Guest Birds

لاکھوں پرندے پاکستان آرہے ہیں

پاکستان سمیت دنیا بھر میں اقومِ متحدہ کے تحت ہر سال مئی اور اکتوبر کے دوسرے ہفتہ میں ہجرت کرنے والے پرندوں کا عالمی دن منایا جا تاہے۔ یہ واحد عالمی یوم ہے جسے ایک سال میں دو بار منانے کا خصوصی اہتمام کیا جاتاہے۔ مہاجرین پرندوں کے عالمی یوم منانے کا مقصد وحید ہجرت کرنے والے پرندوں کو مختلف النوع قسم کی پیش آنے والی مشکلات و مسائل سے متعلق عوام لناس تک آگہی بہم پہنچانا ہوتاہے۔رواں برس کا عالمی یوم ”پرندوں کے تحفظ کے لیئے سب ملکر آواز بلند کریں“ کے ذریں عنوان کے تحت منا یا جارہا ہے۔ویسے تو ہر پرندہ ہی ہمارے کرہ ارض کی خوبصورتی،نغمگی اور فطری آہنگ کو برقرار رکھنے کے لیئے ضروری ہے لیکن مہاجر پرندے بطورِ خاص ہمارے زمین کے ماحولیاتی نظام کا وہ جزولاینفک ہیں جن کی وجہ سے کرہ ارض کا ماحولیاتی تنوع اپنی فطری صورت میں برقرار رہتاہے۔ مہاجر پرندوں کو آپ”مہمان پرندے“ بھی کہہ سکتے ہیں۔زمین کے ماحولیاتی تنوع کو برقرار رکھنے کے لیے یہ”مہمان پرندے“ ایک علاقے سے دوسرے علاقے کی طرف ہزاروں میل کا سفر طے کرتے ہیں۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہر سال لاکھوں کی تعداد میں یہ”مہمان پرندے“ موسمِ سرما شروع ہوتے ہی سرد و یخ بستہ علاقوں سے اچانک معتدل موسم کے حامل میدانی علاقوں کی طرف کیوں عازمِ پرواز ہوجاتے ہیں؟معروف سائنسی جریدے نیچرا کالوجی اینڈ ایولوشن کی تحقیق کی روشنی میں اس کا تفصیلی جواب کچھ یوں ہے کہ ”سرد ترین موسم میں مہاجر پرندوں کے آبائی وطن میں خوراک کی شدید کمی واقع ہوجاتی ہے اور غالب گمان یہ ہے کہ خوراک کے حصول کے غیر ضروری تگ و دو کرنایا لڑنا جھگڑنا ان”مہمان پرندوں“ کی سرشت میں شامل نہیں ہوتا،اس لیئے موسم کے سرد ہوتے ہی وہ خوراک کی تلاش میں معتدل موسم والے میدانی علاقوں کی طرف ہجرت کرنا شروع کردیتے ہیں،جہاں ان کے لیئے حشرات الارض اور پودوں پر مشتمل من پسند خوراک کی بہتات ہوتی ہے جبکہ انہیں خوشگوار و معتدل موسم کی آسائش بھی میسر آجاتی ہے اورجوں ہی ان کے آبائی علاقوں میں موسم بدلنے کا وقت قریب آتا ہے وہ اپنے اپنے آبائی وطن کی جانب واپس لوٹ جاتے ہیں۔ہزاروں میل کا سفر کرنا مہاجر پرندوں کے جینز میں شامل ہوچکا ہے یہ ہی وجہ ہے کہ ان کی نئی نسل بھی جب پرواز شروع کرتی ہے تو وہ بھٹکے بغیر ٹھیک اُسی مقام پر جا پہنچتی ہے جہاں اُن سے پہلے اُن کے آباو اجداد آچکے ہوتے ہیں“۔

ماہرین حیاتیات کے مطابق پرندوں کی دنیا بھر میں 10 ہزار سے زائد اقسام پائی جاتی ہیں۔ جبکہ دنیا بھر میں مہاجر پرندوں کی 2200 کے قریب اقسام موجود ہیں۔ موسم سرما میں ہجرت کرنے والے پرندے جن راستوں پر سفر کرتے ہیں وہ 7 مختلف راستے ہیں جنہیں فلائی ویز کہا جاتا ہے۔ یہ بڑے اور عالمی راستے ہیں، نیز اِن کے علاوہ بھی متعدد درمیانے اور مختصر فاصلے کے علاقائی و مقامی راستوں کے بارے میں معلومات اکھٹی کرنے کا عمل ابھی جاری ہے۔ بین الاقوامی سطح پر نقل مکانی کرنے والے سینکڑوں اقسام کے کروڑوں مہاجر پرندوں کے دو اہم ترین فضائی راستے وسطی ایشیا سے مشرقی ایشیا تک اور وسطی ایشیا سے مشرقی افریقہ تک، پاکستان سے ہو کر گزرتے ہیں۔پاکستان بین الاقوامی ہجرت کرنے والے پرندوں کے جس وسطی ایشیائی فضائی راستے میں پڑتا ہے، وہ مجموعی طور پر 32 ممالک سے ہو کر گزرتا ہے۔ پاکستان تک پہنچنے والے اِس راستے یعنی فلائی وے کا نام انڈس فلائی وے یا روٹ نمبر 4 ہے جبکہ کچھ لوگ اسے”گرین روٹ“بھی کہتے ہیں۔پاکستان مہاجر پرندوں کا ایک بہت بڑا عارضی مسکن ہے جہاں ہر سال روس، سائبیریا اور شمال وسطی ایشیائی ریاستوں کے انتہائی سرد علاقوں سے لا کھوں کی تعداد میں ”مہمان پرندے“ ستمبر، اکتوبر اور نومبر کے مہینوں میں آتے ہیں۔ کم و بیش چھ ماہ قیام کے بعد مارچ اپریل میں واپس اپنے آبائی علاقوں کی جانب واپس لوٹ جاتے ہیں۔پاکستان میں پرندوں اور ممالیہ پر کام کرنے والی اولین شخصیت ٹی جے رابرٹس کے مطابق پاکستان میں پرندوں کی 668 اقسام پائی جاتی ہیں۔جن میں سے تیس فیصد کے قریب وہ”مہمان پرندے“ ہوتے ہیں، جوسردیوں میں پاکستان کا رخ کرتے ہیں۔انٹرنیشنل یونین فا ر کنزرویشن آف نیچر کے ایک سروے کے مطابق پاکستان میں ہر سال ہجرت کر کے آنے والے پرندوں کی تعداد تقریبا ایک ملین کے لگ بھگ ہے جو بین الاقوامی فلائی وے نمبر 4 یا گرین روٹ کے ذریعے سائبیریا سے افغانستان، قراقرم، ہندوکش، کو ہ سلیمان اور دریا ئے سندھ کے ساتھ ساتھ 4500 کلو میٹر کی طویل مسافت کے بعد پاکستانی علاقوں میں آتے ہیں۔ ان ”مہمان پرندوں“ میں مختلف انواع کی مرغابیاں، مگھ، قاز،کونجیں، حواصل، لم ڈھینگ، بگلے، تلوراور باز شامل ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ پاکستان میں 20 رام سر سائیڈ ز بھی موجودہیں،رام سر سائیڈز تیکنیکی اصطلاح میں ایسے علاقوں کو کہتے ہیں جہاں 20 ہزار سے زائد”مہمان پرندے“اپنا قیام کرتے ہیں،اِن 20 رامسر سائیڈز میں خیبر پختونخواہ میں دو، پنجاب میں تین، بلوچستان میں پانچ اور سندھ میں ایسے علاقوں کی تعداد 10 سے زائد ہے جبکہ اس کے علاوہ بھی سندھ بھر میں 33 سے زائد ایسی چھوٹی آبی گزر گاہیں واقع ہیں جہاں مہاجر پرندے قیام کرتے ہیں۔پاکستان میں پرندوں کی داخلی نقل مکانی بھی دیکھنے میں آتی ہے اور بین الاقوامی ہجرت بھی۔ گرم خطوں کا رخ کرنے والے پرندے پاکستان میں شمال سے لے کر دریائے سندھ کے ساتھ ساتھ نیچے تک گیلی سرسبز زمینوں، جھیلوں کے کنارے یا ڈیموں والے علاقوں میں قیام کرتے ہیں۔یہ کروڑوں پرندے ہر سال ایک محدود عرصے کے لیے پاکستانی جھیلوں اور ڈیموں کے کنارے یا پھر ان گیلے سرسبز خطوں میں قیام کرتے ہیں، جنہیں ماہرین ارضیات’’ویٹ لینڈز“کا نام دیتے ہیں۔صوبہ پنجاب کو ملک کا اہم ویٹ لینڈزکا حامل ہونے کی بنا پرخصوصی اہمیت حاصل ہے جس کا 337922ایکڑرقبہ دلدلی ہونے کے پیش نظر ان ہجرتی پرندوں کا بڑا مسکن بنتا ہے۔ پاکستان کی تین اہم ویٹ لینڈز چشمہ بیراج، تونسہ بیراج اور اُچھالی کمپلیکس پنجاب میں وا قع ہے۔ علاوہ ازیں بڑے آبی ذخائر میں جناح بیراج، ر سول بیراج، قادرآباد بیراج، مرالہ ہیڈورکس، خانکی ہیڈورکس، تریموں ہیڈورکس، سلیمانکی ہیڈورکس، اسلام ہیڈورکس، بلوکی ہیڈورکس، پنجند ہیڈورکس، شا ہ پور ڈیم، میلسی سا ئفن، کلر کہار جھیل او ر نمل جھیل بھی اہم ویٹ لینڈرز شامل ہیں۔ سندھ میں عموماً ہر سال”مہمان پرندوں“ کی آمد کا آغاز 15اکتوبر سے شروع ہو جاتا ہے، یہ پرندے 28 فروری تک سندھ سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں قیام کرتے ہیں۔ماہرین کے مطابق سندھ کے مختلف علاقوں میں اس موسم میں 223اقسام کے پرندے آتے ہیں جن میں فیلکن، اسٹاکس، کامن ٹیل، ڈن لن سمیت دیگر اقسام کے پرندے شامل ہیں، ان پرندوں کو چار گروپ میں تقسیم کیا جاتا ہے۔جن میں لمبی گردن، لمبی چونچ،لمبی ٹانگوں زمینی علاقوں میں غذا کھانے والے، مردار جانور کھانے والے، سمندری غذا کھانے والے سمیت دیگر اقسام کے پرندے شامل ہیں۔سندھ میں ان پرندوں کے مخصوص علاقوں میں قمبر شہداد کوٹ، سانگھڑ، نواب شاہ، دادو، بدین، ہالیجی، ٹھٹھہ، کراچی کے ساحلی علاقے، آبی گزر گاہیں اور دیگر شامل ہیں، ان میں سے بعض پرندے اس موسم میں قیام کے دوران اپنی نسل بڑھاتے ہیں اور موسم سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ان پرندوں کی آمد کے ساتھ ان علاقوں میں چہل پہل ہو جاتی ہے اور یہ پرندے فروری تک قیام کے بعد واپس دوبارہ ٹولیوں کی شکل میں اپنے آبائی وطن سائبیریا روانہ ہو جاتے ہیں۔



”مہمان پرندے“ اور ماحولیاتی آلودگی
