Thar Pakistan

تھر کی کسمپرسی، بھوک اور افلاس

صحرائے تھر میں پانی اور خوراک کی کمی تھر کے عوام کے لئے ہمیشہ سے بڑا مسئلہ رہا ہے۔ لیکن اب تو صورت حال یہ ہے کہ تھر کے صحرائی مکینوں کی زندگی بد سے بدتر ہو گئی ہے اور وہ ایک وقت بھی بمشکل بچوں کو روٹی فراہم کر پا رہے ہیں جب کہ آلودہ پانی پینے سے وہ اور ان کے بچے پیٹ کی بیماریوں کے ساتھ وبائی امراض کا شکار ہو کر مرتے جا رہے ہیں۔غربت کا یہ حال ہے کہ کھانا اور علاج تو درکنار ان کے پاس اتنی استطاعت بھی نہیں کہ مرنے والوں کے کفن دفن کا انتظام کرسکیں اور اکثر مرنے والے کو اسی لباس میں سپرد خاک کر دیا جاتا ہے۔تھر میں جگہ جگہ پانی کی فراہمی کے منصوبے مکمل کر نے کے دعوے کیے جاتے ہیں او ر اس کی تشہیر پر بھی رقم بھی خوب خرچ ہوتی ہے۔ لیکن افسوس کہ کاغذوں میں بننے والے ان منصوبوں کی تشہیر ی مہم کے خاتمے کے ساتھ ہی سب کچھ جادو سے غائب ہو جاتا ہے۔ شا ید اسکیم کے افتتاح پر لگائے جانے والے ہینڈ پمپس حکومتی اہلکار اپنے ساتھ لے جاتے ہیں کیوں کہ ان کو کسی دوسری جگہ بھی تو لگا کر کسی دوسری اسکیم کی تکمیل کا فوٹو سیشن کرنا ہوتا ہے۔حال ہی جاری ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق اس وقت تھر میں 600 آر او پلانٹس میں 80 فیصد غیر فعال ہیں کیونکہ انہیں چلانے والے کنٹریکٹرز کو سندھ حکومت کی طرف سے فنڈز نہیں جاری کیئے جارہے۔جس کی وجہ سے آج ایک بار پھر تھر کے ویرانے میں موت رقصاں ہے اور مردار جانوروں کا گوشت کھانے والے چیل، کوّے اور گدھ اڑ رہے ہیں۔ کیوں کہ بھوک اور پیاس کے مارے لاغر جسم جانورں میں بیماریوں سے مقابلہ کرنے کی سکت ختم ہوگئی ہے اور وبائی امراض کے حملہ آور ہو نے سے وہ بھی مر تے جا رہے ہیں۔

سپریم کورٹ میں چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تھر میں غذائی قلت سے بچوں کی اموات پر ازخود نوٹس کیس کی سماعت ہوئی جس سلسلے میں سندھ حکومت کی طرف ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل سندھ اور سیکریٹری صحت پیش ہوئے۔سماعت کے آغاز پر چیف جسٹس پاکستان نے استفسار کیا کہ اتنے عرصے سے یہ مسئلہ چل رہا ہے، حل کیوں نہیں کیا جارہا؟ اس پر ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ اس معاملے پر رپورٹ دی ہے، چیف جسٹس نے کہا کہ رپورٹ نہیں حل چاہیے۔جسٹس ثاقب نثار نے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل سے مکالمہ کیا کہ آپ نے وہاں جو گندم بھجوائی اس میں بھی ریت نکلی، میں خود تھر چلا جاؤں گا، بتائیں کس دن آؤں، اپنے لوگوں کو مرنے نہیں دوں گا۔چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ خشک سالی سے متعلق کیا پالیسی بنائی گئی ہے؟ لوگوں کو خوراک اور پانی دیناکس کی ذمہ داری ہے؟ صوبے کی ذمہ داری ہے کہ ان لوگوں کو دیکھے۔دوران سماعت عدالت نے ممبر قومی اسمبلی رمیش کمار کو تھر کے حالات بتانے کیلئے روسٹرم پر بلایا گیا تو رمیش کمار نے بتایاکہ تھر میں بہت کرپشن ہے، کوئلے کی وجہ سے زمینوں پر قبضے ہو رہے ہیں مستحقین کیلئے خوراک میں ارکان اسمبلی کا نام بھی ہوتا ہے، تھر کے علاقے میں منشیات فروشوں کا راج ہے، اربوں روپے لگانے اور افتتاح کے باوجود تھر کول پلانٹ بند ہے۔رمیش کمار کے جواب پر چیف جسٹس نے کہا کہ چیف سیکریٹری پالیسی بنا کر لائیں، مسائل کا حل کیسے نکل سکتا ہے، تھر میں خوراک اور پانی کے ٹرک ہنگامی بنیادوں پر بھجوائے جائیں۔اس موقع پر سیکریٹری ہیلتھ نے عدالت کو بتایا کہ ایک سال کے 94، ایک سال سے زائد عمر کے 75 بچوں کا انتقال ہوا، اموات کی وجہ ماؤں کی صحت خراب اور بچوں میں وقفہ نہیں، لیڈی ہیلتھ ورکرز صرف 42 فیصد علاقہ کور کرتی ہیں، این جی اوز کے ساتھ منصوبہ بنا رہے ہیں کہ پورے تھر میں ماؤں کو سہولیات دیں۔سیکریٹری ہیلتھ کی رپورٹ پر چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے کہا کہ بتائیں اس معاملے پر عدالت کیا اقدامات لے سکتی ہے۔اٹارنی جنرل نے بتایا کہ ان علاقوں میں اسپتال ہیں مگر ڈاکٹرز نہیں، مشینیں ہیں آپریٹرز نہیں، جو ڈاکٹر وہاں جاتا ہے سمجھتا ہے اسے سزا ملی، وہ مریضوں کو سزا دیتا ہے۔چیف جسٹس نے سیکریٹری صحت سے استفسار کیا کہ کسی نے جنگی حالات کے اقدامات کیے؟سب کچھ کاغذات پر ہے۔عدالت نے تھر سے متعلق سیکریٹری صحت سندھ کی رپورٹ مکمل طور پر مسترد کردی اور کہا کہ وزیراعلیٰ اور سیکریٹری صحت بتائیں لوگ کیوں مررہے ہیں؟چیف جسٹس نے ایڈیشنل سیکرٹری صحت سندھ سے استفسار کیا کہ اتنے عرصے سے یہ مسئلہ درپیش ہے حل کیوں نہیں ہورہا؟، عدالت کو رپورٹس نہیں مسئلے کا حل چاہیے، لوگ لاکھ کہتے رہیں کہ میں حدود سے تجاوز کر رہا ہوں، لیکن میں کسی بھی صورت اپنے لوگوں کو مرتے ہوئے نہیں دیکھ سکتا، میں خود تھر جاکر بیٹھ جاؤں گاکیونکہ تھر کا اصل مسئلہ کوئی بیان نہیں کرتا، کوئی غذائی قلت سے مر رہا ہے کوئی ناقص علاج معالجے سے، تھر والوں کو گھر، پانی اور خوراک دینا کس کی ذمہ داری ہے؟حکومتی رپورٹ کے مطابق تو سب اچھا ہے لیکن سندھ حکومت کی کارکردگی زیرو ہے۔

دوسری طرف تھر میں نومولود بچوں کی اموات اور قحط سالی کی صورتحال کا جائزہ لینے کیلئے وزیراعلیٰ سندھ کی ہدایت پر سندھ کابینہ کے وزراء اور مشیر شاہانہ انداز میں مٹھی پہنچے، جن میں صوبائی وزیر امتیاز شیخ اور مرتضی وہاب ہیلی کاپٹر کے ذریعے کراچی سے مٹھی پہنچے جہاں سے وہ 18 لینڈ کروزر کے جلوس میں سول اسپتال مٹھی پہنچے، انکی آمد سے قبل اسپتال کے دروازے عام مریضوں اور عوام کیلئے بند کر دیئے گئے جس کیخلاف مریضوں اور ان کے ساتھ آنے والوں تیمارداروں نے احتجاج کیا۔ صوبائی وزراء اور مشیر نے گندم کی تقسیم کے مرکز کا بھی دورہ کیا۔ جبکہ مقامی افراد نے ادویات کی کمی، امدادی گندم کی عدم فراہمی اور بے ضابطگیوں کے خلاف شکایات کے انبار لگا دیئے، اس موقع پر صوبائی وزراء نے متاثرین کو تسلی اور دلاسے دیئے۔ بعدازاں صوبائی وزیر توانائی امتیاز شیخ کے ہمراہ مٹھی دربار ہال میں تھر کی صورتحال کے متعلق صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے مرتضی وہاب نے کہا کہ حکومت سندھ اور پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے تھر کی صورتحال کا نوٹس لیتے ہوئے سینئر ممبر بورڈ آف روینیوکی رپورٹ پر تھر کو قحط زدہ علاقہ قرار دے کر فوری طور پر متاثرین میں گندم کی تقسیم کا کام شروع کیا ہے اور نادرا کی فراہم کردہ لسٹ کے مطابق 2لاکھ 8ہزار 246خاندانوں میں تعلقہ سطح کے گندم گداموں میں سے اب تک پچاس ہزار خاندانوں میں گندم تقسیم کی گئی ہے انہوں نے کہا کہ تھر میں بورڈ آف روینیو کی جانب سے رہ جانے والے 67ہزار 905 خاندانوں کے نام شامل کرانے کے لئے سمری منظوری کے لئے وزیر اعلی سندھ کو بھیجی گئی ہے۔

حوالہ: یہ مضمون سب سے پہلے ہفت روزہ ندائے ملت لاہور 18 اکتوبر 2018 کے شمارہ میں شائع ہوا

راؤ محمد شاہد اقبال

تھر کی کسمپرسی، بھوک اور افلاس” ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں