Very Dangerous Enemy of Brain

عقل کے دشمن

جدید سائنس نے برسوں کی تحقیق سے ثابت کیا ہے کہ ہماری اختیار کردہ کچھ سرگرمیاں ہماری ذہانت اور علمی قابلیت کو ناقابلِ تلافی نقصان سے دوچار کردیتی ہیں۔ بظاہر یہ کم معروف عوامل ہیں جن کے منفی اثرات کی جانب ہمارا روزمردہ زندگی میں زیادہ دھیان نہیں جاتا۔یہ ہی وجہ کے عقل کے یہ دشمن غیر محسوس انداز میں انسانی دماغ کی طاقت اور اُس کی سیکھنے کی صلاحیت کو مسلسل کم کرتے رہتے ہیں۔یاد رہے آج کے جدید اور غیر فطری ماحول میں رچ بس جانے والی ان میں سے کچھ انسانی عادات اور سرگرمیاں ایسی ہیں جو صرف عارضی طورپر ذہانت کو خراب کرتی ہیں،جبکہ کچھ عادت و اطوار ہماری دماغی استعداد کار اور علمی قابلیت پر ایسے طویل المدتی مضر اثرات ثبت کردیتی ہیں۔جس کی تلافی کرنا بھی ہمارے لیئے آسان نہیں ہوتا۔ اس لیئے ان سرگرمیوں اور عادات کو انسانی ”عقل کا دشمن“ بھی قرار دیا جاسکتاہے۔ کیا آپ اپنی عقل کے اِن دشمنوں کے شکست دینے کے لیئے تیار ہیں؟۔ اگر آپ کا جواب ہاں! میں ہے تو زیر نظر مضمون آپ ہی کے لیئے ہے کیونکہ عقل کے ایک ایک دشمن کو اچھی طرح شناخت کیئے بغیر آپ اُسے شکست سے دوچار نہیں کرسکتے۔

یہ بھی پڑھیئے: وائرس نہیں یہ تو سازش ہے

مدھم روشنی
جی ہاں! سننے میں تو بات عجیب لگتی ہے کہ روشنی کی کمی سے انسان کی ذہانت اور دماغی صلاحیت رو بہ زوال ہوجاتی ہے۔بہرحال سچ یہ ہی ہے کیونکہ مشی گن اسٹیٹ یونیورسٹی کے محقیقن نے حال ہی میں مدھم روشنی اور ذہانت کی کمی کے مابین ایک طاقت ور ربط تلاش کرلیا ہے۔جس کا سادہ سا مطلب یہ ہے کہ مدھم روشنی میں معمولاتِ زندگی انجام دینے سے انسان کی یاد رکھنے اور سیکھنے کی صلاحیت خطرناک حد تک کم ہوجاتی ہے۔ یہ اہم ترین انکشاف سائنس دانوں پر نیل گھاس چوہوں کے ایک گروپ کے مطالعاتی تحقیق کے دوران ہوا ہے۔ یاد رہے کہ نیل گھاس چوہے انسانوں کی طرح دن میں سرگرم رہتے ہیں اور رات کو سو جاتے ہیں۔ شاید اسی لیئے مدھم روشنی کے دماغ پر اثرات کا مطالعہ کرنے کے لیئے نیل گھاس چوہوں کا انتخاب کیا گیا تھا۔ تحقیق کے آغاز میں اِن چوہوں کو بھول بھلیوں کے ذریعے اپنا راستہ تلاش کرنے کی تربیت دی گئی اور بعد ازاں انہیں دو مختلف گروہوں میں تقسیم کردیا گیا ہے۔ جس میں سے ایک گروہ کو دن بھر بھرپور روشنی کا سامنا کرنا پڑتا تھا جبکہ دوسرے گروہ کو مدھم روشنی میں رکھا گیا۔ صرف چار ہفتوں کے تجربہ کے بعد معلوم ہواکہ دھیمی روشنی میں رہنے والے چوہوں کے گروہ کی دماغ میں Hippocampus کی مقدار میں 30 فیصد تک کمی واقع ہوچکی تھی۔واضح رہے کہ یہ ہی وہ خلیہ ہے، جو دماغ کے سیکھنے اور یادرکھنے کی فعل کے انجام دینے میں کلیدی کردار اداکرتاہے۔علاوہ ازیں مدھم روشنی میں رہنے والے چوہوں میں سے کچھ کو مزید دو ہفتہ کے لیئے مدھم روشنی کے ماحول میں رکھا گیا۔ جس کے باعث اِن چوہوں کی یاد رکھنے اور سیکھنے کی صلاحیت پہلے سے بھی کہیں زیادہ خراب ہوگئی۔ دوسری جانب چوہوں کے اُس گروہ نے دماغی صلاحیتوں میں نمایاں بہتری اور کارکردگی دکھائی جنہیں روشنی سے بھرپور ماحول فراہم کیا گیا تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اِس طبی مطالعہ میں استعمال ہونے والی مدھم روشنی کا معیار وہی رکھا گیا تو جو عام طور پر ہم انسان اپنے گھروں اور دفاتر میں رکھتے ہیں۔ اگر آپ کے بچوں کو بھی ذہانت میں کمی جیسے مسائل درپیش ہیں تو ایک بار انہیں مدھم روشنی کے بجائے روشنی سے بھرپور جگمگاتا ماحول فراہم کرکے دیکھیں۔اُمید ہے کہ اُن کی علمی سرگرمیوں میں نمایاں بہتری آجائے گی۔

زیادہ ڈرائیونگ
ایک دن میں اوسط دوگھنٹے سے زیادہ ڈرائیونگ کرنے سے انسان کی عقل میں کمی واقع ہوتی ہے یعنی زیادہ ڈرائیورنگ کرتے رہنے سے ہم سب کا آئی کیو لیول بڑی تیزی کے ساتھ انحطاط کا شکار ہونا شروع ہو جاتاہے۔ یہاں یہ بات اچھی طرح سے ذہن نشین رہے کہ ڈرائیونگ سے مراد صرف کار چلانا ہی نہیں ہے بلکہ ہر طرح کی سواری کو چلانا ڈرائیونگ کے زمرے میں آتا ہے۔ لہٰذا دن رات موٹر سائیکل سڑکوں پر دوڑانے والے بھی اس تحقیق کی زد میں آتے ہیں۔ یہ نتائج حاصل کرنے کے لیئے لیسٹر یونیورسٹی کے محقیقین نے پانچ سال کے دوران کم و بیش پانچ لاکھ سے زیادہ افراد کے طرز زندگی کا بڑی باریک بینی سے سائنسی بنیادوں پر مطالعہ کیا۔اس مطالعاتی تحقیق میں لیسٹر یونیورسٹی نے ڈرائیونگ کے انسانی عقل پر اثرات کو اپنا خصوصی ہدف بنایا۔اس تحقیق میں شریک ہونے والے 93000 ہزار افراد یعنی رضاکاروں نے روزانہ، دو گھنٹے یا اس سے زیادہ سفر کیا جس کی بنیاد پر انہیں مخصوص ”سائنسی اسکور“ دیا جاتا تھا جبکہ ایک گروپ کو ہدف دیا گیا کہ وہ روزانہ بہرصورت دو گھنٹے سے کم ہی ڈرائیونگ کرنے کو یقینی بنائے گا۔ اس کے علاوہ اس مطالعاتی تحقیق میں شریک ایک اور گروپ کو روزانہ آدھا گھنٹہ یا اس سے کم ڈرائیونگ کرنے کا کہا گیا۔ کئی سالوں کے مسلسل مطالعہ کے بعد منکشف ہوا کہ جن رضاکاروں نے جتنا کم ڈرائیونگ کی،اُن کا آئی کیو لیول اُتنا ہی متوازن اور بہتر رہا جبکہ جنہوں نے روزانہ دو گھنٹے یا اس سے زیادہ مسلسل ڈرائیونگ کی اُن کی دماغی صلاحیت اور ذہانت کا آئی کیو لیول زبردست شکست و ریخت کا شکار ہوگیا۔ اس تحقیق سے طبی ماہرین کو پہلی بار یہ سائنسی حقیقت بھی معلوم ہوئی کہ سڑک پر ڈرائیونگ کرنے والے کے مقابلہ میں پیدل چلنے والے شخص کادماغ زیادہ محرک ہوتا ہے اور انسانی دماغ کے مسلسل کم محرک ہونے کی وجہ سے اُس کا آئی کیو لیول تیزی کے ساتھ گرنا شروع ہوجاتاہے۔یعنی انسانی دماغ میں تحریک کی مسلسل کمی عقل میں کمی باعث بنی ہے۔ اس کا سادہ سا مطلب یہ ہوا کہ زیادہ ڈرائیونگ عقل کی ایک خاموش دشمن ہے۔

بازاری کھانے اور فاسٹ فوڈز
بچوں کی تعلیم و تربیت کے حوالہ سے ہمارے معاشرہ میں ایک مقولہ بڑا مشہورہے کہ ”بچوں کو کھلاؤ سونے کا نوالہ اور دیکھو شیر کی آنکھ سے‘‘۔ماضی میں اس محارہ سے یہ مطلب مراد لیا جاتاتھا کہ بچوں کو ہمیشہ خالص اور معیاری غذائیں کھلائیں جائیں تاکہ اُن کی نشوونما میں کسی طرح کی کمی نہ آسکے۔ لیکن دورِ جدید میں اس محاورہ کا معنی یکسر تبدیل ہوکر رہ گیا ہے اور اَب اِس محاورہ سے مراد زیادہ تر والدین کے نزدیک اپنے بچوں کو مہنگی سے مہنگی چیزیں فراہم کرنا ہی رہ گیا ہے۔ خاص طور پر مہنگی بازاری غذائیں بچوں کو کھلا کر وہ سمجھتے ہیں کہ انہوں نے اپنی دانست بچوں کو سونے کا نوالہ کھلا کر اپنی ذمہ داری کماحقہ پوری کردی۔حالانکہ وہ یہ نہیں جانتے بازاری کھانے خاص طور پر فاسٹ فوڈز وغیرہ بچوں کی دماغی ذہانت کے لیئے زہر ہلاہل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ واضح رہے کہ بچوں کی ابتدائی عمر میں ناقص غذا کا اُن کی علمی کارکردگی پر انتہائی منفی اثرات مرتب کرتی ہے۔ اس حوالے سے سائنسی محقیقین نے تقریباً 14000 کم عمر بچوں کی کھانے کی عادات اور ذہانت کی سطح و صلاحیت جانچنے کے لیے ایک تحقیقاتی مطالعہ کیا۔اس سائنسی تحقیقی کے اخذ کردہ نتائج انتہائی حیران کن رہے اور معلوم ہوا کہ تین سال کی عمر کے جن بچوں کو بنیادی طور پر بازاری،پروسس شدہ کھانے یعنی فاسٹ فوڈز کھانے کے لیئے دیئے گئے،اُن بچوں میں پانچ سال بعد وٹامنز اور غذائی اجزاء سے بھرپور گھر کی بنائی گئی غذا کھانے والے بچوں کے مقابلہ میں اوسط عقل یعنی آئی کیو لیول انتہائی کم رہا۔ اس تحقیقاتی مطالعہ کے بعد محقیقین بھی یہ بات ماننے پر مجبور ہوگئے کہ وٹامنز اور غذائی اجزاء پر مشتمل گھر پر تیار کیے گئے کھانے انسانی دماغ کی نشوو نما میں زبردست مدد فراہم کرتے ہیں جبکہ اس کے مقابلہ میں بازاری،پروسس شدہ کھانے یعنی فاسٹ فوڈز وغیرہ جیسی اشیاء دماغ کو آہستہ آہستہ گھن کی طرح کھاجاتے ہیں۔ چونکہ انسانی دماغ زندگی کے ابتدائی تین سالوں کے دوران اپنی بہترین شرح سے بڑھوتری دکھاتا ہے۔لہٰذا بچوں کو ابتدائی عمر میں غذائیت سے بھرپور کھانے کی اشد ضرورت ہوتی ہے تاکہ دماغ کی مجموعی صلاحیت اور کارکردگی بہتر ہوسکے۔اس لیئے اگر آپ بھی چاہتے ہیں کہ آپ کے بچے مستقبل میں مختلف طرح کے دماغی عوارض سے محفوظ رہ کر اپنی نمایاں ذہانت سے ایک عالم کو متاثر کریں تو اپنے بچوں کو غذائیت سے بھرپور گھر میں پکائے گئے کھانے کھلانے کو ترجیح دیں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اگر بازاری کھانوں یعنی فاسٹ فوڈز وغیرہ کھانے سے اجتناب برتیں گے تو یہ عادت آپ کی دماغی کارکردگی میں بھی زبردست اضافہ کا باعث ثابت ہوگی۔

موٹاپا
طبی ماہرین کے نزیک اکثر و بیشتر موٹاپے کو اُم الامراض کہا جاتاہے کیونکہ موٹاپے اور فربہی کے باعث بے شمار جسمانی بیماریاں اور نقائص پیدا ہوجاتے ہیں لیکن حال ہی میں سائنسدانوں نے یہ انکشاف کیا ہے کہ موٹاپا سے انسانی ذہانت بھی شدید انداز میں متاثر ہوتی ہے اور دماغ کا آئی کیو لیول موٹاپے کی وجہ سے خطرناک حد تک کم ہوسکتاہے۔ یہ سائنسی تحقیق معروف عالمی جریدے نیورو امیج جرنل میں شائع ہوئی ہے، اس تحقیق میں 8سال سے 11سال کی عمر کے ایک سو سے زائد ایسے بچوں پر کلینکل تجربات کیے گئے ہیں، جو زائد وزن اور موٹاپے کا شکار تھے۔ تحقیق میں پتہ چلا کہ بچوں کی موٹر اِسکلز ان کے دماغ کے دو حصوں کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں، جن کا تعلق زبان سیکھنے اور روانی کے ساتھ پڑھنے سے ہوتا ہے۔ یہ دماغی خلیئے موٹاپے کا شکار بچوں میں درست انداز میں کام نہیں کرتے۔جبکہ مطالعاتی تحقیق میں شامل وہ بچے جو جسمانی طور پر چست اور متناسب وزن کے حامل تھے، ان کے دماغ کے فرنٹل، ٹیمپورل اور کالکیرائن کارٹیکس حصوں کا حجم زیادہ تھا بلکہ۔ واضح رہے کہ یہ دماغ کے وہ حصے ہیں، جو سارے ’ایگزیکٹو فنکشنز‘ انجام دینے کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔ مزید برآں، بچوں میں سیکھنے، موٹر اِسکلز پروان چڑھانے اور بصری ادراک بڑھانے میں بھی دماغ کے ان حصوں کا کردار اہم ہوتا ہے۔ موٹر اسکلز سے مراد بچوں کی وہ صلاحیتیں ہیں، جس کے باعث دماغ، اعصابی نظام اور پٹھوں کی اکٹھے کام کرنے کی صلاحیت بہتر ہوتی ہے۔

اس تحقیق کا بنیادی مقصد یہ جاننا تھا کہ موٹاپا بچوں کی ذہانت اور دماغی صلاحیتوں کس حد تک متاثر کرتاہے اور جسمانی طور پر زیادہ فٹ اور پھرتیلے بچوں کی دماغی صلاحیتیں، موٹاپے کا شکار یا جسمانی طور پر کم پھرتیلے بچوں کے مقابلے میں کس طرح مختلف انداز سے کام کرتی ہیں اور موٹاپے سے متاثر ہونی دماغی نقائص کا ان کی تعلیمی کارکردگی پر کیا اثر پڑتا ہے؟۔ تحقیقی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ”جسمانی فٹنس ایک ایسی خصوصیت ہے، جس میں ورزش کے ذریعے اضافہ کیا جاسکتا ہے۔ اگر جسمانی ورزش کے ساتھ ساتھ بچوں کی ایروبک استعداد اور وزن کم کرنے والی ورزشیں بھی شامل کی جائیں تو اس سے نہ صرف بچوں کی دماغی صلاحیتیں بہتر کرنے کی رفتار کو تیز کیا جاسکتا ہے بلکہ ان کی تعلیمی کارکردگی کو بھی بہتر بنایا جاسکتا ہے“۔یاد رہے کہ زائد وزن اور موٹاپے کے شکار بچوں کی تعداد میں دنیا بھر میں بڑی تیزی کے ساتھ اضافہ ہورہا ہے۔ 1990 میں موٹاپے کا شکار بچوں کی تعداد 3کروڑ 20لاکھ تھی، جو 2016 تک بڑھ کر 4کروڑ 10لاکھ تک جا پہنچی ہے۔ ترقی یافتہ ملکوں کے مقابلے میں ترقی پذیر ملکوں میں بچوں میں موٹاپے کا مسئلہ زیادہ سنگین بن کر سامنے آرہا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ترقی پذیر ملکوں میں جس رفتار سے لوگوں کی آمدنی میں اضافہ ہورہا ہے،اُس کی وجہ سے وہاں رہائش پذیرخاندانوں کے طرز زندگی اور کھانے پینے کے رجحانات تیزی سے بدل رہے ہیں۔طبی ماہرین کا خیال ہے کہ پہلے ایک سال کے دوران بچے کے وزن کے بارے میں فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں لیکن اگر چار سال کی عمر تک بچے میں موٹاپے کے اثرات ظاہر ہوں اور بچے کا وزن اس کے قد کی مناسبت سے زیادہ محسوس ہوتو بہتر ہو گا کہ معالج سے ضرور رجوع کیاجائے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ موٹاپا مستقبل میں بچہ کو ذہنی طور پر کند بنادے۔

ملٹی ٹاسکنگ
ہر انسان کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ بیک وقت کئی کام ایک ساتھ کرلے تاکہ زیاہ سے زیادہ وقت کی بچت ہوسکے بلکہ کئی بار تو نادانستہ طور پر یہ ہم ایسا بلاوجہ ہی کرنا شروع ہو جاتے ہیں جیسے فیس بک پر سرفنگ کے دوران ٹی وی دیکھنا اور کھانے کے دوران موبائل فون پر مسلسل ایس ایم ایس کرنا وغیرہ۔اس انسانی عادت کو آج کی دنیا میں ملٹی ٹاسکنگ کے منفرد نام سے موسوم کیا جاتاہے۔ملٹی ٹاسکنگ سے مراد ایک وقت میں کئی کام سر انجام دینا ہے۔یہ دورِ جدید کی ایک ایسی عادت بد ہے،جسے اکثر افراد اپنی دانست میں بہت بڑی خوبی خیال کرتے ہیں اور ملٹی ٹاسکنگ کے عمل کو اپنے دوست،احباب کے سامنے فخریہ انداز میں پیش کرتے ہیں۔ حالانکہ ملٹی ٹاسکنگ انسانی ذہانت کے بڑے دشمنوں میں سے ایک ہے۔سائنسی تحقیق کے مطابق ملٹی ٹاسکنگ یعنی ایک وقت میں کئی کام کرنا انسان کی ذہنی صلاحیتوں کو سخت نقصان پہنچاتا ہے، جبکہ ملٹی ٹاسکنگ کو اپنی پختہ عادت بنالینا دماغ کے مختلف حصوں کو سکیڑ دیتا ہے، دماغ کے جو حصے اس کی وجہ سے متاثر ہوتے ہیں ان میں جذباتی کنٹرول، فیصلہ سازی اور ردعمل وغیرہ قابل ذکر ہیں۔
ایک تحقیق کے مطابق اگرچہ لوگوں کو لگتا ہے کہ بیک وقت کئی کرنے سے وہ زیادہ بہتر ورکر بن جاتے ہیں،مگر حقیقت میں ایسا ہوتا نہیں ہے بلکہ ملٹی ٹاسکنگ ہمارے دماغ کو سخت تناؤ کا شکار بنا دیتی ہے۔ کیونکہ انسانی دماغ ایک ہی وقت میں بے شمار کاموں کو سرانجام دینے کے لیئے تخلیق نہیں کیا گیا ہے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ، ملٹی ٹاسکنگ ہمیشہ آپ کا وقت نہیں بچاتی ہے۔ ایک ہی وقت میں باری باری دو کام کرنا آپ کو جلدی سے اسے ختم کرنے پر مجبور کرتا ہے،جس سے آپ کا دماغ خود ہی کو الجھا لیتا ہے اور کام کرنے میں زیادہ وقت لینے لگتاہے۔ یونیورسٹی آف یوٹا کی ہیلتھ ویب سائیٹ پر جاری کردہ اعداد وشمار کے مطابق فون پر چیٹنگ کے دوران گاڑی چلانے والے ڈرائیور گاڑی چلاتے وقت اپنی منزل تک پہنچنے میں زیادہ وقت لیتے ہیں۔نیز ماہرین اس بات پر بھی پوری طرح متفق ہیں کہ ملٹی ٹاسکنگ کی وجہ سرانجام دئے جانے والے اُمور میں 40 فیصد تک اضافی غلطیاں ہوسکتی ہیں۔

پیرس میں نیشنل ڈی لا سانٹا ایٹ ڈی لا ریچری میڈیکیال انسٹی ٹیوٹ (INSERM) کے سائنسدانوں نے ایک ایسے گروپ کا معائنہ کیا جس بیک وقت ایک ساتھ دو کام انجام دینے کے لئے کہا گیا تھا اور انہیں اپنا کام درست انداز میں مکمل کرنے پر ایوارڈ اور انعام کی بھی پیشکش کی گئی تاکہ وہ زیادہ سے زیادہ اچھے نتائج کا مظاہرہ کرسکیں۔ لیکن ملٹی ٹاسکنگ کے نتیجہ میں شرکاء کے کام بھی بہت زیادہ غلطیاں ہوئیں جبکہ وہ افراد جو ایک وقت میں صرف ایک کام ہی انجام دے رہے تھے۔اُن کے سرانجام دیئے گئے کاموں میں غلطیاں نہ ہونے کی برابر تھیں۔جس کے بعد سائنس دان اِس نتیجہ پر پہنچے کہ دماغ انعام کا لالچ ملنے کے بعد بھی بیک وقت دو کاموں پر اپنی توجہ مرکوز کرنے سے قاصر رہتاہے۔اس کے علاوہ ملٹی ٹاسکنگ یادداشت کے ضیاع کا سبب بھی بنتی ہے۔ اس لیئے ماہرین سمجھتے ہیں کہ ٹیلیویژن دیکھتے وقت کتابیں پڑھنا کوئی اچھا خیال نہیں ہے، کیونکہ یہ دونوں کام بیک وقت انجام دیں تو آپ کا دماغ کتاب یا ٹیلی ویژن شو کی کچھ اہم تفصیلات کو یقینابھول جائے گا۔مزید یہ کہ ملٹی ٹاسکنگ آپ کی قلیل مدتی میموری میں مداخلت کا سبب بھی بن سکتی ہے اور، ملٹی ٹاسکنگ کی وجہ سے عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ آپ کی یاد رکھنے کی صلاحیت مکمل طورپر بھی ختم ہوسکتی ہے۔لہٰذا اگر اپنی ذہانت کو بچانا چاہتے ہیں تو حتی المقدور ملٹی ٹاسکنگ یعنی ایک وقت میں بے شمار کام کرنے سے ہمیشہ گریز کریں۔

فضائی آلودگی
انسانی عقل کے دشمنوں کی فہرست میں ایک خاموش دشمن بھی ہے،جو دکھائی تو نہیں دیتا لیکن اس کے باوجود انسانی ذہانت کو غیر محسوس انداز میں کسی ماہر شکاری کی طرح وقتافوقتا اپنا شکار بناتا رہتاہے۔جی ہاں! اُس خاموش اور نہ دکھائی دینے والے موذی دشمن کا نام ”فضائی آلودگی“ ہے۔واضح رہے کہ آج کی دنیا میں شاید ہی کوئی چھوٹا، بڑا شہر ایسا ہو جہاں فضائی آلودگی نہ پائی جاتی ہے۔بدقسمتی سے اَب تو شہر وں سے متصل ہمارے گاؤں بھی فضائی آلودگی سے بری طرح سے متاثر ہوتے جارہے ہیں۔ ایک نئی سائنسی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ طویل عرصے تک فضائی آلودگی سے متاثر ہونے کی صورت میں لوگوں کی ذہنی صلاحیتیں تباہ و برباد ہوجاتی ہیں۔محققین کے خیال میں فضائی آلودگی کے منفی اثرات ہر عمر کے لوگوں پر یکساں ہوتے ہیں اور فضائی آلودگی کے مضر اثرات انسانی عمر کے بڑھنے کے ساتھ ساتھ شدید تر ہوتے جاتے ہیں۔دلچسپ بات یہ ہے کہ فضائی آلودگی سے متاثر ہونے والی انسانی ذہانت کا بروقت علاج بھی نہیں کیا جاسکتا کیونکہ اکثر لوگ تو ساری زندگی یہ جان ہی نہیں پاتے کہ اُن کے اردگر د موجود فضائی آلودگی کس طرح سے اُن کے آئی کیو لیول کو نقصان پہنچارہی ہے۔

مزید پڑھیں: بلاگ کیا ہے؟ اور کیسے بنایا جاتاہے؟

فضائی آلودگی کے انسانی عقل پر پڑنے والے مضر اثرات کے لیئے امریکہ اور چین میں چار سال سے زائد عرصے تک تقریباً 20 ہزار افراد کی تفصیلی جانچ کی گئی۔ جس سے حاصل ہونے والے نتائج کے بعد ماہرین یہ جاننے میں کامیاب ہوئے کہ دنیا بھر کی 80 فیصد آبادی کی دماغی صلاحیتیں کسی نہ کسی طور پر فضائی آلودگی کے مضر اثرات سے براہ راست متاثر ہورہی ہیں۔ یہ تحقیق ابتدائی طور پر صرف ان علاقوں میں کی گئی ہے کہ جہاں کی فضا میں سلفر ڈائی آکسائیڈ، نائٹروجن ڈائی آکسائیڈ اور ہوا میں پائے جانے والے 10 مائیکرو میٹر سے چھوٹے مضر صحت مادے پائے جاتے تھے۔جبکہ سائنس دانوں نے کاربن مونو آکسائیڈ، اوزون اور ہوا میں پائے جانے والے دیگر مضر صحت بڑے مادے اس تحقیق میں شامل نہیں کیئے تھے۔نیز عالمی ادارہ صحت کے مطابق نہ دکھائی دینے والے یہ قاتل ذرات یعنی فضائی آلودگی کے باعث ایک اندازے کے مطابق سالانہ 70 لاکھ قبل از وقت دماغی شکستگی کا شکار ہورہے ہیں۔ نیشنل اکیڈمی آف سائنس کے مطابق فضائی آلودگی سے یادداشت میں کمی لانے امراض مثلاً الزائمر اور ڈیمینیشیا کے ساتھ ساتھ برین ہیمرج جیسے امراض لاحق ہونے کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔

اسمارٹ فونز
اسمارٹ فون ہمیں ایک دوسرے کے ساتھ صرف مستقل رابطے میں ہی نہیں رکھتے بلکہ اسمارٹ فون ہمارے دماغ کے لیئے ایک مستقل خطرہ بھی ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کی ایک رپورٹ کے مطابق اسمارٹ فون کے زیادہ استعمال سے ہمیں جو دماغی پریشانیاں لاحق ہو سکتی ہیں ان میں سردرد، سر میں جھنجھناہٹ، مسلسل تھکن محسوس کرنا، چکر آنا، ڈپریشن، نیند اُچاٹ ہوجاتا، کام میں توجہ کا فقدان، کانوں کا بجنا، سماعت میں کمی اور یاداشت میں دیوالیہ پن جیسے سنگین عوارض شامل ہیں۔ جبکہ انٹرفون اسٹڈی میں کہا گیا ہے کہ روزانہ چار گھنٹے یا اس سے زیادہ وقت کیلئے موبائل فون کا استعمال کرنے پر 8تا10 سال کے دوران برین ٹیومر کا خدشہ 200تا400 فیصد بڑھ جاتا ہے۔ دراصل انسانی جسم میں 70 فیصد پانی ہے جبکہ دماغ میں بھی 90 فیصد تک پانی ہوتا ہے۔ اسمارٹ فون سے نکلنے والی ریڈی ایشن یہ پانی بتدریج جذب کرتی رہتی ہے حتی کہ اسمارٹ فون مستقبل میں دماغی صحت کیلئے سنگین نقصان کا سبب بھی بن سکتا ہے۔

اسی حوالے سے ٹیکساس یونیورسٹی کے محققین نے اسمارٹ فون کے تقریبا 800 صارفین کے ایک گروپ کا خصوصی مطالعہ کیا۔ شرکاء سے کمپیوٹر ٹیسٹ کی ایک سیریز لینے کو کہا گیا جس میں ان کی اپنی پوری توجہ مرکوز کرنے کی اشد ضرورت تھی۔گروپ میں شامل کچھ لوگوں سے کہا گیا تھا کہ وہ اپنے فون دوسرے کمرے میں چھوڑ دیں، جبکہ دوسروں سے صرف ان کے پاس موجود اسمارٹ فونز کو خاموش کرنے اور اپنے ڈیسک پر رکنے کے لئے کہا گیا تھا۔ دوسرے کمرے میں اپنے فون چھوڑنے والوں نے لیئے گئے تحریری امتحان میں ان لوگوں کے مقابلے میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کیا جن کے پاس ہی ان کے اسمارٹ فون موجود تھے۔اس تحقیقی مطالعہ سے محققین نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ اسمارٹ فون کو مسلسل دیکھتے رہنے سے بھی کسی شخص کی توجہ اور کام انجام دینے کی صلاحیت خطرناک حد تک کم ہوجاتی ہے۔کیونکہ اکثر لوگ اپنے اسمارٹ فون باربار چیک کرنے کے اتنے عادی ہوتے ہیں کہ جب وہ کسی اور چیز پر اپنی توجہ مرکوز کرنے کی کوشش کر رہے ہوتے ہیں تو ان کے لاشعور کو اس کے خلاف کام کرنا پڑتا ہے۔یوں اسمارٹ فون پر بار بار توجہ مرکوز کرنے سے ان کے کام کرنے کی صلاحیت متاثر ہوتی اور ان کا ذہن غیر ضرور تھکن کا شکار ہوجاتاہے۔جس کی وجہ سے انسان بدترین ذہنی افلاس کا شکار سکتاہے۔لہٰذا اپنے دماغی صلاحیتوں اور ذہانت کو پروان چڑھانے کے لیئے ضروری ہے کہ اسمارٹ فون کا استعمال کم سے کم کیا جائے۔ خاص طورپر تعلیمی سرگرمیوں کی انجام دہی کے دوران اسمارٹ فون کو خود سے حتی المقدور دور رکھا جائے۔

حوالہ: یہ مضمون سب سےپہلے روزنامہ ایکسپریس کے سنڈے میگزین میں 04 اکتوبر 2020 کے شمارہ میں شائع ہوا۔

راؤ محمد شاہد اقبال

اپنا تبصرہ بھیجیں