World Wildlife Day 2020

زمین کے لیئے ہر زندگی ضروری ہے

وائلڈ لائفWildlife جس کااُردو زبان میں ترجمہ عموماً”جنگلی حیات“ کیا جاتاہے۔ ایک وسیع مفہوم کا حامل لفظ ہے، اِس سے مراد دکرہ ارض پر موجود وہ تمام حیاتیات لی جاتیں ہیں،جو غیر پالتو ہیں یعنی جن کی براہ راست بقا کا انحصار انسان یا انسان کے قائم کئے گئے مصنوعی ماحول کے بجائے فطرت کے حسنِ انتظام پرہوتا ہے۔اس لحاظ صرف جنگلات ہی نہیں جیسا کہ عام طور پر خیال کیا جاتا ہے بلکہ صحرا،پہاڑاور سمندر میں پائی جانی والی حیاتیات بھی ”جنگلی حیات“ کے ہی زمرہ میں آتی ہے۔تمام ماہرین حیاتیات اس ایک بات پر متفق ہیں کہ”جنگلی حیات“ کی موجودگی نہ صرف ہماری زمین بلکہ خود ہم انسانوں کے لیے بھی نہایت ضروری ہے اور فقط کسی ایک جانور کی نسل کی معدومی سے بھی پوری زمین کی خوراک کا دائرہ (فوڈ سائیکل) متاثر ہوجاتاہے۔ فوڈ سائیکل کا مطلب ہے وہ نظام جس کے تحت جانوروں، پودوں اور بیکٹریا سمیت تمام جانداروں کی زندگیوں کا ایک دوسرے پر انحصار ہوتا ہے اور جس کے ٹوٹنے سے انسانوں سمیت زمین پر موجود تمام جانداروں کو بدترین منفی اثرات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔بدقسمتی سے گزشتہ چند دہائیوں میں غیر معتدل انسانی سرگرمیوں کے باعث تمام تر ”جنگلی حیات“ بُری طرح متاثر ہوئی ہیں۔ لندن زولوجیکل سوسائٹی کی جانب سے جاری گئی ایک رپورٹ کے مطابق 1970 سے اب تک دنیا بھر میں موجود ”جنگلی حیات“ کی آبادی میں 60 فیصد تک کی نمایاں کمی واقع ہوچکی ہے۔”جنگلی حیات“کو درپیش ان ہی دیرینہ مسائل و عواقب کا ادراک کرتے ہوئے 2013 میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 3 مارچ کو دنیا بھر میں بطور ”جنگلی حیات“ کے عالمی یوم کے طور پر منانے کی قرارداد منظور کی تھی۔ جس کے بعد سے لے کر اَب تک ہر سال باقاعدگی کے ساتھ اقوامِ متحدہ کے تمام رُکن ممالک 3 مارچ کو ”جنگلی حیات“کے عالمی یوم کے طور پر مناتے چلے آرہے ہیں۔رواں برس یہ دن #Sustaining All Life on Earth یعنی ”ہرزندگی زمین کے لیئے ضروری ہے“ کے عنوان کے تحت منایا جارہا ہے۔اس خصوصی عنوان کے تحت عالمی دن کو منانے کا بنیادی مقصد اِس عام تصور کا خاتمہ کرناہے کہ ”جنگلی حیات“ کی بقا کو خطرات فقط جنگلوں میں لاحق ہیں،کیونکہ ماہرین کے مطابق معدومی کے خطرے کا شکار جانوروں میں پہاڑوں، جنگلوں، دریاؤں، سمندروں سمیت ہر مقام کے جانور ہاتھی، گوریلا سے لے کر کچھوے،مچھلیاں اور دریائی گھوڑے تک شامل ہیں۔دلچسپ بات یہ ہے کہ اَب تک کی سامنے آنے والی تحقیقات کے مطابق صرف سمندروں میں ”جنگلی حیات“ کی تقریباً 2 لاکھ سے زائد اقسام پائی جاتیں ہیں جبکہ ماہرین کا یہ بھی اصرارہے کہ سمندر میں پائی جانے والی”جنگلی حیات“ کی درست تعداد، اَب تک اندازہ لگائی گئی تعداد سے بھی کئی ملین تک زیادہ ہوسکتی ہے۔

”جنگلی حیات“ چھٹی عظیم معدومی کی زد پہ ہے
زمین پر زندگی کی ابتداء ہونے سے لے کر اب تک”جنگلی حیات“ 5 عظیم ترین معدومیاں سہہ چکی ہے۔یہ تمام کی تمام معدومیاں قدرتی حادثات کے نتیجہ میں رونما ہوئیں تھیں اور ِان میں سے ہر معدومی نے زمین کی کم و بیش 70 فیصد سے زائد”جنگلی حیات“ کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا تھا۔زمین پر آخری معدومی آج سے 6.6 کروڑ سال پہلے رونماہوئی تھی۔ اس وقت زمین پر پایا جانے والا سب سے قدیم جانور جیلی فش ہے،جس کی نسل تقریباً 55 کروڑ سال قدیم ہے۔ اس کے بعد شارک کی ایک نایاب نسل گوبلن شارک کا نمبر آتاہے،جو11.8 کروڑ سال قدیم ہے۔ جبکہ ماہرین نے ہاتھی کے سب سے قدیم دریافت کیے جانے والے رکازیات(فوسلز) کی عمر 5.5 کروڑ سال بتائی ہے۔ ہاتھی اس وقت زمین پر موجود تمام جانوروں میں سب سے قوی الجثہ جانور ہے۔ گوریلا 1 کروڑ سال قبل بھی زمین پر موجود تھا۔پانڈا کے سب سے قدیم رکاز (فوسلز) 20 لاکھ سال قدیم ہیں۔ کتے کے آثار 31 ہزار 7 سو سال قدیم ہیں۔ماہرین حیاتیات کا خیال ہے کہ ہم نہایت تیزی سے”جنگلی حیات“ کی چھٹی عظیم ترین معدومی کی طرف پیش قدمی کر رہے ہیں۔ جس میں ایک بار پھر سے زمین پر آباد 70 فیصد سے زائد جانوروں کے مٹ جانے کا خدشہ ہے۔لیکن بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ اس بار یہ عمل قدرتی حادثوں کے باعث نہیں ہوگا، بلکہ حضرتِ انسان کی اپنی بے اعتدالی ”جنگلی حیات“ کی اِس عظیم ترین معدومی کا سبب بن سکتی ہے۔ عالمی ادارہ ”ڈبلیو ڈبلیو ایف“ (ورلڈ وائیڈ فنڈ فار نیچر) نے زولوجیکل سوسائٹی سمیت متعدد ماحولیاتی اور جنگلی حیات کے تحفظ کی مختلف بین الاقوامی تنظیموں کے تعاون سے 2018 میں تیار کی گئی اپنی تازہ ترین رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ مہذب انسانوں کی جانب سے رہائشی و تجارتی ضروریات اور زرعی زمینیں تیار کرنے کیلئے جنگلات کو ختم کرنے، ماحولیاتی آلودگی، موسمی تبدیلیوں اور جانوروں کے منظم شکار سے ”جنگلی حیات“ کی تعداد میں بے حساب کمی واقعی ہوئی ہے۔جبکہ ”جنگلی حیات“ کے فطری ماحول کی جانب انسانوں کی مسلسل پیش قدمی کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ 50 فیصد سے زائد جنگلات مکمل طور ختم ہوچکے ہیں۔ بالخصوص امیزون کے جنگلات سمیت افریقی اور عالمی جنگلات کا نصف حصہ انسانوں کی رہائش اور تجارتی پروجیکٹس کا باقاعدہ حصہ بن چکا ہے،یوں دنیا میں 50 فیصد ندیاں،آبشاریں اور پہاڑی جھرنے جو 1970ء میں موجود تھے، اب عنقا ہوچکے ہیں۔ جس کی وجہ سے حضرت انسان کیلئے معطر ہوائیں، مقطر پانی، توانائی اور ادویات سمیت خوراک فراہم کرنے والے دیگر قدرتی وسائل تیزی سے ختم ہوتے جارہے ہیں۔ اب صرف 25 فیصد زمین پر جنگلات موجود ہیں اور اس میں ”جنگلی حیات“ زندہ ہے جبکہ75 فیصد زمین پر انسانوں کا مکمل قبضہ ہوچکا ہے۔ڈبلیو ڈبلیو ایف کا اپنی ”لیونگ پلانیٹ رپورٹ2018“ میں یہ بھی کہنا ہے کہ 1970ء سے 2014ء تک 34 برسوں میں بچوں کو جنم دینے اور دودھ پلانے والے (ممالیہ)، رینگنے والے جانوروں (رپٹائلز) پرواز کرنے والے پرندوں (ایویز) اور مچھلیوں سمیت جل تھلیوں (ایم فی بی اینز)کی 4 ہزار سے زیادہ اقسام اور انواع کی افزائش میں 60 فیصد تک کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ اِس وقت امریکہ، لاطینی امریکہ، کیریبین جزائر، افریقہ، امیزون اور برازیل سے ملحق تمام خطوں سمیت ایشیا میں چار ہزار سے زیادہ جانوروں، مچھلیاں، آبی حیات اور پرندوں کی اقسام تیزی سے معدوم ہوتی جاررہی ہیں۔ تشویشناک بات یہ ہے کہ تازہ پانی میں پائی جانے والی 300 اقسام کی مچھلیاں اور 34 اقسام کے مینڈکوں اور خشکی کے ٹوڈز کی انواع اب دنیا میں کہیں دکھائی نہیں دیتیں،جبکہ وہیل شارک گزشتہ 75 برسوں میں نصف سے زیادہ کم ہوچکی ہیں۔ 1970ء میں جن جانوروں کا وجود ایک حقیقت تھا، لیکن اب وہی جانور رفتہ رفتہ افسانہ بنتے جارہے ہیں۔رپورٹ کے مطابق اگر یہی صورتحال بدستور جاری رہی اور”جنگلی حیات“کے تحفظ کیلئے حضرتِ انسان کی طرف منظم اور ٹھوس ا قدامات نہ اٹھائے گئے تو غالب اِمکان یہ ہی ہے کہ 2050تک 90 فیصد”جنگلی حیات“کا روئے زمین سے مکمل طور پر خاتمہ ہوجائے گا۔



کیڑے مکوڑے بھی ضروری ہیں،زندگی کے لیے
شاید آپ یقین کریں یا نہ کریں بہرحال سچ یہ ہی ہے کہ حشرات الارض یعنی کیڑے مکوڑے بھی ہماری زمین پر فوڈ سائیکل کو محفوظ رکھنے میں اپنا اہم ترین کردار ادا کرتے ہیں۔ماہرین حیاتیات کا کہنا ہے کہ ”اگر ہم دنیا سے تمام انسان دوست کیڑے مکوڑے جیسے شہد کی مکھیاں اور تتلیاں وغیرہ،نکال دیں، تو ہم بھی مر جائیں گے“۔ کیونکہ کیڑے مکوڑے حیاتیاتی ڈھانچوں کو توڑتے ہیں جس سے ان کے گلنے سڑنے اور تحلیل ہونے کے عمل میں تیزی آتی ہے۔ جس کی وجہ سے مٹی کو تازگی ملتی ہے اور اُس میں زرخیزی پیدا ہوتی ہے۔اس کے علاوہ کیڑے مکوڑے بعض پرندوں، چمگادڑوں اور دودھ پلانے والے چھوٹے جانوروں کو بھی خوراک مہیا کرتے ہیں۔سڈنی یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر فرانسسکو سانچیز بایو کے مطابق ’تقریباً 60 فیصد جانوروں کی زندگیوں کا براہِ راست دارومدار کیڑے مکوڑوں پر ہوتا ہے جبکہ پھولوں ور ہماری فصلوں کے 75 فیصد پودوں کے لیے ہونے والی پولینیشن بھی کیڑوں مکوڑوں کی ہی مرہونِ منت ہوتی ہے۔ یاد رہے کہ پولینیشن وہ عمل ہے جس میں کیڑے مکوڑوں کے ذریعے پودوں کے بیج ایک پھول سے دوسرے پھول تک پہنچتے ہیں اور نئے پھول وجود میں آتے ہیں۔فروری 2019 میں بایولوجیکل کنزرویشن نامی جریدے میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق جرمنی، برطانیہ اور پورٹو ریکو میں کیڑے مکوڑوں کی تعداد ہر سال دو عشاریہ پانچ فیصد کم ہو رہی ہے۔ یہ کمی اُن 60 علاقوں میں دیکھنے میں آئی جہاں کیڑوں پر تحقیق کی جا رہی تھی۔کیریبین جزیرے پورٹو ریکو میں ایک امریکی تحقیق کار نے دریافت کیا کہ وہاں گزشتہ چالیس برسوں میں کیڑوں کی تعداد میں 98 فیصد تک کمی آئی ہے۔ اِس صورتحال کا مطلب ہے کہ بہت جلد دنیا سے حشرات الارض کی کئی اقسام کا مکمل خاتمہ ہونے والا ہے۔کیڑے مکوڑے کی تعداد میں کمی کی ایک بڑی وجہ کیڑے مار ادویات کا بے دریغ استعمال اور بڑھتا ہوا عالمی درجہ حرارت ہے۔اِس لیئے ضرورت اِس امر کی ہے کہ زمین پر ہر جگہ درخت،پودے اور پھولوں کی آب یاری کی جائے اور بازاروں سے خطرناک قسم کی کیڑے مار ادویات کا مکمل خاتمہ کردیا جائے تاکہ ہماری زراعت میں زہریلی ادویات کا استعمال کم سے کم ہوسکے۔اس طرح جہاں عام لوگوں کو صحت بخش مفید خوراک میسر آسکے گی وہیں کیڑے مکوڑوں کے حیاتیاتی تحفظ میں بھی مدد ملے گی۔

پاکستان میں ”جنگلی حیات“کا مستقبل
ماہرین جنگلی حیات کے مطابق پاکستان کے بعض دورافتادہ علاقوں میں بھی ایسے جانوروں کے بھی رکاز (فوسلز)ملے ہیں جو آج معدوم ہوچکے ہیں لیکن ہزاروں سال پہلے یہاں پائے جاتے تھے۔ ایسے جانوروں میں شیر،گینڈا،ہاتھی اور دیگرجنگلی جانوروں کی چند نایاب نسلیں شامل ہیں۔جبکہ موجودہ دور میں بھی بہت سے ایسے جانور ہیں جو تیزی سے ناپید ہورہے ہیں اور ان کے وجود کوسخت خطرات لاحق ہیں۔مثلاً پاکستان میں مارخور،جنگلی گدھا، نیل گائے، سیاہ تیتر، ہرن، انڈس ڈولفن، مور اور سفیدپشت والے گدھ معدومی کے خطرے سے دوچار ہیں۔پاکستان میں بھی جنگلی حیات کو وہ ہی خطرات لاحق ہیں جو دنیا کے دیگر حصوں میں لاحق ہوتے ہیں یعنی غیر قانونی شکار، ماحولیاتی آلودگی اور شہری زندگی کا پھیلاؤ۔چونکہ نایاب جنگلی جانوروں کی خرید وفروخت میں بہت زیادہ نفع ہوتا ہے اس لیے جہاں کہیں بھی نایاب پرندے موجود ہیں وہاں لوگ نئی نئی ترکیبوں اور گھات کے نئے نئے طریقوں سے جانوروں کو پکڑتے ہیں۔ سندھ کے علاقے صحرائے تھر میں مور اورہرن کوغیر قانونی شکار کے باعث سخت خطرات کا سامناہے۔اس کے علاوہ چھوٹے جانوروں خاص طورپر پرندے، فصلوں پر کیڑے مار دواؤں کی چھڑکاؤ سے مارے جاتے ہیں۔ جبکہ پاکستان میں آنے والے پے درپے سیلاب بھی جنگلی حیات کے لیے مستقل خطرہ بنے رہتے ہیں۔نیز فضائی آلودگی اور شور کی آلودگی بھی جنگلی حیات کی معدومی کا ایک بڑا سبب ہے۔ کراچی کے سمندر میں پائی جانے والی جنگلی حیات“ کو سب سے بڑا خطرہ آبی آلودگی سے ہے۔چونکہ کراچی شہر کے سیوریج اور فیکٹریوں کا فضلہ بڑے پیمانے پر بغیر کسی ٹریٹمنٹ پلانٹ سے گزرے سمند ر میں گرایا جارہا ہے جس سے آبی حیات شدید خطرات کاشکارہیں۔

پاکستان میں جنگلی حیات کے تحفظ کا باقاعدہ آغاز 1970 میں ہوا جب پاکستان میں ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کی بنیاد رکھی گئی۔اسی ادارے کی کوششوں سے بعد ازاں پاکستان میں وائلڈ لائف آرڈیننس کے تحت مختلف قوانین متعارف کروائے گئے جن کے ذریعے نہ صرف ”جنگلی حیات“ کو تحفظ دینے کی عملی کوششوں کا آغاز ہوا بلکہ غیر قانونی شکار کو قابل تعزیر جرم قراردیا گیا۔اس کے علاوہ پاکستان بھر میں ”جنگلی حیات“ کے تحفظ کے لیئے بے شمار سفاری پارکس بنائے گئے۔ جن میں دو سفاری پارک قابلِ ذکر ہیں ایک بلوچستان کے ضلع لسبیلہ میں واقع ایشیا کا سب سے بڑا سفاری پارک ہنگول نیشنل پارک ہے اور دوسرا کراچی اور ضلع جامشورو کے درمیان قائم تین ہزار مربع کلومیٹر کے رقبے پر محیط کھیر تھر نیشنل پارک ہے۔ہنگول نیشنل پارک 15 لاکھ ایکڑ پر محیط ہے جو کہ بلوچستان کے تین اضلاع لسبیلہ آواران اور گوادر پر مشتمل ہے اس وقت ہنگول نیشنل پارک میں 10 سے زائد نایاب نسل کے جنگلی جانور کثیر تعدار میں پائے جاتے ہیں جن میں سندھ آئی بیکس (پہاڑی بکرا)، اڑیال، ہرن، چیتا، مگر مچھ، بھیڑیا، لومڑی، گیدڑ، خرگوش، لفڑ بگڑ سمیت دیگر شامل ہیں۔ جبکہ ہنگول نیشنل پارک کے بعد پاکستان کا دوسرا بڑے کیر تھر نیشنل پارک میں بھی جنگلی حیات کی دو تحفظ گاہیں اور چار شکارگاہیں بھی موجود ہیں۔ کیرتھرنیشنل پارک کے قیام سے قبل سندھ میں آئی بیکس کی تعداد30 سے 35تھی جبکہ آج ان کی تعداد 18سے19ہزار ہے۔ یہ دونوں سفاری پارکس جنگلی حیات کے تحفظ کیلیے قدرتی ماحول فراہم کرتے ہے۔یہ پارکس پہاڑوں، میدانوں،جھیل،ہموار اورناہموار زمین کا حسین امتزاج ہیں۔