Curroption in America

کرپشن کی دلدل میں دھنستا ہوا امریکہ

اگرعام پاکستانیوں سے فرداً فرداً سوال کیا جائے کہ دنیا کا سب سے کرپٹ ملک کونسا ہے تو یقین سے کہاجاسکتا ہے کہ اکثریت پاکستان کا ہی نام لے دی گی۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ سب سے زیادہ کرپشن امریکہ میں ہوتی ہے۔ بس وہاں کرپشن کو کرپشن نہیں بلکہ ”کک بیک“ یا کمیشن وغیرہ جیسے خوبصورت نام دے دیئے جاتے ہیں۔ لیکن اس بات کا یہ بھی مطلب نہیں ہے کہ پاکستان یا دنیا کے کسی اور ملک میں کرپشن کم ہوتی ہے۔بے شک ہمارے ہاں کرپشن بے انتہا ہوتی ہے لیکن دنیا بھر کے کرپٹ لوگوں کی کرپشن کا زیادہ تر پیسہ جس ملک میں رکھا ہوا ہے اُس کا نام سوئزرلینڈ ہے۔جسے ہمارے ہاں ایک صاف ستھراملک سمجھا جاتا ہے۔حالانکہ حقیقی معنوں میں یہ ملک کرپشن کی جنت یا وہ کچرا کنڈ ی جہاں دنیا بھر کی کرپشن کا کچرا محفوظ کیا جاتاہے کیونکہ سوئس بینکوں میں دنیا بھر کی کرپشن کا پیسہ جمع ہے۔پاکستان سے لوٹی ہوئی کرپشن کی ساری دولت بھی یہیں موجود ہے۔اصل میں کرپشن و ہ جال ہے جس میں امریکہ اور دیگر ترقی یافتہ ممالک غریب اور ترقی پذیر ملکوں کو پھانسنے کے لیئے استعمال کرتے ہیں۔اب اسے ہمارے حکمرانوں کی سادہ لوحی کہہ لیں،بے وقوفی یا لالچ کہ وہ خوشی خوشی اس جال میں پھنس جاتے ہیں اور پھرچند لالچی حکمرانوں کی غلطی کا خراج اُن ملکو ں کی غریب عوام سے سود سمیت وصول کیا جاتا ہے۔یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ دنیا بھر میں کرپشن کا سب سے بڑا سہولت کار اور ترغیب کنندہ خود امریکہ ہے۔مگر جیسے کہ مثل مشہور ہے کہ کبھی کبھار شکاری خود بھی اپنے لگائے ہوئے جال میں پھنس جاتا ہے۔ایسے ہی کچھ امریکہ کے ساتھ بھی ہونے جارہاہے۔کرپشن پر نظر رکھنے والے بین الاقوامی ادارے ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی جانب سے کیے جانیوالے حالیہ سروے کے مطابق ہر 10 میں سے 6 امریکی شہریوں کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کے ایک سالہ دور صدارت میں کرپشن میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے۔ سروے کے مطابق 44 فیصد امریکیوں کا ماننا ہے کہ کرپشن کا ناسور وائٹ ہاؤس میں پوری آب و تاب کے ساتھ موجود ہے، جو ڈیموکریٹس کی حکومت کے مقابلے میں 8 فیصد زیادہ ہے۔ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے نمائندہ برائے امریکا، زیو ریٹر کا کہنا ہے کہ”ہمارے منتخب نمائندے واشنگٹن کی عوامی خدمت کی قابلیت پر اعتماد قائم کرنے میں بری طرح ناکام نظر آتے ہیں اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ تاحال ان کی طرف سے ہر ملکی یا عوامی مفاد کے مقابلہ میں صرف اور صرف کارپوریٹ اشرافیہ کے مفادات کو ترجیح دی جا رہی ہے جو یقینا امریکی عوام کے ساتھ ایک سنگین مذاق ہے“۔اس کے علاوہ رپورٹ یہ بھی کہتی ہے کہ 10 میں سے 7 امریکی سمجھتے ہیں کہ موجودہ حکومت کرپشن پر قابو پانے میں ذرہ برابر بھی مخلص نظر نہیں آتی اگر صرف ایک سال کا بھی جائزہ لیا جائے تو یہ ہولناک انکشاف ہوتا ہے کہ امریکہ میں حکومتی سطح پر2016 کے مقابلے میں کرپشن کی شرح میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔دلچسپ صورتحال یہ ہے کہ بات صرف ایک سروے تک محدود رہ جاتی تو شاید پھر بھی امریکہ کا کچھ نہ کچھ بھرم رہ جاتا،لیکن امریکا کی دو ریاستوں نے وفاقی عدالت میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر بدعنوانی کے الزام میں باقاعدہ ایک مقدمہ بھی دائرکردیا ہے۔جس میں امریکہ میں ہونے والی کرپشن کا براہِ راست ذمہ دار ٹرمپ کو قرار دیا گیا ہے۔ اس خبر نے ”کرپشن کے خلاف دنیا بھر میں جنگ کرنے والے امریکہ“ کا کردار پوری طرح مسخ کر کے رکھ دیا ہے۔امریکی میڈیا کے مطابق میری لینڈ اور واشنگٹن ڈی سی کے اٹارنی جنرلز نے صدر ٹرمپ پر آئین کی ”غیرمعمولی خلاف ورزیوں“ اور”کرپشن سے امریکی سیاسی نظام کی سالمیت کو نقصان پہنچانے کے سنگین ترین الزامات“عائد کیے ہیں۔میری لینڈ کی وفاقی عدالت میں درج کرائے مقدمے میں کہا گیا کہ ٹرمپ نے برسراقتدار آنے کے بعد غیرملکی حکومتوں سے لاکھوں ڈالر اور دیگر مالی فوائد و تحائف وصول کیے جس کے نتیجے میں وہ انسداد بدعنوانی قوانین کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے ہیں۔مقدمے میں کہا گیا کہ بطور صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خود کو اپنے کاروباری اداروں اور ان کے مفادات سے الگ نہیں کیا حالانکہ انہوں نے جنوری میں اپنے کاروبار کی ذمہ داری اپنے بیٹوں کے سپرد کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ اس کے علاوہ امریکی صدر کی طرف سے اپنی انتظامیہ کو بھی کھلی چھوٹ دے دی گئی ہے کہ وہ جتنی چاہے کرپشن کریں اُن سے کسی بھی قسم کی باز پرس نہیں کی جائے گی۔امریکا میں یہ اپنی نوعیت کے انتہائی منفرد مقدمات ہیں جن میں بنیادی نکتہ یہ اٹھایا گیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ صدر بننے کے باوجود اپنی کمپنی کی سربراہی سے صرف اس لیئے سبکدوش نہیں ہورہے تاکہ ان کے کاروبار کو حکومتی سرپرستی میں زیادہ سے زیادہ پھل پھولنے کے مواقع فراہم کیئے جائیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے اس رویے کے نتیجے میں ریاستِ امریکا اور ٹرمپ کے ذاتی مفادات کا براہِ راست تصادم ہورہا ہے اور امریکہ بھر میں کرپش کو روز افزوں فروغ مل رہا ہے۔سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر وفاقی عدالت نے ٹرمپ کے خلاف کرپشن کے اس نئے مقدمے کو سماعت کے لیے منظور کرلیا تو یہ قانونی جنگ سپریم کورٹ جاکر ہی ختم ہوسکے گی، جس کے دوران ٹرمپ کی ذاتی دولت سے متعلق کرپشن کے کئی ایسے راز بھی فاش ہوجائیں گے جس سے ٹرمپ کی قائم کی ہوئی برسوں پرانی بزنس ایمپائر زمین بوس بھی ہوسکتی ہے۔

دوسری جانب امریکا میں ایک ریسرچ گروپ نے انکشاف کیا ہے کہ امریکی حکومت نے 21 کھرب ڈالرز اس انداز سے خرچ کر دیئے ہیں کہ اسے معلوم ہی نہیں ہوسکا کہ اتنی بڑی رقم کہاں خرچ ہوئی۔ ریاست مشی گن کی سرکاری یونیورسٹی کے پروفیسر کا کہنا ہے کہ جیسے ہی ان اخراجات کا آڈٹ کرانے کا اعلان کیا گیا تو حیران کن طور پر سرکاری مشینری نے اس حوالے سے اہم ترین دستاویزات گم کردیں۔ دنیا کے نامور کاروباری رسالہ فوربز میگزین کے مطابق امریکی حکومت کے دو محکموں نے ممکنہ طور پر 1998ء سے لے کر 2015ء تک یہ رقم خرچ کی ہے اور ان کے پاس اس کا کوئی حساب کتاب موجود نہیں۔ مشی گن یونیورسٹی کے شعبہ اقتصادیات میں سرکاری اخراجات کے ماہر پروفیسر مارک اسکڈمور اور ان کی ٹیم نے اپنی ریسرچ کی تیاری میں امریکی محکمہ دفاع (ڈی او ڈی) اور محکمہ برائے ہاؤسنگ اینڈ اربن ڈویلپمنٹ (ایچ یو ڈی) کے اعداد و شمار اور انسپکٹر جنرل آفس (او آئی جی) کی فراہم کردہ معلومات کا سہارا لیا ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ 26 جولائی 2016ء کو او آئی جی کی جانب سے رپورٹ جاری کی گئی جس میں بتایا گیا تھا کہ فوج نے 2015ء میں خرچ کیے جانے والے 6.5 کھرب ڈالرز کا حساب فراہم نہیں کیا۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جیسے ہی پروفیسر اسکڈمور نے او آئی جی کی ویب سائٹ پر موجود معلومات پر سوالات اٹھانا شروع کیے تو پراسرار انداز سے ویب سائٹ پر موجود ”اکاؤنٹنگ ایڈجسٹمنٹ“ کے متعلق معلومات انتہائی چابکدستی کے ساتھ صاف کر دی گئیں لیکن خوش قسمتی سے پروفیسر اسکڈمور نے او آئی جی کی رپورٹس اور دیگر اہم دستاویزات کی کی نقول بنا کر پہلے ہی اپنے پاس محفوظ کر لی تھیں۔ معلومات ہٹائے جانے کے بعد پروفیسر اسکڈمور نے کئی مرتبہ انسپکٹر جنرل آفس اور اسسٹنٹ انسپکٹر جنرل لورین وینابل سے رابطے کی کوشش کی لیکن انہوں نے جواباً کوئی رابطہ نہیں کیا۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2015ء میں فوجی بجٹ 120 ارب ڈالرز تھا لیکن غیر قانونی انداز سے خرچ کی جانے والی رقوم کانگریس کی جانب سے دی جانے والی اجازت کی حد سے 54 گنا زیادہ تھیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ محکمہ دفاع کے سسٹم میں خامیاں ہیں جنہیں محکمہ دور کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہا ہے جس کی وجہ سے خرچ کی جانے والی رقوم کا کوئی حساب کتاب رکھنا ممکن نہیں ہوتا۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ہزاروں ٹرانزیکشنز ایسی تھیں جنہیں فوج نے جان بوجھ کر سسٹم سے مٹا دیا۔ اس کے ساتھ ہی حکام نے یہ معلومات بھی فراہم نہیں کیں کہ ڈیفنس فنانس اینڈ اکاؤنٹنگ سروس کی جانب سے اخراجات کا دستاویزی ثبوت کیوں نہیں رکھا اور تیسری ششماہی کے دوران ڈیفنس ڈپارٹمنٹ رپورٹنگ سسٹم نے 1.3 ملین فائلوں میں سے 16 ہزار 513 حصے بلا کسی وجہ کے اچانک کیوں مٹائے۔ جولائی 2016ء کی رپورٹ سے معلوم ہوتا ہے کہ آرمی جنرل فنڈ میں 2 کھرب ڈالرز کی بیلنس شیٹ میں کئی ایسی غیر مجاز ایڈجسٹمنٹس کی گئیں جنہیں کسی بھی طور پر قانونی قرار نہیں دیا جاسکتا، جبکہ اثاثوں کے خانے میں بتایا گیا ہے کہ فوج کے پاس اضافی 794 ارب ڈالرز موجود ہیں، سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ رقم کہاں سے آئی؟ اور کسی کی جیبوں میں گئی؟ اخراجات اور رقم کے بہاؤ کے حوالے سے بھی کوئی معلومات دستیاب نہیں۔

