Urdu Literature

جس پہ مرتی ہے فصاحت، وہ زباں ہے اُردو

”میر صاحب! ایک بار پھر سے سوچ لیں،اتنے مہنگے داموں اُردو کے ایک ایسا سوفٹ وئیر کو بنوانا جس کا آپ کے علاوہ فی الحال پور ی دنیا میں کوئی دوسرا شخص خریدار بھی نہیں، کہیں آپ کو دیوالیہ ہی نا کردے“
میر خلیل الرحمن اپنے دیرینہ ساتھی کی گفتگو پورے انہماک سے سننے کے بعد مسکراتے ہوئے گویا ہوئے”بھئی تم کیا سمجھتے ہو میں نے یہ فیصلہ کسی کاروباری مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے لیاہے،اگر تمہارے سمیت کسی کا بھی یہ خیال ہے تو بالکل غلط خیال ہے،جس کی اُسے اصلاح کرنی چاہئے کیونکہ میں نے یہ فیصلہ صرف اور صرف اُردو زبان سے اپنے والہانہ عشق کی وجہ سے کیا ہے اور عاشق لوگ دیوالیہ ہونے سے نہیں گھبراتے،مگر خیر رہنے دو میری یہ مشکل باتیں تمہیں اس وقت سمجھ نہیں آئیں گی لیکن آنے والے زمانہ میں میرا آج کا لیا گیا یہ فیصلہ ہی اُردو کے مستقبل کا تعین کرے گا“۔
کسے خبر تھی کہ محسن ِ اُردو،میر خلیل الرحمن کا اُردو کی محبت میں اُٹھا یا گیا صرف ایک قدم واقعی اُردو زبان کے ڈیجیٹل دور میں داخلہ کا پروانہ بن جائے گا۔آج اُردو اپنی تمام تر رعنائیوں کے ساتھ مکمل طور پر ایک ڈیجیٹل زبان کا روپ دھار چکی ہے۔اُردو نے دنیا کی بڑی بڑی ٹیک کمپنیوں جن میں گوگل،مائیکروسافٹ،فیس بک،یوٹیوب اور ٹیوٹر وغیرہ شامل ہیں کو انتہائی سرعت کے ساتھ اپنی جانب متوجہ کرنا شروع کردیاہے۔یہ ہی وجہ ہے کہ اس وقت ہماری پیاری زبان اُردو ڈیجیٹل زبانوں کی عالمی درجہ بندی میں روز بہ روز بہتری کا سفرانتہائی تیز رفتاری سے طے کر رہی ہے۔ڈیجیٹل اُردو کے کامیابی کے اس سفر کی مکمل روداد رقم کرنا تو شاید ہمارے لیئے ممکن نہ ہوسکے لیکن اُردو داں قارئین کے اُردو زبان سے زیادہ سے زیادہ استفادہ کی خاطر اس کی ایک جھلک ضرور پیش کی جاسکتی ہے۔

شاعری کی بحر اور وزن موبائل فون سے ترتیب دیں
اُردو زبان کی تمام تر نغمگی،مٹھاس اور دلکش آہنگ کا مرکز و محور اگر شاعری کو قرار دیا جائے تو اُمید کی جاسکتی ہے کہ اسے اُردو کے عشاق مبالغہ کے بجائے ایک حقیقت سے ہی تعبیر کریں گے کیونکہ شاعری اُردو ادب کی وہ صنفِ خاص ہے جس کے مداح صرف اُردو بولنے اور سمجھنے والے ممالک کے باسی ہی نہیں بلکہ اُن ممالک میں رہنے والے لاکھوں افراد بھی ہیں جہاں نہ تو اُردو بولی جاتی نہ ہی سمجھی جاتی ہے۔لیکن اُردو شاعری سے محبت کرنے والوں کی اصل مشکل اُس وقت شروع ہوتی ہے جب اُن کا دل بھی میدان ِ شاعری میں طبع آزمائی کا چاہتا ہے مگر درمیان میں علم ِ عروض کی مشکل حسابی تراکیب حائل ہوجاتی ہیں اور یوں ذہن میں آئے خیالات شاعری کا درجہ تک پہنچتے پہنچتے راستہ میں ہی کہیں ”تُک بندی“ کی منڈیر پر جابیٹھتے ہیں۔علمِ عروض وہ علم ہے جس کی مدد سے اُردو شاعری کی جانچ پڑتال کی جاتی ہے،اس کسوٹی پر پرکھ کے تمام مراحل مکمل کئے بغیر کسی مصرعے یا شعر کو درستگی کی سند نہیں دی جاسکتی۔علم عروض میں بہت سے اوزان مقرر کیئے گئے جن میں مہارت کا دعویٰ کرناکسی عام فرد تو کیا کبھی کبھار اچھے خاصے معروف شاعر کے لیئے بھی اپنی جان کو خطرے میں ڈالنے سے کم نہیں ہوتا۔لیکن پریشان مت ہوں ہم آپ کی یہ مشکل بھی آسانی کیئے دیتے ہیں اور آپ کو ایک ایسی موبائل ایپ سے متعارف کروادیتے ہیں جسے آپ اپنے موبائل فون انسٹال کرلیں جس کے بعد آپ کا اسمارٹ فون واقعی اس قابل ہوجائے گا کہ آپ کے کہے گئے ہر مصرعہ،ہر شعر، ہر غزل اور ہر نظم کو بالکل ٹھیک ٹھیک علمِ عروض کی حسابی تراکیب کے عین مطابق درکار بحر اور وزن میں ترتیب دے سکے۔جی ہاں!اس لاکھوں میں ایک چشم ِ بدور موبائل ایپ کا نام ہے ”بحر نما“(Behar Numa)۔جسے راولپنڈی کی مردم خیز زمین سے تعلق رکھنے والے ایم۔ڈی ملک نے بنایا ہے۔”بحر نما“ ایم۔ڈی ملک کی علم ِعروض پر دس سال کی طویل ترین تحقیق و عرق ریزی کا نچوڑ ہے۔جس کی ہرطرح سے سخت آزمائش و پرکھ کی گئی ہے۔مرزا غالب کے پورے دیوان سمیت سینکڑوں معروف ترین شعراء کا مکمل کلام اس موبائل ایپ پر ایک بار نہیں بلکہ کئی کئی بار پرکھ کر اچھی طرح تسلی کی گئی ہے۔ کئی سالوں پر محیط ہرسلسلہ آزمائش پر اس ”بحرنما“ایپ کے پوری طرح کامیاب ہونے کے بعد ہی اسے اُردو شاعری کے دلدادہ عام افراد سمیت شعرا ء و ادبا ء کے استعمال کے لیئے 14 اگست 2017 ء کو انٹرنیٹ کے مقبول ترین ایپ اسٹور ”گوگل پلے“ پر بالکل مفت میں ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیئے رکھ دیا گیا ہے۔”بحر نما“ نامی اس موبائل ایپ کو اُردو جاننے اور سمجھے والے ہر خوش ذوق طالب علم،شاعر، ادیب،تنقید نگار کے لیئے بلاشک و شبہ ڈیجیٹل دنیا میں ایک نعمت قرار دیا جاسکتا ہے۔

بول کر اُردو لکھیں
اُردو ہاتھ سے لکھنا یقیناایک تھکادینے والا کام ہے اوراگر شرط خوشخطی سے لکھنے کی عائد کردی جائے تو پھر تھکن کے کیا ہی کہنے،گو اس کا حل یار لوگوں نے کمپیوٹر پر اُردو لکھنے سے نکال تو لیا مگراب مسلسل کی بورڈ پر انگلیاں چلانے سے انگلیوں میں تکلیف ہونے لگتی ہے۔جبکہ ان افراد کا ذکرِ خیر بھی کرتے چلیں جن کا املا کمزور ہے یا جنہیں سرے سے اُردو لکھنا آتا ہی نہیں اور پھر اُن لوگوں کامسئلہ بھی کم سنگین نہیں جنہیں دکھائی ہی نہیں دیتا وہ بھلا اُردو میں لکھائی کیا کریں گے۔ جہاں اتنے سارے مسائل ہوں وہاں ان سب کے تدارک کے لیئے کوئی ایک حل تلاش کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے لیکن آپ خوش ہوجائیں ہم آپ کی آسانی و سہولت کے لیئے یہ کام بھی کر گزریں ہیں۔اب ہم آپ کو ایک ایسی ویب سائیٹ کے بارے میں بتارہے ہیں جس کے سامنے آپ اُردو بولتے جائیے،وہ آپ کی آواز کو اُردو تحریر میں منتقل کرتا جائے گا۔اُردو عصر نامیhttps://urduasr.com/dictation/ یہ ویب سائیٹ تین انتہائی ذہین دوستوں سید علی صائم،ڈاکٹر علی طاہر اور شکیب احمد کی مشترکہ دماغ سوز ی و دنیائے انٹرنیٹ میں جہاں گردی کاایک انتہائی خوشگوار اور حیران کن نتیجہ ہے۔اس ویب سائیٹ کو بنانے والوں کے نزدیک اس کے کئی ایک مقاصد ہیں سب سے پہلا مقصد تو یہ ہے کہ وقت بچایا جا سکے، یعنی اگر ایک منٹ میں 50 الفاظ ٹائپ کیے جا سکتے ہیں تو اُنھیں بول کر مزید آسانی پیدا کی جا سکتی ہے کیونکہ ایک منٹ میں 150 سے زائد الفاظ بولے جا سکتے ہیں۔ دوسرا مقصد یہ ہے کہ اُن لوگوں کو اُردو لکھنے کی عظیم سرشاری سے متعارف کرایا جائے جو یا تو پڑھنا لکھنا نہیں جانتے یا کسی اور وجہ سے لکھ نہیں پاتے۔تیسرا مقصد وحید یہ ہے کہ اپنی اس کاوش کے ذریعے کمزور بینائی یا مکمل طور اندھے پن کے عارضہ کا شکار معذور افراد کو بھی اُردو لکھنے میں کچھ نہ کچھ معاونت فراہم کی جائے اور چوتھا اور سب سے اہم مقصد سست الوجود افراد کی طرف سے بات بات پرپیش کیئے جانے والے اس بہانہ کا مکمل طور پر خاتمہ ہے کہ ”مجھے اُردو میں ٹائپ کرنا نہیں آتا!“ہمیں اس بات کا اعلان کرتے ہوئے انتہائی مسرت ہورہی ہے کہ یہ ویب سائیٹ اپنے تمام مقاصد بحسن و خوبی پورا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔بس اس کے لیئے اس کے بنانے والوں کوآپ سب کا بھرپور تعاون درکار ہے کیونکہ جتنا زیادہ آپ اس کا استعمال کریں گے اُتنی ہی زیادہ اس کو خوب سے خوب تر بنانے کا سفر بلا کسی تعطل جاری رہے گا۔ چھوٹی موٹی اغلاط کے باوجود اس ویب سائیٹ کی کارکردگی کو بہترین نہیں تو بہتر ضرور قرار دیا جاسکتا ہے۔سیدھی سی بات ہے کہ پور جملہ خود ٹائپ کرنے کی نسبت اکا دکا غلطی ٹھیک کرنا بہت زیادہ آسان کام ہے۔
اُردو تھیسارسس، مترادف الفاظ ایک جہان
اردو لکھنے اور پڑھنے والوں کو بعض اوقات زندگی میں ایک مشکل کا سامنا تو کرنا پڑتا ہی ہے یعنی جب وہ کسی لفظ کا مناسب متبادل لفظ جاننے کے لیے اپنے ذہن زور ڈالتے ہیں لیکن کوئی مناسب مترادف لفظ ذہن کی اسکرین پر ظاہر نہیں ہوتا جس کے لیئے پھر اُردو زبان کی کئی بھاری بھرکم لغات کا سہارا تلاش کرنا پڑتا ہے،لغت مل جانے کے بعد بھی درست اور مناسب ترین مترادف ڈھونڈنا اتنا مشکل لگتا ہے کہ اسے آئندہ پر اُٹھا کر رکھ دیا جاتا ہے۔ہمیں یقین ہے کہ یہی کچھ لاہور کے اُردو دوست ماحول میں پرورش پانے والے مصنف و مترجم مشرف علی فاروقی کے ساتھ کم از کم اتنی بار تو ضرور ہوا ہوگا کہ ایک دن اُن کا حوصلہ جواب دے گیا ہوگا۔جب ہی تو انہوں نے اس مشکل ترین کام کا حل ایک موبائل و کمپیوٹر ایپلی کیشن کی صورت میں پیش کردیا۔خیال رہے کہ اردو زبان میں ایک لفظ کے معنی ایک سے زیادہ الفاظ سے ادا ہوسکتے ہیں یعنی وہ الفاظ جو ایک دوسرے کا متبال ہوں یا اپنے معنی میں یکساں یا ایک دوسرے سے قریب ہوں،وہ مترادفات کہلاتے ہیں۔اُردو تھیسارس (www.urduthesaurus.com)کے نام سے اُردو الفاظ کے مترادف الفاظ کا ذخیرہ جمع کرکے اُردو دان حضرات کے لیئے استفادہ کے لیئے انٹرنیٹ اور موبائل فون پر جاری کردیا ہے۔اردو تھیسارس کا یہ جدید ورژن 16 جولائی 2016 ء سے انٹرنیٹ اور موبائل فون کے لیے دستیاب ہے، پانچ سال کی طویل مدت میں تیار ہونے والی اس ویب سائٹ اور ایپ کے ذریعے اُردو تھیسارس کے موجودہ ورژن میں چالیس ہزار سے زائد الفاظ اور بیس ہزار سے زائد مترادفات کے مجموعے ڈھونڈے جاسکتے ہیں۔ اردو زبان اور الفاظ کے ایک ماخذ کے طور پراس کو بہتر بنانے کا عمل مسلسل جاری ہے۔ اپنی موجودہ حالت میں یہ محض مترادفات کے ایک حصے پر مشتمل ہے، لیکن مستقبل میں اُردو اور ذولسانی لغات کے علاوہ، اس میں متضادات، محاورات، اور ضرب الامثال کا اضافہ بھی کیا جائیگا۔زبان اور الفاظ کے کسی بھی ماخذ کی طرح اردو تھیسارس کی تالیف میں بھی متعدد اردو لغات اور مستند حوالہ جاتی کتب سے استفادہ کیا گیا ہے، لیکن اس اردو تھیسارس میں موجود ذخیرہ الفاظ کی ترتیب و تنظیم منفرد ہے۔ اردو تھیسارس ایک مفت تعلیمی سروس کے طور پر پیش کی جارہی ہے۔ اس کے بنانے والوں کو ڈیزائن، خصوصیات اور مندرجات میں بہتری کے لیے آپ کی تجاویز اور سفارشات کا شدت سے انتظار ہے۔اس وقت اس ایپلی کیشن میں ذخیرہ الفاظ تقریباً 40 ہزار ہے جبکہ 25 ہزار سے زائد مجموعہ مترادفات ہیں۔جو کہ اُردو زبان کے رائج مترادفات کا تقریباً پچاس فیصد ذخیرہ بنتا ہے جبکہ مزید ذخیرہ شامل کرنے کا کام تیزی سے جاری ہے،عنقریب اس ایپلی کیشن اور ویب سائٹ پر مستقبل میں متضاد الفاظ، محاورے اور ضرب الامثال بھی شامل کیے جائیں گے۔
رومن اُردو کو اُردو رسم الخط میں منتقل کرنے کا خود کار نظام
یہ کتنا بڑا المیہ ہے کہ14 اگست 1947 ء کو ہمیں انگریزوں سے تو آزادی مل گئی مگر انگریزی سے آزادی نہ مل سکی۔بلکہ وقت گزرنے کے ساتھ ہم ذہنی و فکری طور پر مکمل طور پر انگریزی کے شکنجہ جکڑتے گئے۔اب تو نوبت یہاں تک آگئی ہے کہ ہمارے بہت سے نوجوانوں اور بچوں کو اُردو سر ے سے لکھنی ہی نہیں آتی،عموماً انہیں اپنا مافی الضمیر لکھ کر بیان کرنے کے لیئے ”رومن اُردو“ کا سہارا لینا پڑتا ہے۔یعنی ہماری یہ نسل اُردو بھی انگریزی میں لکھ رہی ہے لیکن اس میں نوجوان نسل کا اتنا قصور نہیں،جتنا قصوراُس پرانی نسل کا ہے جنہوں نے اپنے بچوں ”ماہرِ انگریزی“ بنانے کے خبط میں ایسے نجی اسکولوں کے حوالے کردیا جہاں اُردو زبان کاداخلہ مکمل طور پر بند تھا۔اب اس مسئلہ کا تو ایک ہی حل ہو سکتا ہے کہ کسی طرح ہم اپنے بچوں کے لیئے رومن اُردو کو اُردو رسم الخط میں منتقل کرنے کا کوئی ایساخودکار نظام متعارف کروائیں جس کے ذریعے ہماری انگریزی زدہ نئی نسل کو اُردو املا و رسم الخط سے درست آگہی حاصل ہوسکے۔ابھی ہم اس حوالے سے سوچ بچار میں لگے ہوئے ہی تھے کہ گوگل نے انتہائی خاموشی اُردو سے اپنی والہانہ محبت ثبوت دیتے ہوئے یہ خود کار نظام متعارف بھی کروا دیا۔جی ہاں! دنیا کی سب سے بڑی ڈیجیٹل کمپنی گوگل کی جانب سے کچھ عرصہ پہلے جی بورڈ (GBoard) کے نام سے ایک ایپ متعارف کرائی گئی ہے جو کہ اُردو لکھنے والوں کے لیئے بہت بڑا تحفہ ہے،خاص طور پر اگر وہ رومن اُردو لکھنے پر مجبور ہوں تو۔ جی بورڈ اب خودکار طور پر رومن اردو کو حقیقی معنوں میں خوبصور ت و دل موہ لینے والی اردو میں منتقل کردیتا ہے، جیسے رومن میں اگر لکھیں ‘ Ap ka naam kia hai ‘ تو وہ اردو رسم الخط میں خودکار نظام کے تحت منتقل ہوجائے گا ‘ آپ کا نام کیا ہے’۔ویسے عام طور پر سوشل میڈیا سمیت دنیائے انٹرنیٹ میں کسی بھی جگہ اردو زبان پر اتنی توجہ نہیں دی جاتی مگر یہ نیا اضافہ اس زبان کوجہانِ انٹرنیٹ کے لیئے ڈیجیٹل اُردو کے طور پر متعارف کرنے کے حوالے سے حوصلہ افزاء قدم ثابت ہوگااور گوگل کی طرف سے جی بورڈ کی صورت میں فراہم کردہ اس سہولت سے سب سے بڑی آسانی یہ میسر آئے گی کہ اگر کسی شخص کو اسمارٹ فون پر اردو کی بورڈ سمجھ نہیں آرہا تو اب انگلش میں رومن لکھنے پر آپ کی پسند کا جملہ خودکار طور پر اُردو زبان میں ڈھل جائے گا۔اس سہولت کو اپنے موبائل فون میں متحرک کرنے کے لیے آپ کو بس گوگل پلے اسٹور یا ایپل کے ایپ اسٹور سے جی بورڈ کو انسٹال کرنے کے مندرجہ ذیل اقدامات کرنے ہوں گے۔
جی بورڈ اوپن کرکے سیٹنگز میں جائیں اور لینگوئجز آپشن کا انتخاب کریں اور ‘ یوز سسٹم لینگوئج’ سے چیک ہٹا دیں۔
اب جی بورڈ میں دی گئی زبانوں کی فہرست میں جائیں اور اردو (abc) کو سلیکٹ کرلیں۔
ویسے اردو پاکستان کا انتخاب بھی کیا جاسکتا ہے جو کہ رومن کی جگہ اردو ان پٹ لے آؤٹ کے ساتھ ہے۔
کی بورڈ میں ٹائپنگ زبان کو بدلنے کے لیے اسپیس بار کو ایک سیکنڈ کے لیے پریس کریں اور پوپ اپ اسکرین میں اردو کا انتخاب کرلیں، اسی طرح اس طریقہ کار سے کسی اور زبان کا انتخاب بھی کیا جاسکتا ہے۔آپ کی تسلی کے لیئے یہ بھی بتاتے چلیں کہ گوگل جی بورڈ کی رومن اردو کو اردو میں منتقل کرنے کی درستگی حیران کن حد تک درست ہے۔باقی آزمائش شرط ہے۔
اُردو کی مکمل آن لائن لغت، بے مثال کام اور منفرد اعزاز
دنیا کی تمام زبانوں میں اگرچہ اُردو سب سے کم عمر زبان ہے لیکن اس کا ذخیرہ الفاظ دنیا کی کسی بھی بڑی سے بڑی زبان سے کسی صورت کم نہیں قرار دیا جاسکتا۔ یہ ہی وجہ ہے کہ اُردو کی ڈیجیٹل آن لائن لغت تیار کرنا کسی پہاڑ کی چوٹی سر کرنے سے کم کام نہیں تھا،لیکن بھلا ہو ترقی اُردو بورڈ کے تمام ارکین کا جنہوں نے سالہا سال کی انتھک محنت کے بعد آخر کار کار اس مشکل کام کو بھی مکمل کر کے چھوڑا۔یوں اب اُردو کی مکمل ترین آن لائن لغت ہر خاص و عام کے لیئے استفادہ کے لیئے معرض وجود میں آگئی ہے۔ جسے http://udb.gov.pkکی ویب سائیٹ جاکر ملاحظہ کیا جاسکتا ہے۔اس کے علاوہ ایک مزید آن لائن لغت بھی موبائل فون پر استعمال کے لیئے گوگل پلے اسٹور پر مفت میں دستیاب ہے۔جسے urdulughat لکھ کر باآسانی تلاش کر کے اپنے اسمارٹ فون کا لازم و ملزوم حصہ بنایا جاسکتا ہے۔ اپنے ذخیرہ الفاظ میں نت نئے معنوں و مفاہیم کے متلاشی افراد کے لیئے یہ ایک نادر و نایاب تحفہ ہے۔

حوالہ: یہ مضمون سب سے پہلے روزنامہ جنگ کے سنڈے میگزین میں 18 فروری 2018 کے شمارہ میں شائع ہوا

راؤ محمد شاہد اقبال
Latest posts by راؤ محمد شاہد اقبال (see all)

اپنا تبصرہ بھیجیں