پرندوں کی بین الاقوامی اور بین البراعظمی ہجرت پر منفی اثرات کی بڑی وجوہات میں عالمی درجہ حرارت میں اضافہ، جنگلات کا خاتمہ اور آبی علاقوں کا تیزی کے ساتھ کم ہونا بھی شامل ہے، نیز شہروں کے حد درجہ پھیلاو، غیر منظم سیاحت اور انسانوں کے ہاتھوں پرندوں کے خالص ماحولیاتی نظام کو پہنچنے والے نقصانات کے بھی کافی منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ جس کی وجہ سے پاکستان وہ وہ علاقے جو ماضی میں مہمان پرندوں کے لیئے جنت نظیر آماج گاہیں تصور کی جاتی تھیں اب یہ جگہیں انسانی دسترس اور ماحولیاتی آلودگی کے باعث ”مہمان پرندوں“ کے لیے پہلے جیسی صاف، پرکشش یا محفوظ نہیں رہی ہیں۔ عام مشاہدہ میں آیا ہے کہ گزشتہ تین،چار برسوں سے ملک میں سائبیریا سے آنے والے”مہمان پرندوں“ کی آمد کا سلسلہ انتہائی سرعت کے ساتھ کم ہوتا جارہاہے۔ جس کی بنیادی وجہ ہمارے ملک میں بڑھتی ہوئی ماحولیاتی آلودگی ہے،اسی آلودگی کی ایک مہلک قسم مختلف صنعتی اداروں سے نکلنے والا وہ نامیاتی فضلہ بھی ہے جو صنعتی ادارے حکومت سے آنکھ بچا کر نہروں اور دریاؤں کی نذ ر کردیتے یہ ہی صنعتی فضلہ بعد ازاں بڑی تیزی کے ساتھ ہماری آبی گزرگاہوں کے پانی میں شامل ہو کر اسے زہرآلود کر دیتا ہے۔جب ”مہمان پرندے“ اس پانی کو پیتے ہیں تو وہ اس قابل نہیں رہ پاتے کہ واپس اپنے آبائی وطن کا سفرخوش اسلوبی سے کرسکیں اور یوں ان پرندوں کی ایک کثیر تعداد ہماری ذرا سی غفلت کے باعث واپس اپنے آبائی آشیانوں پر لوٹ نہیں پاتی۔

”مہمان پرندے“ اور اقامے
معصوم مہاجر پرندوں کا شکار ہمیشہ سے عرب شہزادوں کا محبوب ترین مشغلہ رہاہے۔اپنے اسی جذبے اور خواہش کی تسکین کی خاطر مختلف خلیجی ممالک سے تعلق رکھنے والے عرب شہزادے اپنے لاؤ لشکر سمیت معصوم پرندوں کے شکار کے لیئے ہر سال پاکستان کا رخ کرتے ہیں اور ہمارے حکمران اور اربابِ اختیار انہیں ہنسی خوشی ”مہمان پرندوں“ کے شکار کرنے کے پرمٹ تھوک کے حساب سے جاری کردیتے ہیں کیونکہ اس کے عوض انہیں ”اقامے“ چاہیئے ہوتے ہیں۔ اقاموں کی ضرورت نے ہمارے ملک میں آنے والے ”مہمان پرندوں“کی بقا کو انتہائی خطرے میں ڈال دیا ہے۔جس کی وجہ سے سائبیریا سے آنے والے ”مہمان پرندے“ آہستہ آہستہ ہمارے ملک سے اپنا راستہ بدلنے پر مجبور ہو تے جارہے ہیں جس سے نہ صرف ہمارے ہاں نایاب آبی حیات کی بقا کا مسئلہ پیدا ہورہا ہے بلکہ ماحولیاتی حالات پر بھی انتہائی منفی قسم کے اثرات مرتب ہونا شروع ہوگئے ہیں۔اس سرکاری و قانونی شکار کے علاوہ ہمارے ملک میں ”مہمان پرندوں“ کا غیر قانونی شکار بھی ایک بہت بڑا مسئلہ ہے۔پاکستانی آبی علاقوں اور خطوں میں ”مہمان پرندوں“ کی بہت سی نسلوں کا غیر قانونی شکار بھی ایک عام سی بات ہے۔سندھ ہائی کورٹ کے بار بار تنبیہ اور توجہ دلانے کا اتنا اثرتو اس سال بہر حال ضرور ہوا ہے کہ محکمہ تحفظ جنگلی حیات سندھ،سائبیریا سمیت دنیا کے سرد علاقوں سے آنے والے مہمان پرندوں کے غیرقانونی شکاریوں کے خلاف سرگرم ہوگئی ہے،پاکستانی قانون کے مطابق”مہمان پرندوں“ کے غیرقانونی شکار پر 2 سال قیدکی سزا اور 50 ہزار جرمانہ ہوسکتا ہے جبکہ شکار کیئے گئے پرندوں اور جانوروں کی تصاویر کو فیس بک سمیت سوشل میڈیا میں کسی بھی جگہ پر اپ لوڈ کرنا بھی قانوناً جرم ہے۔ رواں سیزن ہم صرف اُمید ہی رکھ سکتے ہیں کہ اگر اس سال ”مہمان پرندوں“ کا شکار اُس رفتار سے نہیں کیا گیا جو کئی سالوں سے ہمارے اربابِ اختیار کا معمول رہا تو پھر قوی امکان ہے آئندہ برسوں میں ان”مہمان پرندوں“ کی آمد میں خاطر خواہ اضافہ دیکھنے میں آسکتا ہے۔

”مہمان پرندوں“ سے متعلق چند دلچسپ حقائق
امریکی ادارہ برائے ماہی گیری اور وائلڈ لائف نے کینیڈا کے ادارہ جنگلی حیات کے تعاون سے 1920ء میں پرندوں کی ہجرت کے حوالے سے سائنسی بنیادوں پر تحقیق کا آغاز کیا تھا تاکہ ”مہمان پرندوں“ کے عالمی ہجرت کے اسباب، اِن کی اڑان کے راستوں اور دیگر معلومات کا پتا لگایا جاسکے۔اس کے لیے ”مہمان پرندوں“ کے پیروں میں تحقیق کے لیے مواصلاتی رابطہ والی کم وزن ڈیوائسز جنہیں Geo Locators کہا جاتاہے خصوصی طور پر پہنائی گئیں۔”مہمان پرندوں“ کی اس سائنسی جاسوسی سے بیش بہا معلومات حاصل ہوئیں۔جن میں سے چند انتہائی دلچسپ حقائق پیش ِ خدمت ہیں۔
٭……ہیمنگ برڈ دنیا کا سب سے چھوٹا مہاجر پرندہ ہے۔اس کا اوسط وزن صرف 1/8 اونس ہے۔یہ دورانِ سفر 48 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے پرواز کرنے کی صلاحیت رکھتاہے،دلچسپ بات یہ ہے کہ ہیمنگ برڈ خلیج میکسیکو کا 600 میل کا راستہ بغیر کہیں رُکے طے کرتا ہے۔ایک سال میں دو اتنے طویل ترین سفر کرنا بلاشبہ اس چھوٹے سے پرندہ کے لیئے ایک بڑی بات کہی جاسکتی ہے۔
٭……مہاجر پرندے اپنی منزل مقصود پر پہنچنے کے لیئے لیئے 16000 میل کا طویل سفر 30 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے کرتے ہیں۔اس رفتار پر مہاجر پرندوں کو 533 گھنٹے محو پرواز رہنا پڑتا ہے۔جس کے لیئے انہیں دن میں 8 گھنٹے مسلسل سفر کرنا پڑتا ہے تب کہیں جاکر یہ 66 دن بعد اپنی اُس منزل پر پہنچ پاتے ہیں جہاں تازہ خوراک اور پانی انہیں فراوانی سے دستیاب ہوتا ہے۔
٭……کچھ مہاجر پرندے دورانِ ہجرت انتہائی بلند پرواز یعنی 500 سے 2000 فٹ تک جبکہ بعض مہاجر پرندے 29000 سے 37000 بلند پرواز کرنا زیادہ پسند کرتے ہیں۔سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ بلند پرواز کے شائق مہاجر پرندے اپنے اس عمل سے اپنی توانائی کو بچانے کی کوشش کرتے ہیں۔
٭……حیران کن طور پر مہاجر پرندے اپنے ہجرتی سفر کا مکمل ادراک رکھتے ہیں اور وہ ستاروں،سورج اور زمین کی کشش کی مدد سے ہمیشہ درست سمت میں ہی سفر کرتے ہوئے واپس اُسی جگہ پہنچ جاتے ہیں جہاں وہ پیدا ہوئے تھے۔یہ ہی وجہ ہے کہ کبھی کبھار آپ کو لگتا ہے کہ اس بار آپ کے آنگن میں نظر آنا والا ”مہمان پرندہ“وہی ہے جو پچھلے سال آیا تھا۔
٭……مہاجر پرندے عازمِ سفر ہونے سے کئی ماہ پہلے بھرپور سفری تیاری شروع کردیتے ہیں،مثلاً وہ ایسی غذائیں کھاتے ہیں جن سے اُن کا وزن سابقہ وزن کی بہ نسبت پچاس فیصد زیادہ ہوجائے تاکہ اضافی چربی کو وہ دورانِ سفر بطور خوراک استعمال میں لاکر اپنی مسلسل پرواز کو یقینی بنا سکیں۔
٭……ایک سروے میں جب لوگوں سے دریافت کیا گیا کہ اُن کے خیال میں مہاجر پرندے کس وقت سفر کرتے ہیں تو اکثر جوابات یہ تھے کہ صبح سویرے،دوپہر کو یا پھر سرِ شام لیکن یہ تمام جوابات بالکل غلط تھے کیونکہ مہاجر پرندے اپنا زیادہ تر سفر رات کی تاریکی میں کرتے ہیں اس سے نہ صرف وہ موسم کی سختیوں سے محفوظ رہتے ہیں بلکہ شکاریوں کا شکار ہونے سے بھی بچ جاتے ہیں۔رات کوسفر کرنے کا ایک اور اضافی فائدہ جو انہیں حاصل ہوتا ہے وہ یہ کہ کم خوراک ہی اُن کے طویل سفر کی ضامن بن جاتی ہے۔
٭…… مہاجر پرندوں کے نزدیک وطن واپسی کے لیئے مئی کا مہینہ سب سے زیادہ پسندیدہ ہے۔ایک اندازہ کے مطابق اس ماہ صرف امریکہ کی ایک ریاست وسکونسن سے روزانہ تین ملین سے زائد پرندے محو پروز ہوتے ہیں،جبکہ اگر رات روشن ہو تو یہ تعداد کہیں زیادہ ہوسکتی ہے۔ریاست وسکونسن سے موسمِ بہار کے ایک موسم میں تیس ملین سے زائد پرندے واپس اپنے گھروں کو روانہ ہوتے ہیں۔
٭……سب سے اہم بات یہ ہے کہ مہاجر پرندوں کو عام پرندوں کی بہ نسبت خوراک اور پانی زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔طویل سفر کرنے کے بعد انہیں اپنی توانائی کو بحال کرنے کے لیئے اگر زیادہ خوراک و پانی نہ میسر آئے تو یہ اپنے انڈے قربان کرنے کو بھی تیار ہوجاتے ہیں یعنی یہ اپنے انڈے ہی بطور خوراک نوشِ جاں کر لیتے ہیں۔
٭……سمندری راستوں پر ہجرت کرنے والے مہاجر پرندوں کو مسلسل 100 گھنٹے یا اس سے بھی زیادہ اُس وقت تک پرواز کرنا پڑسکتی ہے جب تک کہ اُنہیں خشکی کا کوئی علاقہ نظر نہ آجائے۔

حوالہ: یہ مضمون سب سے پہلے روزنامہ جنگ کے سنڈے میگزین میں 07 اکتوبر 2018 کے شمارہ میں شائع ہوا۔

راؤ محمد شاہد اقبال

اپنا تبصرہ بھیجیں