Zainab Alert

سانحہ زینب، سے بچنے کا کچھ تو علاج ممکن ہے۔۔۔

”ذرا جلدی ناشتہ کرلیں پھر آپ نے آج بچیوں کو اسکول بھی چھوڑ کر آنا ہے“میری بیگم نے مجھے مخاطب کرتے ہوئے کہا
”لیکن بچیاں تو روزانہ اسکول اکیلی ہی جاتی ہیں،یہ دو گلی فاصلہ پر تو اُن کا اسکول ہے، کیا کوئی آج خاص بات ہے،اسکول میں“ میں نے جواباً کہا
”کچھ بھی ہو جائے آج سے بچیاں نہ تو اکیلی اسکول جائیں گی اور نہ ہی اکیلی واپس آئیں گی،آپ آج سے روزانہ دفتر جانے سے پہلے انہیں اسکول چھوڑ کر آیا کریں گے جبکہ میں خود جاکر انہیں اسکول سے لے کر آیا کروں گی،کیونکہ قصور میں کل زینب کے ساتھ ہونے والے واقعہ کے بعد میرا دل اس بات پر کسی صورت راضی نہیں کہ میری بچیاں اسکول اکیلی جائیں یا اکیلی آئیں“میری بیگم نے انتہائی جذباتی انداز میں مجھے اپنا فیصلہ سناتے ہوئے کہا۔
اتنا جذباتی اور عدم تحفظ کا شکار میں نے آج سے پہلے اپنی بیگم کو کبھی نہیں دیکھا تھااور سچی بات تو یہ ہے کہ ایک دو، دنوں سے زینب کی شہادت اور اس پر بیتنے والی بپتا کی روح فرسا خبریں سننے کے بعد ایک ان جانا سا خوف تو میرے دل میں بھی آبسا تھا،بس میں اسکا اظہار کسی سے کیا خود اپنے آپ سے بھی نہیں کرپارہا تھا،لیکن میری بیگم کی گفتگو نے میری یہ مشکل آسان بنادی،پھر مجھے اس بات کو ذہنی طورپر تسلیم کرنے میں قطعاً کو ئی تامل نہیں رہا کہ قصور میں زینب کے ساتھ ہونے والے کے زیادتی کے لرزہ خیز واقعہ نے سینکڑوں میل دور سے میرے گھر کی در و دیوار کو بھی ہلا کر رکھ دیا ہے۔انہیں خیالوں میں مگن میں نے جلدی جلد ی ناشتہ کیا اور پھر اپنی بچیوں کو اُن کے اسکول چھوڑنے روانہ ہوگیا۔اسکول پہنچ کر تو میری حیرت کی انتہا نہیں رہی کیونکہ اسکولوں میں آج کوئی بھی بچہ ایسا نظر نہیں آرہا تھا کہ جو اپنے والد یا والدہ کے ہمراہ اسکول نہ آیا ہو۔ایسا لگ رہا تھا کہ آج اسکول میں پیرنٹ ڈے ہے،لیکن میری طرح کسی بھی والدیا والدہ کے چہرے پر ذرہ برابر بھی وہ اطمینان نظر نہیں آرہا تھا جو عموماً پیرنٹ ڈے پر والدین کے چہروں پر چھلک رہا ہوتا ہے اس وقت توسب ہی کی چہروں پر گویا ہوائیاں سی اُڑی ہوئی تھیں اور ہر ایک کی یہ ہی کوشش تھی کہ کسی طرح وہ جلد ازجلد اسکول کی پرنسپل سے ملاقات کرے تاکہ اُنہیں تاکید کرسکے کہ”آئندہ سے اپنے بچوں کو لینے کے لیئے وہ خود اسکول آیا کریں گے،برائے مہربانی اُن کے بچوں کو اسکول سے اکیلا نہ بھیجاجائے“۔
ہوں فکر مند آج کے حالات دیکھ کر
بیٹی کی ماں ہوں اس لیئے سہمی ہوئی ہوں میں
یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ زینب کی شہادت کے اگلے دن اسی طرح کی کیفیت سے کم وبیش ہر وہ شخص ضرور گزرا ہوگا جس کے گھر میں زینب جیسی ایک بھی معصوم سی پیاری بیٹی ہو گی۔زینب کی شہادت کے سانحہ نے ہمارے معاشرے کی پرت پربرسوں سے چڑھے اقدار و اخلاقیات کے سب کچے رنگوں کو اُتارکر اتنا صاف و شفاف کردیا ہے کہ اب ہمیں اپنے معاشرہ کی ہر قدر میں پنہاں بدنمائی دیکھ کرخوف آنے لگا ہے۔اس سانحہ کے بعد آن کی آن میں پورا معاشرہ صدمہ کی ایک انجانی سی کیفیت میں داخل ہو گیا ہے جہاں معاشرہ کے کسی بھی فرد کو سمجھ نہیں آرہی کہ وہ اس واقعہ سے متعلق بات کہاں سے شروع کرے اور اسے کہاں پر لے جاکر ختم کرے۔دردناک منظر کچھ یوں ہے کہ عام لوگ حکمرانوں پرالزام عائد کررہے ہیں،حکمران انتظامیہ سے باز پرس کرنے میں مصروف ہیں،انتظامیہ وسائل و افرادی قوت کی کمی کا رونا دھونا لے کر بیٹھی ہوئی ہے،جبکہ اہلِ دانش و بنیش افراد گروہ در گروہ تقسیم ہوگئے ہیں۔ ایک گروہ کا اصرار ہے کہ ہے کہ نیا عمرانی معاہدہ طے کیا جائے اور نصاب سے لے کر احباب تک سب کی جدید خطوط پر ازسرِ نو ترتیب و تشکیل کی جائے جبکہ دوسرا گروہ بضد ہے کہ دورِ جدید کے ہر حرف پر یکسر لکیر پھیر کر سزاؤں سے لے دُعاؤں تک کے قدیمی و پرانے نسخوں کے مطابق معاشرہ کی سرجری فی الفور عمل میں لائی جائے اور ان دونوں کے عین بیچ میں ایک تیسرا گروہ بھی ہے جو صرف غمزدہ و ماتم کناں ہے۔یعنی زینب کی شہادت کے بعد سوگوار تو سب ہیں لیکن ذمہ دار کوئی نہیں اور گتھی اتنا زیادہ اُلجھ چکی ہے کہ اب ہم میں سے جوشخص اسے جتنا سلجھانے کی کوشش کرتا ہے،وہ اسے اور زیادہ اُلجھادیتا ہے۔لیکن ڈرے سہمے معصوم بچیوں کے والدین کو نہ تو ماضی کی سزاؤں کو دوبارہ سے اس ملک میں نافذ کرنے پر کوئی اعتراض ہے اور نہ ہی معاشرہ کی ازسرِ نو جدید خطوط پر تشکیل سے کسی بھی قسم کا ذرہ برابر اختلاف۔ یہ بیچارے سوختہ دل تو صرف اتنا چاہتے ہیں کہ قصور کی زینب کی شہادت کے عظیم سانحہ کے بعد اب ان کے گھر میں پلنے والی، راج دُلاری دوسری زینب کے ساتھ ایسا کوئی واقعہ کسی بھی صورت پیش نہ آئے۔کیا آج انفارمیشن ٹیکنالوجی کے دورِ جدید میں ہم اس قابل ہیں کہ اس طرح کے واقعات سے اپنے بچوں کو محفوظ کر سکیں؟ جب میری بیگم نے پہلی بار مجھ سے یہ سوال کیا تو میرا جواب ہاں میں تھا۔کیونکہ بطور جدید علوم کے خوشہ چیں و مبتدی کے میں جانتا ہوں کہ ہمیں بہت سی ایسی سہولیات حاصل ہیں جنہیں اگر ہم استعمال کریں تو مکمل طور پر تو نہیں، لیکن کافی حد تک ہم اس طرح کے واقعات کے آگے اُس وقت تک ضروربند باندھ کر اپنے آپ اور اپنے گھر والوں کسی حد تک ایک پرسکون زندگی فراہم کر سکتے ہیں جب تک کہ ہمارا معاشرہ اور ہماری حکومتیں ہمارے بچوں کی حفاظت کے لیئے مثالی سہولتوں کا بندوبست کرسکیں۔زیرِ نظر مضمون میں ہم ماضی کو پیٹنے یا مستقبل کے سنہری خوابوں کی منصوبہ بندی کرنے کے بجائے صرف ان عملی معاملات یا اقدامات پر بات کریں گے جو ہم آج اور ابھی کر کے اپنی بچیوں یا بچوں کی نقل و حرکت کی طرف سے کسی نہ کسی حد تک بے فکر ہوکر غیر ضروری اندیشوں سے چھٹکارہ پا سکتے ہیں۔

کڈز جی پی ایس واچ سے رہے،بچوں پر آپ کی نظر ہروقت
کڈز جی پی ایس واچ (Kids GSP Watch)کو دنیا بھر میں بچوں کی حفاظت اور دیکھ بھال کے لیئے کئی سالوں سے انتہائی کامیابی کے ساتھ استعمال کیا جارہا ہے،خوش قسمتی سے پاکستان میں قائم ہر موبائل فون کمپنی کی فرنچائز پر یہ کڈز جی پی ایس واچ جسے ”کڈز ٹریکنگ واچ“ اور ”کڈز اسپائی واچ“ بھی کہا جاتا ہے دستیاب ہے۔یہ ”کڈز جی پی ایس واچ“ دیکھنے میں بالکل بچوں کی عام گھڑی کی مانند ہوتی ہے جسے آپ اپنے بچہ کو پہننے کے لیئے دے سکتے ہیں۔لیکن حقیقت میں یہ ایک جدید ترین ٹریکنگ ڈیوائس کے طور پر کام کرتی ہے جو ہر وقت آپ کو اپنے بچہ کی لوکیشن سے پوری طرح باخبر رکھتی ہے۔اس کے علاوہ اس میں ایک ایمرجنسی کال بٹن بھی ہوتا ہے جو کسی بھی ہنگامی صورتحال پیش آنے کی صورت میں آپ کا بچہ اس بٹن کو دبا کر آپ کو ایمرجنسی کال کرسکتا ہے۔جبکہ آپ بھی اپنی موبائل ایپ کے ذریعے جب چاہیں اپنے بچہ سے رابطہ کرسکتے ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ اس جادوئی گھڑی میں ایک یہ بھی خوبی موجود ہے کہ اس پر صرف اور صرف اُن ہی نمبروں سے آپ کے بچوں کو کال کی جاسکتی ہے جو آپ اس کی میموری میں محفوظ کریں گے۔جن کی تعداد دس سے زیادہ نہیں ہوسکتی۔آپ جب چاہیں،کسی بھی جگہ سے اپنے موبائل فون کے ذریعے اس ”کڈز جی پی ایس واچ“ کو آن یا آف بھی کرسکتے ہیں۔یہ جدید ترین ڈیوائس آپ کے بچہ کی لوکیشن ٹریکنگ کا مکمل ریکارڈ90 دنوں تک اپنے آن لائن سرور پر محفوظ رکھتی ہے جسے بوقت ضرورت جب آپ چاہیں حاصل کرسکتے ہیں۔اس ”کڈز جی پی ایس واچ“ میں آپ سیف زون اور دینجر زون کی نشاندہی بھی کرسکتے ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ اگر آپ نے اپنے گھر سے دو گلی دور کے علاقے کو ڈینجر زون فیڈ کیا ہوا ہے تو جیسے ہی آپ کا بچہ اس علاقہ میں جائے گا یہ گھڑی آپ کو موبائل فون میسج الرٹ بھیج دی گی کہ آپ کا بچہ اس وقت آپ کی طرف سے قرار دیئے گئے ڈینجر زون میں ہے۔اس کے علاوہ اس میں یہ اضافی خوبی بھی ہے کہ جیسے ہی اس گھڑی کو کوئی بھی بچہ کی کلائی سے علحیدہ کرے گا یہ اس کے بارے میں بھی فوری طور پر آپ کو الرٹ میسج بھیج دے گی۔اتنی بیش بہا خوبیوں کے حامل یہ ”کڈز جی پی ایس واچ“ آپ اپنے علاقے میں قائم کسی بھی موبائل کمپنی فرنچائز سے تین سے ساڑھے تین ہزار میں خرید سکتے ہیں۔جہاں ہم انتہائی قیمتی اور ایک سے بڑھ کر ایک موبائل فونز اپنے استعمال میں رکھتے وہیں اگر تھوڑی سی رقم مزید خرچ کر لیں تو یہ ”کڈز جی پی ایس واچ“ آپ کے بچہ کی حفاظت اور آپ کے ذہنی سکون کے لیئے کسی تحفہ سے کم نہیں۔
رائز مام ایپ ملازمت پیشہ خواتین کے لیئے بطور خاص
جیسے جیسے ہمارے ہاں ملازمت پیشہ خواتین کی شرح میں اضافہ ہوا ہے وہیں ایسی ملازمت پیشہ خواتین جو ایک ماں بھی ہیں انہیں زینب جیسے واقعات کے بعد آج کل اپنی ملازمت جاری رکھنے میں شدید ترین مشکلات کا بھی سامنا ہے ایسی تمام ملازمت پیشہ خواتین جو اپنی بچوں کی نگہداشت و حفاظت کے خوف میں اپنی ملازمت کو خیر باد کہنے کا سوچ رہی ہیں انہیں ہم مشورہ دیں گے کہ وہ ایک بار کم ازکم رائز مام ایپ کو ضرور آزما لیں۔یہ ایپ ایک پاکستانی خاتون صحاح حارث نے بنائی ہے جس کا مقصد ملازمت پیشہ خواتین کے لیئے اپنے بچوں کی نگرانی و نگہداشت کو سہل بنانا ہے اور اس میں کوئی شک بھی نہیں ہے کہ انہوں نے ایسا کر بھی دکھایا ہے۔رائز مام ایپ کو آپ اپنے کسی بھی اسمارٹ فون کے ذریعے ڈاؤنلوڈ کر کے استعمال میں لاسکتے ہیں۔اس ایپ کے ذریعے آپ نہ صرف اپنے بچوں کے لیئے ایک اچھے ڈے کئیر کا انتخاب کرسکتی ہیں بلکہ کسی بھی ڈے کئیر میں موجود اپنے بچہ کو دورانِ ملازمت نہ صرف دیکھ سکتی ہیں بلکہ وہاں ان کے سونے جاگنے اور کھانے پینے سمیت دیگر اُمور سے متعلق مکمل طور پر باخبر بھی رہ سکتی ہیں اور اگر پھر بھی آپ کو ضرورت محسوس ہو تو آپ اس ایپ کے ذریعے اپنے بچہ کے ساتھ دن میں پانچ بار ساٹھ سیکنڈز یعنی ایک منٹ کے لیئے ویڈیو کال بھی کر سکتی ہیں۔

بولو ٹیک ایپ اسپیشل بچوں کے لیئے ایک اسپیشل ایپ
زینب کی شہادت کے عظیم سانحہ کے بعد میڈیا کی طرف سے جب تحقیق کی گئی تو یہ ہولناک انکشاف بھی سامنا آیا کہ ہمارے ہاں اُن بچوں کو زیادتی کا نشانہ زیادہ بنایا جاتا ہے جو بچے قوت گویائی سے محروم یا بولنے میں کچھ کمزور ہوتے ہیں۔کیونکہ ایسے بچے مجرمانہ و پراگندہ ذہن رکھنے والے افراد کے لیے اس لیئے ایک آسان ہدف ہوتے ہیں کہ یہ بچے اپنے ساتھ ہونے والی ظلم و زیادتی کو کسی کے سامنے بیان کرنے سے قاصر ہوتے ہیں۔اگر آپ کے گھر میں یا آس پڑوس میں ایسا ہی کوئی بچہ موجود ہے جو بول نہیں سکتا یا بولنے میں دقت کا سامنا کرتا ہے تو اس کے لیئے یہ بولو ٹیک ایپ ایک خاص الخاص تحفہ ثابت ہوسکتی ہے۔یہ ایپ کراچی کی دو ہونہار سافٹ وئیر انجینئر کی طالبات رباب فاطمہ اور شانزے خان نے بنائی ہے۔اس ایپ کو موبائل فون یا کمپیوٹر کے ذریعے استعمال کرکے قوتِ گویائی سے محروم یا بولنے میں دقت کا شکار بچے کسی بھی ڈاکٹر،فزیو تھراپسٹ یا اُستاد کی غیر موجودگی میں گھر بیٹھے بولنے کی مشق کر سکتے ہیں۔دنیا بھر میں مختلف زبانوں میں بے شمار قسم اس قسم کی ایپ پہلے ہی سے موجود ہیں لیکن یہ پہلی ایپ ہے جسے اُردو زبان میں بنا کر اُردو بولنے اور سمجھے والوں کے لیئے پیش کیا گیا ہے۔اس ایپ کے حوالے سے مزید معلومات یا رہنمائی آپ www.bolotech.com/ کی آفیشل ویب سائیٹ پر جاکر حاصل کرسکتے ہیں۔

اسمارٹ فون کوکیوں نا کچھ اور ”اسمارٹ“بنائیں
یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ اکثر بچے اور بچیاں اپنے والدین سے ہی اسمارٹ فونز لے کر اُسے استعمال کرتے کرتے دنیائے انٹرنیٹ کی ایسی تاریک و ممنوعہ جگہوں پر جاپہنچتے ہیں جہاں جاکر بغیر کسی خطرے سے دوچار ہوئے واپس آنا ان کے لیئے ممکن نہیں ہوتا۔آئے دن میڈیا میں ایسی خبریں سامنے آتی رہتی ہیں کہ کس طرح ایک بچہ اپنے سرپرستوں کے ہی موبائل فونز کے ذریعے فیس بک وغیرہ پر انجان لوگوں سے دوستی کر کے سنگین ترین خطرے کا شکار ہوگیا۔ایسی صورت میں والدین کیا کریں؟کیا وہ اپنے بچوں کو اسمارٹ فونز استعمال کے لیئے دینا بند کردیں؟ نہیں جناب اس مسئلہ کا یہ کوئی دیرپا اور مناسب حل نہیں ہے کیونکہ جب آپ اُسے اسمارٹ فون نہیں دیں گے تو وہ کسی اور ذریعے سے اسے حاصل کر لے گا۔اس لیئے بہتر یہ ہے کہ آپ اپنے اسمارٹ فون میں دنیا کا سب سے بہترین اور لاجواب ”پیرنٹل کنٹرول ایپ“ کوبری”Cubri” انسٹال کرلیں۔یہ ایپ مکمل طور آپ کے اسمارٹ فون کو آپ کے بچے کے لیئے محفوظ بنادے گی۔اس سیکورٹی ایپ کے ذریعے چند کلکس سے آپ یہ طے کرسکتے ہیں کہ اسمارٹ فون میں کون کون سی ایپ آپ کا بچہ استعمال کرسکتا ہے اور کس قسم کی گیمزکتنی دیر اور کس وقت تک کھیل سکتا ہے۔اس کے علاوہ یہ جدید ایپ آپ کو اپنے بچہ کی طرف سے اسمارٹ فون پر کیئے جانے والے ہر عمل کا چاہے وہ انٹرنیٹ پر ہو یا فیس بک پر یا پھرٹویٹرپر اُس کا مکمل حساب کتاب تفصیلات کے ساتھ فراہم کرنے کی صلاحیت بھی رکھتی ہے۔ ان بیش بہا خوبیوں کے باوجود یہ ایپ آپ کو دو اسمارٹ فون ڈیوائسز کی حد تک اپنی تمام تر خدمات بالکل مفت میں فراہم کرتی ہے۔ اسے آپ www.curbi.com کی ویب سائیٹ پر جاکر صرف ایک مختصر سافارم پُرکرکے باآسانی اپنے اسمارٹ فون پر ڈاؤنلوڈ کرکے استعمال کر سکتے ہیں۔

حوالہ: یہ مضمون سپ سے پہلے روزنامہ جنگ کے سنڈے میگزین میں 4 فروری 2018 کے شمارہ میں شائع ہوا

راؤ محمد شاہد اقبال
Latest posts by راؤ محمد شاہد اقبال (see all)

اپنا تبصرہ بھیجیں