کیر تھر نیشنل پارک کے علاوہ سندھ میں ہالیجی، کینجھر جھیل، کوہستان اور رن آف کچھ کے مقام پر بھی وائلڈ لائف سینکچوریز (جنگلی حیات کی تحفظ گاہیں) قائم کی گئی ہیں۔جہاں جنگلی حیات کی افزائش کی جارہی ہے یا انہیں قدرتی ماحول فراہم کیا جارہاہے۔کہا جاسکتاہے کہ وائلڈ لائف پاکستان نے اپنے قیام سے لے کر اَب تک ”جنگلی حیات“ کے تحفظ کے لیئے پاکستان بھر میں قابلِ قدر خدمات انجام دیں ہیں۔مثال کے طور پر پاکستان کا قومی جانور مار خور کچھ عرصہ قبل تک اپنی بقا کے خطرے سے دو چار تھا۔ مارخور پاکستان اور چین سمیت مغربی ایشیا کے کئی ممالک میں پایا جاتا ہے۔اس کی آبادی میں کمی کی سب سے بڑی وجہ اس کا بے دریغ شکار ہے جو اس کے سینگ کے لیے کیا جاتا ہے۔ یہ سینگ چین کی قدیم دوائیوں میں استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کی آبادی میں کمی کی ایک اور وجہ ٹرافی ہنٹنگ بھی ہے۔ اس مقابلے میں جیتنے والے کو کسی جانور (عموماً مارخور) کا سر انعام میں دیا جاتا ہے۔نوے کی دہائی میں اس جانور کی آبادی میں 70 فیصد کمی واقع ہوگئی تھی جس کے بعد وائلڈ لائف پاکستان نے حکومتی اداروں اور دیگر سماجی اداروں کے ساتھ مل کر ہنگامی بنیادوں پر اس کی حفاظت کے لیے اقدامات اٹھائے گئے۔ پاکستان میں مقامی قبیلوں کو تربیت دی گئی کہ وہ اپنے علاقوں میں مار خور کی حفاظت کریں اور اس کے شکار سے گریز کریں۔پاکستان میں اس جانور کے لیے اٹھائے جانے والے حفاظتی اقدامات نے تاجکستان کو بھی متاثر کیا اور وہاں رہنے والے قبائل نے بھی اس کا شکار کرنے کے بجائے اس کی حفاظت کرنا شروع کی۔

پاکستان اس وقت جنگلی حیات بالخصوص بڑے جانوروں جیسے کہ چیتوں، شیروں، تیندووں اور پوما جیسے جانوروں کی بڑی مارکیٹ بن چکا ہے۔بین الاقوامی ادارے کنزویشن آن انٹرنیشنل ٹریڈ ان انڈینجرڈ سپیشیز آف وائلڈ فانا اینڈ فلورا (ساآئیٹز)کے مطابق پاکستان میں 2013 سے لے کر 2018 تک مختلف انواع کے 85 شیر، چیتے، ببر شیر وغیرہ درآمد کیے گئے جبکہ ان کے علاوہ پندرہ جانور ٹرافی ہنٹنگ کی صورت میں پاکستان آئے ہیں۔پاکستان بھر میں اس وقت لائسنس شدہ جنگلی حیات کے رجسٹرڈ اور قانونی بریڈنگ فارمز کی تعداد 240 سے زیادہ ہے۔صوبہ پنجاب کے محکمہ جنگلی حیات کے مطابق پاکستان میں سب سے زیادہ فارم پنجاب میں ہیں جن کی تعداد200ہے۔ سندھ میں ایسے فارمز کی تعداد 35 جبکہ صوبہ خیبر پختوں خوا میں 8 فارم موجود ہیں۔پنجاب اور سندھ میں وائلڈ لائف قوانین کے مطابق بریڈنگ فارمز کی اجازت زیرور گیم فارم، سفاری پارک کے مقاصد کو پورا کرنے کے لیے دی جاتی ہے۔ جہاں پر ان بریڈنگ فارم کے مالک جنگلی حیات کی بریڈنگ، خرید و فروخت، شکار اور تبادلہ وغیرہ بھی کر سکتے ہیں۔بین الاقوامی طور پر جنگلی حیات کے کاروبار پر پابندی ہے مگر خطے کے شکار جنگلی حیات کی نسلوں کو تحفظ دینے اور مختلف ممالک میں ان کی بریڈنگ کے لیے ’ساآئیٹز‘ مقامی حکومتوں کی مشاورت سے ان کی درآمد اور برآمد کی اجازت دیتی ہے۔ بریڈنگ فارمز صرف پاکستان میں نہیں بلکہ پوری دنیا میں قائم کیئے جارہے ہیں اصل میں یہ بھی ایک طریقہ ہے نایاب اور خطرے کا شکار جنگلی حیات کی نسلوں کو بچانے کا۔

”جنگلی حیات“ کی حفاظت کرنے والا ذہین کیمرا تیار
دنیا بھر میں جنگلی جانوروں کے اسمگلر اور شکاری بہت چالاکی سے کام کرتے ہیں اور ان پر نظر رکھنا بڑا مشکل ہوتا ہے اس کے حل کے لیئے معروف ٹیک کمپنی انٹیل نے ذہانت سے بھرپور ایک کیمرا تیار کیا ہے جس کی مدد سے بڑی حد تک جنگلی حیات کا تحفظ ممکن ہواہے۔نایاب اور تیزی سے معدوم ہونے والے جانوروں کے تحفظ کیلیے انٹیل کی چپ پر مشتمل کیمرا مصنوعی ذہانت (آرٹیفشل انٹیلی جنس) کو استعمال کرتے ہوئے جنگلی حیات کے دشمنوں کی شناخت کرتا ہے۔اس سسٹم کو ٹریل گارڈ کا نام دیا گیا ہے جسے افریقا کے جنگلی تحفظ والے علاقوں میں نصب کیا گیا ہے۔ اس کا اولین ورژن کسی حرکت کو نوٹ کرکے جنگلی حیات کے تحفظ کے لیئے مامور چوکی دار یا گیم وارڈن کو اطلاع دیتا تھا لیکن اس میں بعض خامیاں تھیں کیونکہ کسی شکاری کو تلاش کرنے کے لیے کسی ماہر کو پوری ویڈیو دیکھنے کی ضرورت پیش آتی تھی اور کبھی مجرم کوئی معصوم جانور بھی ہوتا تھا۔ گزشتہ برس انٹیل نے اِس کیمرا کا نیا جدید ورزن متعارف کرودیا ہے۔ یعنی اب پینسل کی جسامت کا یہ کیمرا جھاڑیوں اور درختوں میں بھی چھپایا جاسکتا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ کیمرے میں مووی ڈیئس چپ کی تنصیب کے بعد یہ مکمل طور پر ڈیپ نیورل نیٹ ورک سے جڑ گیا ہے اور یوں اب یہ کیمرا گاڑیوں اور انسانوں کو بہت اچھی طرح سے پہچان سکتا ہے۔ اس طرح غلط رپورٹنگ کا امکان بہت حد تک کم ہوگیا ہے۔ یہ کیمرا ایک مرتبہ نصب ہونے کے بعد ڈیڑھ سال تک اپنی عقابی نگاہوں سے جنگلی حیات کے لٹیروں کو مسلسل دیکھتارہتا ہے۔سال 2019 کے اختتام تک افریقا کے 100 جنگلات اور تحفظ گاہوں میں یہ کیمرے نصب کردیئے گے ہیں تاکہ جنگلی حیات کے تحفظ میں مدد مل سکے۔

حوالہ: یہ خصوصی مضمون سب سےپہلے روزنامہ جنگ کے سنڈے میگزین میں 01 مارچ 2020 کے شمارہ میں شائع ہوا۔

راؤ محمد شاہد اقبال

زمین کے لیئے ہر زندگی ضروری ہے” ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں