IT Review 2017

زندگی، اَب تیری رفتار سے ڈر لگتا ہے

سالِ گزشتہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کی کامیابیوں کی اگر کوئی ایک لفظ مکمل وضاحت پیش کرسکتاہے تو وہ لفظ ہے ”رفتار“۔2017 ء میں شعبہ آئی ٹی نے جس رفتار سے ترقی کی اُس کی ماضی سے کوئی مثال پیش نہیں کی جاسکتی۔بقول شاعر ”زندگی اب تیری رفتار سے ڈر لگتا ہے“اورآخر ایک باشعور انسان کو ڈر کیوں نہ لگے جب مشینوں کو مصنوعی ذہانت دی جانے لگے اور حضرتِ انسان کے زیراستعمال چیزیں بھی خود سے فیصلہ کرنے لگ جائیں۔یہ اشارہ ہے کہ انسان سہل پسندی کی معراج پر پہنچناچاہتاہے۔2017 ء میں مختلف ٹیک کمپنیوں گوگل،فیس بک،ایپل،مائیکروسافت اور ٹیسلاکی جانب سے ”مصنوعی ذہانت“ کا آزادانہ استعمال کو ٹیکنالوجی کے اسی سفرِ معراج کا نقطہ آغا ز بھی کہاجاسکتاہے۔12 مئی 2017 ء کے دن کو ”رینسم وائرس اٹیک ڈے“ کے طور پر ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ انٹرنیٹ اور سائبر سیکورٹی کی تاریخ کا اب تک ہونے والا یہ سب سے بڑا سائبر حملہ تھا۔ اینٹی وائرس بنانے والی دنیا کی سب سے بڑی کمپنی Avast کے مطابق امریکہ، برطانیہ، روس، چین،اٹلی،مصر،اسپین،یوکرین،تائیوان اور بھارت سمیت 150 سے زائد ملکوں میں 200,000 سے زائدسائبر حملے ریکارڈ کیئے گئے۔ان سائبر حملوں کے وجہ سے چھوٹے بڑے اداروں سمیت ہزاروں افراد کا کمپیوٹرز میں موجود تمام اہم ترین ڈیٹا لاک ہوگیا۔جس تک باحفاظت رسائی فراہم کرنے کے لیئے نامعلوم ہیکروں نے متاثرہ اداروں اور افراد سے فی کس 300 ڈالر کا تاوان کسی عام کرنسی کے بجائے ڈیجیٹل کرنسی ”بِٹ کوائن“Bitcoin کی شکل میں طلب کیا۔اس سائبر حملے نے ”بِٹ کوائن“ کی قیمت کو پر لگادیئے اور یوں 2017 ء میں بٹ کوائن کی شرح تبادلہ تاریخ کی بلند ترین سطح پر جاپہنچی۔2016 ء میں ایک بٹ کوائن کی مالیت 956 امریکی ڈالر تھی جو 2017 ء میں یکایک 9136 امریکی ڈالر تک ہوگئی۔بٹ کوائن کی بڑھتی قیمت نے دنیا کے بے شمار ملکوں کو ترغیب دی کہ وہ عام کرنسی کے بجائے ڈیجیٹل کرنسی کو اپنے مالیاتی نظام میں رائج کرنے کے حوالے سے کچھ عملی پیش رفت کریں۔دوسری جانب2017 ء کے اختتام پر درجنوں ممالک کی ایجادات اور اختراعات یعنی Innovation کی فہرست بلحاظ کارکردگی بھی جاری کی گئی، جس کے تحت 127 ممالک میں پاکستان 113 ویں نمبر پر رہا جبکہ2016 ء میں پاکستان کا نمبر 119 واں تھا۔ اگر ہماری سائنس و ٹیکنالوجی کے ساتھ روا رکھی جانے والی حکومتی بے توجہی کو دیکھا جائے تو جدت کے میدان میں یہ معمولی درجہ کی بہتری بھی ایک غنیمت ہے۔ اس کے علاوہ بھی آئی ٹی کے میدان پاکستان کے حوالے کئی اچھی خبریں سننے کو ملتی رہیں ایسی ہی ایک خبر کے مطابق 17 سالہ پاکستانی نوجوان سمائل حسن نے بین الاقوامی ویڈیو گیم مقابلے میں شریک ہوکر 2,401,560 ڈالر کی رقم جیت لی ہے جو پاکستانی کرنسی میں 25 کروڑ روپے سے بھی زیادہ بنتی ہے۔ اس کامیابی کے بعد سمائل دنیا کی سب سے بڑی گیمنگ کمپنی ”ای اے اسپورٹس“ کے کسی بھی مقابلے میں رقم کمانے والے تیسرے بڑے گیمر بن گئے ہیں۔ یہ مقابلہ 22 جنوری کو کروشیا میں منعقد ہوا تھا۔ واضح رہے کہ یہ مجموعی رقم انہوں نے دو سال کے عرصے میں کئی ٹورنامنٹس جیت کر کمائی ہے۔ان سب سے ہٹ کر بھی 2017 ء میں دنیا بھر میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کے میدان بہت کچھ ہوتا رہا جس کا ایک مختصر جائزہ پیشِ خدمت ہے۔

کمپیوٹر ز بدستور خوب سے خوب تر کے سفر پررہے
2017 ء کی پہلی سہ ماہی میں بلیٹیب (BLITAB) نامی ایک کمپنی نے اسی نام سے ایک ٹیبلٹ کمپیوٹر تیار کیا ہے جوایک خودکار بریل سسٹم سے لیس ہے جس کے باعث اس ٹیبلیٹ کمپیوٹر کو نابینا افراد کا ”آئی پیڈ“ بھی کہا جارہا ہے۔ یہ ٹیبلٹ کمپیوٹر ایک مخصوص نظام کے ذریعے اپنی اسکرین پر موجود عام تحریر کو بریل کوڈ میں تبدیل کردیتا ہے جو اسکرین سے منسلک ”بریل کی بورڈ“ پر ابھاروں کی شکل میں نمودار ہوجاتی ہے اور نابینا افراد اپنے ہاتھ سے چھو کر اسے پڑھ سکتے ہیں۔یہی بریل کی بورڈ استعمال کرتے ہوئے نابینا صارفین لکھ بھی سکتے ہیں اس خاص کمپیوٹر کا فائدہ پوری دنیا میں موجود لاکھوں نابینا افراد کو پہنچے گا۔صر ف یہ ہی نہیں بلکہ پروگرامنگ اور کمپیوٹنگ سیکھنے کے لیے بھی 2017 ء میں بینائی کی ضرورت باقی نہیں رہی کیونکہ مائیکرو سافٹ کارپوریشن نے نابینا افراد کو پروگرامنگ سکھانے کے لیئے ایک اچھوتے اور انتہائی منفردمنصوبے کا آغاز کر دیا ہے۔ مائیکروسافٹ کا خیال ہے کہ اس منصوبہ کی مدد سے کوڈنگ کے اچھے ماہرین پیدا ہوں گے اور اداروں میں پروگرامنگ اور کوڈنگ کے ماہرین کی بڑھتی ہوئی طلب پوری کرنے میں مدد ملے گی۔جبکہ بصارت میں خرابی یا اندھے پن کے شکار افراد کو باعزت روزگار کے اچھے مواقع بھی میسر آسکیں گے۔دوسری جانب2017 ء کے اختتامی دنوں میں چین میں دنیا کا ایک اور سب سے طاقتور سپر کمپیوٹر ”تیانہے 3“ مکمل ہوگیاجو ایک سیکنڈ میں ایک ارب یعنیOne quintillion حسابات لگانے کے قابل ہے۔اس اعتبار ے یہ دنیا کا پہلا سپر کمپیوٹر بھی ہے جو ”ایگزا اسکیل“یعنی ”1000 پی ٹا فلوپس“ کی طاقت کاحامل ہے۔ آسان الفاظ میں یوں سمجھا جاسکتا ہے کہ اگر 3 گیگاہرٹز پروسیسر اسپیڈ والے 33 کروڑ کمپیوٹروں کی طاقت یکجا کردی جائے تو یہ اکیلا سپر کمپیوٹر اس سے بھی زیادہ طاقتور ہوگا۔ خیال رہے کہ سپر کمپیوٹرزکا تعلق صرف ٹیکنالوجی کی برتری ہی سے نہیں بلکہ ایسی انتہائی پیچیدہ سائنسی مسائل پر تفصیلی تحقیق سے بھی ہے جو کسی عام کمپیوٹر سے ممکن نہیں۔جہاں 2017 ء میں ہرطرف”سپر کمپیوٹر“ کی بے پناہ طاقت کا چرچا رہا، وہیں اگست میں مائیکروپروسیسر بنانے والی مشہورِ زمانہ کمپنی انٹیل کارپوریشن نے ’کمپیوٹ کارڈ‘ کے نام سے ایک ایساکمپیوٹر پیش کردیا جس کی لمبائی اور چوڑائی ایک عام کریڈٹ کارڈ جتنی ہے۔ماہرین کی جانب سے اسے دنیا کا سب سے مختصر پرسنل کمپیوٹر بھی قرار دیا جا رہا ہے۔ جبکہ 2017 ء کے آفتاب نے غروب ہوتے ہوتے کئی دہائیوں تک طاقتور اور سب سے زیادہ کمپیوٹر چپس بنانے اور فروخت کرنے کا اعزاز انٹیل سے چھین سام سنگ کی جھولی میں ڈال دیا اور یوں گزشتہ سال سام سنگ، انٹیل کمپنی کے مقابلے میں دنیا میں سب سے زیادہ کمپیوٹر چپ بنانے اور اس سے رقم کمانے والی کمپنی بن کر اُبھری۔ پرسنل کمپیوٹر کی فروخت میں کمی اور اسی رفتار سے اسمارٹ فون اور موبائل آلات کی بڑھتی ہوئی فروخت کی وجہ سے اب انٹیل، سام سنگ سے بہت پیچھے رہ گیا ہے۔

تھری ڈی پرنٹنگ کو کام میں لانے کا وقت آگیا
مارچ میں روسی کمپنی کی جانب سے صرف 24 گھنٹے میں ایک مکمل مکان تعمیر کرنے کا عملی مظاہرہ کیا گیا۔ جس کی سب سے خاص بات یہ ہے کہ اسے ایک موبائل تھری ڈی پرنٹر سے بنایا گیا ہے۔اس تھری ڈی پرنٹر کا وزن ایک عام گاڑی جیسا اور لمبائی 20 فٹ ہے لیکن اپنی نوعیت کے لحاظ سے یہ اب بھی بہت چھوٹی مشین ہے۔ اسے بہت آسانی سے ایک سے دوسری جگہ پہنچایا جاسکتا ہے۔اس تھری ڈی پرنٹر سے 410 مربع فٹ کا ایک مکان بنایا گیا ہے جس کی مکمل تیاری میں صرف 24 گھنٹے لگے۔ جن میں اندرونی وائرنگ اور ایئرکنڈیشن انسولیشن کا کام بھی شامل ہے۔ اس پر 10 لاکھ روپے لاگت آئی ہے جو اس سائز کے گھروں پر اٹھنے والے اخراجات سے بہت کم ہے۔ جبکہ اسپین میں سائنسدانوں اور انجینئروں کی ایک ٹیم نے ایسا تھری ڈی بایو پرنٹر تیار کرلیا ہے جس سے انسانی کھال کی نقل تک ”چھاپی“ یعنی بنائی جاسکتی ہے۔یہ تھری ڈی بایو پرنٹر ہسپانوی جامعات، تحقیقی مراکز اور نجی اداروں کا مشترکہ کارنامہ ہے۔ اس کی مدد سے کاسمیٹکس، کیمیکلز اور دواؤں کی جانچ پڑتال کے لیے انسانوں کی ضرورت بھی ختم ہوجائے گی۔ماہرین کا کہنا ہے کہ مزید بہتری اور پختگی کے بعد اسی بایو پرنٹر سے جلی ہوئی یا متاثرہ کھال والے مریضوں کے لیے ان ہی کے جسمانی خلیات سے تیار کردہ جیتی جاگتی مصنوعی کھال تک بنائی جاسکے گی۔ اس تھری ڈی پرنٹر کو انسانی کھال چھاپنے کے قابل بنانے کے لیے خاص طرح کی ”حیاتیاتی روشنائی“ یعنی بایو اِنک تیار کی گئی جس میں وہ تمام ضروری خلیات شامل تھے جو انسانی کھال میں شامل ہوتے ہیں۔

موبائل فون ”اسمارٹ گیجٹس“ میں بدلنے لگے
سال دو ہزار سترہ کے عین وسط میں سعودی عرب نے موبائل فون چوری ہونے کی صورت میں ایسا سیکیورٹی نظام تیار کرلیا جو چوری ہوجانے پر موبائل فون کو صرف 10 سیکنڈ میں تباہ کرسکتا ہے۔سعودی عرب میں شاہ عبداللہ یونیورسٹی برائے سائنس و ٹیکنالوجی کے ماہرین نے یہ سیکورٹی نظام بنایا ہے۔ اس کا مقصد حساس اور اہم ترین معلومات کے حامل فون کو غلط ہاتھوں میں جانے سے روکنا ہے۔دوسری جانب اگر ہولو گرام ٹیکنالوجی کی بات کی جائے جسے پاکستانیوں کی اکثریت نے مختلف ٹی وی چینل اور پاکستان پیپلزپارٹی کے نومبر کے وسط میں ہونے والے سیاسی جلسہ میں مشاہدہ کر ہی لیا ہوگا جس میں بلاول بھٹو زرداری نے ہولوگرام ٹیکنالوجی کے ذریعے ہماری ملکی تاریخ میں پہلی بار عوامی جلسہ سے خطاب کیا۔اس ہولو گرام ٹیکنالوجی پر تحقیقات میں آسٹریلوی سائنسدانوں نے مزید ایک قدم آگے بڑھاتے ہوئے ہولوگرام بنانے کی ایک ایسی مختصر ترین ٹیکنالوجی وضع کرلی ہے جسے استعمال کرتے ہوئے ایک اسمارٹ فون اسکرین جتنے رقبے میں بھی ہولوگرام تیار کیا جاسکے یعنی اب عام ویڈیو کال کے علاوہ ”ہولوگرافک ویڈیو کال“ بھی ممکن ہوچکی ہے جس کی بدولت آپ اپنے مخاطب کی شبیہ ایسے دیکھ سکیں گے جیسے اس کا جیتا جاگتا وجود آپ کے سامنے ہو۔اس کے علاوہ اُردو زبان سے محبت کرنے والے افراد کے لیئے امریکی کمپنی ایپل نے آئی فون میں مقبول ترین اردو فونٹ ”نستعلیق“ متعارف کرا دیا جس کی مدد سے صارفین اب نستعلیق فونٹ میں اردو ٹیسکٹ وصول اور بھیج سکیں گے۔ اس سے قبل آئی فونز میں اردو زبان میں پیغامات بھیجے اور وصول کیے جا سکتے تھے تاہم اس کے لئے جو فونٹ استعمال ہوتا تھاوہ کوئی اتنا پرکشش نہیں تھا۔جبکہ اگر 2017 ء میں وائی فائی ٹیکنالوجی کے حوالے سے تذکرہ کیا جائے تو مارچ میں ہالینڈ کی اینڈہوون یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی میں ماہرین نے لائی فائی کے ذریعے 40 گیگابٹس فی سیکنڈ کی رفتار سے ڈیٹا ٹرانسفر کا کامیاب تجربہ کرلیا ہے جو دنیا کے تیز ترین وائی فائی سے بھی 100 گنا تیز رفتار ہے۔صرف یہ ہی نہیں جو ن کے مہینے میں انجینئروں نے ایک ایسا انقلابی اسپرے پینٹ بنالیاجو کسی بھی سطح کو ٹچ پیڈ میں تبدیل کرکے اسے ٹچ اسکرین میں تبدیل کردیتا ہے۔اس پینٹ کو ’الیکٹرک‘ کا نام دیا گیا ہے۔ اسے گاڑی کے اسٹیئرنگ، گٹار کی سطح اور دیوار تک پر آزما کر اسے ٹچ اسکرین میں تبدیل کیا جاسکتا ہے۔ کارنیگی میلون یونیورسٹی کے ماہرین نے اس کے ذریعے اسمارٹ فون کیس کو انٹرایکٹو بنانے کا عملی تجربہ بھی کیا ہے۔ایسے موبائل فون صارفین جو گیمز کے شوقین ہیں اُ ن کے لیئے جولائی میں جاپان کی مشہور گیمز کی کمپنی ننٹنڈو نے مشہور زمانہ گیم ”سپر ماریو رن”کا موبائل ورژن تیار کرلیا یعنی اب موبائل صارفین جب چاہیں یہ مقبول ترین گیم بالکل مفت ڈاؤن لوڈ کرسکیں گے تاہم کمپنی نے کسی حد تک اس گیم کو محدود رکھنے کی کوشش کی ہے۔ ایسے صارفین جو انٹرنیٹ کے بغیر اس گیم کوکھیلیں گے انہیں صرف 3 راؤنڈ تک رسائی دی جائے گی تاہم انٹرنیٹ کنکشن آن کرنے کے بعد صارفین مفت میں تمام راؤنڈز کھیل سکیں گے۔

گوگل کی بے مثال ذہانت کے اظہار کاسال
1997 میں گوگل کے بانی لیری پیج اور سرگئی برن کی اسٹینفرڈ یونیورسٹی میں ملاقات ہوئی جہاں انہوں نے ایک ایسا سسٹم متعارف کرانے کا فیصلہ کیا جس میں دنیا بھر کی معلومات موجود ہوں، اور پھر وجود ہوا گوگل کا! گوگل آج دنیا کا سب سے مقبول سرچ انجن ہے اور دنیا کے تقریباً تمام لوگ معلومات حاصل کرنے کیلیے گوگل ہی کا استعمال کرتے ہیں۔اس سال اپنی سالگرہ کے موقع پر گوگل نے اپنے مشہور سافٹ ویئر گوگل ارتھ میں مزید حیرت انگیز فیچرز کا اعلان کیا، جس میں 360 درجے کے ویوز کومزید بہتر بنایا گیا ہے۔گوگل ارتھ میں وائیجر ٹیب کا اضافہ بھی کیا گیا ہے۔وائیجر ٹیب کے آپشن میں سیارہ زمین دور سے ایک نیلی گیند کی مانند دکھائی دیتا ہے۔ اس کے علاوہ آپ پانچ گھروں سے دنیا کو دیکھ سکتے ہیں جن میں ایک برفانی اگلو، دوسرا بدو کا خیمہ، تیسرا ریڈ ہاؤس، چوتھا شرپا ہوم اور پانچواں گھر گرین لینڈ کے روایتی مکان کی طرح ہے۔ گوگل اسٹریٹ ویو کو بھی ایک نئے اور انوکھے انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ اگر آپ ایک مرتبہ گوگل ارتھ کا نیا ورژن دیکھیں گے تو یہ آپ کو یہاں کئی گھنٹے مصروف رکھے گا۔ اسکے علاوہ اپریل 2017 ء میں گوگل نے مصنوعی ذہانت کو استعمال میں لاتے ہوئے ایسا ذہین اور خودکار سافٹ ویئر تیار کرلیا جو آڑی ترچھی لکیروں کو تصویری فن پاروں میں تبدیل کرسکتا ہے گویا اب ہم اُس زمانہ سے بہت دور نکل آئے ہیں جب اس طرح کے احساسات رکھے جاتے تھے کہ
ایک ہم ہیں کہ لیا اپنی ہی صورت کو بگاڑ
ایک وہ ہیں جنہیں تصویر بنانا آتی ہے
یعنی اب آپ بھی گوگل کی مدد لے کر باآسانی مصور بن سکتے ہیں۔جس کے لیئے مصوری میں پیشہ ورانہ مہارت کی ضرورت نہیں بلکہ اسکرین پر صرف چند ایسی لکیریں کھینچنا کافی رہے گا جو کسی خاص شکل کی مبہم نمائندگی کرتی ہوں۔بے ہنگم لکیروں کو دیکھتے ہوئے ”آٹو ڈرا“ نامی یہ سافٹ ویئر مختلف اندازے لگاکر اسکرین کے اوپر آپ کے سامنے وہ تمام اشکال پیش کردے گا جو اس کے خیال میں آپ بنانے کی کوشش کررہے ہوں گے۔ جیسے ہی آپ کوئی شکل منتخب کریں گے، گوگل آٹو ڈرا آپ کی کھینچی ہوئی لکیروں کو اس شکل میں تبدیل کردے گا۔ آپ اس تصویر میں اپنی پسند سے رنگ بھرکر اسے مزید خوبصورت اور جاندار بھی بناسکتے ہیں۔ گزشتہ سال گوگل نے صرف اسی پر بس نہیں کیا بلکہ جدت کے میدان میں مصنوعی ذہانت سے لیس ”پکسل بڈ“ نامی وائرلیس ہیڈ فون متعارف کروا کر ایک اور تہلکہ مچادیا، یہ کوئی عام ہیڈفون نہیں بلکہ ایک مکمل جیتا جاگتا مترجم ہے جو 40 زبانوں کا ترجمہ کرنے کی بخوبی صلاحیت رکھتا ہے۔اس ہیڈفون کی مدد سے آپ کسی بھی غیر ملکی کی زبان آسانی سے سمجھ سکتے ہیں، دنیا میں کوئی بھی کہیں بھی کسی بھی زبان میں بات کرے گا تو گوگل کے نئے ہیڈفونر کا استعال کرتے ہوئے آپ اسے اُس کی زبان میں جواب دے سکتے ہیں کیونکہ یہ ہیڈفون ہر زبان سن کر، سنی ہوئی گفتگو کا ترجمہ کر دے گا، اس طرح آپ کا مخاطب بھی اس ہیڈفون کی مدد سے اردو زبان کو ترجمہ ہونے کے بعد اپنی زبان میں سمجھ سکے گا۔

حوالہ: یہ مضمون سب سے پہلے روزنامہ جنگ کے سنڈے میگزین میں 7 جنوری 2018 کے شمارہ میں شائع ہوا

راؤ محمد شاہد اقبال

اپنا تبصرہ بھیجیں