شیروں اور بندروں کی جنگ میں جیت کس کی ہوگی؟

علامتیں بعض اوقات تحریک سے بھی زیادہ کارکنان میں تحریک پیدا کرنے کا باعث بن جاتی ہیں۔ شاید یہ ہی وجہ ہے کہ انسانی تاریخ میں اَب تک جتنی بھی سیاسی،سماجی،اصلاحی، فکری اور انقلابی تحر یکوں نے جنم لیا ہے،اُن میں سے ہر تحریک کے ساتھ کوئی نہ کوئی علامت ضرور نتھی رہی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ دورِ جدید میں بھی حضرت انسان تمام تر کاوش اور جدوجہد کے باوجود علامتوں اور استعاروں سے اپنی جان نہیں چھڑا سکا بلکہ یوں کہہ لیں کہ آج کا انسان ماضی سے بھی زیادہ اپنی سیاست، حرفت اور صنعت کے تعارف کے لیئے علامتوں کا سہارا لینے لگا ہے۔ مثلاً جنگ میں ہتھیار، صنعت میں مونو گرام، تجارت میں ٹریڈ مارک، سیاست میں سیاسی نشان اور انتخابات میں انتخابی نشان علامتوں اور استعاروں کے ساتھ اپنے آپ کو منسلک کرنے کی سب سے بڑی ”خواہشِ اظہار“ہی تو ہے۔ سادہ الفاظ میں یوں سمجھ لیجئے کہ علامتیں اور استعارے ہم انسانوں کی داخلی، قومی اور بین الاقوامی شناخت کا جزولاینفک بن چکے اور یہ علامتیں ہمارے لیئے دنیا بھر میں فخر و مباہت کا موثر ترین”وسیلہ اظہار“ بھی ہیں۔

دنیا کا ہر سکھ اپنے نام کا ساتھ سنگھ کا لاحقہ ضرور استعمال کرتاہے اور سنگھ کا مطلب ہے شیر۔ یعنی سکھ ایک دوسرے سے متعارف ہوتے ہوئے اپنے نام کے بعد سنگھ کا لفظ بول اور لکھ کر یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ اُنہیں طاقت، حوصلہ اور عادت و اطوار میں ایک شیر ہی تسلیم کیا جائے۔ جبکہ سکھ قوم سے تعلق رکھنے والا کوئی فرد اَب وہ مرد ہو یا عورت،بچہ ہو یانوجوان،مشرق میں رہتاہو یا پھر مغرب میں ایک شیر جیسا بن کر ہی اپنی زندگی بسر کرتاہے،یاکم ازکم شیر بنے رہنے کی کوشش تو ضرور ہی کرتاہے۔ دوسری جانب ہندو توا نظریے سے اپنا تعلق بتانے والے خود کو ہنومان کہہ کر دوسرے سے متعارف کرواتے ہیں۔ ہنومان کا معنی ہے، بندر۔ اور ہندوتوا، والوں کو بندر اپنے لیئے بطور شناخت اس قدر عزیز ہے کہ انہوں نے بندر کو اپنا دیوتا تک بنا لیا ہے اور بھارت کے دارلحکومت نئی دہلی کے داخلی دروازے پر ایک وسیع وعریض،دیوقامت بندر دیوتا کا مجسمہ نصب کرکے بند ر اور اپنے درمیان فطری تعلق واضح کردیا ہے۔ تاکہ بھارتی دارلحکومت میں میں داخل ہونے والے ہرکس و ناقص اچھی طرح سے سمجھ جائیں کہ اس راج دھانی میں بند رکی حکومت ہے۔

آج کل شیر اور بند ر کے درمیان ایک بڑا گھمسان کا معرکہ اور جنگ مغربی ممالک امریکا، کنیڈا،جرمنی اور برطانیہ میں بھی جاری ہے اور عالمی ذرائع ابلاغ کی وساطت سے ملنے والی آخری مصدقہ اطلاعات کے مطابق شیروں نے بندروں کے اوسان خطاکیئے ہوئے ہیں۔ جی ہاں! یہاں ہماری مراد خالصتان ریفرنڈم سے ہے،جس کے کامیاب انعقادہندتوا نظریات کے پرچارک بھارتی سرکار کی نیندیں حرام کردی ہیں۔ ذرائع کے مطابق سال 2021ء کے آخری روز خالصتان ریفرنڈم کے لئے برطانیہ4مقامات گورد وارہ سنگھ سبھا ہنسلو، گوردوارہ سنگھ سبھا سلاؤ، گرو نانک گوردوارہ ویڈنیسفیلڈ اور گورو نانک گوردوارہ سمیتھ وک میں قائم کیئے گئے پولنگ سٹیشنز میں سکھ فار جسٹس کے تحت منعقدہ خالصتان ریفرنڈم میں 20 ہزار کے قریب ووٹرز نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔ سکھس فار جسٹس نے دو ماہ قبل 31 اکتوبر کو لندن کے ویسٹ منسٹر پیلس کے باہر کوئن الزبتھ ہال سے خالصتان کیلئے ریفرنڈم کا آغاز کیا تھا، جس میں تقریباً 10ہزار سکھوں نے ووٹ ڈالا جبکہ ان دو ماہ میں 10 شہروں میں منعقدہ ریفرنڈم میں 2 لاکھ کے قریب سکھ اپنا حق رائے دہی استعمال کر چکے ہیں۔

یاد رہے کہ سکھوں کی بین الاقوامی تنظیم”سکھ فار جسٹس“ نے بھارت سے آزادی کیلئے15 اگست 2021 کو دنیا بھر میں سکھوں کے لیئے ایک علاحدہ ملک خالصتان کے قیام کے لیئے عالمی برادری کی حمایت حاصل کرنے کے لیئے ریفرنڈم کروانے کا اعلان کیا تھا۔اکتوبر 2021 سے شروع ہونے والے اس ریفرنڈم کا ساتواں مرحلہ بھی برطانیہ میں کامیابی سے مکمل کرلیا گیا ہے۔ ریفرنڈم کے منتظمین کے مطابق اَب تک سو فیصد سکھ کمیونٹی نے بھارتی سرزمین پر سکھوں کے لیئے ایک الگ وطن خالصتان کے حق میں ووٹ دیئے ہیں۔ مذکورہ ریفرنڈم کا اعلان تنظیم کی جانب سے آن لائن اجلاس میں کیا گیا۔ سکھ فار جسٹس کا ہیڈ کوارٹرز واشنگٹن میں قائم ہے۔ ”سکھ بار جسٹس“ کے پلیٹ فارم سے بھارتی پنجاب سمیت سکھ مذہب سے تعلق رکھنے والے دنیا بھر کے سکھ قائدین بھارتی قبضے سے خو د کو آزاد کرانے اور خالصتان سکھ سٹیٹ قائم کرنے کے لیے کافی عرصے سے کوشاں ہیں،اسی سلسلے میں پنجاب کو آزاد کرانے کے حوالے سے مہم زوروشورسے جاری ہے۔خالصتان ریفرنڈم کیلئے20 ملکوں میں پولنگ بوتھ قائم کرنے کا التزام کیا گیا ہے، جس میں بھارتی سکھ آن لائن ووٹنگ کے ذریعے حصہ لے رہے اور کہیں ذاتی حیثیت میں سکھ کمیونٹی خالصتان کے حق میں اپنا حق رائے استعمال کررہی ہے۔

سکھوں کی کسان تحریک کی صورت میں دلی پر یلغار کے بعد بین الاقوامی سطح پر خالصتان ریفرنڈم کے انعقاد سے ہندوستانی سیاسی اور عسکری قیادت میں سخت تشویش پائی جاتی ہے۔جبکہ، چین کے ساتھ مسلسل کشیدگی اور گلوان وادی پر چینی قبضے کے بعد بھارتی فوج ہندوستان میں تیزی سے مقبولیت کھو رہی ہے۔ دوسری جانب ایسی خبریں بھی عالمی ذرائع ابلاغ میں تواتر سے شائع ہورہی ہیں کہ اپنے علیحدہ ملک کے حصول کیلئے سرگرم سکھ کارکن بھارت بھر میں بھی سرگرم ہو چکے ہیں۔ کچھ عرصہ سے بہت سے سکھ فوجی انڈین آرمی سے استعفیٰ دے کر تحریک خالصتان میں شامل ہو رہے ہیں اور ہر گزرتے دن کے ساتھ ان کی تعداد تیزی سے بڑھتی جارہی ہے۔ جس کے بعد بھارتی حکومت نے سکھوں کے حقوق کیلئے سرگرم تنظیم ”سکھ فار جسٹس“ سے منسلک 40 ویب سائٹوں پر پابندی لگادی ہے، اس تنظیم سے وابستہ 116 واٹس ایپ گروپوں پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ بھارتی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر سکھوں سے متعلق خصوصی ہیش ٹیگز پر بھی پابندی لگا دی گئی ہے تا کہ سکھ سوشل میڈیا پر اپنے حقوق کیلئے آواز بلند نہ کر سکیں۔

اہم ترین خبر یہ ہے کہ گذشتہ کچھ عرصے میں 11000 سے 13000 تک سکھ فوجی پہلے ہی اس تحریک میں باقاعدہ شامل ہو چکے ہیں اور انھوں نے اعلان کر رکھا ہے کہ وہ بھارت کیلئے کسی جنگ میں حصہ نہیں لیں گے۔ دریائے جمنا کے نزدیک واقع لال قلعہ مغلیہ سلطنت کے سنہری دور کی یادگا رہے۔ اسے 17ویں صدی میں مغل بادشاہ شاہجہان نے تعمیر کرایا تھا۔ اسی قلعے میں مغل بادشاہ ہندوستان کے طول و عرض پر حکومت کرتے تھے۔آزادی کے بعد لال قلعہ کے بیشتر حصے ہندوستانی فوج کے قبضے میں آ گئے تھے،لیکن سکھوں نے لال قلعہ پر خالصتان کا پرچم لہراکر ثابت کر دیا ہے کہ اب مودی سرکار کا جانا اور سکھوں کا آنا ٹھہر چکا ہے۔ تاریخ کا اس سے بڑھ کر کیا انصاف ہو گا کہ جن سکھوں نے ہندووں کے ساتھ ملکر مسلمانوں کاقتل عام کیا تھا،آج وہ اسی ہندوستان میں اپنی شناخت کے لیے ہندووں سے لڑرہے ہیں۔

واضح رہے کہ تحریکِ خالصتان سکھ قوم کی بھارتی پنجاب کو، بھارت سے الگ کر کے ایک؛آزاد سکھ ملک بنانے کی تحریک ہے۔ سکھ زیادہ تر بھارتی پنجاب میں آباد ہیں اور امرتسر میں ان کا صدر مقام ہے۔ 1980 کی دہائی میں میں خالصتان کے حصول کی تحریک زوروں پر تھی جس کو بیرون ملک مقیم سکھوں کی مالی اور اخلاقی امداد حاصل تھی۔ بھارتی حکومت نے آپریشن بلیو سٹار کر کے اس تحریک کو کچل ڈالا۔ کینیڈا میں مقیم سکھوں پر یہ الزام بھی لگا کہ انہوں نے بھارتی مسافر طیارہ اغوا کر کے تباہ کر دیا آج موجودہ دور میں بی جے پی کی حکومت میں سکھوں پر مظالم اور بڑھ گئے ہیں مودی حکومت نے مشرقی پنجاب کے سکھ کسانوں پر نئے قانونا کے ذریعے ان کو معاشی طور پر کمزور کرنے کی کوشش کی۔لیکن اب سکھ قوم کے نوجوان”سکھ فار جسٹس“ کے پلیٹ فارم سے آزادی کے لیے کوششیں کر رہے ہیں اور جس طرح سے مذکورہ تنظیم کو دنیا بھر سے بالخصوص کنیڈا ور برطانیہ سے امداد میسر آرہی ہے۔اس کے بعد امید کی جاسکتی ہے کے مستقبل قریب میں آزاد خالصتان سکھ قوم کا مقدر ہو گا۔

دوسری جانب سکھ فار جسٹس کے جنرل قونصل گرپت ونت سنگھ پنو اور خالصتان کونسل کے صدر ڈاکٹر بخشش سنگھ سندھو نے برطانیہ میں جاری سکھ ریفرنڈم کے دوران محسوس کئے جانے والے تحفظات پر بات چیت کیلئے اقوام متحدہ کے اعلیٰ حکام سے بات چیت کی ہے۔ اس موقع پر انہوں نے خالصتان ریفرنڈم اور پوری خالصتان تحریک کو کرمنلائز کرنے کی مودی حکومت کی کوششوں سے متعلق ایک رپورٹ بھی حکام کو پیش کی۔سکھ رہنماؤں نے اقوام متحدہ کے افسران کو بین الاقوامی قانون کے تحت سکھوں کے حق خودارادی اور مودی حکومت کی جانب سے خالصتان ریفرنڈم کے بھارت میں موجود اور بیرون ملک مقیم کارکنوں پر غداری کے مقدمات قائم کرنے اور تشدد کا راستہ اختیار کرنے سے متعلق حقائق سے آگاہ کیا۔ انہوں نے اقوام متحدہ کے حکام کوبتایا کہ مودی کی ہندو توا حکومت سکھوں کوبھارتی قومیت ٹھونسنے کی کوشش کررہی اور سکھوں کے کلچر اور تاریخ کو مسخ کررہی ہے۔

انھوں نے اقوام متحدہ کے حکام کو مزید بتایا کہ مودی حکومت سوشل میڈیا، فیس بک، ٹوئٹر، انسٹا گرام اور یوٹیوب پر انتہا پسندانہ بھارتی قومیت کا پرچار کر رہی ہے اور رائے شماری کے ذریعے بھارت سے پنجاب کی آزادی کی حمایت میں لگائے جانے والے مواد کو بلاک کر کے خالصتان کے ریفرنڈم کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کررہی ہے۔سکھ رہنماؤں کا مزید کہنا تھا کہ بھارت کے سیکورٹی حکام برطانیہ، کینیڈا، امریکہ اور یورپ میں حکام سے مل کر سکھ فار جسٹس کو دہشت قرار دلوانے اور خالصتان سے متعلق ریفرنڈم کو رکوانے پر آمادہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ وفد نے ثبوت کے ساتھ اقوام متحدہ کے حکام کو بتایا کہ بھارتی حکومت نے کس طرح امریکہ میں مقیم وکیل گرپت ونت سنگھ پنوں، کینیڈا کے ہردیپ سنگھ نجار اور برطانیہ کے پرامیت جیت سنگھ پما کو گزشتہ سال یوم حقوق انسانی کے موقع پر بھارت کے قومی تفتیشی ادارے کے ذریعے بیرونی ممالک میں بھارتی مشن کے سامنے کسانوں کی حمایت میں ریلیوں کا اہتمام کرنے پر غداری کا الزام عائد کردیا ہے۔

حوالہ: یہ مضمون سب سے پہلے روزنامہ جرات کراچی کے ادارتی صفحہ پر 13 جنوری 2022 کی اشاعت میں شائع ہوا۔

راؤ محمد شاہد اقبال

اپنا تبصرہ بھیجیں