World Nursing Day

کام سونپا گیا ہے، جن کو مسیحائی کا

”بیٹا میں کافی دیر سے دیکھ رہا ہوں کہ آپ مسلسل روئے جارہی ہو،بتاؤ تو سہی آخر آپ کے اتنا زیادہ رونے کی وجہ کیا ہے؟“مریم کے چچا جان نے مریم سے استفسار کیاتومریم نے مزید زور زور سے روتے ہوئے ہی جواب دیا کہ”چچا جان! میرا داخلہ میڈیکل کالج میں ہونے سے رہ گیا ہے،میں مطلوبہ نمبر نہ حاصل کرسکی لہذا اب میں ڈاکٹر نہیں بن سکوں گی،میرا بچپن کا خواب تھا کہ میں ڈاکٹر بنوں لیکن میرا یہ خواب پورا ہونے سے رہ گیا ہے اب آپ ہی بتائیں میں روؤں بھی نہ تو کیا کروں“۔
چچاجان نے مریم کو دلاسہ دیتے ہوئے کہاکہ”بیٹا! آخر آپ ڈاکٹر ہی کیوں بننا چاہتی ہو؟“۔
میں ڈاکٹر اس لیئے بننا چاہتی ہوں کہ میں دکھی انسانیت کی خدمت کرنا چاہتی ہوں میر ی خواہش ہے کہ میں بیماریوں اور زخموں سے چُور لوگوں کی مسیحائی کروں اور اُن کی دُعائیں لوں،کیا یہ کوئی غلط خواہش ہے“۔مریم نے استفہامیہ انداز میں جواب دیا
چچا جان نے مریم کی بات سُن کر مسکراتے ہوئے کہا کہ”نہیں نہیں،واقعی! یہ کوئی غلط خواہش نہیں ہے مگر آپ کا اس بات پر مسلسل اصرار کہ یہ کام آپ صرف ایک ڈاکٹر بن کر ہی کرسکتی انتہائی غلط اور غیرمناسب رویہ ہے،کیا آپ کو معلوم ہے ڈاکٹر سے بھی زیادہ مریض کی مسیحائی ایک نرس کرتی ہے،نرس وہ ہستی ہوتی ہے جو مریض کی نگہداشت اُس کی صحت کے مکمل طور پر بحال ہونے تک بلا کسی تعطل کے کرتی ہے۔ میرا خیال یہ ہے کہ اگر آپ واقعی خدمت کا عظیم جذبہ رکھتی ہیں تو پھر آپ کو چاہئے کہ شعبہ نرسنگ میں اپنی خدمات فراہم کرو۔اس سے نہ صرف آپ کو اپنے جذبہ خدمت کی تسکین حاصل ہوگی بلکہ یہ وہ شعبہ ہے جو ترقی کے شاندار مواقع بھی رکھتا ہے“۔ اپنے چچاجان کے مخلصانہ مشورے کو قبول کرتے ہوئے مریم نے نرسنگ کے پیشہ کو بطور کیرئیر اپنا لیا اور آج وہ سعودی عرب میں ایک کامیاب اسٹاف نرس کی حیثیت سے انتہائی پرکشش ماہانہ تنخواہ اور یگر سہولیات سے بہرہ مند ہورہی ہے۔
نرسنگ کا شعبہ کسی بھی ملک کی ہیلتھ کیئر کا بنیادی حصہ تصور کیا جاتا ہے جس کے فرائض میں مریضوں کی تیماداری اور اُنکی صحت کا مکمل خیال رکھنا شامل ہے۔اس پیشہ کی بے مثل خدمات کے اعتراف کے طور پر نرسوں کا عالمی دن ہر سال 12مئی کو دُنیا بھر میں منایا جا تا ہے، جسکا بڑا مقصد لوگوں کو صحت کے شعبے میں نرسوں کی اہمیت کا احساس دلانا ہے۔نرسوں کی بین الاقوامی کونسل(آئی سی این) تو یہ دن 1965ء سے ہی مناتی آرہی ہیں لیکن جنوری 1974ء میں اس دن کو باضابطہ طور پر عالمی سطح پر منانے کے لیئے منظور کرلیا گیا۔ دراصل 12مئی فلورنس نائیٹ اینگیل کی سالگرہ کا دن ہے۔ یہ برطانیہ کی وہ عظیم خاتون نرس ہے جسے جدید نرسنگ کا بانی کہا جاتا ہے۔ 12مئی 1820ء کو پیدا ہونے والی اور 13 اگست 1910ء کو 90 سال کی عمر میں وفات پا جانے والی فلورنس نائیٹ اینگیل کی نرسنگ کے شعبے میں نا قابلِ فراموش خدمات ہیں۔ انہوں نے1854ء کی جنگ میں صرف 38 نرسوں کی مدد سے 1500 زخمی اور بیمار فوجیوں کی دن رات تیماداری کی تھی جس کے بعد سے ان کا نام نرسنگ کے پیشہ کی شناخت بن کر رہ گیا۔

پاکستان کے لیئے نرسیں کتنی ضروری ہیں؟
پاکستان مین نرسنگ کے شعبے کی بنیاد بیگم رعنا لیاقت علی خان نے رکھی جسکے بعد 1949ء،سینڑل نرسنگ ایسوسی ایشن اور 1951ء میں نرسز ایسوسی ایشن کا قیام عمل میں آیا۔ نرسوں کی فلاح کے لیے ایک ادارہ پاکستان نرسنگ کونسل(پی این سی) 1948ء میں قائم ہوا یہ ایک خود مختار ادارہ جو پاکستان نرسنگ کونسل ایکٹ1952ء اور 1973ء کے آئین کے تحت پاکستان میں پریکٹس کرنے کے لیے نرسوں، لیڈی ہیلتھ ورکروں، اور مڈوائفس کو رجسٹر کرنے اورانکو لائسینس فراہم کرنے کا مکمل اختیار رکھتا ہے۔ اسکے علاوہ صحت کے متعلق عوامی آگاہی، نرسنگ کے طبی اور اخلاقی معیار کو بہتر بنانے اور جنرل فلاح و بہبود کی نگرانی جیسے فرائض شامل ہے۔ اکنامک سروے آف پاکستان کے تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق ملک میں اسوقت 99ہزار 228 نرسیں ہیں۔ اس تناسب سے اگر دیکھا جائے تو پاکستان میں 1069 افراد کے لیئے ایک نرس دستیا ب ہے۔ جبکہ دنیا کے دیگر ممالک مثلاً ناروے،مناکو م،آئرلینڈ اور بیلارس وغیرہ میں ہر 46 افراد کے لیئے ایک نرس دستیاب ہے۔پاکستان میں نرسوں کی دستیابی کے حوالے سے ملنے والے یہ اعداد وشمار کسی طور بھی تسلی بخش قرار نہیں دیئے جاسکتے۔پوری دُنیا میں نرسنگ کے شعبے کو عزت و وقار کے ساتھ دیکھا جاتا ہے۔ مگر بدقسمتی سے پاکستان میں نرسوں کو وہ عزت ومقام حاصل نہیں جو انہیں ملنا چاہیے۔وجہ صاف ظاہر ہے کہ ہمارے ملک میں نوجوانوں کی اکثریت ڈاکٹر ہی بننا چاہتی ہے اور اس کے لیئے وہ گیارہویں جماعت میں میڈیکل کا انتخاب کر لیتے ہیں مگر اتنی بڑی تعداد کو بیک وقت ڈاکٹر بنانا یقینا پاکستان جیسے ملک کے لیئے ناممکن ہے۔ عام طور پر دیکھا یہ گیا ہے کہ جب یہ نوجوان میڈیکل کالجز یا یونیورسٹیوں میں داخلہ سے رہ جاتے ہیں تو سخت مایوسی کا شکار ہوجاتے ہیں وہ ایک بار بھی یہ نہیں سوچتے کہ ہسپتالوں میں ڈاکٹروں سے کہیں زیادہ میل اور فی میل نرس کام کرتی ہیں۔ اسی لیئے دوسرے شعبوں کے مقابلے میں نرسنگ کے شعبے میں بیرونِ ملک کام کرنے کے زیادہ مواقع دستیاب ہوتے ہیں۔ایک اور مغالطہ جو صرف ہمارے نوجوانوں میں ہی پایا جاتا ہے، وہ یہ ہے شعبہ نرسنگ صرف خواتین کے لیئے ہی مخصوص ہے حالانکہ ایسی کوئی بات نہیں ہے۔اصطلاح نرس مرد یا عورت دونوں کے لیے استعمال کی جا سکتی ہے بالکل اُسی طرح جس طرح ڈاکٹر، جج، پائیلٹ، ٹیچر وغیرہ کے لیے۔شعبہ صحت میں جتنی فی میل نرسوں کی ضرورت ہوتی ہے،کم و بیش اُسی مناسبت سے ہمارے ہسپتالوں کو میل نرسوں کی بھی ضرورت ہمہ وقت رہتی ہے۔چونکہ نرسنگ کے شعبہ میں طالبات زیادہ دلچسپی رکھتی ہیں اس لیئے نرسنگ کی تعلیم کے زیادہ تر تعلیمی ادارے طالبات کے لیئے ہی قائم ہیں لیکن طلبا ء کے لیئے بھی ہمارے ملک میں بے شمار اسکول نرسنگ کی تعلیم کے لیئے قائم کیئے گئے ہیں۔



اہلیت اور نصاب
شعبہ نرسنگ کو بطور کیرئیر اختیار کرنے والے طلبا ء و طالبات کے لیئے ضروری ہے کہ ان کے عمریں 15 سے 35 سال کے درمیان ہوں،تعلیمی قابلیت کے حوالے سے بارہویں جماعت سائنس میں کامیاب ہونے والے اُمیدواروں کو بطور خاص ترجیح دی جاتی ہے۔نرسنگ اسکولوں اور کالجوں میں طلبا ء و طالبات کو چار سال کے عرصہ میں نظری و عملی مضامین کی تعلیم و تربیت فراہم کی جاتی ہے۔دورانِ تعلیم طلباء و طالبات کو بطور نصاب تشریح الابدان (ایناٹومی)،علم الاعضا ء (فزیالوجی)،نرسنگ کی تاریخ،سرجیکل نرسنگ،طبیعات، میڈیکل نرسنگ،اخلاقیات،نرسنگ آرٹس، اور انگریزی زبان میں مہارت جیسے اہم ترین مضامین پڑھائے جاتے ہیں۔ہر صوبے میں نرسنگ کا اپنا ایگزامینیشن بورڈ موجود ہے جو ہر تعلیمی سال کی تکمیل پر امتحان لیتا ہے اور کامیاب طلباء و طالبات کو سندیں جاری کرتاہے۔

اخراجات، وظائف،سہولتیں اور تنخواہ
پاکستان میں نرسنگ کی تعلیم طلبا ء و طالبات کے لیئے تقریباً مفت ہے بلکہ اکثر اسکولوں اور کالجوں میں زیرِ تعلیم طلباء و طالبات کو ماہانہ وظیفہ بھی دیا جاتا ہے جبکہ طالبات کو تو رہائش اور کھانے کی سہولیات بھی مفت میں فراہم کیں جاتیں ہیں۔یہ سہولیات صرف سرکاری تعلیمی اداروں میں ہی نہیں بلکہ نجی اداروں جن بطور خاص پاک فوج کے زیراہتمام چلنے والے ادارے شامل ہیں،اُن میں بھی تمام تر سہولیات مفت میں فراہم کی جاتیں ہیں۔ہاں چند ایک ایسے نجی ادارے ضرور جو ماہانہ وظیفہ نہیں فراہم کرتے لیکن بقایا تمام سہولیات من و عن اپنے ہاں زیرِ تعلیم طلبا ء و طالبات کو مہیا کرتے ہیں۔نرسنگ اسکول میں چار سالہ تعلیم اور عملی تربیت کے تکمیل کے بعدایک نرس کا تقرر سرکاری شعبہ میں اسٹاف نرس کے عہدے پر گریڈ 14 میں دو پیشگی ترقیوں کے ساتھ کر دیا جاتاہے۔چار سال تک بطور اسٹاف نرس کام کرنے کے بعد اسسٹنٹ نرس سپرنٹنڈنٹ کے عہدے پر ترقی دے دی جاتی ہے جس کا گریڈ 16 ہے۔سرکاری شعبہ میں نرس اپنے تجربے،مزید تعلیم اور تربیت کی بنیاد پر گریڈ 20 تک باآسانی ترقی کر سکتی ہے۔نجی شعبے یا پرائیویٹ اسپتالوں میں اسٹاف نرس کو عام طور پر گریڈ 14 اور 16 کے مساوی یا کبھی اس سے بھی زیادہ تنخواہیں اور دیگر مراعات دی جاتی ہیں۔عام طور دیکھا یہ گیا ہے کہ چوں کہ ملک میں تعلیم یافتہ اور تربیت یافتہ نرسوں کی شدید کمی ہے اس لیئے نرسنگ اسکول میں چار سالہ تربیت کے اختتام پر ہی نرس کو چاہے و ہ میل ہو یا فی میل اُسے فوراً ہی ملازمت مل جاتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ آپ نے ڈاکٹروں کو تو اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد بے روزگار دیکھا ہوگا لیکن ہمیں اُمید ہے کہ آج تک آپ میں سے کسی نے تربیت یافتہ میل یا فی میل نرس کو بغیر ملازمت نہیں دیکھا ہوگا۔صرف اس ایک مثال سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ہمارے نوجوانوں کے لیئے اس شعبہ کو بطور کیرئیر اپنانے میں ترقی کے کتنے شاندار مواقع موجود ہیں۔

پاکستانی فلورنس نائیٹ اینگیل
پاکستان میں نرسیں خدمت کے کس لازوال جذبے کے تحت کام کررہی ہیں اس کا اگر آپ نے درست اندازہ لگانا ہے تو پھر پاکستانی فلورنس نائیٹ اینگیل کہلائی جانے والی نرس کلثوم منصور کی کہانی ضرور پڑھیں۔نرس کلثوم منصور کی عمر ابھی چند برس ہی ہو گی، جب گاؤں میں چراغ جلاتے ہوئے اس کے کپڑے آگ کی زد میں آ گئے اور ان کی انگلیاں اور چہرہ بری طرح جھلس گیا۔گھر والوں نے گاؤں میں موجود ایک ’نیم حکیم‘ کے پاس لے گئے، جس کے غلط علاج کے باعث کلثوم منصور کے زخم مزید خراب ہو گئے۔ جنہیں بعد ازاں کسی دور دراز علاقے کے ہسپتال لے جایا گیا جہاں کلثوم نے پہلی بار نرس کو دیکھا،بس اُسی لمحہ اُس نے نرس بننے کا فیصلہ کرلیا۔اپنی اس خواہش کی تکمیل کے لیئے جب کلثوم نے تعلیم حاصل کرنے کی خواہش کی تو اسے پتہ چلا کہ ٹنڈو آدم کے اس علاقے میں بچیوں کا کوئی سکول ہی سرے سے موجود نہیں ہے لہذا اس نے گورنمنٹ مڈل سکول ٹنڈو آدم سندھ میں داخلہ لے کر پڑھنے کا ایک مشکل فیصلہ کیا۔ لڑکوں کے اس اسکول میں تعلیم حاصل کرنے والی وہ واحد طالبہ تھیں۔1957ء میں اس نے پرائیویٹ طالبہ کے طور پر پنجاب یونیورسٹی سے میٹرک کا امتحان پاس کیا اور پھر ایف ایس سی میں داخلہ لے لیا۔اس زمانہ میں پاکستان میں نرسوں کی شدید کمی تھی۔غیر مسلم نرسوں کی بڑی تعداد بھارت منتقل ہو چکی تھی۔ کلثوم نے ایف ایس سی چھوڑ کر لیاقت میڈیکل کالج ہسپتال جامشورو میں نرسنگ کے چار سالہ کورس میں داخلہ لے لیا۔ یہ کورس مکمل کرنے کے بعد اسے ملازمت مل گئی اور سرکاری طور پر انہیں نرسنگ میں پوسٹ گریجویشن کرنے کے لیے جناح ہسپتال کراچی سے منسلک پوسٹ گریجوئٹ کالج آف نرسنگ بھجوا دیا گیا۔ جہاں کلثوم کو اس کی شاندار کارکردگی پر انہیں فلورنس نائیٹ اینگل ایوارڈ دیا گیا۔ 8 اگست 1999ء کو جب نرس کلثوم منصور ریٹائر ہوئیں اُسے معلوم تھا کہ اُس نے پنشن گریجویٹی کی مدد میں ملنے والی رقم کیا کرنا ہے۔ریٹائرمنٹ کے ٹھیک دو دن بعد کلثوم کے صاحبزادے ضرار منصور جو کہ پاکستان ایئر فورس میں پائلٹ تھے ایک افسوسناک سانحے میں شہید ہو گئے۔ ضرار کو حکومت کی طرف سے ملنے والے لاکھوں روپے اور اپنی تمام پنشن سے کلثوم منصور نے لاہور کے ایک پسماندہ علاقے برکی روڈ پر غریبوں کی ایک بستی باؤ والا میں طبی سہولتیں فراہم کر نے کا منصوبہ بنایا۔ شروع میں تھوڑی سے زمین لے کر ایک ڈسپنسری قائم کی گئی، بعدازاں اسی جگہ پر نو کینال اراضی خریدی گئی اور ضرار شہید ویلفیئر ٹرسٹ ہسپتال کے نام سے ایک پانچ منزلہ فلاحی ہسپتال کی تعمیر شروع کر دی گئی۔ اس ہسپتال میں اس وقت شعبہ آوٹ ڈور، ایکسرے ڈیپارٹمنٹ اور جرنل سرجری کے علاوہ امراضِ چشم، شعبہ دندان، گائنی اور ٹی بی کے مریضوں کا علاج بھی کیا جا رہا ہے۔ تمام شعبوں میں ماہر ڈاکٹرز کی خدمات میسر ہیں۔ ہسپتال کا موبائل یونٹ گرد و نواح کے دیہاتوں میں جا کر مریضوں کا معائنہ کر تا ہے اور انہیں بیماریوں سے بچنے کی آگاہی فراہم کر تا ہے۔یہ ہسپتال اگر دنیا کا نہیں تو شاید پاکستان کا ضرور اپنی نوعیت کا وہ پہلا منفرد ہسپتال ہوگا جو ایک نرس کی پنشن سے بنا ہے۔

نرسنگ کے پیشہ کے حوالے سے چند دلچسپ ترین حقائق
دنیا کا پہلا نرسنگ اسکول 250 قبل مسیح میں برِ صغیر پاک و ہند میں قائم کیا گیا تھا۔
ایک تحقیق کے مطابق ایک نرس اپنی بارہ گھنٹوں کی شفٹ کے دوران چار سے لیکر پانچ میل تک روزانہ پیدل چلتی ہے۔جبکہ ایک عام آدمی ایک دن میں اٹھارہ گھنٹوں کے دوران صرف ڈھائی سے تین میل ہی بمشکل پیدل چل پاتا ہے۔
عالمی گیلپ سروے کے مطابق دنیا کا سب سے قابلِ اعتماد پیشہ نرسنگ ہے۔یہ اعزاز 2001  سے مسلسل شعبہ ئ نرسنگ کے نام ہی چلا آرہا ہے۔ سروے کے مطابق رائے دہندگان میں سے 84 فیصد افراد نرسنگ کو ایک انتہائی قابلِ اعتماد پیشہ تصور کرتے ہیں۔
عالمی سطح پر مختلف پیشوں کی درجہ بندی کرنے والے ایک ادارے کے مطابق ترقی،مشاہرہ،مواقع اور مراعات کے حوالے سے نرسنگ کا پیشہ دنیا کے 100 سرفہرست پیشوں میں دوسرے نمبر پر آتا ہے۔جبکہ نرسنگ سے ہی متعلق نرس ایتھیسٹک کا پیشہ،چھٹے نمبر پر اور نرس مڈوائف (جسے ہمارے ہاں لیڈی ہیلتھ ورکر بھی کہا جاتا ہے)پندرویں نمبر پر آتا ہے۔اس کے علاوہ امریکہ میں سب سے زیادہ ملازمت کے مواقع پیدا کرنے والا پیشہ بھی نرسنگ ہی ہے۔
حیران کُن بات ہے کہ جدید تاریخ کی سب سے نامور اور مشہور ترین نرس فلورنس نائیٹ اینگیل نے اپنی زندگی کے صرف تین برس شعبہ ئ نرسنگ کو دیئے تھے۔

غیر ملکی نرسوں کے معیارِ قابلیت کو جانچ کر اُنہیں اپنے ملک میں ملازمت کے لیئے لیا جانے والا نرسنگ کا سب سے مشکل امتحان جاپان کا تصور کیا جاتا ہے، ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق پچھلے پانچ سالوں میں 741 میں سے صرف 96 اُمیدوار ہی اس امتحان میں کامیابی حاصل کر سکے ہیں۔
عالمی ادارہ ئ صحت کے مطابق دنیا بھر میں شعبہ ئ نرسنگ کی سب سے ابتر صورتحال نیپال کی بتائی جاتی ہے۔جہاں ایک لاکھ افراد کے لیئے صرف پانچ نرسیں دسیتاب ہیں۔
دو ہزار گیارہ میں کیئے گئے ایک سروے کے مطابق نرسنگ کے پیشہ سے تعلق رکھنے والے افراد میں کمر کی تکالیف کی شرح سب سے زیادہ ہے۔کم و بیش 59 فیصد نرسیں کمر تکالیف کی شکایات کرتی پائی گئی ہیں۔
عام طور پر خیال کیا جاتا ہے کہ نرسیں صرف ہسپتالوں میں کام کرتی ہیں۔جبکہ ایک تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق دنیا میں صرف 62 فیصد نرسیں اسپتالوں میں اپنی خدمات انجام دیتی ہیں۔جبکہ دفتروں،اسکولوں،تحیقیاتی اداروں،ملٹری بیسس، میدانِ جنگ،خلائی اداروں کے علاوہ بھی بے شمارایسی جگہیں ہیں جہاں نرسیں اپنی طبی خدمات سے لوگوں کو مستفید کرتیں ہیں۔

حوالہ: یہ مضمون سب سے پہلے روزنامہ جنگ کے سنڈے میگزین میں 06 مئی 2018 کے شمارہ میں شائع ہوا۔

راؤ محمد شاہد اقبال

اپنا تبصرہ بھیجیں