Global Tourism

سیاحت وسیلہ ظفر ہے

ہم میں سے اکثر افراد روز مرہ کے کام کاج،دفتری مصروفیت اور خانگی زندگی سے تھوڑے سے فراغت کے لمحات نکال کر کہیں وقت گزارنے کو سیاحت سے تعبیر کر لیتے ہیں اورپھر اپنے دوستوں میں ”سیاحتی سفر“ کے قصے سُنا سُنا کر خود کو دنیا کا ایک بہترین ”سیاح“ ثابت کرنے کی ناکام کوشش کرنے میں جُت جاتے ہیں۔لیکن ترقی یافتہ ممالک میں سیاحت محض کسی پنج ستارہ ہوٹل، ریزروٹ یا ہوٹل میں چھٹی کے چند دن سو کر گزارنے کا نام نہیں ہے بلکہ وہ حقیقی معنوں میں سفر یعنی سیاحت کو وسیلہ ظفر سمجھتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ اُن ممالک کے افراد کے لیئے سیاحت ہر گزرتے دن کے ساتھ ان گنت معاشی کامیابیوں کے آسان حصول کا ایک بڑا ذریعہ بنتی جارہی ہے۔گزشتہ چھ دہائیوں میں سیاحت دنیا کے سب سے زیادہ تیزی کے ساتھ شرح نمو پانے والے معاشی شعبوں میں سے ایک بن گیا ہے اور بین الاقوامی سطح پر سیاحوں کی آمد میں آئے روز زبردست اضافہ دیکھا جارہا ہے۔1950 ء میں سیاحت کرنے والے افراد کی تعداد محض 25 ملین کے قریب جبکہ 2015 ء میں جمع کیئے اعدادو شمار کے مطابق سیاحوں کی مجموعی تعداد 1.2 بلین تک پہنچ چکی تھی۔سیاحت کی صنعت کا عالمی معیشت میں 7 کھرب اور 6 ارب ڈالر کا حصہ ہے جو دنیا کی کُل معیشت کا 10.2 فی صد بنتا ہے جبکہ صرف 2016 میں سیاحت کی صنعت سے 20 کروڑ 92 لاکھ افراد کے لیئے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوئے،یعنی ملازمتوں کی تخلیق کے حساب سے دنیا کی ہر دس ملازمتوں میں سے ایک ملازمت شعبہ ئ سیاحت کی مرہونِ منت ہے۔جس کی بنیادی وجہ سیاحت کے شعبہ سے ٹرانسپورٹ، مواصلاتی خدمات جیسے موبائل فون اور انٹرنیٹ سروسز، ہوٹلز، ریسٹورینٹس، گیسٹ ہاوسز، ٹورسٹ، سووینیر شاپس، ٹریول گائیڈز، ٹوور آپریٹرزکا کاروبار اوردیگر ان گنت ذیلی شعبوں کا منسلک ہونا ہے۔ معاشی ماہرین کو توقع ہے کہ سیاحت کی صنعت 3.3 فیصد شرح اوسط سے 2030 تک مسلسل نمو پذیر رہے گی۔حالیہ دہائی میں سیاحت کے زبردست فروغ کی اہم ترین وجوہات میں اس شعبہ میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال،سفری سہولتوں میں اضافہ اور ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں نمایاں کمی کو قرار دیا گیا ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں سیاحت کے زبردست فروغ کے باوجود ترقی پذیر ممالک میں سیاحت کوحکومتی عدم توجہی، امن و امان کی ابتر صورتحال اور ترقیاتی کاموں میں عدم تسلسل جیسے مسائل کے باعث شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہاہے۔سیاحت کے شعبہ میں درپیش ان ہی مسائل کے دیرپا حل کے لیئے اقومِ متحدہ کے زیرِ اہتمام عالمی یومِ سیاحت دنیا بھر میں ہر سال 27 ستمبر کو منایا جاتاہے۔رواں سال کا عالمی یوم”سیاحت میں ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کی اہمیت“ کے عنوان سے منایا جارہا ہے۔اسی مناسبت سے اقوامِ متحدہ کی تنظیم ورلڈ ٹورازم آرگنائزیشن (UNWTO) نے ہنگری کے شہر بوڈاپیسٹ میں عالمی کانفرنس کا انعقاد بھی کیا ہے۔جس میں شعبہ سیاحت سے منسلک 164 ملکوں کے ماہرین،سیاحت کی صنعت میں ڈیجیٹل میپنگ،مصنوعی ذہانت اور جدید اختراعی اشتہارات کی اہمیت کے بارے میں اپنے اپنے تصورات پیش کریں گے جن کی روشنی میں دنیا بھر میں سیاحت کے ڈیجیٹل مستقبل کو مزید محفوظ بنانے میں مدد حاصل ہوگی۔

حلال سیاحت(Halal Tourism)
حلال فوڈز،حلال بینکنگ اور اس طرح دیگر حلال تصورات کے بارے میں تو آپ نے اکثر نہ صرف سنا ہوگا بلکہ کبھی نہ کبھی ان سے استفادہ بھی کیا ہی ہوگا لیکن اب بین الاقوامی سیاحت میں ایک اور لفظ حلال ٹورازم (Halal Tourism) یعنی”حلال سیاحت“ کا بھی استعمال تیزی سے بڑھ رہاہے۔ ”حلال سیاحت“ بنیادی طور پر ایک ایسی اصطلاح ہے، جس کا مطلب مسلمان سیاحوں کو ا ُن کے سیاحتی سفر میں ایسی سہولیات مہیا کرنا ہوتا ہے، جن کی انہیں دوران سیاحت اکثر و بیشتر ضرورت پڑسکتی ہے۔ یعنی اگر کوئی سیاح دین ِ اسلام کے حوالے سے مکمل طور پر باعمل مسلمان ہو، تو اس کو دوران سفر نماز پڑھنے کی جگہ اور حلال خوراک وغیرہ کی دستیابی کے سلسلے میں کسی ایسی ناگہانی صورت حال کا سامنا نہ کرنا پڑے کہ جس کی بناء پر اس کی مذہبی ضروریات و ترجیحات اس کے سیاحت کے شوق کی راہ میں رکاوٹ بننے لگیں۔”حلال سیاحت“ میں مسلمان سیاحوں کو سیاحت کے لیئے وہ موزوں اور پسندیدہ ماحول کی فراہمی یقینی بنائی جاتی ہے جس میں کوئی بھی مسلمان سیاح اپنے عقیدے کے عین مطابق حلال خوراک، شرعی پردہ، عبادت کی سہولیات کے ساتھ مکمل طور پر اپنی سیاحتی سرگرمیوں سے بھرپور انداز میں لطف اندوز ہوسکے۔ دنیا کی معروف امریکی کریڈٹ کارڈ کمپنی ”ماسٹر کارڈ“ اور ”حلال ٹرپ“ نامی سیاحتی کمپنی کے مشترکہ طور کیئے جانے والے ایک تازہ مطالعاتی جائزے کے مطابق”گزشتہ چند برسوں میں بین الاقوامی سطح پر”حلال سیاحت“کے رجحان میں زبردست اضافہ دیکھا گیا ہے۔ دنیا کے بہت سے ممالک میں ہوائی اڈوں، ریستورانوں اور ہوٹلوں میں ”حلال سیاحت“ کے لیئے ضروری خیال کی جانے والی سہولیات اور سروسز مہیا کرنے کو ترجیح دی جانے لگی ہے۔مثلاً برطانیہ،جرمنی،فرانس،سوئزرلینڈ سمیت بہت سے ممالک میں اہم سفری یا سیاحتی مقامات پر مسلمانوں کے لیے نماز پڑھنے کی سہولت،قرآن پاک کی فراہمی،خواتین و مردوں کے لیئے علحیدہ علحیدہ سوئمنگ پولزاور حلال اشیائے خوراک فروخت کرنے والے ریستورانوں کی تعداد میں خاصا اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ اس جائزے کے مطابق 2016ء میں عالمی سیاحت میں ”مسلم ٹریول مارکیٹ“کا کُل مالیاتی حجم 156 بلین ڈالر رہا تھا، جس میں نوجوان مسلم سیاحوں کا مالیاتی حصہ 55 بلین ڈالر بنتا تھا۔اس رجحان میں مستقبل میں مزید تیزی کی بھی پیشن گوئی کی گئی ہے اورتخمینہ لگایا ہے کہ 2026ء تک مسلمان سیاحوں کی طرف سے سیاحت کے لیے خرچ کی جانے والی رقوم کی مجموعی مالیت 300 بلین ڈالر تک پہنچ جائے گی۔ اس رپورٹ کی اشاعت کے بعد دنیا کے بے شمار بڑے سیاحتی ممالک نے بھی ”حلال سیاحت“کو اختیار کرنے پر سنجیدگی سے غورو غوض شروع کردیاہے۔ آپ سے گزارش ہے کہ آئندہ کسی بھی سیاحتی پیکج کو خریدتے وقت اپنی ٹریول کمپنی سے ایک بار ”حلال سیاحت“(Hala Tourism) کی دستیابی کے متعلق ضرور سوال کرلیجیئے گا،یہ سوال آپ کو دیارِ غیر میں دورانِ سیاحت پیش آنے والی بہت سی کوفت اور پریشانیوں سے بچا لے گا۔



پاکستان سیاحت کے لیئے دنیا کا سب سے بہترین ملک
”میں چاہتا ہوں کہ پاکستان کے شمال کو محفوظ کرلوں اور سالوں بعد کوئی بچہ مجھ سے پوچھے کہ جب یہ دنیا بنی تھی تو کیسی تھی تو میں اسے یہاں لاؤں اور دکھاؤں کہ جب دنیا بنی تھی تو ایسی تھی“۔ یہ الفاظ دنیا کے مشہور اطالوی کوہ پیما سیاح ریہولڈ میسنر (Reinhold Messner) کے ہیں جو انہوں پاکستان کے سیاحتی مقامات کی فطری خوبصورتی سے متاثر ہوکر کہے تھے۔ ہمارے لیئے خوشی کی بات یہ ہے کہ ان الفاظ کی بازگشت اب بین الاقوامی سیاحتی تنظیموں کی طرف سے سیاحت پر جاری ہونے والی مختلف مطالعاتی رپورٹوں میں بھی سنائی دینی لگی ہے۔جس کا ایک ثبوت برطانیہ میں مہم جوئی پر مبنی سیاحت سے متعلق معروف ادارے برٹش بیک پیکر سوسائٹی کی طرف سے جاری ہونے والی و ہ سیاحتی رپورٹ ہے جس میں اُس نے ہزاروں افراد سے آن لائن رابطوں کے بعد پاکستان کو مہم جُو سیاحت کیلئے 2018ء میں سفر کے لحاظ سے دنیا بھر میں سب سے بہترین ملک قرار دیاہے۔ برٹش بیک پیکر سوسائٹی نے پاکستان کو مہم جو سیاحت کے صف اول میں شامل ہونے کااعلان گزشتہ دو سال کے دوران، مختلف سیاحوں کی جانب سے سنائے گئے دنیا کے اپنے سیاحتی تجربات کی بنیاد پر کیاہے۔ برٹش بیک پیکرسوسائٹی نے پاکستان کو پہلا نمبر دیتے ہوئے کہا کہ”پاکستان کرہ ارض پر سب سے زیادہ دوستانہ مزاج کاحامل ملک ہے۔پاکستان کے پہاڑوں کے نظاروں کادنیا کے کسی بھی ملک میں تصور بھی نہیں کیاجاسکتا، پاکستان کا سفر ایک ایسا تجربہ ہے جس میں ہر وقت حیرانگی کاسامنا کرنا پڑتاہے،یہ ایک ایسا ملک ہے جس کے ہر گوشے میں ایک نئی دلچسپی پیداہوتی اور تجسس بڑھتاہے۔جبکہ پاکستان کے عجائبات کے بارے میں پوری دنیا کے سیاحوں میں جو کہانیاں مشہور ہیں ان کے پیش نظر اُمید کی جاسکتی ہے کہ پاکستان بین الاقوامی سیاحت میں اپنا کھویا ہوا مقام بہت جلد دوبارہ حاصل کرلے گا“۔

