Student on Technical Work

ہنر سیکھیں، بیروزگاری سے چھٹکاراپائیں

ایک وقت تھا جب پاکستان ہنرمندوں کے ملک کے طور پر پوری دنیا میں اپنی منفرد پہچان رکھتا تھا۔پاکستان کے ہنر مند اپنے ہنر میں یکتا خیال کیئے جاتے تھے۔دنیا کا کونسا ایسا ملک یا خطہ تھا جو پاکستانی ہنرمندوں سے مستفید ہونا اپنے لیئے باعث افتخار نہ سمجھتا تھا۔جب کبھی پاکستان کا کوئی سربراہ مملکت کسی ملک کے سرکاری دورے پر اپنے ہم منصب سے ملاقات کے لیئے جاتا تومیزبان کی طرف سے بطور خاص فرمائش کی جاتی تھی کہ وہ اپنے ملک کے ہنر مندوں کو اُن کے ملک میں کام کے لیئے بھیجے۔ہمارے ہنر مندوں کی یہ مانگ ظاہر کرتی تھی کہ دنیا میں کوئی ہمارے ہنر مندوں کی ہنرمندی کا مقابلہ نہیں کرسکتا تھا۔کون سا ایسا شعبہ یا میدان تھا جس میں ہمارے ہنرمندوں نے اپنے لازوال فن کے انمٹ نقوش نہ چھوڑے ہوں۔سیالکوٹ کے ہنرمندوں کی بنائی ہوئی فٹبال،کرکٹ کے بیٹ اور ہاکی اسٹک ہمارے ماہر کاریگروں کی خداد اد صلاحیت کا ایسا شاہکار تھا جس کا مقابلہ دنیا کی کوئی مشین یا ٹیکنالوجی نہیں کرسکتی تھی۔ وزیرآباد میں گھریلو استعمال کے برتن ہمارے ہنر مند ایسی صفائی اور نفاست سے تیار کرتے تھے کہ دنیا اُن کی خوبصورتی و نفاست دیکھ کر عش عش کر اُٹھتی تھی، اس کے علاوہ گجرات کے ہنر مند پنکھے،فیصل آباد کے محنت کش کپڑے اور دھاگہ کی بُنائی،لاہور کے مستری ہیوی مشینری کی مینوفیکچرنگ اور اُن کی مرمت میں اپنا ثانی نہیں رکھتے تھے۔قیام ِ پاکستان سے 70 کی دہائی تک کا دور ہمارے ہنرمندوں کا ایک سنہری دورگردانا جاتا تھا۔پھر دنیا بھر میں اکیڈمک تعلیم یعنی نظری تعلیم کا دور آیا اور ہنر سے زیادہ سند کو اہمیت دی جانے لگی دنیا بھر میں ہونے والی اس تبدیلی نے ہمارے ملک کو بھی بہت حد تک متاثر کیا۔ہمارے نوجوانوں نے بھی ٹیکنیکل ایجوکیشن یعنی فنی و عملی تعلیم پر اکیڈمک تعلیم یعنی نظری تعلیم کو فوقیت دینا شروع کردی جس کا فور ی اثر یہ ہوا کہ ملک بھر میں اعلی سے اعلی ڈگریوں کے حامل لاکھوں نوجوانوں کی کھیپ تیار ہوگئی جن کے پاس نظری تعلیم کی توکوئی کمی نہیں تھی مگر عملی تعلیم یا ہنر سے یہ نسل بالکل بے بہرہ تھی۔نظری اور عملی تعلیم کے اس تفاوت نے صرف ہمارے ملک میں نہیں بلکہ دنیا بھر میں بھی ہنر مندوں کا ایک بحران کھڑا کر دیا۔دنیا کے بڑے بڑے ادارے نظری تعلیم کی افراد ی قوت سے تو مالا مال ہوگئے مگر ہنر مند کارکنوں کے حوالے سے شدید افلاس کا شکار ہونے لگے۔
اقوام متحدہ کی جاری کردہ ایک رپورٹ کے مطابق اس وقت نوجوان دنیا کی کل آبادی کا 18 فیصد یعنی 1.1 بلین کی تعداد میں ہونے کے باوجود بے روزگار یا بے کار ہیں۔دنیا بھر میں بے روزگار افراد کی کل تعداد 202 ملین ہے جس میں سے 40 فیصد نوجوانوں (یعنی 15 سے24 سال کی عمر)پر مشتمل ہیں۔بے روزگار نوجوانوں کی اتنی بڑی تعداد کی وجہ بے ہنری یا فنی و عملی تعلیم کا نہ جاننا ہے۔جس کے منفی اثرات عالمی معیشت پر بھی پڑ رہے ہیں کیونکہ جب نوجوان بڑے بڑے اداروں میں عام نظری و اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے بعد بھی اپنے مطلوبہ معاشی اہداف نہیں حاصل کر پاتے تو اُن کا معاشرہ سے تعلق منقطع ہو جاتا ہے جس سے ان کی شخصیت ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوجاتی ہے۔یونیورسٹیوں سے فارغ التحصیل ہونے والے یہ طلبا ڈگری ہونے کے باوجودصرف ہنر سے محروم ہونے کی وجہ سے ملکی معیشت کا سہارا بننے کے بجائے بے روزگار ی کی زندگی گزارنے پر مجبو ر ہوجاتے ہیں۔انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کے اعداد و شمار کے مطابق دنیا بھر میں 30 پیشے اپنی درجہ بندی کے حساب سے انتہائی کامیاب تصور کیئے جاتے ہیں۔دلچسپ بات یہ ہے کہ اس فہرست میں شامل 20 پیشے ایسے ہیں جن کے لیئے کسی یونیورسٹی یا کالج کی سند کے بجائے صرف عملی و فنی تربیت ضروری ہے۔
آج کے دورِ جدید میں ہنر مند نوجوانوں کی بڑھتی ہوئی مانگ یا اہمیت کا اندازہ آپ بات سے بخوبی لگاسکتے ہیں کہ حال ہی میں دنیا کی سب سے بڑی کمپیوٹر کمپنی گوگل نے 100 ایسے نوجوانوں کو ملازمت پر رکھا ہے جن کے پاس کسی قسم کی تعلیمی اسناد نہیں اُن کی قابلیت صرف عملی و فنی ہنر میں یکتا ہونا ہے۔ اُنہیں گوگل نے انتہائی پرکشش تنخواہ پر اپنی کمپنی میں صرف زبانی انٹرویو کے بعد ملازمت پر رکھ لیا ہے۔اس حوالے سے گوگل کے حکام کا کہنا تھا کہ ”ہمیں اچھی طرح معلوم ہے اب ہم جن لوگوں کو بڑی بڑی تنخواہوں پر ملازم رکھ رہے ہیں انہوں نے کسی یونیورسٹی یا تعلیمی ادارے سے متعلقہ فیلڈ میں تعلیم حاصل نہیں کی لیکن انہوں نے عملی طور پر یہ ثابت کیا ہے کہ وہ متعلقہ فیلڈ میں اپنے ہنر اور کام میں ماہر اور درجہ کمال کے حامل ہیں۔کیونکہ ہمیں اپنے کام کے اعلی معیار سے مطلب ہے اس لیئے ہمیں اس بات سے کوئی غرض نہیں کہ انہوں نے اپنے ہنر میں متعلقہ مہارت کہاں سے اور کیسے حاصل کی۔ہمارے لیئے یہ ہی کافی ہے کہ وہ اب ہماری کمپنی میں کام کررہے ہیں اور ہم انہیں منہ مانگے معاوضے دے رہے ہیں“۔صرف یہ ہی نہیں گوگل نے 12 جون 2017  سے لندن میں ”ڈیجیٹل اسکل اکیڈمی“کا بھی باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔39827 اسکوائر فٹ کے ایریا پر مشتمل یہ اکیڈمی تمام تر جدید سہولتوں سے مزین لندن کے عین قلب میں بنائی گئی ہے۔یہ اکیڈمی نوجوانوں کو فنی و عملی تربیت فراہم کرنے کے لیئے بنائی گئی ہے۔اس موقع پر رونن ہیرس  جو کے یوکے میں گوگل کے منتظم اعلیٰ ہیں انہوں نے اپنے مستقبل کے اہداف کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ”گوگل 2020  تک تین ہزار فنی و عملی تعلیم کے حامل ہنر مند نوجوانوں کو اُن کی حسب ِ خواہش تنخواہ پر ملازمت دینے کا ارادہ رکھتی ہے“۔صرف اسی پر بس نہیں ہے دنیا بھر کی تقریباً تمام بڑی کمپنیاں جن میں مائیکروسافٹ،فیس بک،وغیرہ شامل ہیں فنی و عملی تعلیم کے حامل ہنرمند نوجوانوں کو انتہائی پرکشش تنخواہوں پر اپنے ہاں ملازمت دینے کے لیئے بے چین نظر آ رہی ہیں۔
جب کہ ہمارے ہاں ایک عام فکر ی مغالطہ یہ پایا جاتا ہے کہ اکیڈمک تعلیم ہی تمام مسائل کا حل ہے حالانکہ اس مغالطہ کا حقیقت سے دور کا بھی واسطہ نہیں۔ سری لنکا میں 98 فیصد شرح خواندگی ہونے کے باوجود یہ ملک غربت،پسماندگی اور بے روزگاری کے عفریت میں جکڑا ہوا ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے اپنی ساری توجہ اکیڈمک یا نظری تعلیم پر مرکوز کی اور فنی و عملی تعلیم وتربیت کو یکسر نظر انداز کر دیا جبکہ اس کے برعکس چین وجاپان دو ایسے ممالک ہیں جہاں شرح خواندگی یا وسائل تو اُن کی آبادی کے مقابلے میں زیادہ نہیں مگر ان دونوں ملکوں کی اقوام نے فنی تعلیم کو اپنی بنیادی تعلیم کا لازمی حصہ بنا کردنیا بھر میں نمایاں مقام حاصل کرلیا ہے۔ہمارے ہاں المیہ یہ بھی ہے کہ ہمارے نوجوانوں کی اکثریت کو فنی و عملی تعلیم کی درست اہمیت کا اندازہ ہی نہیں وہ صرف ڈگری یا سند کے حصول کو ہی اپنے کیرئیر کی معراج سمجھتے ہیں۔
چینی زبان کی ایک مشہور ضرب المثل ہے کہ ”آدمی کو مچھلی نہ دو بلکہ اسے مچھلی پکڑنے کا طریقہ سکھاؤ“۔کاش چین کے نوجوانوں کی طرح ہمارے نوجوان بھی اس مقولہ کو حرزِ جاں بنالیں تو اُن پر دنیا بھر میں کامیابی کے ان گنت دروازے کھل جائیں گے۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہمارے ملک میں نوجوانوں کی فنی و عملی تعلیم کے لیئے خاطر خواہ مواقع موجود ہیں؟ تو جناب اس کا جواب ہاں میں ہے۔ہمارے ہاں فنی و عملی تعلیم یا کسی ہنر کو سیکھنے کے لیئے مواقعوں کا نہ ہونا مسئلہ نہیں ہے بلکہ ہمارے نوجوانوں کی اس طرف عدم دلچسپی اس راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔قیام پاکستان سے اب تک ہمارے ملک میں قائم ہونے والی تقریباً تمام حکومتوں نے سرکاری سطح پرہمیشہ فنی و عملی تعلیم کے حوالے سے نہ صرف بے شمار پروگرام شروع کیئے بلکہ کئی ایک باقاعدہ ادارے بھی بنائے جن میں سے کئی ایک اداروں اور پروگرام کی بعدازاں ہمارے پڑوسی ملکوں میں کامیاب تقلید بھی کی گئی۔یہاں ہمارے لیئے اُن تمام پروگراموں کا تذکرہ کرنا شاید ممکن نہ ہو مگر اس وقت بھی نیشنل ووکیشنل اینڈ ٹریننگ کمیشن پاکستان کے تحت ”پرائم منسٹر یوتھ اسکل ڈویلپمنٹ پروگرام“ملک بھر میں انتہائی کامیابی کے ساتھ جاری ہے۔2014 سے لے کر اب تک اس پروگرام کے تحت دولاکھ نوجوان 200 سے زائد مختلف اقسام کے فنی و عملی کورسز کی عملی تربیت حاصل کر چکے ہیں۔اس پروگرام کی سب سے خاص بات یہ بھی ہے کہ دورانِ کورس فنی و عملی تربیت پانے والے تمام شرکاء کو ماہانہ وظیفہ بھی دیا جاتا ہے۔اب تک 4608 ملین روپے اس پروگرام کے شرکاء کو دیئے جاچکے ہیں۔اس کے علاوہ وزیراعظم یوتھ ڈیویلپمنٹ پروگرام کے تحت ہی نیوٹیک نے ایک انقلابی قدم اُٹھاتے ہوئے ایسے فنی و پیشہ ورانہ ہنر رکھنے والے افراد کے لیئے حکومت ِ پاکستان کی طرف سے سرٹیفکیٹ دینے کا پروگرام بھی شروع کیا ہے جن کے پاس سرٹیفکیٹ نہیں۔حکومت کے اس اقدام سے وہ ہزاروں لاکھوں ہنر مند جو اپنے ہنر میں تو مہارت ِ تامہ رکھتے ہیں مگر درسی تعلیم نہ ہونے یا کسی معروف ٹیکنیکل ادارے سے تربیت نہ حاصل کرنے کی وجہ سے سرٹیفکیٹ سے محروم تھے وہ باآسانی حکومت کی اس اسکیم سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے بغیر کسی فیس کے مفت میں ایک چھوٹا سا عملی امتحان دینے کے بعد اپنے متعلقہ ہنر میں تجربے کا سرٹیفکیٹ حاصل کر کے دنیا بھر ملازمت کے شاندارمواقع حاصل کر سکتے ہیں۔نوجوانوں کے لیئے فنی و عملی تربیت کے لیئے اُٹھائے گئے ان حکومتی اقدامات کے علاوہ بھی پاکستان میں بے شمار ادارے جن میں پاکستان آرمی، پاکستان ایئر فورس،پاکستان اسٹیل ملز،سول ایوایشن اتھارٹی،انڈس موٹر کمپنی،آئل اینڈ گیس کمپنی اور دیگر ادارے بھی ملک کے طو ل و عرض میں نوجوانوں کو مفت میں فنی و عملی تربیت فراہم کرنے کے لیئے بے شمار فنی ادارے قائم کیئے ہوئے ہیں مگر ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ ہمارے نوجوان اُس ذوق و شوق کے ساتھ ان اداروں میں فنی و عملی تربیت حاصل کرنے کے خواہش مند نظر نہیں آتے جتنی تگ و دو وہ او لیول یا اے لیول میں داخلے کے لیئے کرتے ہیں۔اس میں بہت سا قصور والدین کا بھی ہے جو اپنے بچوں کو مہنگی سے مہنگی اکیڈمک تعلیم تودلوانا چاہتے ہیں لیکن فنی و عملی تعلیم اُن کی ترجیحات میں کہیں شامل نظر نہیں آتی۔اپنے بچوں کے روشن مستقبل کے لیے فکر مند والدین کو چاہیئے کہ وہ آنے والے زمانے کی درست ترجیحات کا بروقت ادراک کریں اور اپنے بچوں کو اکیڈمک تعلیم کے ساتھ ساتھ فنی و عملی تعلیم کی طرف بھی راغب کریں تاکہ ہمارے اعلی تعلیم یافتہ ہنر مند نوجوان دنیا بھر میں کامیابیوں کے نئے جہان فتح کر سکیں۔حضرت علی علیہ السلام نے کیا خوب صورت حکمت آموز بات فرمائی تھی کہ”ہر شخص کی قیمت وہ ہنر ہے جو اس شخص میں ہے“۔اگر ہمارے نوجوان بھی اپنے اس ہنر کو بروقت دریافت کرلیں تو پھر یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ آنے والے زمانے میں ہمارے نوجوان اس کرہ ارض کا سب سے زیادہ قیمتی اثاثہ تصور کیئے جائیں گے۔

حوالہ: یہ مضمون سب سے پہلے روزنامہ جنگ 19 اگست 2017 کی اشاعت میں شائع ہوا۔

راؤ محمد شاہد اقبال

اپنا تبصرہ بھیجیں