطالعہ کی بدولت مکمل طور پر شفایاب ہونے میں کامیاب بھی ہو جاتے ہیں۔

یادداشت اور مطالعہ کی یاددہانی
مطالعہ کی پختہ عادت انسان کے ذہنی تناوٌ کو کم کرنے کے ساتھ اُسے کئی دیگر عوارض سے بھی محفوظ رکھتی ہے۔ جن میں بطور خاص مرکزی اعصابی نظام اور حافظہ سے متعلق سنگین نوعیت کی بیماریاں شامل ہیں۔ ایک تازہ ترین سائنسی تحقیق کے مطابق مطالعہ کرنے والے عمر رسیدہ افراد اُن لوگوں کے مقابلہ میں قابل رشک یادداشت کو زیادہ عرصے تک برقرار رکھتے ہیں جو مطالعے کو زندگی بھر نظر انداز کیئے رکھتے ہیں۔ واشنگٹن یونیورسٹی کے ماہرین نفسیات کی تحقیق کے مطابق، جب بھی ہم کچھ پڑھتے ہیں توہمارے دماغ میں پڑھے گئے واقعہ،خیال یا کہانی کی مناسبت سے ایک تصویر بن جاتی ہے۔یہ نئی تخلیق شدہ شبیہ دماغ میں یادداشت کے ذمہ دار عصبی خلیوں کو متحرک کرکے ایک نیا اعصابی راستہ بناتی ہے۔جس کی وجہ سے نہ صرف ہمارا دماغ زیادہ بہتر انداز میں اپنے اردگرد کے ماحول میں موجود اشیاء کی شناخت کر سکتا ہے بلکہ اُن کے بارے میں حاصل ہونے والی معلومات کا زیادہ بہتر انداز میں تجزیہ کرنے کے بھی قابل ہو جاتا ہے۔ دماغ کی یہ ہی تجزیاتی صلاحیت بعد ازاں ہمیں غیرمعمولی حالات میں اپنے آس پاس کے لوگوں کے متعلق بہتر فیصلے کرنے میں مدد بہم پہنچاتی ہے۔

جبکہ ایک دوسرے سائنسی مطالعے میں امریکا کی ییل یونیورسٹی کے محققین نے اپنے زیرنگرانی مختلف شعبہ جات سے متعلق افراد پر 12برس تک جاری رہنے والے تجربات و مشاہدات کی بنیاد پر یہ نتیجہ بھی اخذ کیا ہے کہ جو افراد روزانہ نصف گھنٹہ یا ہفتے میں کم ازکم 210 منٹ کا دورانیہ مطالعہ کرنے میں صرف کرتے ہیں, ان میں قبل از وقت موت کا تناسب 23 فیصد تک کم ہو جاتا ہے۔مذکورہ تحقیق میں شامل سائنسی ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ مطالعہ انسانی دماغ کو ٹیلی ویژن،لیپ ٹاپ اور اسمارٹ فون دیکھنے یا ریڈیو سننے کے مقابلے میں بالکل مختلف طرز کی ذہنی ورزش کا باعث بنتا ہے۔جس کی وجہ سے انسانی دماغ کے ایسے حصے جو مختلف افعال جیسے دیکھنے، بولنے، سننے اور سیکھنے سے متعلق ہیں وہ پڑھنے کے دوران ایک مخصوص دماغی خلیہ سے منسلک ہوجاتے ہیں اور دورانِ مطالعہ دماغ غوروفکر اور ارتکاز کرنے کی قوت و صلاحیت بڑھنے لگی ہے۔ یوں روز انہ مطالعہ کرنے والے افراد میں ضعیف العمری میں کمزور یاداشت کا سبب بننے والے امراض کے حملہ آور ہونے کا خطرہ کافی حد تک کم ہو جاتا ہے۔

دوسروں کو سمجھنے کے لیئے افسانہ پڑھیں
معروف بین الاقوامی سائنس میگزین میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ”ادبی افسانہ اپنے قارئین کو یہ سمجھنے میں بھرپور مدد فراہم کرتا ہے کہ دوسرے کیا سوچ رہے ہیں۔ عام فہم الفاظ میں یوں سمجھ لیجئے کہ اپنے اردگر د رہنے والے افراد کے رویے، عادات،سوچ و فکر کے بارے میں درست اندازہ لگانے کے لیئے افسانوی اَدب کا مطالعہ قاری کو غیر معمولی حد تک دانش مند بناتاہے۔ مذکورہ نتیجہ ایک جیل میں قید مختلف مجرموں پر 12 ماہ تک کیے جانے والے سائنسی مطالعہ کے بعد اخذ کیا گیا ہے۔ اِس تحقیق میں جیل کے صرف اُن قیدیوں کو شامل کیا گیا تھا،جن کا رویہ دوسرے قیدیوں کے ساتھ سخت معاندانہ اور نفرت آمیز تھا۔ انہیں ہفتہ وار بنیادوں پر یہ کہہ کر افسانوی اَدب کی مختلف کتابیں مطالعے کے لیئے دی جاتی تھی، کہ وہ اگر ہر ہفتہ کتاب کو اچھی طرح سے پڑھا کریں گے تو اُن کی سزا میں تخفیف کردی جائے گی۔ حیران کن طور پر چند ہفتے بعد ہی ماہرین نفسیات نے افسانوی اَدب کا مطالعہ کرنے والے قیدیوں کے رویے، مزاج اور بول چال میں غیر معمولی مثبت تبدیلیاں محسوس کیں۔مثلاً افسانوی اَدب کی پسندیدہ کتب کے مطالعہ کے بعد نہ صرف قیدیوں نے ایک دوسرے سے بات بے بات اُلجھنا اور جھگڑاکرنا بند کردیا بلکہ وہ آپس میں کھل کر گفتگو اور ہنسی مذاق بھی کرنے لگے تھے۔

دوسری جانب ایسی ہی ایک سائنسی تحقیق یونیورسٹی آف گلاسکو نے برطانیہ کی ایک جیل میں خواتین قیدیوں کے پانچ گروپ بنا کر بھی کی گئی تھی۔ بس فرق یہ تھا کہ یہاں صرف ایک گروپ کو افسانوی اَدب پر مشتمل کتابیں مطالعہ کے لیئے دی جاتی تھیں۔ جبکہ بقایا چار گروپس میں شامل رضاکار قیدی خواتین کو افسانوی اَدب کے علاوہ کسی بھی دیگر پسندیدہ موضوع پر کتابیں منتخب کرکے پڑھنے کی مکمل آزادی حاصل تھی۔اس تحقیق میں ماہرین نے یہ نتائج اخذ کیئے کہ افسانوی اَدب کا مطالعہ کرنے والے گروپ میں شامل قیدی خواتین نے دیگر گروپس کی قیدی خواتین کے مقابلے میں متنوع موضوعات اور دیگر ثقافتوں کے بارے میں سیکھنے اور تاریخ کے ادوار کو جاننے کے بارے میں زیادہ دلچسپی کا مظاہرہ کیا۔علاوہ ازیں اپنے مخالفین کے عقائد اور سیاسی نظریات کو تحمل کے ساتھ سُن کر اُن سے بامعنی اور پر دلیل بحث و مباحثہ کی زیادہ صلاحیت بھی اُنہیں خواتین نے دکھائی،جنہوں نے افسانوی اَدب پر مشتمل کتب کا مطالعہ کیا تھا۔نیز ماہرین نے مذکورہ تحقیق سے یہ نتیجہ بھی مرتب کیا کہ جو قارئین افسانوی اَدب کو کثرت سے پڑھتے ہیں،وہ دیگر طبقات،نسل، ثقافت اور سیاسی نقطہ نظر کو سمجھنے کی بھی زیادہ بہتر صلاحیت رکھتے ہیں اور افسانوی اَدب کے مطالعہ سے جہاں قاری کا زاویہ نگاہ وسیع ہوتا ہے،وہیں اُس میں اپنے افکار و خیالات سے یکسر مختلف عقائد و نظریات رکھنے والوں کے لیئے ہمدردی کا جذبہ بھی پیدا ہوتاہے۔

دل سے پڑھیں،دل کے لیئے
یونیورسٹی آف میڈیسن برلن اور دی ری ہیبلی ٹیشن سینٹر شیاوف نے اپنی ایک مشترکہ سائنسی تحقیق میں سراغ لگایا ہے کہ مطالعہ سے امراض قلب کے مریضوں کی صحت میں خاطر خواہ بہتری اور بحالی آتی ہے۔ یاد رہے کہ کارڈیالوجی یونٹ میں کی جانے والی اِس تحقیق کا مقصد اِس سوا ل کا جواب تلاش کرنا تھا کہ جس طرح طرز خورو نوش میں تبدیلی سے امراض قلب کے مریضوں کو فائدہ ہوتا ہے کیا اُسی طرح روزمرہ عادات اور معمولات میں ردوبدل کرنے سے بھی اُن کی صحت پر اچھے اثرات مرتب ہوسکتے ہیں؟۔پورے ایک برس تک جاری رہنے والی اِس سائنسی تحقیق میں مختلف امراض قلب کی بیماریوں کا شکار 130 مریضوں کو شامل کرکے دو گروپس میں تقسیم کردیا گیا تھا۔ماہرین کی جانب سے ایک گروپ میں شامل افراد کو اُن کے ذہنی رجحان کے لحاظ سے مختلف عنوانات پر کتابیں پڑھنے کے لیئے فراہم کی گئی تھیں۔ جبکہ دوسرے گروپ میں شامل افراد کوکتب کے بجائے موسیقی سننے،گیمز کھیلنے، ٹی وی پروگرامز اور فلمیں دیکھنے کی بھرپور آزادی دے دی گئی تھی۔دوران ِ تحقیق ماہرین نے نوٹ کیا کہ مطالعہ کرنے والے گروپ میں شامل مریضوں میں بلند فشار خون او ر اختلاج قلب کی ماضی کے مقابلے میں بہت کم شکایات محسوس کی گئیں۔جبکہ دوسرے گروپ میں شامل بعض افراد میں تو طبیعت خرابی کی شکایات جوں کی توں رہی اور کچھ مریض پہلے سے بھی زیادہ صحت کے مسائل کا شکار ہوگئے۔ مذکورہ تحقیق کے اختتام پر حاصل ہونے والے اعداد وشمار کی روشنی میں ماہرین اِس نتیجے پر پہنچے کہ مطالعہ سے امراض قلب کے مریضوں کی مکمل شفایابی میں تو کوئی مدد نہیں مل سکتی مگر چونکہ مطالعہ کتب اُنہیں اپنے روزمرہ تفکرات اور پریشانیاں بھلانے میں انتہائی ممد و معاون ثابت ہوتاہے۔ لہذا، مطالعہ کی عادت سے امراض قلب کی مریض اپنے مرض کی شدت کوکافی حد کم کرکے راحت و سکون ضرور حاصل کرسکتے ہیں۔

حوالہ: یہ مضمون سب سے پہلے روزنامہ جنگ کے سنڈے میگزین میں 12 مارچ 2023 کے خصوصی شمارہ میں شائع ہوا۔

راؤ محمد شاہد اقبال

اپنا تبصرہ بھیجیں