Donald Trump on Fire

ٹوٹتا،بکھرتا امریکہ

شکستِ روس کے بعد امریکہ بہادر ہی ہماری دنیا کا واحد عالمی حکمران ٹھہرا اور کئی دہائیوں تک دنیا کے ہر ملک نے بغیر کسی چوں چراں کے پورے صدقِ دل کے ساتھ اِس مسلمہ حقیقت کو تسلیم کیئے رکھا کہ اقوام ِ عالم میں اگر ”عزت ِ سادات“بچا کر گزر بسر کرنے کی خواہش ہے توپھر ہر صورتِ احوال میں نئی سپر پاورامریکہ کی ہاں میں ہاں ضرور ملانا پڑے گی۔بس پھر کیا تھا امریکہ بہادر صحیح یا غلط حکم پر حکم صادر فرماتا تھا اور پوری دنیا انتہائی خشوع و خصوع کے ساتھ اُس کی تعمیل میں جُت جاتی تھی۔دنیا میں کونسا ملک ظالم اور کون سا مظلوم ہے اِس کا فیصلہ امریکہ کرتا تھا جبکہ مظلوم کو ظالم کے خلاف کس طرح جنگ پر اُبھارنا ہے اِس عسکری اسکیم کا اعلان بھی امریکی ماہرین اپنے مفادات کو پیش ِ نظر رکھ کر ہی کیا کرتے تھے۔امریکہ کے نزدیک دنیا بھر میں جنگیں شروع کروانا ایک ایسا منافع بخش کاروبار بن گیا جس میں چتَ بھی اُس کی ہوتی تھی پٹ بھی اُس کی۔ یوں ایک زمانہ تک یہ ہی سمجھا جاتا رہا کہ دنیا کے بیشتر ممالک میں اقتدار کا فیصلہ بھی امریکی ارباب ِ اختیار ہی فرماتے ہیں۔ خاص طور پر ترقی پذیر ممالک میں بسنے والی عوام کو اپنے ملک میں بننے اور گرنے والی ہر حکومت کے پیچھے انکل سام کی آشیر باد ہی نظر آتی تھی۔خود ہمارے ملک میں شاید ہی کبھی کوئی ایسی حکومت گزری ہو جسے اقتدار میں لانے کا سہرا ہماری عوام کی طرف سے امریکہ بہادر کے سر نہ سجایا گیا ہو۔ مگر حالات کی ستم ظریفی دیکھیئے کہ آج وہی سپر پاورامریکہ چیخ چیخ کر چین،روس اور شمالی کوریا پر الزام لگارہا ہے کہ یہ تین ممالک امریکہ کے داخلی و خارجی معاملات میں مداخلت کے مرتکب ہورہے ہیں۔کتنی حیرانگی کی بات ہے دنیا بھر میں اپنے سیاسی اثرو رسوخ کو استعمال میں لا کر حکومتیں بنانے اور گرانے والے ملک امریکہ میں گزشتہ دو سال سے فقط اِس ایک معاملہ پر اعلیٰ سطحی تحقیقات چل رہی ہے کہ امریکہ کے صدارتی انتخابات میں روس نے مداخلت کر کے اپنے من پسند سیاسی رہنما ڈونلڈ ٹرمپ کو امریکہ کا صدر کیونکر بنوادیا۔

