Thar Coal Project and Bilawal Butto

تھرکول پروجیکٹ کی بندش؟

پاکستان میں کوئلے کے ذخائر کی کل تعداد 184بلین ٹن ہے اور پاکستان کوئلہ پیدا کرنے والے 12ممالک کی فہرست میں ساتویں نمبر پر ہے جبکہ سندھ کا ضلع تھر پارکر واحد علاقہ ہے، جہاں پر کوئلے کے ذخائر سب سے زیادہ ہیں۔ ضلع تھرپارکر کی گرم ریت قدرتی معدنیات سے مالا مال ہے، تاہم افسوس کی بات یہ ہے کہ اس کوئلے کے وسیع ذخائر کی آڑ میں آج تک ملکی و غیرملکی کمپنیوں نے کوئلے کی کھدائی اور زیر زمین کول گیسی فیکشن کے منصوبوں کے نام پر کھربوں روپوں کی کرپشن کی ہے،جس کی وجہ سے کوئلے پر کام کرنے والی کمپنیاں آج تک کوئلے کو استعمال کرنے میں ناکام ہی رہی ہیں۔تھرپارکر میں موجودہ کول فیلڈ دنیا کی دوسری یا تیسری بڑی کول فیلڈ شمار کی جاتی ہے۔اس کے ساتھ ساتھ صحرائے تھر بھی دنیا کا نواں بڑا صحرا ہے۔ تھرپارکر دو تحصیلوں مٹھی اور اسلام کوٹ میں کوئلے کے ذخائر 9ہزار6سو مربع کلومیٹر پر پھیلے ہوئے ہیں۔ جیولوجیکل اور جی ایس پی جے سروے اور ڈرلنگ کے دوران کوئلے کے ذخائر کا تخمینہ 175بلین ٹن لگایا ہے اور تفصیلی سروے سے یہ بھی معلوم ہوا کہ کوئلے کی ابتدائی تحقیق سے بھی کہیں زیادہ مقدار میں ہیں۔ 1993 میں پیپلز پارٹی کی حکومت اور سابق وزیر اعظم محترمہ بے نظیر بھٹو نے اسلام کوٹ کے قریب کوئلے کی کھدائی کرواکے توانائی پیداکرنے کے منصوبوں کا افتتاح بھی کیا تھا۔ جس کا ٹھیکہ ایک چائنا کی کمپنی کو دیا گیا۔ یہ منصوبہ حکمرانوں کے ذاتی مفادات کے پیش نظر کچھ عرصہ بعد ہی بند کردیا گیا اور جس سے اربوں روپوں کے مشنری اور گاڑیاں اسکریپ کی صورت میں ضائع ہوگئیں بعد ازاں حکومت سندھ نے وفاق کی مشاورت سے زیرزمین کوئلے کو استعمال کرکے کول گیسی فیکیشن کے ذریعے سے بجلی پیدا کرنے کیلئے پاکستان کے نامور سائنسدان ڈاکٹر ثمر مبارک کی خدمات حاصل کیں اورانہیں تھرکول فیلڈ کے کول گیسی فیکیشن کے منصوبے کا چیئرمین مقرر کیا گیا۔ 2008 میں 10ارب روپے کی لاگت سے 100میگاواٹ کے اسلام کوٹ سے 32 کلومیٹر دورگاؤں منگو بھیل میں بلاک 5میں کول گیسی فیکیشن کے منصوبہ کا آغاز کیا۔ اس بلاک کا رقبہ پوری کول فیلڈ کا صرف ایک فیصد تھا اور اس محدود رقبہ میں 10ہزارمیگاواٹ بجلی فرٹیلائزر 100ملین بیرل ڈیزل اور دیگر مصنوعات پیدا کرنے کامنصوبہ تھا۔

مگر بدقسمتی سے 18 ویں ترمیم کا سہارا لے کر سندھ حکومت نے تھر کول بلاک 5پر گیسی فکیش پروجیکٹ کا بجٹ بند کردیا ہے۔جس کے نتیجے میں تھرکول پروجیکٹ کا کام نہ صرف تین ماہ سے بند ہے بلکہ اربوں کی مشینری بھی ضائع ہورہی ہے۔ٹیکینیکل فیلڈز میں کام کرنے والے انجنیئرز سمیت کل 4سو ملازمین گزشتہ تین ماہ سے تنخواہوں سے محروم ہیں۔اس ضمن میں تھر کول انڈر گیسی فکیشن پروجیکٹ کے ملازمین انجنیئر احمد علی،اسماعیل،دلیپ اور دیگران میڈیا کو بتایا کہ گیسی فکیشن پروجیکٹ نے مختلف اوقات میں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔مگر سندھ حکومت نے پروجیکٹ کا بجٹ بند کر دیا ہے اور پروجیکٹ انتظامیہ نے ہمیں بتایا ہے کہ ہمارے پاس اب مالی طور پر کچھ بھی نہیں ہے پروجیکٹ کو چلانے کے لیئے اور ہماری تین ماہ سے تنخواہیں بھی نہیں بند ہیں۔ گزشتہ 10سال سے جاری پروجیکٹ اچانک بند ہو گیا ہے۔ تھر کول پروجیکٹ کا کام سال 2008میں شروع کیا گیا تھا اور اس پروجیکٹ کو نامور سائنسدان ڈاکٹر ثمر مبارک مند چلا رہے تھے۔جس کے تحت کوئلے کو زیر زمین جلا کر گیس پیدا کرنی تھی اور اس سے بجلی بنانی تھی۔تاہم 18ویں ترمیم کے بعد یہ پروجیکٹ بھی صوبائی حکومت کے سپردہوگیا تھا جس کے بعد بجٹ کا معاملہ مسلسل اٹھتا رہا۔تھرکول گیسی فکیشن پروجیکٹ کے ملازمین نے وزیر اعلی سندھ اور وزیر اعظم پاکستان سے اپیل کی ہے کہ پروجیکٹ کا بجٹ جاری کر کے سیکڑوں ملازمین کو بے روزگار ہونے سے بچایا جائے۔

تھرکول گیسی فیکشن پروجیکٹ پر اب تک 3ارب روپے لاگت قومی خزانے سے خرچ کئے جاچکے ہیں یہ پائلٹ پروجیکٹ کامیاب رہا جس نے مئی2015 میں تھرکول سے پہلی بار بجلی کی پیداوار کا آغاز تک کردیا۔ کول گیسی فیکشن ٹیکنالوجی واحد طریقہ ہے جس سے تھر کے زیر زمین کوئلے کو کامیابی سے استعمال میں لاکر بجلی بنانے کا کامیاب تجربہ ہو گیا ہے۔ ملکی کوئلے سے پاکستان میں بجلی بنانا بے حد سود مند ہے کیونکہ کول گیسی فیکشن ٹیکنالوجی سے دوسرے منصوبوں کے مقابلے میں ابتدائی لاگت سب سے کم ہے، او ربجلی بنانے کی فی یونٹ قیمت بھی سب سے کم ہے، جو 5 سے 6 روپے فی یونٹ کے د رمیان ہے۔ڈیزل فرنس آئل اور درآمدی کوئلے سے بجلی بنانے کی فی یونٹ لاگت کم وبیش12 سے 20 روپے تک ہے۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ کول گیسی فیکشن سے بننے و الی بجلی سے ماحول کثافت زدہ نہیں ہوتا آج کل چین کی حکومت نے ایک آرڈر جاری کیا ہے جس کے تحت چین کے گیارہ شمالی صوبوں میں کوئلہ جلا کر بجلی کی پیداوار ممنوع قرار دیدی گئی ہے اور اسکی جگہ کوئلے سے بجلی گیسی فیکشن ٹیکنالوجی سے بنانے کے احکامات جاری کئے ہیں۔چین کے علاوہ جنوبی افریقہ آسٹریلیا جنوبی کوریا تک میں کول گیس فیکشن ٹیکنالوجی سے ہزار وں میگاواٹ سستی بجلی حاصل کی جارہی ہے۔دنیا بھر کی یونیورسٹیوں میں کول گیسی فیکیشن پر تحقیق کے بعد زیرزمین کوئلے کو استعمال کرکے کاروباری بجلی اور ڈیزل کی پیداوار کی جارہی ہے اور تاجکستان وہ واحد ملک ہے جو کول گیسی فیکیشن سے 95فیصد بجلی پیدا کرکے بجلی فروخت کرتا یے کول گیسی فیکیشن کا منصوبہ کم وسائل استعمال کرکے چلایا جاسکتا ہے۔جون 2011 میں ایک بار پھر کول گیسی فیکیشن منصوبے پر کام شروع کیا گیا۔ تھر کول فیلڈ کے بلاک 5 کول گیسی فیکیشن پیدا کرنے کیلئے ٹیوب ویل کی شکل میں 8سے 10 ڈائی میٹر پائپ ڈال کر ایک پائپ کے ذریعے زیر زمین کوئلے کو آگ دے کر پریشر پیدا کرکے دوسرے پائپ سے جو 100فٹ دور پائپ کے ذریعے کول گیس نکالی جاتی ہے اس منصوبے کے تحت کول گیس سے جنریٹر چلا کر عارضی طور پر 100میگاواٹ بجلی پیدا کرنی تھی اور اس کا کامیاب تجربہ کا دعوی 2مارچ 2012 میں کیا گیااور دو کنوؤں کو لنک کرکے کول گیس پیدا کی اور زیرزمین کول گیسی فیکیشن کا پہلا مرحلہ بھی مکمل کیا تھا۔دوسرے مرحلے میں گیس کلنک یونٹ کا منصوبہ اور جنریٹرز نصب کرکے فی الحال اس بجلی سے بلاک کو چلانے اور باقی ماندہ بجلی آس پاس کے دیہات کو مفت بجلی فراہم کرنے کا منصوبہ تھا۔س منصوبے پر اربوں روپے کا ملکی سرمایہ خرچ کیا گیا لیکن کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوا۔

تھرکا کوئلہ گیس فیکشن ٹیکنالوجی سے سستی بجلی پیدا کرنے کیلئے انتہائی موزوں ہے، کیونکہ تھر میں کوئلے کے ذخائر پاؤڈر کی شکل میں ہے۔ پاکستان مخالف قوتوں نے پاکستان میں کول گیسی فیکشن سے سستی بجلی کی تیاری روکنے کیلئے باااثر شخصیات کو اپنا ہمنوا بنا رکھا ہے جس کے نتیجے میں پاکستان میں ملکی (تھرکے) کوئلے سے نصف سے بھی کم لاگت پر سستی بجلی پیدا کرنے کی راہیں مسدود کی جارہی ہیں۔پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے برعکس تھرکول پراجیکٹ جب سے شروع ہوا ہے،اس میں مسلسل رکاوٹیں کھڑی کی جا رہی ہیں۔ کبھی فنڈ مہیا نہیں کئے جاتے تو کبھی فنڈ میں کمی کردی جاتی ہے۔اس منصوبے سے پاکستان میں نہ صرف توانائی کا بحران حل ہو جاتا بلکہ معیشت بھی مضبوط ہو جاتی لیکن حکومت سندھ کی طرف سے اس پروجیکٹ کے فنڈز بند کر کے اربوں روپے کے قومی سرمایہ کو ضائع کردیا گیا اس کا ذمہ دار کون ہے یہ سوال ہر باشعور پاکستا نی کا ہے۔

حوالہ: یہ مضمون سب سے پہلے ہفت روزہ ندائے ملت لاہور 20 ستمبر 2018 کے شمارہ میں شائع ہوا

راؤ محمد شاہد اقبال

اپنا تبصرہ بھیجیں