Tipu Sultan and Imran Khan

ہر دور ٹیپو سلطان کا ہے

ٹیپو سلطان کو آج 220 برس بعد بھی اچھے لفظوں میں یاد کیئے جانے کی بنیادی وجہ فقط یہ نہیں ہے کہ کسی تاریخ نویس نے تاریخ کی کسی کتاب میں اُن کا ذکرِ خیر کردیا تھا۔جبکہ ٹیپو سلطان کی شہادت کی شہرہ آفاق داستان اِس لیئے بھی زبان زدِ عام نہیں ہے کہ ٹیپو سلطان ایک جارحیت پسند حکمران تھا یا اُسے جنگیں کرنے کا شوق تھا۔ بلاشبہ یقین سے کہا جاسکتاہے کہ ٹیپو سلطان کوئی ایسا بڑبولا حکمران بھی نہیں تھا کہ جسے ہر وقت بہادری کے بلند و بانگ دعوے کرنے کا خبط رہتا تھا۔حد تو یہ ہے کہ تاریخ میں درج واقعات کے مطابق ٹیپو سلطان ایک ایسا فاتح یا جنگ جُو بھی نہیں تھا کہ جس کی زندگی کا اختتام کسی پر شکوہ جنگی فتح پرمنتج ہوا ہو،بلکہ دلچسپ اور حیران کُن بات تو یہ ہے کہ ٹیپو سلطان اِتنا اَمن پسند،صلح جُو اور رحم دل سلطان تھا کہ اکثر اوقات اپنی ریاست کے غداروں کو بھی کُھلے دل سے معاف کردیا کرتا تھا، بہت سے تاریخ نویسوں کے نزدیک ٹیپو سلطان کی یہ ہی عادت اُن کی شہادت کا بنیادی سبب بھی بنی۔ آخرپھر کیا وجہ ہے کہ آج سن 2019 میں پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں بھارت کو مخاطب کرتے ہوئے کہنا پڑا کہ ہمارا ہیرو ”ٹیپو سلطان“ ہے جبکہ وزیراعظم پاکستان کے بیان کے جواب وطن ِ عزیز کے سب سے بڑے کالم نویس کو ہم جیسے اپنے مبتدیوں کو ایک معرکتہ الآرا کالم میں بھاری بھرکم مثالیں لکھ کر سمجھانا پڑا کہ ”یہ ٹیپو سلطان کا دور نہیں“۔ٹیپو سلطان کے بارے میں اِن دو مختلف النوع خیالات سُن کر اور پڑھ کر مجھ جیسا ایک عام قاری یہ سوچنے پر مجبور ہے کہ وہ آخر کیا کرے،ٹیپو سلطان کو اپنا ”ہیرو“ سمجھے یا ”یہ ٹیپو سلطان کا دور نہیں“ جیسے دانش مندانہ فکری جملے کو حرزِ جاں بنا کر ٹیپوسلطان کو طاقِ نسیان پر رکھ دے۔فیصلہ مشکل ہے مگر کرنا تو ہوگا۔

ریاست میسور کا جیسے ہی نام لیا جائے فوراً شیر میسور ٹیپو سلطان کا نام ذہن میں آجاتا ہے۔ٹیپو سلطان ایک سچے مسلمان اور مذہبی تعصب سے پاک شخصیت کے مالک تھے۔ حکمران ہونے کے باوجود خود کو عام آدمی سمجھتے۔ باوضو رہنا اور تلاوت قرآن پاک کرنا آپ کے معمولات میں شامل تھا۔ دکھاوے سے اجتناب کرتے اور زمین پر کھدر بچھا کر سویا کرتے تھے۔ٹیپو سلطان سے متعلق ایک حیران کُن حقیقت یہ بھی ہے کہ ہمارے پیارے وطن پاکستان کی طرح انہوں نے بھی اپنی ریاست کا نام”مملکت خداداد“ رکھا ہوا تھا۔اٹھارہویں صدی کی آخری تین دہائیوں میں سلطنت خداداد میسور اور ایسٹ انڈیا کے مابین جنگوں کا ایک سلسلہ شروع ہوا۔جس کے تحت ریاستِ میسور نے چار دفاعی جنگیں لڑیں۔ ایسٹ انڈیا کمپنی کے نزدیک ان جنگوں کا مقصد صرف اور صرف ریاست میسور پر قبضہ کرنا تھا کیونکہ میسور ایک طاقتور ریاست تصور کی جاتی تھی اِس لحاظ سے ریاستِ میسور پر قبضہ ایسٹ انڈیا کمپنی کے لیئے مستقبل میں پورے ہندوستان کی فتح کی راہ ہموار کرسکتاتھا۔ریاستِ میسور نے ایسٹ انڈیا کی طرف سے مسلط کی گئی پہلی اور دوسری جنگ میں خوب ڈٹ کر مقابلہ کیا اور اپنی مملکت کا کوئی بھی حصہ سلطنتِ برطانیہ کے ہاتھ نہ لگنے دیا۔لیکن تیسری جنگ میں مملکت میسور کا تقریباً 25% حدودِ اربعہ دشمن کے ہاتھ لگ گیا۔جبکہ چوتھی اور آخری جنگ میں ریاست میسور نے اپنا مزید 30%حصہ گنوادیا۔ یاد رہے چوتھی جنگ میں ہی ٹیپو سلطان شہید ہو گئے اور بقایا میسور ریاست ایسٹ انڈیا کمپنی کے تحت ایک نواحی ریاست بن گئی۔جنگ کا انجام جو بھی ہوا ہو لیکن ٹیپو سلطان کی بہادری کا اندازہ آپ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ جب آخری جنگ میں اپنوں نے غداری کی اور قلعہ کے دروازے کھول دیئے،جس کے باعث قلعے کے میدان میں زبردست جنگ چھڑ گئی اور بارود کے ذخیرے میں آگ لگنے کے سبب صورتحال انتہائی سنگین دکھائی دینے لگی تب ایک فرانسیسی افسر نے سلطان کو مشورہ دیا کہ وہ چترادرگاہ بھاگ جائیں مگر ٹیپو سلطان نے جواباً کہا کہ”شیر کی ایک دن کی زندگی گیڈر کی سوسالہ زندگی سے بہترہے“۔ بزدلوں کی طرح جان بچا نے کے لیئے کسی این آراو کا سہارالینے کے بجائے ٹیپو سلطان زبردست جرات مندی کے ساتھ آخری دم تک لڑتے رہے اور یوں 4 مئی 1799ء کو میدان جنگ میں شہید ہوئے۔

اگر ٹیپو سلطان ایک جارحیت پسند حکمران ہوتے یا اپنی ریاست کو سلطنتِ برطانیہ تک بڑھانے کے خواہش مند ہوتے تو ہم بغیر کسی جھجھک کے کہہ سکتے تھے کہ ”یہ ٹیپو سلطان کا دور نہیں“۔اگر ٹیپو سلطان اپنی حکمرانی بچانے یا عوام میں اپنا دبدبہ قائم رکھنے کے لیئے جنگوں کا شوق رکھنے والے جارح ہوتے تو تب بھی ہم کہہ سکتے تھے کہ ”یہ ٹیپو سلطان کادور نہیں“۔اگر ٹیپو سلطان سکندراعظم ایسے ایک جلیل القدر فاتح عالم ہوتے تو پھر بھی شاید ہمارے لیئے یہ سمجھ پانا بہت ہی آسان تھا کہ ”یہ ٹیپو سلطان کا دور نہیں“۔کیونکہ اکیسویں صدی کی جنگو ں کو جیت کر کوئی بھی حکمران فاتح عالم کا لقب سننے کے لیئے زندہ نہیں رہ سکتا۔ مگر کیا کریں ہم تو جنگ کرنا ہی نہیں چاہتے۔ جب ہی تو ہم من حیث القوم کہہ رہے ہیں کہ ٹیپو سلطان ہمارا ”ہیرو“ ہے۔ہم تو آج بھی بار بار مودی سرکار کو سمجھانے کی کوشش کررہے ہیں کہ جنگ کرنا دونوں ملکوں کے مفاد میں نہیں ہے۔جب کوئی ہمارا پیامِ اَمن سننے کو تیار ہی نہیں ہورہا تو ہمیں مجبوراً اعلان کرناپڑ رہا ہے کہ ٹیپو سلطان ہمارا ”ہیرو“ ہے۔بار بار اِس ایک جملہ کی تکرار ہماری طرف سے صرف اسی لیئے کی جارہی ہے کہ شاید ہمارا دشمن سمجھ جائے کہ ہم جنگ نہیں چاہتے کیونکہ ٹیپو سلطان ہمارا ”ہیرو“ ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ ٹیپو سلطان ہو،313 اصحاب ؓ ہوں یا کربلا کے شہید۔ اِن میں سے کوئی بھی تو جارحیت کی علامت نہیں ہے بلکہ یہ سب روشن نشانیاں ہیں، صبر،برداشت اور عزیمت کے ساتھ اپنا اور اپنے لوگوں کا دفاع کرنے کیں۔اس لیئے ہم آخری بار کہتے ہیں ٹیپو سلطان ہمارا ”ہیرو“ ہے اور ”ہر دور ٹیپوسلطان کا ہے“۔

حوالہ: یہ کالم سب سے پہلے روزنامہ جرات کراچی کے ادارتی صفحہ پر 11 مارچ 2019 کی اشاعت میں شائع ہوا

راؤ محمد شاہد اقبال
Latest posts by راؤ محمد شاہد اقبال (see all)

اپنا تبصرہ بھیجیں