پاکستان میں سیاحت کے مسائل اور اُن کا حل
سیاحت کو دنیا کے کئی ممالک میں معاشی ترقی کے لیئے ایک انتہائی اہم جز سمجھا جاتا ہے لیکن پاکستان میں سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے والے 36 عالمی ثقافتی ورثوں کے ہوتے ہوئے بھی سیاحت کا شعبہ ہنوذ حکومتی توجہ اور سرپرستی کا منتظر ہے۔ورلڈ اکنامک فورم کی جانب سے سیاحت کے مسابقتی انڈیکس 2017 کے جاری کرہ اعداد وشمار کے مطابق پاکستان کا سیاحت میں عالمی طورپر 136 ممالک کی فہرست میں 124 واں نمبر ہے یعنی دنیا میں ہم صرف 12 ممالک سے ہی ذرا آگے ہیں۔ جو اس بات کا غماذی کرتا ہے کہ پاکستان میں سیاحت کو کسی بھی حکومت کی طرف سے وہ مقام نہیں ملا جو اس کا حق ہے۔سیاحت جیسے اہم شعبہ کے حوالے سے حکومت کی عدم دلچسپی کا عالم یہ ہے کہ کبھی وزارتِ سیاحت کو وزارت مذہبی امور کے ساتھ منسلک کردیا گیا، کبھی وزارت تجارت کے ماتحت کردیا گیا اور کبھی وزارت ثقافت و کھیل کے حوالے کردیا۔پاکستان کی پہلی سرکاری سیاحتی پالیسی کا اجراء 1990 میں ہوا۔ لیکن فنڈز کی کمی کے باعث یہ پالیسی کبھی بھی پورے طور پر نافذ نہ ہوسکی۔جس کے بعد 2010 میں دوسری سیاحتی پالیسی تیار کی گئی مگر اس سے پہلے کے اس پالیسی کو نافذ کیا جاتا بیچ میں 18ویں ترمیم کی رکاوٹ آگئی جس کے بعد سیاحت کی وزارت کو مکمل طور پر ختم کرکے اسے صوبوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا۔ اگرچہ گزشتہ ایک دوسالوں میں ملک میں امن و امان کی صورتحال بہتر ہونے کے باعث اندرونی سیاحت میں کافی اضافہ ہو ا ہے لیکن پاکستان غیر ملکی سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے میں کچھ اتنا زیادہ کامیاب نہیں ہو سکا ہے۔ اس کی کئی وجوہات ہیں جن میں سخت ویزہ پالیسی، سیاحتی سہولیات کا فقدان اور پاکستان کا غیر سیاحتی ملک ہونے کا عالمی تاثر ہے۔ اس کے علاوہ خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں پاکستان کی ناقص سیاحتی پالیسی بھی غیر ملکی سیاحت کی فروغ کی راہ میں اہم رکاوٹ ہے۔سیاحت کے عالمی یوم کی مناسبت سے ہماری حکومتِ پاکستان سے دردمندانہ اپیل ہے کہ ایک بار سے پھر پاکستان میں سیاحت کی صنعت کا احیاء کے لیئے سنجیدہ کوششوں آغاز کیا جائے اور اس حوالے سے پہلا قدم سیاحت کی بحالی کے لیئے ایک خصوصی ٹاسک فور س بنانے کا اعلان بھی ہوسکتاہے،جس کا پہلا کام ہی سیاحت کے فروغ کے لیئے ہنگامی بنیادوں پر ایک نئی قومی پالیسی بنانا اور اسے فی الفور ملک بھر میں نافذ کرنا ہو،تاکہ ہم بھی دنیا کے دیگر ممالک کی طرح اپنے سیاحتی مقامات کی مدد سے بھاری زرِ مبادلہ کما سکیں۔