حالیہ دنوں میں میڈیا پر آنے والی ان خبروں سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے برسرِ اقتدار آنے کے بعد سے لے کر اب تک نہ صرف امریکہ میں کرپشن تیزی سے بڑھ رہی ہے بلکہ امریکی حکومتی ادارے مختلف حیلوں بہانوں سے غریب ملکوں کے حکمرانوں کو بھی قرض پر قرض دے کراُنہیں کرپشن کی نہ صرف ترغیب دے رہیں ہیں بلکہ کرپشن کرنے والے افراد کی سرپرستی بھی کررہے ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے جاری ہونے والی انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکسیشن و اکانومی پالیسی کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ سینکڑوں بڑی امریکی کمپنیاں حکومت کی جانب سے سبسڈیز حاصل کرنے اور سالانہ اربوں ڈالر منافع کمانے کے باوجود ٹیکس چوری میں ملوث ہیں۔ رپورٹ کے مطابق امریکہ کی 30 فیصد سے زائد منافع بخش کمپنیاں اربوں ڈالر منافع کمانے کے باوجود بھی گزشتہ کئی سال سے نیگٹیو انکم ٹیکس ریٹ سے لطف اندوز ہو رہی ہیں بلکہ بعض مذکورہ کمپنیاں ٹیکس ریبیٹ بھی لے رہی ہیں۔ جس میں فیس بک اور گوگل جیسی جائینٹ ٹیک کمپنیوں کے نام بھی شامل ہیں۔ جو اعدادو شمار کے ہیر پھیر اور سیاسی تعلقات کی بناء پر ایک دھیلہ بھی ٹیکس کی مد میں ادا نہیں کرتیں۔ امریکہ میں بڑھتی ہوئی کرپشن کے اشاریوں کی وجہ سے امیر و غریب کے درمیان خلیج بڑھ جانے سے معاشرتی تناؤ بڑھ رہا ہے۔عام امریکی شہری کریڈٹ کارڈ ز،کار لونز،ٹریولز لونز اور ہوم لونز کی وجہ سے مالیاتی اداروں کے قرض تلے دبتے جارہے ہیں اور اُن کی دن رات محنت سے کی جانے والی کمائیاں بینکوں سے لیئے گئے قرض پر سود کی ادائیگی کرتے کرتے ختم ہوجاتی ہیں۔جس کی وجہ سے عام امریکی حلقوں میں پوری شد و مد کے ساتھ یہ بحث چل پڑی ہے کہ اصلاحات اور سرکاری کنٹرول اور سرمایہ داری کے جِس ملے جلے نظام سے امریکہ غربت کی پستی سے ایک عالمی طاقت کی بلندی تک پہنچ گیا وہ نظام اب اپنی افادیت پوری طرح کھو چکا ہے اور اِس کے نتیجے میں امریکہ میں چند افراد پر مشتمل ایک نیا طاقت ور طبقہ ابھر آیا ہے جنہوں نے اپنی بے مہار کرپشن کی وجہ سے کمائی ہوئی دولت سے عام امریکی شہریوں کو بہت پیچھے چھوڑ دیا ہے۔

حوالہ: یہ مضمون سب سے پہلے ہفت روزہ ندائے ملت لاہور 11 جنوری 2018 کے شمارے میں شائع ہوا۔

راؤ محمد شاہد اقبال
Latest posts by راؤ محمد شاہد اقبال (see all)

اپنا تبصرہ بھیجیں