Arest of Asif Ali Zardari and Faryal Talpur

بڑی گرفتاریوں کی ہیٹ ٹرک

آخر کار معزز عدالتوں کی طرف سے عبوری ضمانتوں پر ضمانتیں دینے کے سلسلہ کو اچانک فل اسٹاپ لگ ہی گیا اور اسلام آباد ہائی کورٹ نے جعلی اکاؤنٹ کیس میں سابق صدر ِ پاکستان اور پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری اور اِن کی ہمشیرہ فریال تالپور کی درخواستِ ضمانت مسترد کرتے ہوئے نیب کو انہیں گرفتار کرنے کی اجازت دے دی۔یوں نیب نے چند ہی گھنٹوں کے اندر اندر بغیر کسی قابلِ ذکر مزاحمت کے باآسانی زرداری ہاؤس اسلام آباد سے آصف علی زرداری کو گرفتار کرلیا۔جس طرح سے گرفتاری عمل میں آئی اِس سے یہ ہی قیاس لگایا جاسکتاہے کہ آصف علی زرداری نیب کو گرفتاری دینے کے لیئے ذہنی طور پر پوری طرح سے نہ صرف تیار تھے بلکہ یہ فیصلہ بھی کئی دن پہلے ہی کر چکے ہوں گے کہ وہ میاں محمد نوازشریف کے برعکس بوقتِ گرفتاری غیر ضروری سیاسی مزاحمت اور سیاسی ڈرامہ بازی سے گریز کا راستہ اختیار کریں گے۔شاید یہ ہی وجہ ہے کہ پاکستان بھر میں آصف علی زرداری کی گرفتاری کے خلاف پاکستان پیپلزپارٹی کی طرف سے کہیں بھی بہت بڑے احتجاجی مظاہرے دیکھنے میں نہیں آئے۔البتہ سندھ کے چند ایک علاقے ایسے ضرور تھے جہاں جیالوں نے ڈنڈے کے زور پر بازار بند کرانے کی کوشش کی، لیکن وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کے اِس بیان کے بعد کہ ”پرامن احتجاج کو کسی بھی صورت پُر تشدد نہیں ہونے دیا جائے گا“۔قانون نافذ کرنے والے ادارے فوراً ہی حرکت میں آگئے اور جیالوں کا احتجاج فقط حکومت مخالف نعروں تک محدود ہوکر آئیں بائیں شائیں ہو گیا۔ خلافِ توقع آصف علی زرداری کی گرفتاری کے بعد پاکستان سمیت سندھ بھر میں اَمن و امان کی صورت حال انتہائی اطمینان بخش رہی اور معمولاتِ زندگی بغیر کسی رخنے کے رواں دواں رہے۔سچی بات تو یہ ہے کہ آصف علی زرداری کی گرفتار ی کے بعد پرتشدد احتجاج نہ کرنے کی سیاسی حکمت عملی اختیار کرنے کا سب سے زیادہ فائدہ یقینا سندھ حکومت کو ہی ہوگاکیونکہ اگر سندھ میں ذرہ برابر بھی اَ من و اَمان کی صورت حال بگڑی تو پیپلزپارٹی کے مخالفین کی طرف سے اِس کا تمام تر ذمہ دار براہِ راست سندھ حکومت کو ہی قرار دیا جائے گا۔

سادہ لفظو ں میں آپ سمجھ لیجئے کہ پاکستان پیپلزپارٹی کے پاس آصف علی زرداری کی گرفتاری کے بعد احتجاج کے لیئے چند گنے چنے سیاسی آپشن ہی باقی بچے ہیں،جن کا استعمال بھی بے دریغ نہیں کیا جاسکتا یعنی بلاول بھٹو زرداری کو اپنے محدود سے آپشن بھی خوب چھانٹ پھٹک اور بھرپور سیاسی تدبر کے ساتھ بروئے کارلانا ہوں گے۔ بصورت دیگر تھوڑی سے بے احتیاطی یا عجلت میں اُٹھائے گئے غلط اقدام سے وفاقی حکومت اور نیب کے خلاف بھڑکائی جانے والی احتجاج کی آگ کے شعلے سندھ حکومت کے بنے بنائے آشیانہ کو بھی جلا کر راکھ کا ڈھیر بنا سکتے ہیں۔صاف نظر آرہا ہے کہ موجودہ سیاسی صورت حال بلاول بھٹو زرداری کی سیاسی صلاحیتوں کا زبردست امتحان لینے والی ہے،اب دیکھنا یہ ہے کہ آنے والے دنوں میں وہ اِس سیاسی امتحان میں سر خرو ہوتے ہیں یا نہیں۔ بہرحال بلاول بھٹو زرداری کے پاس پہلا آپشن تو یہ ہے کہ وہ قومی اسمبلی کے جاری اجلاس میں اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ مل کر تحریک انصاف کی حکومت کو بجٹ پاس کروانے سے روک دیں۔ویسے تو ایک طاقتور اپوزیشن کی موجودگی یہ کام ذرا بھی مشکل نہیں لیکن یہاں خطرہ یہ ہے کہ اپوزیشن لیڈر شہباز شریف لند ن سے واپس آگئے ہیں۔واقفانِ حال تو یہ بھی خبر دیتے ہیں انہیں لندن سے واپس فقط بلوایا ہی اِس لیئے گیا ہے کہ کسی طرح بپھری ہوئی اپوزیشن کو چکمہ دے کر وفاقی حکومت کو بجٹ پاس کروانے کے لیئے غیرمعمولی سیاسی معاونت فراہم کی جاسکے۔ بالکل ویسے ہی جیسے کچھ عرصہ قبل شہباز شریف نے مسلم لیگ کے متوالوں کو چکمہ دے کر میاں محمد نوازشریف کی لاہور ائیرپورٹ سے محفوظ گرفتاری کو یقینی بنایا تھا۔یادش بخیر کہ بلاول بھٹو زردای، شہباز شریف کا سابقہ سیاسی بے وفائی کا بدنامِ زمانہ ریکارڈ مدنظر رکھتے ہوئے قومی اسمبلی میں مکمل طور پر اِن پر سیاسی انحصار کرنے سے حتی المقدور حد تک اجتناب برتیں گے۔ ساری بات کا لبِ لباب یہ ہوا کہ اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کے ہوتے ہوئے وفاقی حکومت کے بجٹ کو قومی اسمبلی میں منظور ہونے سے روکنا، بلاول بھٹو زرداری کے لیئے، ایں خیال است، محال اَست و جنوں اَست۔



بلاول بھٹو زرداری کے پاس دوسرا آپشن یہ ہے کہ جلدازجلد قومی اسمبلی اجلاس میں شریک ہونے کے لیئے آصف علی زرداری کے پروڈکشن آرڈر جاری کروائے جائیں تاکہ آصف علی زرداری قومی اسمبلی اجلاس میں آکر نیب اور وفاقی حکومت کے خلاف تنقید کے تیر وتفنگ چلا کر حکومتی بنچوں پر بیٹھنے والے اپنے مخالفوں کو سیاسی محاذ پر پسپا کرسکیں۔مگر اِس کے لیئے ضروری ہے کہ قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر اسد قیصر کی صدارت میں ہوکیونکہ اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر اپوزیشن سے متعلق نرم گوشہ رکھتے ہیں جبکہ اِن کے مقابلے میں ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری ایک جارح مزاج شخصیت ہیں۔سب جانتے ہیں کہ قاسم سوری تو قومی اسمبلی کے اجلاس میں بلاول بھٹو زرداری کا مائیک ہی نہیں کھولتے،وہ بھلا آصف علی زرداری کے پروڈکشن آرڈر خاک جاری کریں گے۔شنید یہ ہی ہے کہ تحریک انصاف کی نئی حکمت عملی کے عین مطابق آئندہ سے قومی اسمبلی اجلاس کی زیادہ تر صدارت ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری ہی کیا کریں گے تاکہ آصف علی زرداری کے پروڈکشن آرڈر کو جاری ہونے سے روکا جاسکے۔اگر قومی اسمبلی کے اجلاسوں میں تحریک انصاف کی حکومت اپنے اِس پلان پر عمل کرنے میں کامیاب ہوجاتی ہے تو پھر وہ کافی حد تک اپوزیشن، خاص طور پر پاکستان پیپلز پارٹی کو بیک فٹ پر دھکیلنے میں کامیاب ہوجائے گی۔

حیران کُن طور پر آصف علی زرداری کے گرفتار ہونے کے اگلے ہی دن یکے بعد دیگرے لاہور سے حمزہ شہباز اور لندن میں بانی ایم کیو ایم الطاف حسین کی اسکاٹ لینڈ کے ہاتھوں ہونے والی گرفتاری کے بعدجہاں کرپشن کے خلاف فیصلہ کُن میچ میں احتساب نے اپنی ہیٹ ٹرک مکمل کر لی ہے، وہیں گرفتاریوں کی اِس ہیٹ ٹرک نے سندھ میں پیپلزپارٹی کی احتجاجی تحریک کے غبارے سے ہوا بھی نکال دی ہے۔ یعنی بڑی گرفتاریوں کی سب سے بڑی ہیٹ ٹرک ہونے کے بلاول بھٹو زرداری کے لیئے قانونی راستہ کے علاوہ مشکل سے ہی کوئی ایسی ”شاہراہِ احتجاج“ باقی بچی ہے،جس پر چل کر وہ تحریک انصاف کی حکومت کو مشکلات سے بھی دوچار کرسکیں اور اپنی سندھ حکومت کو بھی گورنر راج کے مہیب سائے سے بچا سکیں۔بقول شاعر۔
میرے خلاف یہ کیسا احتجاج تھا اے دوست
کہ تیرا وجود بھی شامل نہیں ہوا،تیرے سات

حوالہ: یہ مضمون سب سے پہلے ہفت روزہ ندائے ملت لاہور میں 20 جون 2019 کے شمارہ میں شائع ہوا۔

راؤ محمد شاہد اقبال

اپنا تبصرہ بھیجیں