America Downfall in 21st Century

امریکا کو گرائے گی اکیسویں صدی

کو ئی مانے یا نہ مانے مگر حقیقت تو یہ ہی ہے کہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ امریکا کو اندرونی طور پر مضبوط،خوشحال اور ناقابل تسخیر بناناچاہتے تھے جبکہ حالیہ امریکی صدر جوزف بائیڈن امریکا کو بیرونی دنیا کی عالمی سپر پاور برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔ ٹرمپ نے اپنے دورِ حکومت میں تمام تر توجہ صرف اس ایک نکتہ پر مرکوز رکھی تھی کہ کسی بھی طرح سے امریکا کو مختلف ممالک میں جاری تنازعات کی سیاسی اور عسکری دلدل سے باہر نکالا جائے۔بلاشبہ ٹرمپ اپنی اِس خواہش کو عملی جامہ پہنانے میں کافی حد تک کامیاب بھی رہے اور یہ بات تو اُن کے سخت ترین ناقد بھی تسلیم کرتے ہیں کہ ریاست ہائے متحدہ امریکا کو ڈونلڈ ٹرمپ کی صورت میں کئی دہائیوں کے بعد ایک ایسا صدر میسر آیا تھا،جس نے امریکی ریاست کو کسی نئی جنگ کا ایندھن بنانے کے بجائے،پرانی جنگوں سے نکالنے کے لیئے مقدور بھر مخلصانہ کوشش کی۔ لیکن امریکی صدر جوزف بائیڈن اور اُن کی ٹیم نے اقتدار میں آتے ہی سابق امریکی صدر کی پالیسیوں کو کسی حرفِ غلط کی طرح مٹانا شروع کردیا ہے۔نیز امریکا کی خارجہ پالیسی میں سے چُن چُن کر ٹرمپ انتظامیہ کی شامل کی گئی باقیات نکالی جارہی ہیں اور بھرپور کوشش کی جارہی ہے کہ دنیا کے جن دہکتے ہوئے جنگی محاذوں پر لگی آگ کو ٹرمپ نے مذاکرات کا ٹھنڈا پانی ڈال کرکافی حدتک بجھا دیا تھا،اُنہیں ایک بار بھر سے دہکا دیا جائے۔

یہ مضمون بھی پڑھیئے: چین اِن، امریکا آؤٹ

بظاہر اپنی وضع وقطع اور زبان وبیان سے ڈونلڈ ٹرمپ کی شخصیت پر ایک ایسے پاگل جنگجوکا گمان کیا جاتا تھا تو اپنی حرکتوں سے عالمی امن کو جنگ کے شعلوں کی نذر کر کے کسی بھی لمحے تہہ و بالا کرسکتاہے مگر لطیفہ ملاحظہ ہو کہ عالمی ذرائع ابلاغ میں خبطی قرار دیے جانے والے اُسی ٹرمپ کے دورِ حکومت میں شام میں استحکام آیا، عراق میں امن کا بول بالا ہوا، داعش کا خاتمہ بالخیر کیئے جانے کا اعلان کیا گیا اور افغانستان سے بیرونی حملہ آور کے انخلاء کی اُمید کی ایک کرن پیدا ہوئی۔جبکہ جوزف بائیڈن جسے امریکی میڈیا نے ایک ”عالمی مسیحا“ بناکر پیش کیا تھا،اُس کے منصبِ صدارت کے پہلے مہینے میں ہی داعش دوبارہ سے معرضِ وجودمیں آگئی، عراقی سرزمین بم دھماکوں اور خود کش حملوں سے گونجنے لگی،شام میں جنگ کے بادل چھانے لگے اور افغانستان میں اَمن معاہدہ کو نظر انداز کر کے خانہ جنگی کی نئی نئی راہیں تلاش کی جارہی ہیں۔ صرف یہ ہی نہیں شمالی کوریا کو جنوبی کوریا سے ڈریا، دھمکایا جارہا ہے اور بھارت،جاپان اور آسٹریلیا کو ایک محاذ پر اکٹھاکرکے چین کی راہیں مسدود کرنے کے لیئے بساط بچھائی جارہی ہے۔یوں سمجھ لیجئے کہ ٹرمپ، امریکا کو اندرونی طو رپر مضبوط اور طاقت ور کر کے دنیا پر امریکیوں کی دھاک بٹھانا چاہتا تھا جبکہ جوبائیڈن اپنے حریف ممالک معاشی،عسکری اور انتظامی طور پر کمزور کرکے دنیا پر اپنی دہشت قائم کرنا چاہتاہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ سال فروری کے مہینے میں قطر کے دارلحکومت دوہا میں سابق امریکی صدر ٹرمپ کی دیرینہ خواہش پر امریکی انتظامیہ اور طالبان کے مابین ایک امن معاہدہ طے کیا گیا تھا۔ جس میں درج شرائط کی روشنی میں امریکی افواج کو رواں برس یکم مئی تک مکمل طور پر افغانستان سے نکل جانا تھااور افغانستان میں طالبان مقامی فریقین کو اپنے ساتھ ملا کر ایک وسیع البنیاد حکومت تشکیل دے پاجاتی۔ لیکن اس سے پہلے کہ امریکی افواج افغانستان سے نکلتی، امریکا میں ڈونلڈ ٹرمپ کو ہی کیپیٹل ہل سے چلتا کردیا گیا اور جوزف بائیڈن نے امریکی انتظامہ اور طالبان کے درمیان ہونے والے معاہدہ کو یک طرفہ طورپر منسوخ کرکے ایک نیا امن منصوبہ پیش کردیا۔جس میں تجویز کیا گیا ہے کہ پہلے کابل میں تمام فریقوں پر مشتمل عبوری حکومت قائم کی جائے۔ اسکے بعد ترکی میں تمام افغان فریقوں کی بین الاقوامی کانفرنس بلائی جائے گی تاکہ وہ کسی مستقل مفاہمتی دستور پر متفق ہوسکیں۔ اس عجیب و غریب کانفرنس کو اقوام متحدہ کی چھتری تلے منعقد کیا جائیگا۔حیران کن طور اس میں امریکہ کے ساتھ ساتھ افغانستان کے قریبی ممالک پاکستان‘ ایران‘ بھارت‘ روس اور چین بھی شرکت کریں گے تاکہ وہ کسی معاہدہ پر عمل درآمد کے لیے ضامن بن سکیں۔ امریکی صدر جوزف بائیڈن کایہ نیا اَمن منصوبہ اِس قدر پیچیدہ اور گنجلک ہے کہ اس پر عمل درآمد کرپانا، طالبان کیا،دیگر افغان گروپوں کے لیئے شاید ہی ممکن ہوسکے۔دراصل بائیڈن کی شدید خواہش ہے کہ یہ نیا اِمن منصوبہ بھی پچھلے امن معاہدہ کی طرح ناکامی سے دوچار ہوجائے تاکہ افغانستان میں امریکی افواج کسی نہ کسی صورت یا حیثیت میں موجود رہیں۔ کچھ بعیدنہیں کہ نئی امریکی انتظامہ افغانستان میں موجود اپنے عسکری اثر ورسوخ کو چین اور روس کے خلاف استعمال کرنے کا بھی ارادہ رکھتی ہو۔ اگر ہمارا یہ اندیشہ درست ہے تو پھر یقینا امریکی انتظامیہ طالبان اور دیگر فریقین کو بس اِدھر سے اُدھر کچھ وقت کے لیئے مذاکرات میں ہی اُلجھا کر رکھے گی اور جیسے ہی جوبائیڈن انتظامیہ کو مناسب موقع میسر آیا وہ اپنے ترتیب دیئے گئے اِس نئے امن معاہدہ سے بھی لاتعلقی کا اعلان کرنے میں لمحہ بھر کی تاخیر نہیں کریں گے۔

واضح رہے کہ افغانستان میں اَمن ہمارے پورے خطے اور دنیا بھر کے لیئے خاص اہمیت کا حامل ہے لیکن جوبائیڈن انتظامیہ کے مستقبل کے ممکنہ اہداف کچھ اس نوعیت کہ ہیں کہ اُنہیں افغانستان میں اَمن کے بجائے مزید عدم استحکام کی ضرورت ہے۔ اگر چہ امریکہ کے وزیر خارجہ انٹنی بلنکِن نے افغان صدر اشرف غنی کو ایک خط لکھا ہے جس میں وسیع البنیاد حکومت کے قیام کی فوری ضرورت کو اُجاگر کیا گیا ہے۔لیکن بعض ماہرین سمجھتے ہیں کہ اس خط میں عبوری حکومت کا قیام فریقین کے درمیان ہونے والے مذاکرات کی کامیابی سے مشروط کرکے خط کے ذریعے بین السطور اشرف غنی تک یہ پیغام پہنچانے کی کوشش کی گئی ہے کہ”نہ مذاکرات کامیاب ہوں گے اور نہ ہی عبوری حکومت قائم ہوگی“۔ لہٰذا اَب یہ اشرف غنی پر منحصر ہے کہ وہ مذاکرات کو کس قدر طول دے کر اپنی حکومت کو کب تک قائم رکھ پاتاہے۔ بظاہر افغانستان میں عبوری حکومت کا قیام ناممکن ہی دکھائی دیتاہے۔ کیونکہ طالبان مخالف سیاسی قوتوں میں اور کابل کی اشرافیہ‘ تعلیم یافتہ طبقہ میں بھارتی لابی خاصی مضبوط ہے۔نیزبھارت کی افغانستان میں سینکڑوں ارب روپے کی سرمایہ کاری بھی ہے۔اس لیئے بھارت ہر ممکن اقدام کرے گا جس سے افغانستان میں ایک وسیع البنیاد عبوری حکومت کے قیام میں رخنہ پیدا ہوسکے۔

جوبائیڈن انتظامہ کے سفارتی دوغلے پن کی ایک تازہ ترین مثال گزشتہ دنوں ترکی کے صدر طیب اردگان کے ترجمان ابراہیم کی جانب سے دیا جانے والا وہ بیان بھی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ امریکہ نے ترکی کو پاکستان کیلئے بنائے جانیوالے30 جنگی ہیلی کاپٹر فروخت کرنے پر پابندی لگادی ہے۔ واضح رہے کہ پاکستان اور ترکی کے درمیان دو انجن والے گن شپ ہیلی کاپٹر کا معاہدہ 2018ء میں طے پایا تھا، 105کروڑ ڈالر کا یہ معاہدہ پاکستان اور ترکی کی تاریخ میں ہتھیاروں کی فروخت کا سب سے بڑا معاہدہ ہے، ان ہیلی کاپٹروں میں امریکی ساختہ انجن استعمال ہوتے ہیں جو امریکہ نے ترکی کو برآمد کرنے سے منع کردیا ہے۔اس خبر کے مندرجات ایسے تجزیہ کاروں کی عقل ٹھکانے میں لانے کے لیئے کافی و شافی ہونے چاہئیں جو تواتر کے ساتھ کہہ رہے تھے کہ امریکا افغانستان سے امریکی افواج کے انخلاء کو یقینی بنانے کے لیئے پاکستان میں استحکام کا خواہش مند ہے اور اس کے لیئے جوبائیڈن انتظامیہ نے بھارت کو لائن آف کنٹرول پر جنگ بندی کا معاہدہ کرنے پر مجبور کیا ہے۔ یقینا کنٹرول لائن پر جنگ بندی ہونے سے پاکستان کو کئی حوالے سے فوائد بھی حاصل ہوں گے۔مگرسوال یہ ہے کہ یہ جنگ بندی کب تک قائم رہ پائے گی؟۔ غالب امکان یہ ہی ہے کہ بھارت کی جانب سے اِس جنگ بندی کے معاہدہ کی پاس داری فقط اُس وقت تک ہی کی جائے گی جب تک کہ مودی حکومت کو اِ س کی ضرورت ہوگی۔ تاہم جہاں امریکا نے کنٹرول لائن پر جنگ بندی کروا کرپاکستان کو کچھ عرصہ کے لیئے سانس لینے کا موقع فراہم کیا ہے،وہیں دوسری جانب ترکی پر پاکستان کے لیئے بنائے جانے والے جنگی ہیلی کاپٹر کی فروخت پر پابندی لگا کر پاکستان کو زچ کرنے کی اپنی سی کوشش بھی کی ہے۔امریکا کا یہ رویہ صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ ترکی کے لیئے بھی ایک سبق ہے۔

مزید یہ بھی پڑھیں: جارج فلائیڈ کا امریکا

بہر کیف،خوش آئند بات یہ ہے کہ پاکستان کو امریکی دوستی کا تمام تلخ اور شیریں اسباق پوری طرح سے ازبر ہیں۔شاید یہ ہی وجہ ہے کہ ترکی پر امریکی پابندیوں کے اقدام کے بعد پاکستان اور ترکی نے باہم مل کر جنگی ساز و سامان تیار کرنے کا اعلان کردیا ہے۔ پاکستان اور ترکی کے مابین وسیع تر دفاعی تعاون کی مصدقہ خبر نے بھارت اور اسرائیل کو سخت پریشانی اور تشویش میں مبتلا کردیا ہے۔ کیونکہ یہ دونوں ممالک جانتے ہیں جس دفاعی تعاون میں پاکستان شامل ہوگا،اُس میں کہیں نہ کہیں چین بھی ضرور پیش پیش ہوگا۔ یاد رہے کہ ترکی مسلمان ممالک میں عسکری سازو سامان کی تیاری میں سب سے زیادہ ترقی یافتہ ہے، جبکہ اس کے انجینئرز، بری،بحری و فضائی افواج کیلئے درکار امریکی اسلحہ ساز ٹیکنالوجی سے بھی بخوبی واقفیت رکھتے ہیں۔اس لیئے قوی امکان ہے کہ پاکستان، ترکی اور چین کا مشترکہ طور پر اسلحہ سازی کا مجوزہ منصوبہ یقینا مستقبل قریب میں ہمارے دشمن ممالک خاص طور پر بھارت کے ہوش ٹھکانے لگانے میں حد درجہ معاون و مددگار ثابت ہو سکتاہے۔علاوہ ازیں چین، روس، ایران، ترکی، پاکستان اور وسطی ایشیائی ممالک پر مشتمل ایک نیا عسکری اتحاد، کی قوت و طاقت سے جوبائیڈن انتظامیہ کو جلد یا بدیر، احساس ہو ہی جائے گا کہ اپنے دیرینہ دوست ممالک کے ساتھ روا رکھے جانے والی حد سے زیادہ چالاکی، آپ کو شکست،ہزیمت اور ناکامی و نامرادی کے گہرے گڑھے میں بھی ہمیشہ ہمیشہ کے لیئے دفن کرسکتی ہے۔بقول بشیر بدر
لے جاکے آسماں پہ تاروں کے آس پاس
امریکا کو گرائے گی اکیسویں صدی

حوالہ: یہ مضمون سب سےپہلے روزنامہ جرات کراچی کے ادارتی صفحہ پر 18 مارچ 2021 کی اشاعت میں شائع ہوا۔

راؤ محمد شاہد اقبال

اپنا تبصرہ بھیجیں