Champion of Social Media

سوشل میڈیا کے چیمپیئن کہاں ہیں۔۔۔؟

آخر کار سوشل میڈیا پر چڑھے ہوئے آزادی اظہارکے سارے رنگ بھی کچے ثابت ہوئے اور بھارت کے خلاف چلنے والے تحریک آزادی کشمیر کی ہلکی سی”مزاحمتی بارش“ نے ہی ڈیجیٹل میڈیا کے دیوتا کے جسم سے سارے نقش و نگار مٹاکر کے اُسے سب کے سامنے بالکل ہی برہنہ کردیا ہے۔آج سوشل میڈیا کے آقاؤں کی وہ سب دعوے بھی ایک ایک کر کے جھوٹے ثابت ہوگئے کہ جن میں کبھی دنیائے انٹرنیٹ کے نوخیز اذہان کو یقین دہانی کروائی گئی تھی کہ سوشل میڈیا ذرائع ابلاغ کی جدید دنیا میں اظہار رائے کا وہ سب سے مؤثر آلہ ہے، جو ہر طرح کی سامراجی بندشوں و قدغنوں سے یکسر محفوظ ہے۔افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ سوشل میڈیا بھی سامراجی و طاغوتی قوتوں کا ایک غلام نکلا،جس کے نزدیک انسانی حقوق اور آزادی اظہارکی وہی درست تعبیر و تاویل ہے جو استعماری طاقتوں نے اپنی لغت میں برسوں پہلے لکھ دی تھی۔سوشل میڈیا کے تازہ ترین قواعد و ضوابط کے مطابق کشمیر میں بھارت کے ظلم و استبداد کا جوانمردی سے سامنا کرنے والوں کو”ظالموں“ کی فہرست میں شمار کیا جارہاہے اور کشمیریوں کے حمایت میں پوسٹ،ٹویٹ کرنے والوں یا کشمیریوں پر ہونے والے بھارتی ظلم و جبر کو اُجاگر کرنے والی پوسٹ و ٹویٹ کو لائیک کرنے والوں اور اُسے شیئر کرنے والوں کو ایک ایک کر سوشل میڈیا کی دنیا سے بے دخل کیا جارہا ہے۔ ایک محتاط،غیر جانبدارانہ اور مصدقہ اندازے کے مطابق اَب تک صرف فیس بک اور ٹوئٹر پر لفظ ”کشمیر“ کا ٹیگ یا کی ورڈ استعمال کرنے والے ہزاروں گروپس،پیچزز اور اکاؤنٹس کو بغیر کسی نوٹس کے بلاک کر دیا گیا ہے اور یہ سب ”آزادی اظہار“ کے تحفظ کے نام پر کیا جارہاہے۔

فیس بک کی بھارت نواز اور کشمیر مخالف پالیسی کی شدت پسندی کا اندازہ فقط اِس بات سے لگایا جاسکتاہے کہ احقر نے15 اگست کو اپنے فیس بک پیج پر معروف عالمی خبر ایجنسی بی بی سی اُردو کی کشمیر میں بھارتی لاک ڈاؤن پر بنائی گئی ایک رپورٹ کی تازہ ترین ویڈیو ابھی پوسٹ ہی کی تھی کہ دو منٹ سے بھی مختصر لمحات میں فیس بک انتظامیہ کی طرف سے کمپیوٹر اسکرین پر پیغام نمود ار ہوگیا کہ”آپ کی پوسٹ کی گئی ویڈیو نفرت انگیز مواد پر مشتمل ہے لہذا اِسے بلاک کیا جارہا ہے“۔ جس کے جواب میں ناچیز نے بھی فیس بک انتظامیہ کو ایک لمباچوڑا احتجاجی مراسلہ ارسال کردیا۔جس کا خلاصہ کچھ یوں بنتا تھا کہ ”مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر پوسٹ کی گئی یہ ویڈیو بی بی سی نے بنائی ہے اور جو بی بی سی کے فیس بک پیج پر کئی گھنٹوں سے موجود ہے جسے اَب تک ہزاروں کی تعداد میں لوگ ملاحظہ بھی کرچکے ہیں۔ اگر یہ ویڈیو واقعی ہی نفرت انگیز ہے تو برائے مہربانی سب سے پہلے اَس ویڈیو کو اَپ لوڈ کرنے کی پاداش میں بی بی سی کے فیس بک پیچ کو بلاک کیا جائے۔ اُس کے بعد آپ کو ہمارے فیس بک پیج سے بھی اِس ویڈیو کو ہٹانے یا بلاک کرنے کا پورا حق حاصل ہوگا بصورت دیگر یہ سمجھا جائے گا کہ فیس انتظامیہ نے دانستہ ایسے منافقانہ قواعد و ضوابط ترتیب دیئے ہوئے ہیں،جن کی مدد سے وہ بوقتِ ضرورت مخصوص استعماری طاقتوں کو خوش کرنے کا کام لیتی ہے“۔اس کے جواب میں فیس بک انتظامیہ کی طرف سے ایک روز بعد جواب موصول ہوا کہ ”آپ کا اختیار کیا گیا موقف اور پوسٹ کی گئی ویڈیو فیس بک کے قواعد و ضوابط کی قطعاً خلاف ورزی کی مرتکب نہیں پائی گئی،اِس لیئے ویڈیو کو ازسرِ نو آپ کے بیج پر ملاحظہ کے لیئے بحال کیا جارہاہے“۔ یہ ذاتی روداد لکھنے کا بنیادی مدعا فقط اتنا ہے کہ صبح و شام سوشل میڈیا کے عشق میں رطب اللسان رہنے والوں کو بھی معلوم ہوسکے کہ فیس بُک انتظامیہ نے ایسا خود کار نظام وضع کیا ہوا ہے جس کی مدد سے لفظ”کشمیر“ کا ٹیگ یا کی ورڈ استعمال کرنی والی تمام پوسٹیں از خود ہی بلاک ہوجاتی ہیں اور اگر اِن کے خلاف جلد ہی جوابی شکایت نہ درج کروائی جائے تو سمجھ لیا جاتاہے کہ یہ پوسٹ تھی ہی نفرت انگیز یعنی فیس بک کی طرف سے کشمیر پر کی گئی پوسٹوں کا انسانی آنکھ سے جائزہ لینے کا تردد بھی نہیں کیا جارہا۔



سوشل میڈیا کے آقاؤں کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کے انسانیت سوز مسئلہ پر اختیار کی گئی یہ معاندانہ پالیسی سوشل میڈیا کے چمپئن کہلانے والے نام نہاد سوشل میڈیا ایکٹیوسٹوں کی آنکھیں کھولنے کے لیئے کافی ثابت نہ ہوسکی۔ویسے بھی جب سے بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں آرٹیکل 370 اور 35 اے کا خاتمہ کیا ہے سوشل میڈیا کے سارے ایکٹیوسٹ اور چمپئن”انسانی حقوق کی ٹائم لائن“ سے ایسے غائب ہوئے ہیں جیسے گدھے کے سر سے سینگ غائب ہوتے ہیں۔شرم سے ڈوب مرنے کی بات تو یہ ہے کہ بعض یو ٹیوبر اور فیس بک پیج ایڈمین ایسی ویڈیوز اور پوسٹ بنا کر سوشل میڈیا پر جاری کر رہے ہیں جن میں وہ اعلان کررہے ہیں کہ ”میں کشمیر یوں کے حق میں کوئی ویڈیو نہیں بناؤں گا“۔حالانکہ کسی پاکستانی یا کشمیری نے اِن نام نہاد سوشل میڈیا ایکٹیویسٹوں سے درخواست نہیں کی کہ وہ لازمی کشمیریوں کے حق میں ویڈیو بنائیں۔ مگر پھر بھی سستی شہرت کے یہ رسیا، عام پاکستانیوں اور کشمیریوں کے جذبات برانگیختہ کرنے والے ایسے پیغامات بار بارفقط اِس لیئے جاری کررہے ہیں کہ کسی طرح اُنہیں سوشل میڈیا پر زیادہ سے زیادہ بھارتیوں تک رسائی حاصل ہوسکے، تاکہ اُن پر بھی ڈالروں کی بارش ہونے کے کچھ آثار پیدا ہوسکیں۔

اچھی بات یہ ہے کہ پاک فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل آصف غفور نے اِس سارے معاملہ کا فوری نوٹس لیتے ہوئے اپنے ایک ٹوئٹ میں لکھا ہے کہ”مسئلہ کشمیر پر بندش کا شکار ہونے والے صارفین اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی معلومات اُ ن کے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر شیئر کریں“۔ جبکہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی نے حکومت ِ پاکستان کی جانب سے فیس بک اور ٹوئٹر انتظامیہ کے سامنے اِس مسئلہ کو اُٹھایا ہے۔ اَب دیکھنا یہ ہے کہ دونوں ٹیک کمپنیوں کی انتظامیہ کی جانب ہمارے احتجاج پر کس قسم کا ردعمل آتا ہے۔خدانخواستہ اگر ہمارے اعلیٰ سطحی احتجاج کے باوجود بھی یہ دونوں ٹیک کمپنیاں کشمیر کے خلاف اپنے متعصبانہ رویہ پر نظر ثانی نہیں کرتیں تو پھر ہمیں فی الفور انہیں پاکستان میں ہر سطح پر بلاک کردینا چاہئے تاکہ یہ جو سوشل میڈیائی کمپنیاں سالانہ لاکھوں ڈالر ہمارے ملک میں اشتہارات کی مد میں کمارہی ہیں، اُس کا راستہ روکا جاسکے۔ویسے بھی جب چین کی ڈیڑھ ارب آبادی سوشل میڈیا کے بت کے سامنے سجدہ ریز ہوئے بغیر اپنی زندگی گزار سکتی ہے تو ہماری بائیس کروڑ عوام بھی استعماری سوشل میڈیا کے بغیر گزر بسر کرنا سیکھ ہی لیں گے۔

حوالہ: یہ کالم سب سے پہلے روزنامہ جرات کراچی کے ادارتی صفحہ پر 26 اگست 2019 کی اشاعت میں شائع ہوا۔

راؤ محمد شاہد اقبال

سوشل میڈیا کے چیمپیئن کہاں ہیں۔۔۔؟” ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں