Supreme Court Order Coronavirus

عوام دشمن فیصلوں کی قانونی موت

اگر کورونا وائرس کی وجہ سے جاری لاک ڈاؤن میں نرمی کا فیصلہ ملک کی سب سے بڑی عدالت کے بجائے،سیاسی حکومتوں کی جانب سے ہوتا تو یقینا اہلِ سیاست کی ”سیاسی ساکھ“ پاکستانی عوام کے نزدیک کچھ تو بہتر ہو ہی جاتی۔مگر افسوس برسوں سے عوامی حقوق کے پرچم تلے اپنی اپنی سیاست چمکانے والی سیاسی جماعتیں اِس آسان سے امتحان میں بھی انتہائی بُرے طریقے سے ناکام و نامراد قرار پائیں اور عوام کی دلجوئی کرنے کا سہرا ایک بار پھر سے سپریم کورٹ آف پاکستان کے معزز جج صاحبان کر سرسج گیا۔حالانکہ سیاسی قائدین کے لیئے یہ سمجھنا ذرہ برابر بھی دشوار نہیں ہونا چاہیے تھا کہ کورونا وائر س کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیئے دو ماہ سے جاری رہنے والے لاک ڈاؤن نے غریب عوام کی حالت کتنی زیادہ دگرگوں کردی ہے۔جب کہ ہر طبقہ ہائے فکر کی جانب سے بار بار سیاسی حکومتوں کے نمائندوں کو مختلف حیلوں بہانوں سے بتانے اور سمجھانے کی بھی کوشش کی جارہی تھی کہ لاک ڈاؤن نے عوام کے لیئے جسم و جاں کا رشتہ قائم رکھنا ازحد مشکل بنادیا ہے۔لیکن مجال ہے جو حکومتی زعماء کے کانوں پر کسی عوامی نمائندے کی درخواست پر ایک جوں بھی رینگی ہو۔ حکومتی ایوانوں میں بیٹھنے والے انتظامی طاقت کے نشے میں چُور حکمرانوں کی تو بس ایک ہی گردان تھی کہ چاہے عوام بھوک سے مریں یا کسی اور طریقہ سے بہرحال ہم نے لوگوں کو صرف کورونا سے بچاناہے۔عوم الناس نے جب دیکھا کہ ہمارے حکمرانوں کو کورونا وائرس کے علاوہ کوئی اور جان لیوا وائرس دکھائی ہی نہیں دے رہا تو پھر انتہائی مجبوری و بے کسی کے عالم میں انہوں نے عدل کی زنجیر کی طرف”ٹک ٹک دیدم“ تکنا شروع کردیاتھا۔

اچھی با ت یہ ہوئی کہ ملک کی سب سے بڑی عدالت نے بھی عوام کی حالت ِ زار کا خیال کرتے ہوئے اور وقت کے ناگزیر تقاضے کو پورے کرتے ہوئے عوامی اُمنگوں کے مطابق اور سیاسی حکمرانوں کے سینوں میں چھپی ہوئی مذموم خواہشوں کے عین برخلاف لاک ڈاؤن پر زیر سماعت ازخود نوٹس کیس میں چاروں صوبوں میں کاروباری مراکز کی بندش بلاتاخیر ختم کرنے کا حکم جاری کردیا۔چیف جسٹس جناب گلزار احمد کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بنچ نے ملک بھر میں کاروبار کھولنے کے لیے جاری کیے گئے تحریری حکم نامے میں کاروبار کی بندش کو آئین کے صریح منافی قرار دے کر مستقبل میں بھی ایسے کسی اقدام کے امکان کا دروازہ یکسر بند کر دیا ہے۔ عدالتی حکم میں اس حقیقت کی نشان دہی بھی فرامئی گئی ہے کہ پاکستان میں کورونا وائرس ایسی وبا کی صورت میں ظاہر نہیں ہوا کہ پورا ملک ہی غیر معینہ مدت کے لیئے بند کرنا ضروری ہو جائے۔ عدالتی حکم میں سیکرٹری قومی صحت کی رپورٹ کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ ملک میں ہر سال ہزاروں افراد دل، جگر اور گردوں کے امرض، برین ہیمرج حتیٰ کہ پولن الرجی سے مر جاتے ہیں،اِس لیئے وفاقی و صوبائی حکومتیں کورونا وائرس کے علاوہ دیگر جان لیوا بیماریوں اور مسائل پر بھی توجہ دیتے ہوئے،ملک کے تمام وسائل صرف کورونا وائرس پر خرچ کرنے سے بہر صورت باز رہیں۔ نیز کاروبار اور صنعتوں کی مسلسل بندش کو بجا طور پر ملک کے لیے ناقابل تلافی نقصان کا سبب بن جانے کے اندیشے کا اظہار کرتے ہوئے عدالتی حکم میں صراحت کی گئی ہے کہ اس کے نتیجے میں ان کی دوبارہ بحالی مشکل ہو جائے گی جبکہ لاکھوں محنت کش اور ملازمین سڑکوں پر ہوں گے اور ایسا بحران پیدا ہو جائے گا جس سے نمٹنا کسی بھی حکومت کے لیے ممکن نہیں ہوگا۔ عدالتی حکم میں قرار دیا گیا ہے کہ اس سے قبل بھی حکومتوں کی جانب سے کاروباری معاملات میں مداخلت کی وجہ سے سرمایہ کاروں کا اعتماد مجروح ہوا ہے اور متعدد سرمایہ کار اپنے سرمائے سمیت بیرونِ ملک منتقل ہوگئے ہیں۔



حقیقت یہ ہے کہ سپریم کورٹ کا یہ اقدام پوری دنیا میں ابھرنے والے اس احساس اور اس کے مطابق عملی کارروائیوں سے پوری طرح ہم آہنگ ہے کہ کورونا کے خوف سے تمام معاشی اور سماجی سرگرمیاں لامتناہی مدت تک کسی بھی صورت بند نہیں رکھی جا سکتیں۔ یہی وجہ ہے کہ وفاقی حکومت نے عدالتی حکم کا بھرپور خیر مقدم کیا ہے،جبکہ وفاقی وزیر اطلاعات نے اس حوالے سے بتایا ہے کہ ملک بھر میں ٹرین سروس بھی بحال کی جا رہی ہے جبکہ روڈ ٹرانسپورٹ کی بحالی کا سلسلہ پہلے ہی شروع ہو چکا ہے۔جب کہ علمائے کرام نے سپریم کورٹ کے حکم نامے کے جاری ہونے کے بعد مساجد میں باجماعت نمازوں کے بھرپور اہتمام کا بھی اعلان کر دیا ہے اور یوں ملک بھر میں معمول کے حالات تیزی سے بحال ہوتے دکھائی دے رہے ہیں تاہم ابھی بھی بعض سیاسی رہنما ڈھکے چھپے لفظوں میں سپریم کورٹ کے جاری کردہ حکم نامہ پر تنقید کے نشتر چلاتے ہوئے ایک بار پھر سے پاکستانی قوم پر لاک ڈاؤن نافذ کرنے کی خواہشات کا اظہار کرنے میں ذرہ برابر بھی تامل کا مظاہرہ نہیں کررہے ہیں۔ بلکہ اِن کی کوشش ہے کہ ملک کے کسی حصہ میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو جواز بنا کر سخت لاک ڈاؤن کا فرمانِ جمہوری ازسرنو جاری کیا جاسکے۔ اِس لیئے عوام سے درخواست ہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان کی جانب سے ملنے والے عوامی ریلیف کو غنیمت سمجھتے ہوئے کورونا وائرس کے انسداد کے لیئے بنائے گئے ماہرین کے تمام ایس او پیز کی من و عن پیروی کرنے کی بھرپور کوشش کی جائے۔وگرنہ دوسری صورت میں کسی بھی صوبے کی حکومت ایس او پیز پر عمل نہ ہونے کا”سیاسی بہانہ“بناتے ہوئے ایک بار پھر سے غریب عوام کوطویل اور سخت لاک ڈاؤن کے ہلاکت خیز عفریت کے منہ میں دھکیل سکتی ہے۔

حوالہ: یہ کالم سب سے پہلے روزنامہ جرات کراچی کے ادارتی صفحہ پر 21 مئی 2020 کی اشاعت میں شائع ہوا۔

راؤ محمد شاہد اقبال

اپنا تبصرہ بھیجیں