Student Union March

طلبا یونین کی بحالی

کئی دہائیوں کے طویل وقفہ کے بعدپاکستان کی اعلیٰ سرکاری درسگاہوں میں طلبا یونین کی بحالی کے نعرہ کی گونج ایک بار پھر سے سنائی دینے لگی ہے اور پاکستان کے ہر بڑے شہر میں طلبا یونین کی بحالی کے حق میں ہونے والے مظاہرے ملک بھر کے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کی توجہ اپنی جانب کھینچنے میں بہت حد تک کامیاب بھی ہوگئے ہیں۔ایک صبح اچانک سے ملک کے مختلف بڑے شہروں میں نوجوان طلباء و طالبات کی جانب سے طلبہ یونین کی بحالی کے حق میں مظاہروں کے لیئے نکل آنے کے واقعہ کو کسی بھی صورت پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ایک معمول کی”احتجاجی کارروائی“ قرار دے کر نظر انداز نہیں کیا جاسکتاہے کیونکہ بادی النظر میں اِن ملک گیر احتجاجی مظاہروں کو منظم انداز میں ترتیب دینے کے لیئے جتنے ارزاں مادی وسائل،افرادی قوت اور مؤثر ابلاغ کی ضرورت ہے۔اُن کا بندوبست تعلیمی درسگاہوں میں زیرِ تعلیم طلباء و طالبات تن تنہا بغیر کسی بیرونی اور منظم امداد کے راتوں رات نہیں کرسکتے۔

شاید اسی لیئے طلبا یونین کی بحالی کے حق میں ہونے والے غیر متوقع مظاہروں کے”طریقِ واردات“نے ہر ذی شعور شخص کے ذہن میں شکوک و شبہات کے بے شمار در وا کردیئے ہیں اور ہر جگہ یہ سوال اُٹھایا جارہا ہے کہ آیا طلبایونین کی بحالی کے حق میں ہونے والے اِن مظاہروں کے پس پردہ کون سے کردار ہیں؟ جبکہ سیاسی و علمی حلقوں میں یہ موضوع بھی پورے شد و مد کے ساتھ زیربحث لایا جارہا ہے کہ کیا طلبا یونین کی بحالی سے طلباء و طالبات کے تعلیمی معیار میں بہتری کی کوئی توقع کی جاسکتی ہے؟۔ اگر یہ ثابت ہوجائے کہ طلبا یونین کا وجود طلباء کی تعلیمی سرگرمیوں میں گراں قدر ترقی کا باعث بنتا ہے تو پھر طلبایونین کو بحال کرنے میں حکومت پاکستان کو ایک لمحہ کی بھی تاخیر سے کام نہیں لینا چاہیئے لیکن یہ انتہائی اقدام اُٹھانے سے پہلے ہمیں اِس سوال کا جواب بھی ضرور تلاش کرنا ہوگا کہ آیا وہ کون سی ناگزیر وجوہات تھیں جن کے باعث وطنِ عزیز میں طلبہ یونین پر پابندی عائد کی گئی۔



دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستان میں ایک بار نہیں بلکہ بے شمار مرتبہ طلبایونین پر پابندی عائد کی گئی ہے اور ہر بار طلبایونین پر پابندی کی وجہ تعلیمی اداروں میں طلبہ تنظیموں کی طرف سے ہونے والا خون ریز تصادم بنا ہے۔ پہلی بار ضیاء دورِ حکومت میں 9 فروری 1984 کو کراچی یونیورسٹی میں دو مختلف طلبا تنظیموں کے مابین تصادم کے باعث طلبایونین پر پابندی لگائی گئی تھی۔جسے دسمبر 1988 میں محترمہ بے نظیر بھٹو نے قومی اسمبلی میں اپنے پہلے خطاب میں ضیاء دور کی پابندی کالعدم قرار دے کرطلبا یونین بحال کرنے کا اعلان کردیا اور 1989 میں قومی اسمبلی سے ضیا ء دور کے مارشل لاء آرڈی نینسز کو منسوخ کرکے آئینی طور پر طلبا یونین کا ادارہ بحال کردیا گیا۔ مگر 90ء، 91ء اور 92ء میں طلبہ تنظیموں میں سیاسی و لسانی بنیادوں پر ہونے والے خون ریز جھگڑوں کے باعث 1جولائی 1992ء کو سپریم کورٹ نے ایک عبوری حکم نامہ جاری کیا کہ تعلیمی ادارے میں داخلہ لیتے وقت طالب علم سے”سیاسی سرگرمیوں میں شرکت نہ کرنے“ کا حلف نامہ لیا جائے گا۔ یوں ملک بھر میں ایک بار پھر سے قانونی طور پر طلبا یونین پر پابندی عائد کردی گئی۔گو کہ 29 مارچ 2008ء کو وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے یونین پر پابندی اٹھانے کا اعلان کیا لیکن ان کے پورے دورِ حکومت میں اس اعلان پر عمل نہیں ہو سکاکیونکہ حکومت میں شامل کوئی بھی شخص اعلیٰ عدلیہ کے حکم نامے کی روشنی میں اِس بات کی ضمانت دینے کو تیار نہیں تھا کہ طلبایونین کی بحالی سے تعلیمی اداروں میں تشدد کا پر آشوب دور ایک بار پھر واپس لوٹ کر نہیں آئے گا۔

بظاہر قانونی اور آئینی طور پر دیکھا جائے تو 1974 کا سٹوڈنٹس یونین آرڈی نینس طلبہ سیاست کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ اسی طرح آئینِ پاکستان کا آرٹیکل 17 صرف طلبا کو ہی نہیں بلکہ پاکستان کے ہر شہری کو یونین سازی کا حق دیتا ہے اور اس حق کو رکشہ یونین، نائی یونین، ریڑھی بان یونین، ٹریکٹر ٹرالی یونین ہمیشہ سے اپنے حقوق کے تحفظ کے لیئے بھرپور طریقے سے استعمال کرتے آرہے ہیں لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے طلباء تنظیمیں اپنے اِس حق کو تعلیمی اداروں میں علمی سرگرمیاں معطل کرنے، اساتذہ کی توہین کرنے، امتحانات میں نقل کرنے اور اپنے سیاسی نظریات سے اختلافات رکھنے والے کے گلے کاٹنے کے لیئے استعمال کرتیں آئیں ہیں۔ ایسا ایک بار نہیں بلکہ بار بار ہوا،بلکہ کڑوا سچ تو یہ ہے کہ پاکستان میں طلباء یونین کی پوری سیاسی تاریخ پرتشدد واقعات سے بھری ہوئی ہے۔ یعنی طلبا تنظیموں نے آج تک اِس پلیٹ فارم کو کبھی اپنے جائز حقو ق حاصل کرنے کے لیئے استعمال نہیں کیا بلکہ جب بھی اُن کے ہاتھوں میں یہ ہتھیار تھمایا گیا اُنہوں نے اِس تیز دھار تلوار کی مدد سے ہمیشہ ہی اپنے مخالف طلباو طالبات کا استحصال کرنے کی کوشش کی۔

طلبا یونین کی بحالی کے حق میں واحد دلیل جو دی جاتی ہے وہ یہ ہے کہ اِس سے طلبا و طالبات کو اپنی سیاسی تربیت کا موقع ملتا مگر اِس پر سیدھا سادا سا یہ اعتراض بنتا ہے کہ کیا والدین اپنے بچوں کو تعلیمی اداروں میں تحصیل علم کے لیئے بھیجتے ہیں یا پھر سیاست کے اسرار ہائے رموز سیکھنے کی عملی تربیت حاصل کرنے کے لیئے۔ جبکہ ایک ڈاکٹر،انجینئر یا اکاؤنٹنٹ بننے والے طالب علم کے لیئے زیادہ ضروری اپنے متعلقہ شعبہ میں مہارت حاصل کرنا ہے یا پھر الیکشن کے دن کسی سیاسی جماعت کے جھنڈے لہرا کر گلی گلی گھومنا۔طلبا یونین کے حق میں ہونے والے چند مظاہروں یا این جی اوز کے دباؤ میں آکر وزیراعظم پاکستان عمران خان کا یہ تصور کرنا کہ طلباء یونین کے طریقہ کار میں تبدیلی اور چندنئے اُصول و ضوابط بنا کر طلباء یونین کے موذی سانپ کا زہر ختم کیا جاسکتا ہے تو معذرت کے ساتھ میرا نہیں خیال یہ کارِ محال، فقط چند آئینی تبدیلیوں سے سہل ہونا ممکن ہے۔ ویسے بھی ہمارے ہاں سیاسی جماعتوں کے تربیت یافتہ،ہر فن مولا اور بزرگ قائدین نے ”سیاسی کردار“ کا گزشتہ 73 برسوں میں کون سا ایسا مثالی نمونہ پیش کیا ہے کہ جو اَب اِن کے ہاتھ میں پاکستان کی نئی نسل کی باگ بھی پکڑا دی جائے۔

حوالہ: یہ مضمون سب سے پہلے روزنامہ جرات کراچی کے ادارتی صفحہ پر 06 دسمبر 2019 کی اشاعت میں شائع ہوا۔

راؤ محمد شاہد اقبال

اپنا تبصرہ بھیجیں