Taliban flag raised above border crossing with Pakistan

طالبان حکومت کا قیام اور امریکا کا انجام

امریکی صدر جوزف بائیڈن نے ذرائع ابلاغ کے نمائندو ں سے گفتگو کرتے ہوئے کہاہے کہ ”امریکا افغانستان میں تعمیر و ترقی یا جمہوریت کے قیام کے لیئے نہیں بلکہ نائن الیون کے واقعہ پر القائدہ رہنما، اسامہ بن لادن کو سزا دینے کی”عسکری نیت“ سے داخل ہواتھا اور 2014 میں اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے ساتھ ہی امریکا اپنا یہ دیرینہ ہدف مکمل کرچکا ہے“۔ امریکی صدر کا یہ معنی خیز بیان ظاہر کرتاہے کہ امریکا نے افغانستان میں حاصل ہونے والی ”تاریخی شکست“ کو باضابطہ طور پر تسلیم کرکے ساری دنیا پر واضح کردیا ہے کہ آئندہ، امریکا بہادر،افغانستان کے کسی بھی معاملے میں وہ اپنی سیاسی،سفارتی اور عسکری مداخلت نہیں کرے گا۔ یعنی امریکا نے افغان حکومت سے مکمل طور پر لاتعلقی اختیار کرکے اُسے طالبان کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے۔

یہ مضمون بھی پڑھیئے: نئی عالمی بساط پر پاکستان کی اہمیت؟

اشرف غنی حکومت کے ساتھ امریکا کے اظہار لاتعلقی کے بعد افغان حکومت کے وزراء کے معاندانہ رویے بھی بڑی تیزی کے ساتھ تبدیل ہونا شروع ہو گئے ہیں اور وہ سب کے سب بھارت نواز افغان رہنماجو اکثر اپنے زہرآلود بیانات سے پاکستان کو طعن و تشنیع کا نشانہ بناتے رہتے تھے۔ اَب حالات کا نیا رخ دیکھ کر پاکستان سے ملتجائی انداز میں درخواست گزار ہیں کہ ” ہمیں پاکستان سے بہت زیادہ امیدیں ہیں، ہم نے پاکستان کی جانب سے امن عمل کی حمایت میں اُٹھائے گئے اقدامات کی اقدامات کی پہلے بھی کھل کر تعریف کی ہے اور اَب بھی کرتے ہیں اور پاکستانی عوام کو یقین دلانا چاہتے ہیں کہ افغانستان پاکستان کے ساتھ مستحکم باہمی تعلقات کا خواہاں ہے۔ نیز ہماری پاکستان سے توقع ہے کہ وہ طالبان کی ظالمانہ مہم، سپلائی اور سپورٹ کو روکنے میں ہماری مدد کرے اور پاکستان طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے میں خصوصی دلچسپی لے“۔

سب سے زیادہ حیرانگی تو اس بات پر ہو رہی ہے کہ سابق افغان صدر حامد کرزئی بھی اپنے خصوصی ویڈیو بیان میں کچھ یوں رطب اللسان نظر آ رہے ہیں کہ ”مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں ہے کہ افغانستان کے تمام گنجلک مسائل کے حل کی کنجی پاکستان کے پاس ہے اور چین،پاکستان کے ساتھ مل کر بغیر کسی بیرونی امداد کے باآسانی افغانستان میں سیاسی و انتظامی استحکام پیدا کرسکتاہے“۔یا درہے کہ امریکی انخلاء سے قبل یہ ہی حامد کرزئی، بھارت کے ایما پر افغانستان میں پیدا ہونے والے تمام مسائل کا ذمہ دار پاکستان حکومت کو قرار دیتے نہیں تھکتے تھے۔بلکہ کئی مواقع پر حامد کرزئی نے نیٹو افواج کو پاکستان کے علاقوں میں فضائی کارروائیاں کرنے کے لیئے بھی قائل کرنے کی بھرپور کوشش کی تھی۔ نیز اُن کے دورِ اقتدار میں بھارتی خفیہ ایجنسی را اور افغان خفیہ ایجنسی این ڈی ایس اے نے مل کر پاکستان میں دہشت گردی کی جتنی کارروئیاں کی تھیں۔ وہ سب کی سب حامد کرزئی نیم رضامندی کے ساتھ ممکن ہوئی تھیں۔

لیکن آج اُسی حامد کرزئی کے نزدیک افغانستان کی سب سے بڑی خیر خواہ پاکستان حکومت بن چکی ہے۔ دراصل حامد کرزئی کی شدیدترین خواہش ہے کہ چین اور پاکستان، طالبان پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کر کے آئندہ افغانستان میں بننے والی وسیع البنیاد افغان حکومت میں اُنہیں بھی کسی چھوٹے، بڑے عہدے پر فائز فرمادیں۔ اچھی طرح ذہن نشین رہے حامد کرزئی اپنی فطرت میں ایک انتہائی موقع پرست شخص واقع ہوئے ہیں۔جس کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ انہوں نے افغانستان سے امریکی افواج کے انخلاء کا آغاز ہوتے ہی پاکستان اور چین حکام کے سامنے اپنے آپ کو ایک آپشن کے طور پر پیش کرنا شروع کردیا۔ مگر حامد کرزئی بھول رہے ہیں کہ چلے ہوئے کارتوس،کسی بھی کام کے نہیں ہوتے۔

Afghan USA Peace Agreement

دوسری جانب اشرف غنی حکومت کے بعض وزراء کی جانب سے عالمی ذرائع ابلاغ پر یہ شکوہ کرنا کہ ”امریکا نے افغان افواج کو اعتماد میں لیئے بغیر جس طرح خاموشی کے ساتھ بگرام ایئر بیس سے رات کے تاریکی میں اپنی افواج کا مکمل انخلاء کرکے انہیں سخت صدمہ پہنچایاہے“۔ اُن کی شدید بے کسی، بدترین پریشانی اور بے وقوفی کا غماز ہے۔ کیونکہ امریکا نے طالبان کے ساتھ مذاکرات یا معاہدہ کرتے وقت انہیں کون سا اعتماد میں لیا تھا جو وہ اپنے فو جی انخلاء کے اختتامی لمحات میں اُن پر اپنے اعتماد کا اظہار کرتا۔ سادہ سی بات ہے کہ اگر امریکا کو اشرف غنی حکومت اور افغان افواج کی صلاحیتوں پر ذرہ برابر بھی یقین ہوتا تو وہ طالبان کے ساتھ ”امن معاہدہ“ کرتاہی کیوں۔ دراصل گزشتہ بیس برسوں کی سرپھٹول کے بعد امریکی حکام اچھی طرح سے سمجھ چکے تھے کہ اشرف غنی قسم کی زرخرید حکومتوں پر اگر وہ ایک لاکھ سال تک بھی خطیر رقم خرچ کرتے رہیں،تب بھی افغانستا ن میں طالبان کے مقابلے میں دھیلے کی کامیابی حاصل ہونے کی اُمید نہیں رکھی جاسکتی۔ اس لیئے امریکا نے افغانستان کے معاملے پر اُن ہی قوتوں کے ساتھ رابطے، مذاکرات اور معاہدہ کرنے کا اُصولی فیصلہ کیا کہ جن کی طاقت پر وہ مکمل اعتماد، بھروسہ اور یقین رکھتے تھے۔یعنی طالبان اور پاکستان۔

واضح رہے کہ چین بھی افغانستان میں امریکی افواج کے انخلا ء سے پیدا ہونے والے خلا کو پر کرنے کے لئے اپنی کمر پوری طرح سے کس چکا ہے۔ مگر چین،افغانستان میں اختیار کی گئی،امریکی حکمت عملی کے یکسر برعکس، یعنی عسکری طاقت کے زور پر نہیں بلکہ دیرپا تجارتی فوائد اور پائیدار سفارتی تعلقات کے بل بوتے پر افغانستان میں اپنا اثرو رسوخ قائم کرنے کی خواہش رکھتاہے۔ نیز چین یہ بھی چاہتا ہے کہ اُس کے دیگر حلیف اور پڑوسی ممالک بھی افغانستان میں استحکام کے لیے اُس کے ساتھ مل کر کام کریں۔ بالخصوص ایران اور روس افغانستان کی تعمیر و ترقی میں اپنا فیصلہ کن کردار ادا کریں۔

گزشتہ دنوں طالبان اور ایران کے سرکردہ رہنماؤں کے درمیان ہونے والی تفصیلی ملاقاتیں بھی اس سلسلے کی وہ مضبوط کڑیاں ہیں،جن کی مدد سے چین افغانستان میں متوقع خانہ جنگی کے تمام مذموم راستے روکنا چاہتاہے۔دراصل چین،روس، ایران اور پاکستان کی بھرپور کوشش ہے کہ آنے والے ایام میں افغانستان میں طالبان کے زیرنگیں ایک ایسی مستحکم حکومت قائم کی جائے،جو ہر افغان گروہ کے لیے یکساں قابل قبول ہو۔ سردست اس راہ میں سب سے بڑی رکاؤٹ اشرف غنی ہے،کیونکہ اُس کی خواہش ہے کہ طالبان اُس کی حکومت میں شریک اقتدار ہوجائیں۔مگر تیزی سے بدلتے ہوئے حالات و واقعات نے اشرف غنی کی حکومت کو سخت شکست و ریخت کا شکار کردیا ہے۔جبکہ طالبان اپنی موثر حکمت عملی اور جارحانہ سفارتی پالیسی کے باعث مضبوط سے مضبوط ہوتے جارہے ہیں۔

اچھی بات یہ ہے کہ طالبان رہنماؤں نے عالمی سیاست کی نزاکتوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے اور اپنی بالغ نظر کا ثبوت دیتے ہوئے سب کے لیئے عام معامی کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان میں موجود بین الاقوامی امدادی تنظیمیں کام جاری رکھیں، خاص طور پر بین الاقوامی انسانی حقوق گروپس مشن بند نہ کریں۔ نیزطالبان نے عندیہ دیا ہے کہ نئے نظام کی تشکیل کیلئے افغان قیادت سے بات چیت جاری ہے، اگر دوحہ مذاکرات کامیاب ہوئے تو حملے روک دیں گے۔مزید برآں افغان طالبان کے ترجمان ذبیح مجاہد نے ایک بیان میں کہا ہے کہ بعض علاقوں میں افوا ہیں پھیلائی جا رہی ہیں کہ طالبان عوام، میڈیا اور عورتوں پر پابندیاں لگا رہے ہیں۔ہم اس پروپیگنڈے کی تردید کرتے ہیں، تازہ مفتوحہ علاقوں میں رہائش پذیر افغان غیور مسلمان ہیں اور پہلے سے اسلام کے دائرے میں زندگی گزار رہے ہیں،ان پر پابندیاں لگانے کی کوئی ضرورت ہے اور نہ ہی انہیں کسی چیز سے منع کیا جائے گا، اسکولوں سمیت تمام ادارے کھلے ہیں، میڈیا شرعی حدود کے دائرے میں رہتے ہوئے غیرجانبدار اور آزاد نشرات کرسکتے ہیں۔اسی طرح کلینک اور صحت کے مراکز کسی رکاوٹ کے بغیر کام کرسکتے ہیں، فلاحی ادارے اور دیگر آزاد این جی اوز عوام کے لیے خدمات پیش کرسکتے ہیں۔ سرکاری ملازمین، صحافی اور مختلف سروس فراہم کرنے والے اداروں کے ملازمین بلا خوف و خطر زندگی اورفرائض انجام دے سکتے ہیں۔

مزید یہ بھی پڑھیں: چین اور امریکا کے مابین “خلائی جنگ” ہونے کو ہے؟

سادہ الفاظ میں یوں سمجھ لیجئے کہ طالبان کے مصالحانہ رویے نے افغانستان میں خانہ جنگی ہونے کے تمام امکانات یکسر معدوم کردیئے ہیں اور ایسا محسوس ہورہاہے کہ طالبان کو افغانستان میں اپنی حکومت کا اعلان کرنے کی قطعاًکوئی جلدی نہیں ہے۔ اس وقت طالبان کی سب سے پہلی ترجیح افغانستان میں پائے جانے والے ایسے عناصر اور گروہوں کا قلع قمع کرناہے،جو افغان سرزمین پر کبھی بھی ممکنہ خانہ جنگی کرنے کا سبب بن سکتے ہیں۔ بظاہر یہ ایک بہترین سیاسی اور سفارتی حکمت عملی ہے، جس کی پشت پر درپردہ چین،روس اور پاکستان بھی پوری قوت کے ساتھ کھڑے ہوئے ہیں۔اگر طالبان کچھ مزید مدت تک اسی حکمت عملی کو اختیار کیے رکھیں تو قوی امکان ہے کہ اگلے ایک، دو ماہ میں افغانستان میں مکمل سیاسی استحکام پیدا ہوسکتاہے۔ یہ ہی وہ مناسب وقت ہوگا کہ جب طالبان کو افغانستان میں اپنی حکومت کے قیام کا باضابطہ سرکاری اعلان کردینا چاہئے۔ دنیا بھر میں عام خیال یہ ہی پایا جاتا ہے کہ پاکستان، چین، روس اور ایران سب سے پہلے طالبان حکومت کو تسلیم کریں گے۔ جبکہ امریکا کے لیئے بھی طالبان حکومت کو زیادہ دیر تک تسلیم نہ کرنا ممکن نہ ہوسکے گا۔ بس ایک بار طالبان کی حکومت کو عالمی حمایت حاصل ہوجائے،اُس کے بعد افغان سرزمین پر کسی بھی قسم کا عدم استحکام پیدا کرنا،کسی بھی عالمی یا علاقائی قوت کے لیئے ممکن نہ ہوسکے گا۔

حوالہ: یہ کالم سب سے پہلے روزنامہ جرات کراچی کے ادارتی صفحہ پر 12 جولائی 2021 کی اشاعت میں شائع ہوا۔

راؤ محمد شاہد اقبال
Latest posts by راؤ محمد شاہد اقبال (see all)

اپنا تبصرہ بھیجیں