Churi Mar Group in Karachi

چھری مار گروپ کی بڑھتی کارروائیاں، حکومت بے بس کیوں؟

گلستان جوہر کراچی سے خواتین پر ہونے والے چھری حملہ کے واقعات نے ملک بھر میں سندھ پولیس کی ساکھ کوبری طرح نقصان پہنچایا ہے۔آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ جنہیں سندھ ہائی کورٹ نے سندھ حکومت کے تمام تر تحفظات کے باوجود میرٹ پر بحال کرتے ہوئے اُن سے یہ اُمید ظاہر کی تھی کہ وہ سندھ کی تمام عوام کو بلالحاظ و نسل تحفظ فراہم کریں گے اور یوں اے ڈی خواجہ ہائی کورٹ کے فیصلہ کے بعد ایک ہیرو کے طور پر اُبھر کر سامنے آئے اور اُن کے مخالفین نے بھی بالآخر اُن کے خلاف چپ سادھ لی تھی لیکن ایک چھری مار نے اُن کے مخالفین کو دوبارہ سے اُن کے خلاف ایک طاقتور محاذ بنانے کا سنہری موقع فراہم کردیا ہے اس وقت پوری سندھ حکومت چھری مار کی طرف سے خواتین پر ہونے والی کارروائیوں کی تمام تر ذمہ داری سندھ پولیس پر ڈال رہی ہے جبکہ حقیقت میں اُن کا اصل ہدف آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ ہیں۔وزیرِ داخلہ سہیل انور سیال نے چھری مار کارروائیوں پر تبصرہ کرتے ہوئے یہاں تک کہ دیا ہے کہ ”سندھ میں اوپر اللہ اور نیچے اللہ ڈنو (یعنی اے ڈی خواجہ) کی حکومت ہے جس طرح میں اللہ تعالی کے کسی عمل پر کوئی نقطہ اعتراض نہیں اُٹھا سکتا بالکل اسی طرح اے ڈی خواجہ سے بھی میں کچھ پوچھ نہیں سکتا۔اُن کی مرضی ہے وہ اگر چاہیں تو سندھ کے وزیرِ داخلہ کو رپورٹ کریں اور نہ چاہیں تو نہ کریں“۔سندھ حکومت میں شامل دیگر وزراء کے بیانات کا بھی اگر جائزہ لیا جائے اُن سے ایک ہی بات ثابت ہوتی ہے کہ وہ خواتین پر ہونے والی چھری مار حملوں کا تمام تر ذمہ دار صرف اور اے ڈی خواجہ کو ہی سمجھتے ہیں اور دل ہی دل میں شاید وہ یہ بھی چاہتے ہیں کہ چھری مار کارروائیاں کچھ عرصہ مزید بھی چلتیں رہیں تاکہ اُنہیں اے ڈی خواجہ کو ہدفِ تنقید بنانے کا جو سنہری موقع میسر آیا ہے وہ اُس سے ذرا کچھ اوردن مزید لطف اندوز ہولیں۔

سندھ حکومت کی اس رائے سے تو کسی کو بھی کوئی اختلاف نہیں ہوسکتا کہ شہر میں امن وامان فراہم کرنے کی تمام تر ذمہ داری بہرحال پولیس پر ہی عائد ہوتی ہے اور کسی بھی صورت اس ذمہ داری سے انہیں بری الزمہ قرار نہیں دیا جاسکتا لیکن چھری مار کاررائیوں کے تمام واقعات کا اگر باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ان تمام مجرمانہ حملوں کا شہریوں کے علاوہ اگر کسی اور کو سب سے زیادہ نقصان ہو رہا ہے تو وہ صرف اور صرف آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ کی ذات ہے۔اس لیئے ہمارے مشورہ ہے کہ تمام تحقیقاتی اداروں کو تفتیش کرتے ہوئے اس پہلو کو بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہئے کہ کہیں یہ آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ کے خلاف کوئی منظم سازش تو نہیں کہ جس کے تانے بانے اے ڈی خواجہ کے مخالفین یا پھر اُن کے ہمدردوں سے جاکر ملتے ہوں کیونکہ اے ڈی خواجہ سندھ کے وہ واحد آئی جی ہیں جن سے سندھ کی دونوں بڑی سیاسی جماعتیں پاکستان پیپلزپارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ پاکستان یکساں طور پر نالاں ہیں۔یہ دونوں جماعتیں سندھ میں اے ڈی خواجہ کی تعیناتی کے حوالے سے اپنے شدید ترین سیاسی اور علاقائی تحفظات رکھتی ہیں۔کراچی آپریشن کی شاندار کامیابی کے بعد یہ کیسے ممکن ہے کہ مجرمانہ ذہنیت رکھنے والے افراد سندھ پولیس میں اے ڈی خواجہ جیسے قابل افراد کو برداشت کرلیں۔اس لیئے یہ ضروری ہے کہ چھری مار واقعات کی تحقیقات کے دوران ان نکات کو پیش ِ نظر رکھا جائے کہ آیا خواتین پر ہونیوالے حملوں کے پیچھے کہیں کسی قسم کے کوئی سیاسی عزائم تو چھپے ہوئے نہیں ہیں۔بہرحال ایک بات طے ہے کہ یہ سندھ پولیس کی کارکردگی کے لیئے ایک کڑا امتحان ہے جس میں سرخروئی حاصل کیئے بغیر اب یہ ممکن نہیں رہا کہ وہ کراچی آپریشن کے اگلے مرحلے میں ہراول دستے کا کردار ادا کرسکے۔

حالات کا تقاضا یہ ہے کہ سندھ حکومت اور سندھ پولیس کو آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ رسہ کشی کرنے کے بجائے یہ بات بھی ذہن میں رکھنی چاہیے کہ وہ اس معاملے کو اب بہت زیاد ہ دیر تک طول نہیں دے سکتے کیونکہ اگر چھری مار گروپ کے اس طرح کے واقعات کچھ اور دن مزید چلتے رہے تو پھر ہوسکتا کہ مجرموں کے ذہنوں سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کا خوف بالکل ہی دل سے نکل جائے اور پھر کہیں ایسا نہ ہو کہ ایڈونچر ازم کے شوقین دیگر نوجوان بھی اس طرح کے و اقعات میں ملوث ہوکر اسے سندھ پولیس کی مستقل توہین اور مذاق کا ذریعہ نہ بنالیں کیونکہ ہر جرم کے کچھ نفسیاتی اثرات بھی ہوتے جو معاشرہ کو متاثر کرتے ہیں۔ماہرین جرائم اس بات پر متفق ہیں کہ اگر کسی معاشرہ میں ایک جرم بہت زیادہ رواج پاجائے اور اس کی موثر بیخ کنی کے لیئے کوئی واضح اور دیرپا اقدامات بھی نہ کیئے جائیں تو اس بات کے امکانات بڑھ جاتے ہیں کہ ایڈونچر ازم کے شوقین افراد اس طرح کے جرائم کو بطور مشغلہ اختیار کرنا نہ شروع کردیں۔ہمارے ہاں جس طرح سے چھری مارواقعات کو الیکٹرانک میڈیا پر کوریج دی جارہی ہے اب ضروری ہوگیا ہے کہ اس جرم کے اصل مجرم یا مجرموں کو پکڑنے کے بعد نہ صرف انہیں سخت سے سخت سزادی جائے بلکہ اُس سزاکی تشہیر بھی بالکل ویسے ہی کی جائے جیسے جرم کے واقعہ کی جارہی ہے تاکہ مجرم کمزور ذہنوں اور مجرمانہ خیالات رکھنے والے افراد کے لیئے نشانہ ئ عبرت بن سکے۔

حوالہ: یہ مضمون سب سے پہلے ہفت روزہ ندائے ملت لاہور 19 اکتوبر 2017 کے شمارہ میں شائع ہوا

راؤ محمد شاہد اقبال

اپنا تبصرہ بھیجیں