وہ امریکہ جس کے بارے میں عام طور پر یہ فرض کرلیا گیا تھا کہ وہاں ادارے اپنے حکمرانوں سے زیادہ آئینی طاقت رکھتے ہیں۔آج اُسی امریکہ میں اداروں کی بنائی ہوئی طویل مدتی پالیسیوں سے یکسر برخلاف مختصر المدتی متنازعہ پالیسیوں پر مشتمل صدارتی حکم نامے صدر ڈونلڈ ٹرمپ صبح و شام جاری فرمارہے ہیں۔امریکہ کی تاریخ میں جتنی کثرت سے صدارتی حکم نامے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے دو سالہ دورِ اقتدار میں جاری فرمادیئے ہیں اتنے صدارتی حکمنامے کوئی دوسرا امریکی صدر نہیں جاری کرسکا۔دلچسپ بات یہ ہے کہ صدر ڈونلڈٹرمپ اپنے صدارتی حکمنامہ کے خلاف بھی صدارتی حکمنامہ جاری کرنے سے ذرا نہیں چوکتے۔پے در پے جاری ہونے والے صدارتی حکم ناموں کی وجہ سے امریکہ کے اہم ترین ادارے ایک دوسرے کے ساتھ اِس شدت سے برسرِ پیکار آ چکے ہیں کہ آئے روز داخلہ،خارجہ اور تجارت جیسے اہم ترین عہدوں پر تعینات وزراء اور افسران میں سے کوئی نہ کوئی اہم ترین امریکی عہدیدار صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی متنازع پالیسیوں سے اختلاف کرتے ہوئے اپنے عہدے سے استعفٰی دے کر یا تو مزید کام کرنے سے انکار کردیتا ہے یا پھر اِسے وائٹ ہاؤس کی جانب سے جبری طور پر رخصت پر بھیج دیا جاتاہے۔حال ہی میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایت پر داخلی سلامتی کی وزیر کرسٹجن نیلسن نے فوری طور پر اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔کرسٹجن نیلسن کو امریکی صدر نے 2017 میں کئی سیاسی شخصیات پر فوقیت دیتے ہوئے وزیر مقرر کیا تھا، قبل ازیں کرسٹجن نیلسن وائٹ ہاؤس میں ڈپٹی چیف آف اسٹاف کی ذمہ داریاں نبھاتی رہی ہیں اور انہیں داخلی سلامتی کی پالیسیوں پر غیر معمولی عبور اور زبردست مہارت کے باعث ہی وزیر مقرر کیا گیا تھا۔ صدر ٹرمپ اور خاتون وزیر کے درمیان دوریاں اس وقت بڑھیں جب چند ہفتے قبل ایک اجلاس میں قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن کے ساتھ کرسٹجن نیلسن کی تلخ کلامی ہوگئی تھی۔کرسٹجن نیلسن نے صدر ٹرمپ کے قریبی ساتھی سمجھے جانے والے جان بولٹن سے کئی امور پر کھل کر نہ صرف اختلاف کیا تھا بلکہ ان کی پالیسیوں کو سخت تنقید کا نشانہ بھی بنایا تھا۔

کرسٹجن نیلسن کے استعفیٰ نے امریکی اداروں کے کھوکھلاپن کو دنیا بھر کے سامنے پوری طرح سے عیاں کر کے رکھ دیا ہے اور پہلی بار ایسا دکھائی دے رہا ہے کہ امریکہ کی بقاء کے ذمہ دار ادارے اپنی اپنی بقا کی جنگ لڑنے میں مصروف ہیں۔امریکی میں جاری اداروں کی باہمی چپقلس نے دنیا بھر میں امریکہ کو بڑی تیزی کے ساتھ سیاسی طور تنہا کرنا شروع کردیا ہے۔ اِس وقت دنیا میں ایک سے زیادہ ایسے علاقائی اور سیاسی اتحاد بن چکے ہیں جو امریکہ کی سلامتی کو براہِ راست چیلنج کررہے ہیں۔اہم بات یہ ہے کہ امریکہ اپنے خلاف بننے والے اِن کثیر ملکی اتحاد وں کے مقابلے میں پے در پے نقصانات اُٹھارہا ہے۔مثال کے طور پر شام میں روس نے بشرالاسد کی پشت پناہی کرکے امریکی اثرورسوخ کو انتہائی محدود کردیا ہے۔جبکہ لیبیا میں بھی امریکہ نواز سیاسی قوتیں شکست کے آخری دہانے پر کھڑی ہیں۔ اس کے علاوہ افغانستان میں بھی امریکہ اِس بُری طرح سے پھنس گیا ہے کہ اُسے وہاں سے نکلنے کا راستہ حاصل کرنے کے لیئے طالبان کی منتیں ترلے کر نے پڑ رہے ہیں اور جہاں تک پاکستان کی بات ہے تو وہ چین اور روس کی مدد سے کافی حد تک امریکہ کے سیاسی اثر سے آزاد ہوچکا ہے۔ جبکہ پیرس معاہدے سے علحیدگی کے بعد یورپ بھی امریکہ سے سخت نالاں ہے اور یوں اِس خطے کے ممالک نے بھی مختلف حیلے بہانوں سے اپنا وزن چین کے پلڑے میں ڈالنا شروع کردیاہے۔اگر بات کی جائے امریکہ کے سب سے بڑے اتحادی عرب ممالک کی تو وہ بھی جولان کے علاقے میں اسرائیلی بالادستی تسلیم کرنے کے بعد ڈالر کا طوقِ غلامی اپنے گلے سے اُتارنے پر سنجیدگی سے غورو فکر کر رہے ہیں۔یہ نیا عالمی منظرنامہ زبانِ حال سے خبردے رہا ہے کہ امریکہ کی عالمی بالا دستی کا خواب بہت جلد چکنا چور ہونے کو ہے۔اَ ب دیکھنا یہ ہے کہ امریکہ کی ذلت آمیز اور عبرت ناک شکست کے بعد اِس کے دو لے پالک ممالک اسرائیل اور بھارت کا حشر کیا ہوگا؟۔

حوالہ: یہ مضمون سب سے پہلے ہفت روزہ ندائے ملت لاہور کے شمارہ 18 اپریل 2019 کے شمارہ میں شائع ہوا۔

راؤ محمد شاہد اقبال

ٹوٹتا،بکھرتا امریکہ” ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں