World Cities Day 31st October 2020

یہ میرا شہر صحرا ہوگیا ہے

”بابا جان! ہمیں بھی آپ کے ساتھ رکشہ میں بیٹھ کر بازار جاناہے“۔بچوں نے چاروں طرف سے اسلم صاحب کو گھیرتے ہوئے ہم آواز ہوکر کہا۔
”بیٹا! میں بازار نہیں جارہا،بلکہ واٹر فلٹر پلانٹ سے پینے کا صاف پانی بھرنے کے لیئے جارہاہوں“۔اسلم صاحب نے بچوں کو سمجھایا۔
”پھر ہم سب بھی آپ کے ساتھ پانی بھرنے کے لیئے چلتے ہیں“۔ بچوں نے اپنی ضد جاری رکھتے ہوئے جواب دیا۔
”نہیں بیٹا! تم سب میرے ساتھ نہیں جاسکتے کیونکہ تمہیں رکشہ میں بٹھالوں گا تو،پانی بھرنے کے بعد گیلن کہاں رکھوں گا؟ جبکہ وہاں واٹر فلٹر پلانٹ پر رش بھی بہت ہوتا ہے۔ معلوم نہیں کتنے گھنٹے پانی بھرنے کے لیئے قطار میں کھڑا ہونا پڑجائے“۔اسلم نے بچوں کو پیچھے کرکے پانی کے خالی گیلن رکشہ میں رکھتے ہوئے جواب دیا۔
”باباجان! آپ ہر روز ایسا ہی کرتے ہیں،خود تو رکشہ میں بیٹھ کر پانی بھرنے چلے جاتے ہیں لیکن ہمیں اپنے ساتھ لے کر نہیں جاتے“اسلم کے سب سے چھوٹے بیٹے نے منہ بسورتے ہوئے کہا۔
”میرے پیارے بچو! سمجھنے کی کوشش کرو کہ اگر میں پانی بھر کر نہیں لاؤں گا تو ہم سب کیا پئیں گے؟“اسلم نے بیٹے کو پیار سے سہلاتے ہوئے جواب دیا۔
”ابوجان! ہم پچھلے ہفتے ایک ماہ گاؤں میں رہ کر آئے ہیں لیکن وہاں تو کوئی بھی روزانہ پانی بھرنے کے لیئے گھر سے دور نہیں جاتا تھا،وہ تو بس! اپنا نل کھولتے ہیں اور پانی بھر لیتے ہیں“۔اسلم صاحب کا سب سے بڑا بیٹا سوالیہ انداز میں گویا ہوا۔

یہ بھی پڑھیئے: ذکر ہے مکھیوں کے شہر بدحال کراچی کا

”بیٹا! تمہارے ماموں کے گاؤں میں نل سے پانی آتا ہے لیکن بدقسمتی سے ہمارے نل میں چونکہ پینے کا صاف پانی بالکل نہیں آتا۔لہٰذا مجھے تم سب کے لیئے پانی لانے کے لیئے روزانہ یہ تگ و دو کرنا پڑتی ہے“۔ اسلم صاحب نے بچوں کو گھر کے اندر داخل کرتے ہوئے جواب دیااور خود رکشہ میں بیٹھ کر رکشہ والے کو واٹر فلٹر پلانٹ کی جانب چلنے کی ہدایت کردی۔جیسے ہی رکشے والے نہ رکشہ اسٹارٹ کیا،فوراً ہی اسلم صاحب کا ذہن بھی خود کار انداز میں اسٹارٹ ہوگیا اور ماضی کی کچی پکی شاہراہ پر سر پٹ دوڑتے ہوئے،اُنہیں اُس گوشہ میں لے گیا جب وہ چھ سال کا تھا اور اُس نے پہلی بار ٹی وی پر کچھ عورتوں کو قطار میں پانی کے مٹکے اپنے سرپر اُٹھائے خراماں خراماں چلتے ہوئے دیکھا تو تجسس کے مارے اپنا والد سے سوال کیا کہ ”اباجان! یہ عورتیں پانی بھرے ہوئے مٹکے لے کر کہاں جارہی ہیں؟۔اُس کا بچگانہ سوال سن کر اُس کے والد نے مسکراتے ہوئے کہا تھا کہ”بیٹا یہ عورتیں تھر کے علاقہ میں رہتی ہیں،اُن کے گھروں میں ہماری طرح نل میں پانی نہیں آتا،اس لیئے یہ عورتیں روزانہ اپنے گھروں سے کوسوں میل دور موجود کنویں سے پانی بھر کر لاتی ہیں“۔ اسلم کو اُس وقت اپنے باباجان کی بات سُن کر،تھر کی عورتوں کی بے چارگی پر بہت رحم آیا تھا۔تو کیا پھر آج اُ س کے بچوں کو بھی اپنے باپ اور اپنے شہر کے بارے میں ویسا ہی کچھ محسوس ہوا ہوگا،جیسا کہ اُسے کبھی تھرکے بارے میں محسوس ہوا تھا۔یہ سوچ کر اسلم کی آنکھوں میں پانی کا سیلاب اُمڈ آیا۔

جب سے ہم انسانوں نے شہرآباد کرناشروع کیئے ہیں تب سے ہی ہمارے اذہان میں یہ سوچ راسخ ہوچکی ہے کہ شہر وں میں دیہات کی بہ نسبت مسائل کم اور آسانیاں بہت زیادہ ہوتی ہیں۔ اسی خیال کے زیر اثر عموماً لوگوں کی ایک بڑی اکثریت ہمیشہ سے بہترین روزگار، پرکشش کاروباری مواقع اور شاندار سہولیات کے حصول کے لیئے اپنے گاؤں، قصبات اور مضافاتی علاقوں سے شہروں کی جانب ہجرت کرنے کو ترجیح دیتی رہی ہے۔لیکن آج سے ایک صدی پہلے تک چھوٹے علاقوں سے شہروں کی طرف ہجرت کا رجحان لوگوں میں بہت کم تھا اور دنیا کی صرف دس فیصد آبادی ہی شہروں میں رہائش پذیر ہوا کرتی تھی مگر گزشتہ چند دہائیوں میں دیہی علاقوں سے شہروں میں آبادکاری میں زبردست اضافہ ہواہے۔ اقوام متحدہ کی جاری کردہ ایک رپورٹ کے مطابق 2019 میں دنیا کی آدھی آبادی یعنی 4.2 ملین افراد شہروں میں مقیم ہیں اور 2041 میں یہ تعداد بڑھ کر 6 بلین افراد تک پہنچ جائے گی۔جبکہ 2050 تک دنیا کے دوتہائی افراد کے شہری علاقوں میں آباد ہو جانے کی توقع ظاہر کی جارہی ہے۔ واضح رہے کہ ماہرین عمرانیات کم و بیش اس بات پر متفق ہیں کہ جب لوگوں کی بڑی تعداد شہروں میں جمع ہونا شروع ہوجاتی ہے تو شہر اَن گنت مسائل کا شکار ہونا شروع ہوجاتے ہیں اور شہری صرف سہولیات سے ہی نہیں بلکہ رفتہ رفتہ ضروریات زندگی سے بھی محروم ہونے لگتے ہیں۔بدقسمتی سے یہ صورت حال اُن ممالک اور شہروں میں اور بھی زیادہ مخدوش ہوجاتی ہے،جہاں کے حکمران بدنیت،نااہل اور کرپٹ ہوتے ہیں۔کیونکہ انتظامی نااہلی بڑھتے ہوئے شہروں کو دوزخ سے بھی بدتر بنادیتی ہے۔

شہروں میں بڑھتی ہوئی آباد کاری بھی ایک سنگین مسئلہ ہے۔جس کا سب سے زیادہ منفی اثر شہریوں کی ذہنی،نفسیاتی اور جسمانی صحت پر پڑتا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ شہروں میں غذائی اشیاء کی براہ راست پیدوار ممکن نہیں ہوتی۔لہٰذا ہر شہری انتظامیہ کی مجبوری ہوتی ہے کہ وہ شہر بھر کو درکار غذائی ضروریات کا تمام تر سامان مضافاتی علاقوں سے منگوائیں۔ چونکہ اس طرح یہ غذائی اشیاء کئی ہاتھوں سے ہوکر شہر تک پہنچتی ہیں۔اس لیئے ایک عام شہری تک پہنچتے پہنچتے اس کی قیمت بہت زیادہ بڑھ جاتی ہے۔ غذائی اشیاء کا مہنگا ہونے کے باعث غریب،متوسط طبقہ سے تعلق رکھنے والے افراد کم خوراکی کی طرف مائل ہوجاتے ہیں۔نیز شہروں میں رہنے والے اکثر لوگ غیر معیاری بازاری کھانے اس لیئے رغبت اور تواتر سے کھاتے ہیں کہ یہ کھانے سستے ہوتے ہیں اور مختلف لوازمات خرید کے گھر میں مہنگا کھانا بنانے کے جھنجھٹ سے بچنے کے لیئے وہ گلی کے کسی چوراہے سے ایک برگر وغیرہ کھاکر گزارہ کرلیتے ہیں۔ چونکہ بازاری کھانے غیر صحت مندانہ اجزاء اور نامناسب ماحول میں تیار کیئے جاتے ہیں۔ لہٰذا ان کھانوں میں غذائیت نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے۔ یوں شہریوں کی ایک بڑی اکثریت غذائیت کے فقدان کے باعث مختلف طرح کے جسمانی عوارض مثلاً موٹاپا،بلند فشار خون،ذیابطیس،اورامراض ِ قلب کا شکار ہوجاتی ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ شہری جتنے پیسے سستے اور بازاری کھانے کھا کر بچاتے ہیں،بعد ازاں اُس سے کہیں زیادہ رقم وہ خود کو لاحق ہونے والی بیماریوں کے علاج کے لیئے نجی اسپتالوں کی نذر کر دیتے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق 5 سال سے کم عمر 168 ملین بچے غذائیت کی کمی کا شکار اور ان میں سے 76 فیصد صرف ایشیائی ممالک کے شہروں میں رہتے ہیں۔

بدقسمتی ملاحظہ ہو کہ دنیا کے اکثر شہروں میں پینے کے صاف پانی تک بھی شہریوں کی رسائی مشکل سے مشکل تر ہوتی جارہی ہے۔ایک رپورٹ کے مطابق اس وقت دنیا میں ایک بلین سے زائد انسانوں کی پینے کے صاف پانی تک رسائی نہیں ہے۔ ان میں سے 185 ملین بدقسمت افراد شہروں میں رہائش پذیر ہیں اور آؒلودہ پانی پی کر اپنی زندگی بسر کررہے ہیں۔عالمی ادارہ صحت کی ایک رپورٹ کے مطابق صاف پانی کی عدم دستیابی ہم انسانوں میں پیٹ کی مختلف جان لیوا بیماریوں کا سبب بنتی ہے اور آلودہ پانی کو پینے کے نتیجے میں ہر سال842000 افراد لقمہ اجل بن جاتے ہیں جن میں پانچ سال سے کم عمر کے361000 معصوم بچے بھی شامل ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ صاف پانی کی کمی سے خوراک کی قلت، بڑے پیمانے پر آبادی کا انخلاء، اندرون و بیرون ملک ہجرت، عدم استحکام،معاشی اور سیاسی حالات میں بگاڑ جیسے گھمبیر مسائل بھی جنم لے رہے ہیں۔اچھی طرح ذہن نشین رہے کہ عالمی اداروں کے نزدیک صاف پانی کی فراہمی کا معیار یہ ہے کہ صاف پانی کے پائپ آپ کے گھر تک پہنچتے ہوں، جہاں ایک عدد ٹونٹی یا نل لگا ہو اور اس میں صاف پانی بھی آتا ہو۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو جنوبی ایشیا میں صرف 23 فیصد شہری ہی ایسے ہیں، جنہیں صاف پانی کی سہولت میسر ہے اور باقی 77 فیصد افراد صاف پانی سے یکسر محروم ہیں۔ جبکہ ہماری شہری حکومتیں صاف پانی کی فراہمی کے عالمی معیارکے مطابق شہریوں کو اُن گھروں میں پانی کے پائپ کے ذریعے صاف پانی فراہم کرنے کے بجائے مختلف علاقوں میں واٹر فلٹر پلانٹ لگا دیتی ہیں۔ جہاں سے صاف پانی بھر کر لانا شہریوں کے لیئے جوئے شیر لانے کے مترادف ہوتاہے۔ عام مشاہدہ ہے کہ ہمارے شہروں میں لگائے گئے سرکاری واٹر فلٹر پلانٹ یا تو اکثر بند رہتے ہیں،یا ان کے باہر اتنی طویل قطاریں لگی ہوتی ہیں کہ شہریوں کی بڑی تعداد پانی بھرنے کی مشقت سے بچنے کے لیئے صبر شکر کر کے آلودہ پانی پر اپنا گزارکرلیتی ہے۔بقول سید ریاض رحیم
یہ میرا شہر صحرا ہوگیا ہے
نہیں ہونا تھاایسا ہوگیا ہے

دوسری جانب بڑھتی ہوئی ماحولیاتی آلودگی بھی شہروں کے لیئے زہرہلال کی حیثیت رکھتی ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے تازہ ترین اعدادو شمار کے مطابق ماحولیاتی آلودگی کے نتیجے میں 6.5 ملین افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ جوکہ دنیا میں دیگر وجوہات سے ہونے والی کل اموات کا 11.6 فیصد بنتی ہے۔ جبکہ ماحولیاتی آلودگی سے ہونے والی 90 فیصد اموات اُن ممالک میں ہوئی ہیں۔جن کا شمار کم آمدنی یا متوسط آمدنی والے ممالک کی فہرست میں ہوتاہے۔ یادر ہے کہ ماحولیاتی آلودگی سے مراد صرف فضائی آلودگی ہی نہیں ہے۔جیسا کہ عام افراد سمجھتے ہیں۔بلکہ ماحولیاتی آلودگی کی بے شمار اقسام ہیں۔مثلاً زمینی آلودگی‘ آبی آلودگی‘ ہوائی آلودگی اور شور کی آلودگی وغیرہ۔ آلودگی خواہ کسی بھی قسم کی ہو اس سے انسانی صحت اور قدرتی ماحول بہت بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔ مثال کے طور پر شور کی آلودگی‘ طبیعتوں میں چڑچڑاپن‘ سردرد‘ تھکاوٹ‘ ڈیپریشن اور بہرے پن کا موجب بن رہی ہے۔اسی طرح مختلف انڈسٹریز کے فضلے‘ گاڑیوں کے دھوئیں اور سیوریج کا گندہ پانی سے پانی اور زمین اور فضاء میں شامل ہو کر نہ صرف ان کو آلودہ بنا رہے ہیں بلکہ ہماری فصلوں کو بھی متاثر کر رہی ہیں۔ جب یہ فصلیں انسان کھاتا ہے تو ان فصلوں میں شامل دھاتی اجزا معدے‘ جگر اور گردوں کو شدید نقصان پہنچاتے ہیں۔ جب جسم کے اندر ان دھاتوں کی مقدار بڑھتی ہے تو اس سے جسم کی قوت مدافعت کم ہونے سے مختلف بیماریوں کے پھیلنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔نیز مختلف صنعتوں اور گاڑیوں سے سلفر‘ کاربن اور نائٹروجن کے مرکبات کے اخراج سے فضائی آلودگی میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق آج فضاء میں 1750ء کی نسبت 31 فیصد زیادہ کاربن ڈائی آکسائیڈ ہے۔فضائی آلودگی کی وجہ فاسل فیول‘ قدرتی گیس‘ کوئلے اورنیل کا مختلف فیکٹریوں‘ کارخانوں‘ تھرمل پاور پلانٹس اور موٹر گاڑیوں میں جلنا ہے۔ فضائی آلودگی کی وجہ سے انسانوں میں تنفس کی بیماریاں دمہ‘ ٹی بی اور الرجی پھیل رہی ہے۔

شہریوں کے لیئے آبی آلودگی سے پاک اور حفظان صحت کے عین مطابق غذائی ضروریات کو پورا کرنے کے لیئے ”اربن فارمنگ“ یا شہری زراعت کا تصور بھی تیزی سے دنیا بھر میں فروغ پارہاہے۔ شہری زراعت کا مطلب شہر وں میں مختلف طرح کی زرعی اجناس کی کاشت کاری کو یقینی بنانا ہے۔ واضح رہے کہ شہری زراعت سڑکوں کے غیر مصروف حصوں، عمارتوں کی چھتوں، بالکونیوں اور خالی جگہوں پر باآسانی کی جاسکتی ہے۔ماہرین کی تجویز ہے کہ شہری زراعت کے ذریعہ شہر کی زیادہ سے زیادہ عمارتوں کی چھتوں کو باغات کی شکل میں تبدیل کردیا جائے اور وہاں پھل اور سبزیاں اگائی جائیں۔نیز اس طریقے سے عمارتوں کی چھتوں پرپالتو مویشی بھی پالے جاسکتے ہیں جو دودھ اور گوشت کی فراہم کا ذریعہ بنیں گے۔ شہری زراعت کی مدد سے دنیا کے کئی ممالک میں انتہائی کامیابی کے ساتھ شہروں میں مختلف طرح کی زرعی اجناس کی پیداور حاصل کی جارہی ہے۔مثال کے طور پر امریکی شہر نیویارک میں متعدد فلک بوس عمارتوں کی چھتوں پر شہری زراعت کی جارہی ہے اور نیویارک میں شہری زراعت سے پیدا ہونے والی اجناس کی مقدار 23 ہزار کلو گرام سالانہ ہے۔اہم بات یہ ے کہ شہری زراعت سے ملکی معیشت کا کافی سہارا مل سکتاہے اور ملک میں غذائی قلت جیسے مسائل سے بھی نجات حاصل ہوسکتی ہے۔علاوہ ازیں انفرادی طور پر بھی شہری اگر چاہیں تو اپنے گھر وں میں گملوں میں مختلف طرح کی سبزیاں اُگا کر اپنی غذائی ضروریات کو کافی حد تک پورا کرسکتے ہیں۔

مزید پڑھیں: مجھ کو کہانیاں نہ سنا شہر کو بچا

شہروں کا ایک بڑا مسئلہ کچرے کو ٹھکانے لگانابھی ہے۔ خاص طو ر پاکستان کا سب سے بڑا شہر کراچی جس طرح سے کچرا کچرا کردیا گیا ہے۔اُسے دیکھ کر تو لگتا ہے کہ اَب شاید ہی دنیا کا کوئی دوسرا شہر کچرے کے باعث پیدا ہونے والی آلودگی میں کراچی کے ساتھ مقابلہ کرسکے۔ ایک اندازے کے مطابق کراچی میں روزانہ 20 ہزار ٹن کچرا پیدا ہوتا ہے۔ جس میں سے صرف 2 ہزار ٹن ایسا کچرا ہے جو شہر سے باہر ٹھکانے لگادیا جاتا ہے اور باقی 18 ہزار ٹن کچرا جو یومیہ بنیادوں پر پیدا ہوتا ہے وہ کراچی کے اندر ہی رہتا ہے۔18ہزار ٹن کچرے میں سے 8 ہزار ٹن کچرا کراچی کے اندر ہی جو ندی نالے گجر نالہ، لیاری نالہ اور ملیر ندی وغیرہ یا اس طرح کے کئی چھوٹے و بڑے ندی نالے ہیں اس میں پھینک دیا جاتا ہے اور باقی ماندہ جو 10 ہزار ٹن کچرا ہے وہ چھوٹی چھوٹی کچرا کنڈیاں ہیں جو تقریباً ہر گلی محلے میں اور خالی پلاٹوں میں ناجائز طور پر بنا دی گئی ہیں، اُن میں پڑا رہتا ہے۔ اگر 18 ہزار ٹن کچرا شہر کے اندر ہی موجود رہے گا تو کراچی کیسے اور کیونکر صاف ہو گا؟20 ہزار ٹن کچرے کو روزانہ شہر سے باہر منتقل کرنا، تلف کرنا بہرحال ایک بڑا مہنگا اور مشکل کام ہے۔لہٰذا اس کا ایک ہی حل ہے کہ اس سے بجلی بنائی جائے کیوں کہ سویڈن میں جتنا بھی کچرا پیدا ہوتا ہے اس میں سے 96 فیصد کچرے سے بجلی بنا لی جاتی ہے۔اس لیئے صرف کراچی ہی نہیں ملک کے دیگر شہروں میں پیدا ہونے والے کچرے سے بھی ہزاروں میگا واٹ بجلی بنائی جاسکتی ہے۔دلچسپ بات یہ ہے2018 میں پاکستان میں کچرے سے بجلی بنانے کی ایک کوشش کی گئی تھی اور کچرے سے بجلی بنانے کے لیئے باقاعدہ لائسنس کا اجرا بھی شروع کیا گیا تھا۔ پہلا لائسنس چینی کمپنی ژی ژونگ ری نیوایبل انرجی کمپنی پرائیویٹ لمیٹڈ کو جاری کیا گیا تھا۔جس نے معاہدہ کے تحت لاہور شہر میں پائے جانے والے دو ہزارٹن کچرے سے بجلی بنانے کا آغاز کرنا تھا۔ نیز نیشنل الیکٹرک اینڈپاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے کچرے سے توانائی بنانے کے لائسنس ملک کے مزید شہروں میں جاری کرنے کا بھی اعلان کیا تھا لیکن یہ منصوبہ کہاں تک پہنچا اور کچرے سے کتنی بجلی بنائی گئی ہے فی الحال کسی کو کچھ معلوم نہیں ہے۔اگر ہمیں کچھ معلوم ہے تو وہ بس اتنا کہ ہمارے ہر بڑے شہر میں کچرا بدستور موجود ہے اور بجلی ندارد۔

حوالہ: یہ مضمون سب سے پہلے روزنامہ جنگ کے سنڈے میگزین میں 25 اکتوبر 2020 کے شمارہ میں شائع ہوا۔

راؤ محمد شاہد اقبال

اپنا تبصرہ بھیجیں