Virus Conspiracy Theories Threats

وائرس نہیں یہ تو سازش ہے

”اگر تم نے میرے معصوم بچے کو زہر کے قطرے پلانے کی زبردستی کوشش کی تو میں تمہیں جان سے مار دوں گی“۔ماں نے اپنے چار سالہ بچے کو اپنی چادر کی اُوٹ میں چھپاتے ہوئے چیخ کر کہا
”مگر بہن جی! یہ قطرے تو پولیو کے ہیں،آپ بلاوجہ ہی انہیں زہر کے قطرے کہہ رہی ہیں۔اگر آپ کو یقین نہیں ہے تو لو میں یہ قطرے خود بھی پی لیتاہوں“ پولیو ورکر نے خاتون کو سمجھانے کے لیئے پولیو کے دو قطرے اپنے حلق میں بھی انڈیل لیئے۔مگر خاتون پولیو ورکر کے اِس طرزِ عمل سے ذرہ برابر بھی متاثر نہیں ہوئی اور اُس نے پولیو ورکر کو غصیلے اندا ز میں کہا کہ ”میں اچھی طرح جانتی ہوں کہ یہ قطرے بڑوں کو نقصان نہیں پہنچاتے لیکن میرے معصوم لڑکے کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیئے بانجھ بنادیں گے“۔
”پولیو کے قطروں کے بارے میں آپ کو یہ غلط سلط باتیں،جن کا نہ کوئی سر ہے اور نہ کوئی پیر آخر کس نے بتائیں ہیں“۔ پولیو ورکر نے جھنجھلاتے ہوئے کہا۔
”مجھے میرے شوہر نے بتائیں ہیں اورکون مجھے بتائے گا؟جبکہ میرے شوہر کو یہ سب کچھ اُن کے دوستوں نے بتایا ہے“۔ خاتون نے تنک کر پولیو ورکر کو جواب دیا۔ جب پولیو ورکر نے دیکھا کہ وہ کسی صورت بھی خاتون کو پولیو کے قطرے پلانے پر آمادہ نہ کرپائے گا تو اُس نے شدید مایوسی کے عالم میں اپنا پولیو کی ویکسین والادستی کولر اُٹھایا اور آگے کی جانب بڑھ گیا۔
جب بھی ہمارے ہاں،پولیو کے قطرے پلانے کی قومی مہم چلائی جاتی ہے تو گلی گلی،قریہ قریہ ماں،باپ اور پولیو ورکرز کے درمیان ایسا بحث و مباحثہ عام سننے اور دیکھنے کو ملتا ہے۔ پولیو کی ویکسین کے متعلق لوگوں کے اذہان میں بے شمار سازشی نظریات سمائے ہوئے ہیں،جنہیں دور کرنا ہمیشہ سے ہر حکومت کے لیئے ایک بہت بڑا دردِ سر رہا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ صرف پولیو ہی نہیں بلکہ ہر مہلک بیماری سے متعلق بے شمار سازشی نظریات راتوں رات گھڑ لیئے جاتے ہیں۔ یعنی جتنی مہلک اور جان لیوا بیماری ہوتی ہے اُس کے متعلق سازشی نظریات بھی اُتنے ہی عجیب و غریب بنالیئے جاتے ہیں۔کہا جاتا ہے کہ سمجھ میں نہ آنے والی باتوں اور واقعات کے بارے میں علم کی کمی سے جو خلا پیدا ہوتا ہے،اُسے پھر سازشی نظریے ہی پُر کرتے ہیں۔ہر سازشی نظریے کے تین بنیادی اسباب یا اجزا ہوتے ہیں: سازش کنندہ، منصوبہ اور وسیع پیمانے پر سازش کرنے کے ذرائع۔ عموماً وبائی امراض سے متعلق سازشی نظریے گھڑنے والوں کا واحد مقصد عام لوگوں میں خوف ہراس پھیلانا اور زیادہ سے زیادہ آبادی کو مہلک بیماری میں مبتلاء کر کے سادہ لوح متاثرہ گھرانوں سے جھاڑ پھونک،گھریلو نسخے، حکیمی علاج معالجہ سے مال بٹورنا ہوتا ہے۔ زیرِ مضمون میں مہلک،متعدی اوروبائی امراض سے متعلق مختلف اوقات میں پھیلائے جانے والے سازشی نظریات کا ایک اجمالی جائزہ پیشِ خدمت تاکہ ہمارے قارئین کو اندازہ ہوسکے زمین پر آسمان سے نازل ہونے والے وبائی امراض انسان کے لیئے اتنے مہلک اور خوفناک نہیں ہوتی ہیں، جتنا جان لیوا اور لاعلاج اِن موذی بیماریوں کوسازشی نظریات بنادیتے ہیں۔

کرونا وائرس اور عالمی سازش کا نظریہ
حالیہ دنوں میں نو ول کورونا وائرس نے دنیا بھر کو پوری طرح سے اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے۔ چونکہ کورونا وائرس چین سے شروع ہوا تھا لہٰذا اِس وقت چین عملی لحاظ پوری دنیا سے کٹ چکا ہے لیکن صرف چین ہی کیوں بلکہ ہر وہ ملک جس میں بھی کورونا وائرس کے مریض سامنے آتے جارہے،اُن تمام متاثرہ ممالک کو بھی ایک ایک کر عالمی برادری سے الگ تھلگ کیا جارہاہے۔ اہم بات یہ ہے عالمی ادارہ صحت ڈبیلو ایچ او کے ایک اعلامیہ کے مطابق کورونا وائرس سے صحت یاب ہونے والے مریضوں کی شرح 98 فیصد ہے یعنی اگر 100 افراد اِس مرض میں مبتلاء ہوتے ہیں تو اِس میں سے 98 افراد چودہ سے اکیس ایام میں مکمل طور پر صحت یاب بھی ہوجاتے ہیں۔ لیکن چونکہ اِس وائرس کے علاج کے لیئے اَب تک کوئی ویکسین نہیں ایجاد کی جاسکی۔لہٰذا کورونا وائرس سے متعلق طرح طرح کی سازشی نظریات ہر گزرتے دن کے ساتھ سننے اور پڑھنے کو مل رہے ہیں۔ ایک سازشی نظریہ جو بہت زیادہ سوشل میڈیا پر گردش کر رہا ہے وہ یہ ہے کہ امریکی حکومت نے چین کی تیز رفتار ترقی کو تہہ و بالا کرنے کے لیئے کورونا وائرس کو جان بوجھ کر چین کے شہر ووہان میں تخلیق کیا ہے اور اِس کام کی انجام دہی کے لیئے امریکی تحقیقی ادارے، سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پری وینشن (سی ڈی سی) میں تیار کیا گیا۔ اس پوسٹ میں ایک پیٹنٹ کا حوالہ بھی دیا گیا تھا کہ 2015ء میں امریکی ادارے سی ڈی سی نے کورونا وائرس کی ایک نئی قسم تیار کر کے بنایا تھا اور یہ وہی تبدیل شدہ وائرس ہے جس نے چینی شہرووہان میں تباہی مچائی اور درجنوں افراد اب تک لقمہ اجل بن چکے ہیں۔فیس بک پوسٹ کا مقصد یہ تھا کہ امریکی ادارے نے تجربہ گاہ میں جان بوجھ کر وائرس کو مزید خطرناک بنایا اور اسے چین میں چھوڑ دیا ہے یا پھر سی ڈی سی نے منافع کمانے کے لیے یہ وائرس مزید تبدیل کیا ہے۔اس کے جواب میں یونیورسٹی آف نارتھ کیرولینا میں وائرس کے ماہر رالف بیرک کا کہناہے کہ ”پوسٹ میں ذکر کیا گیا پیٹنٹ 2003ء میں تباہی پھیلانے والے SARS-CoV کے متعلق تھا، جو ووہان میں پھیلنے والے نوول کوونا وائرس سے 25 فیصد تک مختلف ہے۔اس کا مقصد 2003ء کے اس سارس وائرس کو سمجھنا تھا جس سے چین میں 700 سے زائد افراد لقمہ اجل بن گئے تھے‘۔جبکہ سی ڈی سی کے ماہرین نے بھی اس پوسٹ کی سختی تردید کی ہے۔اس سے قبل خود چینی حکام بھی یہ کہہ چکے ہیں کہ ووہان میں نمونیا کی وجہ بننے والا وائرس بالکل نیا ہے جسے ایک الگ نام دیا گیا ہے اور یہ کسی بھی طرح سیویئر ریسپائریٹری اکیوٹ وائرس یا سارس کی طرح نہیں ہے۔تمام ترتردیدی جوابات اپنی جگہ لیکن بہرحال سچ یہ ہے کہ لوگوں کی اکثریت نوول کورونا وائرس سے متعلق سازشی نظریات اپنے اذہان سے کھرچنے میں مکمل طور پر ناکام نظر آتی ہے۔

ایچ آئی وی / ایڈز امریکی حکومت نے ایجاد کیاتھا؟
ایڈز بلاشبہ جدید دور کا ایک خطرناک مرض ہے، عالمی ادارہ صحت کے مطابق دنیا بھر میں 3 کروڑ سے زائد افراد ایچ آئی وی ایڈز سے متاثر ہیں۔ایڈز کا مرض ایک وائرس کے ذریعے پھیلتا ہے، جو انسانی مدافعتی نظام کو تباہ کر دیتا ہے، یعنی ایڈز کے متاثرہ مریض کے جسم میں کوئی بھی بیماری داخل ہوتی ہے تو وہ فوراً ہی مہلک صورت اختیار کر لیتی ہے۔ اس قاتل جراثیم کو ایچ آئی وی یا ایڈز کہتے ہیں اور یہ انسانی جسم کے مدافعتی نظام کو ناکارہ بنانے والا وائرس بھی کہلاتا ہے۔ ایڈز سے متعلق بھی دنیا بھر میں کئی سازشی نظریات پائے جاتے ہیں۔1999 میں کیلیفورنیا میں گھر گھر کیئے گئے ایک عوامی سروے میں 27% لوگوں نے بتایا کہ ”انہیں کامل یقین ہے کہ ایچ آئی وی / ایڈز کو امریکہ کی وفاقی حکومت نے کالے لوگوں کے خلاف بطور ایک ہتھیار ایجاد کیاہے“۔جبکہ امریکہ میں ہی 2005 میں کیئے گئے ایک اور ٹیلیفونک سروے میں 20 فیصد شرکا ء نے کہا کہ ”اُن کے خیال میں ایڈز بنانے کا واحد مقصد دنیا بھر سے کالے لوگوں کا خاتمہ ہے“۔اس کے علاوہ 2004 میں لاطینی امریکہ میں 55 فیصد لوگوں نے یہ کہہ کر ایچ آئی وی ویکسین استعمال کرنے سے صاف انکار کردیا تھاکہ ”یہ ویکسین ایڈز سے علاج کے بجائے انہیں ایڈز کا شکار بنادے گی“۔دوسری جانب جنوبی افریقہ میں 1999 سے لے کر 2008 تک ایڈز بیماری کے وجود کوہی تسلیم نہیں کیا جاتاتھا۔ جنوبی افریقہ کے صدر تھابو مبیقو نے اپنے ایک سرکاری بیان ایڈز کو مغربی ممالک کے افواہ قرار دیتے ہوئے اپنے وزیرصحت کو حکم دیا تھا کہ وہ ایڈز کے مغربی طریقہ علاج کو یکسررد کرتے ہوئے اِس مرض سے شفایابی کے لیئے قدرتی طریقہ علاج جیسے آلو اور چقندر کا استعمال کرے“۔ ایڈز کے وجود سے انکار نے جنوبی افریقہ میں خوفناک تباہی پھیلائی اور ہزاروں لوگ ایڈز کے بروقت علاج نہ ہونے کے باعث لقمہ اجل بن گئے۔

ڈینگی بخار کے پھیلاؤ میں بل گیٹس ملوث ہے؟
حالیہ چند برسوں سے ڈینگی بخار بھی دنیا بھر میں ایک وبا کی صورت اختیار کر گیا ہے۔دراصل ڈینگی ایک وائرس ہے جو مچھر کے ذریعے پھیلتا ہے۔ یہ وائرس سب سے پہلے دماغ کی جھلی کو متاثر کرتا ہے جس کے بعد آہستہ آہستہ انسانی اعضاء کام کرنا چھوڑ جاتے ہیں،اِس کیفیت کا اگر بروقت علاج نہ کیا جائے تو متاثرہ مریض کی موت بھی واقع ہوسکتی ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق دنیا بھر میں ہر سال پانچ کروڑ سے زائد افراد ڈینگی بخار کا شکار ہوتے ہیں اور سالانہ بیس ہزار سے زائد افراد اس مرض سے ہلاک ہو جاتے ہیں۔ تاہم بروقت علاج سے صحت یابی کا تناسب بہت زیادہ ہے اور99 فیصد مریض اس مرض سے مکمل طور پر صحت یات بھی ہو جاتے ہیں۔دنیا بھر میں ڈینگی وائرس پھیلانے والے38 اقسام کے مچھرموجود ہیں،جبکہ پاکستان میں ان میں سے صرف ایک قسم کا مچھر پایا جاتا ہے۔ سائنسدانوں نے ڈینگی وائرس پھیلانے والے مچھر کے انسداد و نسل کشی کے لیئے ”وولبا کا“نامی ایک جرثومہ سے مدد حاصل کی۔عام بھورے مچھر کے اندر رہنے والا یہ جرثومہ 1924 میں مارشل ہرٹک اور سائمن وولبیک نے دریافت کیا تھا۔ لیکن چونکہ یہ جرثومہ کسی بیماری کا باعث نہیں بنتا تھا،اِس لیئے اسے کوئی خاص اہمیت نہ حاصل ہوسکی اور بارہ سال بعد اِس کو دریافت کرنے والے سائنسدان کے نام پر اس کا نام”وولباکا“رکھا گیا۔ یہ جاننے میں ماہرین حیاتیات کو کئی دہائیاں مزید لگیں کہ یہ بیکٹیریا کس قدر خاص ہے۔بالخصوص ڈینگی وائرس پھیلانے والے مچھر کی نسل کشی کرنے میں اس کا کوئی ثانی نہیں ہے اور حالیہ برسوں میں اِس جرثومہ کی مدد سے دنیا بھر میں انسداد ِ ڈینگی میں خاطر خواہ مدد حاصل ہوئی۔ لیکن بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ اِس جرثومہ کے بارے دنیا بھر میں یہ سازشی نظریہ پھیلادیا گیا کہ”وولباکا“ خود ایک وائرس ہے جو کہ ڈینگی سے بھی زیادہ انسانی زندگی کے لیئے خطرناک ہے اور یہ جرثومہ مائیکروسافٹ کے بانی بیل گیٹس نے تیار کروایاہے،جس کا مقصد دنیا کی بڑھتی ہوئی آبادی کو کم کرنا ہے۔حالانکہ جس وقت”وولباکا“ دریافت ہوا تھا،اُس وقت تو بل گیٹس پیدا بھی نہیں ہوا تھا، لیکن اِس حقیقت کے باوجود یہ سازشی نظریہ دنیا کے کئی ممالک میں من و عن قبول کرلیا گیا،جس کی وجہ سے گزشتہ چند برسوں میں عالمی ادارہ صحت کو انسداد ِ ڈینگی میں سخت مشکلات کا سامنا ہے کیونکہ لاطینی امریکہ اور کئی افریقی ممالک میں لوگ”وولبا کا“ جرثومہ کے ذریعے ڈینگی وائرس پھیلانے والے مچھر کی نسل کشی کے خلاف ہو گئے ہیں۔ جس کے نتیجے میں اِن ممالک میں ڈینگی ایک بار پھر سے سر اُٹھانے لگا ہے۔

2008 میں جب پاکستان میں ڈینگی بخار کا مرض ایک وبائی صورت اختیار کرگیا تو ہمارے ہاں بھی سوشل میڈیا پر ڈینگی بخار سے متعلق ایک سازشی نظریہ بہت دیر تک گردش کرتا رہا۔ فیس بک پر وائرل ہونے والی ایک پوسٹ میں ڈینگی بخار سے متعلق روس کے معروف اخبار لٹریٹرنایاگزٹ میں 5فروری 1982کو شائع شدہ ایک تحقیقی رپورٹ کا اسکرین شاٹ بطور حوالہ دیا گیا، جس میں انکشاف کیا گیا تھا کہ لاہور میں ایک امریکی مرکز مچھروں پر تحقیق کا کام کر رہا ہے اس مرکز کو امریکی سی آئی اے اور امریکی یونیورسٹی آف میری لینڈ کے سائنسدان چلا رہے ہیں اورجس کا سربراہ سی آئی اے کا اہلکار ڈیوڈ نیلسن ہے جبکہ اس مرکز کا نام پاکستانی میڈیکل ریسرچ سنٹر ہے، جس کی بنیادی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ ڈینگی کے ایسے وائرس تیار کرے جو کسی بھی مویشی میں انجکشن سے داخل کئے جاسکیں اورپھر اس جانور کو افغانستان بھیج دیا جائے جہاں اسے دوسرے مچھر کاٹیں اور وہ بھی ڈینگی کے وائرس کے کیرئر بن جائیں۔روسی الزامات کے بعد یورپ اور امریکہ کے کئی اخبارات نے اس خبر کو شائع کیا۔جس کے جواب میں برطانوی ریسرچ جرنل میں ایک خصوصی مضمون شائع ہواکہ روسی اخبار کی یہ رپورٹ درست نہیں اور حقائق اس سے مختلف ہیں۔ کیونکہ پاکستان میڈیکل ریسرچ سنٹر کراچی میں ہے لاہور میں نہیں۔ اس طرح رپورٹ کی بنیاد ہی غلط نکلی۔اس کے علاوہ امریکی یونیورسٹی آف میری لینڈ کی طرف سے جو پروگرام شروع کیا گیا تھا، وہ دراصل لاہور میں ”Maleria eradiction center“ کے نام سے کام کرتا تھا بظاہر اس کا مقصد پاکستانیوں کو ملیریا سے بچانا تھا جسے سی آئی اے نہیں بلکہ یو ایس ایڈ نامی ایک دوسرا امریکی ادارہ چلا رہا تھا لاہور میں اس ادارے کو 1975ء میں قائم کیا گیا تھا۔اچھی بات یہ ہوئی ہم پاکستانیوں نے سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی اِس جھوٹی پوسٹ کا کچھ خاص اثر نہیں لیا اور باالآخر سابق وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف ودیگر احباب کی انتظامی کاوشوں کے بدولت 2009 میں ہی پاکستان نے ڈینگی وائرس پربھرپور انداز میں قابو پالیا تھا۔

ایبولا وائرس یا ایک کیمیائی ہتھیار
ایبولا بھی تیزی سے پھیلنے والا ایک وبائی مرض ہے۔ 2013 سے 2016 کے درمیان اِس وائرس نے براعظم افریقہ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا، ایبولا وائرس کا شکار ہونے والی آبادی کی اکثریت کا تعلق غریب افریقی ممالک سرالیون، لائبیریا، اور گنی سے تھا۔ ایبولا وائرس انسانوں اور جانوروں میں پایا جانے والا ایک ایساوائرس ہے جس میں مبتلا مریضوں میں دو سے تین ہفتے کے اندر بخار، گلے میں درد، پٹھوں میں درد اور سردرد جیسی علامات ظاہر ہوتی ہیں اور وہ قے، ڈائریا اور خارش وغیرہ کا شکار ہوجاتے ہیں، جبکہ اِس مرض سے جگر اور گردوں کی کارکردگی بھی متاثر ہوتی ہے۔ اس وائرس سے ہونے والی اموات کی تعداد میڈیا رپورٹس کے مطابق تقریباساڑھے تین ہزار کے لگ بھگ ہیں جبکہ سات ہزار سے زائد افراد اس مرض کا شکار ہوچکے ہیں۔ لیکن عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ ایبولا وائرس کے 70 فیصد سے زائد کیسز رپورٹ ہی نہیں ہوتے ہیں۔ایبولا وائرس کے بارے میں دنیا بھر میں ایک سے زیادہ سازشی نظریے زبان زدِ عام ہیں۔ 9ستمبر 2014 کو لائیبریا کے کثیر الاشاعت اخبار”لائبیریا آبزرور“ میں ڈاکٹر سیرل بیڈیرک جو لائبیریا یونیورسٹی میں پلانٹ پیتھالوجی میں پروفیسر ہیں نے اپنے مضمون میں دعویٰ کیا تھا کہ ایبولا وائرس امریکی افواج کے لیئے بنایا گیا ایک کیمیائی ہتھیار ہے جسے امریکی ادویات ساز کمپنیوں نے سی آئی اے کے ساتھ مل کر افریقی ممالک کے خلاف تیار کیا تھا، تاکہ اِس کی مدد سے براعظم افریقہ کے معدنی وسائل پر قابض ہوا جاسکے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ معروف امریکی گلوکار،نغمہ نویس اور اداکار کرس براؤن نے بھی اپنی مائیکرو بلاگنگ ویب سائیٹ ٹوئیٹر پر ایک ٹوٹیٹ کیا تھا کہ ”انہیں بھی کامل یقین ہے کہ ایبولا وائرس افریقی ممالک میں بڑھتی ہوئی آبادی کی روک تھام کے لیئے خصوصی طور تیار کیا گیاہے“۔اس کے علاوہ سوشل میڈیا پر ایک سازشی نظریہ پوری شد ومد کے ساتھ یہ بھی پھیلایا گیا تھا کہ ایبولا وائرس امریکہ صدر بارک اوباما کے حکم پر افریقی ممالک میں داخل کیاگیا تھا تاکہ افریقی عوام کو جسمانی طور پر کمزور کر کے اپنا غلام بنایا جاسکے۔اِس حوالے سے ایک فیس بک پوسٹ میں امریکی میڈیکل جریدے میں 16اپریل 2013کو شائع شدہ ایک مضمون کا اسکرین شاٹ بھی موجود ہے۔جس کے مطابق امریکی محکمہ ڈیفنس (ڈی او ڈی) نے ایک کنیڈین ادویات ساز کمپنی ”تکمیرا“ کو ایک سو چالیس ملین ڈالر کا ایبولا وائرس پر تحقیق کرنے کا ٹھیکہ دیا جس میں ایبولا وائرس کی صحت مند انسانوں میں ٹیسٹ کے کرنے کی مہم کے نام پر ایبولا وائرس کو لوگوں میں منتقل کرنا تھا۔جس کے لیئے امریکی حکومت نے”وئرل فیور بائیوٹیرورزم ریسرچ لیبارٹری“ سیرالیون کے شہر کینیما میں قائم کی تھی، بعد ازاں جہاں سے ایبولا وائرس کا پہلا کیس رپورٹ ہواتھا۔

نیفا وائرس ملٹی نیشنل ادویات ساز کمپنیوں نے بنایا؟
ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق نیفا وائرس ایک حیوان آوردہ بیماری ہے، یعنی یہ چھوت کا ایک ایسا جان لیوا وبائی مرض ہے جو جانوروں سے انسانوں کو باآسانی منتقل ہوسکتاہے۔ چمگاڈر اور خنزیر اس وائرس کے فطری میزبان سمجھے جاتے ہیں۔یعنی یہ وائرس چمگاڈر کے لعاب، پیشاب اور براز سے خارج ہوتاہے،جبکہ خنزیز کے گوشت میں پایا جاسکتاہے۔ سب سے پہلے نیفا وائرس ستمبر 1998 میں ملیشیا میں ایک وبائی مرض کی صورت میں پھیلا تھا۔ نیفا وائرس کا ایک منفی پہلو یہ ہے کہ اس سے متاثرہ شخص میں ابتداء میں کوئی خاص علامات ظاہر نہیں ہوتیں جس کی وجہ سے اس کی تشخیص مشکل ہوتی ہے اور جب اس وائرس کا انسانی جسم میں پتاچلتا ہے تب تک بہت دیر ہوچکی ہوتی ہے۔ بخار، سردرد، غنودگی،پٹھوں کا درد،ذہنی اختلال اور ذہنی الجھن اس کی ابتدائی علامات ہیں اور دماغی سوزش جبکہ دماغی سوزش کا ہونا نیفا وائرس کی ایک جان لیوا علامت ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ 1998 کے بعد سے تقریباً ہر سال بنگلہ دیش میں یہ وبا کہیں نہ کہیں ضرور پھوٹ پڑتی ہے۔اب تک نیفا وائرس سے 300 سے زائد لوگ لقمہ اجل بن چکے ہیں۔عالمی ادارہ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق ملیشیا میں 265 کیسز میں 105 اموات، بنگلہ دیش میں 209 کیسز میں 161 اموات،بھارت میں 71 کیسز میں 50 اموات اور سنگاپور میں 11 کیسز میں سے ایک موت واقع ہوچکی ہے۔نیفا وائرس کے متعلق یہ سازشی نظریہ پایا جاتاہے کہ اِس وائرس کو ملٹی نیشنل ادویات ساز کمپنیوں نے تخلیق کیا تھا تاکہ وہ اِس وائرس کے ذریعے ترقی پذیر ممالک میں لوگوں کی ایک بڑی اکثریت کو مختلف امراض میں مبتلا کر کے اپنی ادویات کی فروخت میں غیر معمولی اضافہ کرسکیں۔ نیفا وائرس کا شکار ہونے والے کئی ممالک نے وسیع پیمانے پر ممتاز بین الاقوامی تحقیقاتی اداروں سے اِس سازشی نظریہ پر تحقیقات بھی کروائی ہیں لیکن کچھ ثابت نہ ہوسکا۔

حوالہ: یہ خصوصی مضمون سب سے پہلے روزنامہ ایکسپریس کے سنڈے میگزین میں 22 مارچ 2020 کی اشاعت میں شائع ہوا۔

راؤ محمد شاہد اقبال
Latest posts by راؤ محمد شاہد اقبال (see all)

اپنا تبصرہ بھیجیں