پاکستان کے سیاحتی مقام کی تصویر بنائیں اور قیمتی انعام پائیں
وکی پیڈیا(Wikipedia)دنیا کی مقبول ترین ویب سائیٹس میں سے ایک ہے،بادی النظر میں اسے آپ دنیا کا سب سے بڑاآن لائن انسائیکلو پیڈیا بھی کہہ سکتے ہیں۔اس ویب سائیٹ کے 15 ارب سے زائد صفحات ہر ماہ باقاعدگی سے مطالعہ کیئے جاتے ہیں۔وکی پیڈیا سیاحت کے فروغ کے لیئے 2010 ء سے سالانہ ”بین الاقوامی فوٹو گرافی“ مقابلہ کا انعقاد کر رہا ہے۔اس عالمی تصویری مقابلہ کو دنیا کے مقبول ترین فوٹو گرافی مقابلوں میں سرفہرست سمجھا جاتاہے۔جس کی تصدیق گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ بھی کرتا ہے۔ گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ کے تازہ اعدادو شمار کے مطابق 2011 ء کے وکی پیڈیا کے بین الاقوامی فوٹو گرافی کے مقابلہ نے اس نوعیت کے مقابلوں کے گزشتہ تمام ریکارڈ زکو توڑ ڈالا۔مذکورہ تصویری مقابلے میں 85 سے زائد ممالک کے 70000 سے زائد شرکاء نے تقریباً 2 ملین یادگار تصاویر کو جمع کرکے ایک ایسا ریکارڈ بنایا جسے مستقبل میں بھی ناقابلِ شکست سمجھا رہا ہے۔ وکی پیڈیا نے پاکستان کو 2014 ء میں پہلی بار اس عالمی مقابلہ کا حصہ بنا یا۔اُس وقت سے لے کر اب تک ہر سال وکی پیڈیا اپنے پاکستانی صارفین کو عالمی یومِ سیاحت پر ترغیب دیتا ہے کہ وہ بھی پاکستان کے یادگار سیاحتی مقامات کی تصاویر بھیج کرخود کو اس مقابلہ کا حصہ بنائیں اور پاکستان کے پرکشش سیاحتی مقامات سے دنیا کو روشناس کروانے میں وکی پیڈیا کی دامے،ورمے سخنے مدد کریں۔مقابلہ میں شرکت بالکل مفت اور طریقہ کار انتہائی سادہ ہے یعنی آپ وکی پیڈیا کی ویب سائیٹ پر موجود پاکستان کی ہزاروں یادگار ثقافتی ورثوں کی فہرست میں سے بس کسی ایک کی تصویر کھینچ کر ویب سائیٹس پر موجود فارم پُر کر کے بھیج دیں اگر آپ کی ارسال کی گئی تصویر وکی پیڈیا کی جیوری کو پسند آگئی تو اس عالمی مقابلہ کے ونر بن کر اگلے برس سویڈن میں منعقدہ بین الاقوامی وکی پیڈیاکانفرنس کی مکمل سفری اشکالرشپ بھی حاصل کر سکتے ہیں۔ سب سے اچھی بات یہ ہے کہ آپ مقابلہ میں ایک سے زائد تصاویر بھی بھیج سکتے ہیں،نئی تصاویر بھی بھیج سکتے ہیں جبکہ پرانی تصاویر بھیجنے کی بھی قطعاً کوئی ممانعت نہیں ہے۔ بس شرط یہ ہے کہ یہ تصویر پہلے کبھی انٹرنیٹ پر استعمال نہ کی گئی ہو اور کوالٹی قدرے بہتر ہو۔مقابلہ میں شرکت کے لیئے آن لائن تصاویر ارسال کرنے کی آخری تاریخ 30 ستمبر 2018 ء ہے۔ اس بین الاقوامی میں مقابلہ میں فوری شرکت، قواعد و ضوابط دیکھنے اور انعامات کی مکمل تفصیلات جاننے کے لیئے وکی پیڈیا ویب سائیٹ کا آفیشل لنک درج ذیل ہے۔https://wikilovespak.com

حوالہ: یہ مضمون سب سے پہلے روزنامہ جنگ کے سنڈے میگزین میں 23 ستمبر 2018 کے شمارہ میں شائع ہوا۔

راؤ محمد شاہد اقبال

اپنا تبصرہ بھیجیں