Smile Is Best Medicine for Coronavirus

کورونا کو ہرانے کے لیئے مسکرانا ضروری ہے

کورونا وائر س نے جہاں دنیا کے ہزاروں کاروبار بند کر کے لاکھوں لوگوں کو بے روزگار کردیا ہے وہیں کووڈ 19 بیماری کی وجہ سے ”عالمی عطائیوں“ کا کاروبار ایسا کھلاہے کہ گویا اُن کی لاٹری کی نکل آئی ہے۔جب دنیا کے سارے تاجر عالمگیر لاک ڈاؤن کے باعث اپنی دُکانیں بند کرکے گھروں میں دبکے بے بسی کی تصویر بنے ہوئے ہیں،اِن دگرگوں معاشی حالات میں بھی اِن عطائیوں پر آسمان سے مال و دولت کی زبردست بارش برس رہی ہے۔ یہ خوش قسمت عطائی کورونا وائرس کے نام پر اپنی دُکان ہر اُس جگہ کھول کر بیٹھے ہوئے ہیں،جہاں جہاں تک ابھی بھی آپ کی رسائی ہوسکتی ہے۔ بطورِ خاص الیکٹرانک میڈیا اور سوشل میڈیا پر تو یہ عطائی کورونا وائرس کے علاج کے لیئے ایسے ایسے دیسی،بدیسی،ٹونے،ٹوٹکے اورآزمودہ نسخے پیش کررہے ہیں کہ بس رہے نام اللہ کا۔ اگر اِن عطائیوں کے دعووں پر یقین کرلیا جائے جیسا کہ اَب تک لاکھوں سادہ لوح افراد کر بھی چکے ہیں تو کورونا وائرس کے اتنے زیادہ علاج دریافت کیا جاچکے ہیں کہ شاید اتنے تو کورونا وائرس کے دنیا بھر میں مریض بھی نہ ہوں۔ہمارے اردگر گرد موجود اِن عطائیوں کے نزدیک تو کوورنا وائرس کا علاج لہسن سے بھی کیا جاسکتاہے اور پیاز سے بھی جبکہ وٹامن سی کی گولیاں بھی پانی کے ساتھ بطورِ دوا لی جاسکتی ہیں اور پسی ہوئی مرچیں سبز چائے میں ڈال کر پینے سے بھی کورونا وائرس کو دن میں باآسانی تارے دکھائے جاسکتے ہیں۔ اگر اِس کے باوجود کورونا وائرس کے علاج میں کوئی ہلکی پھلکی کسر رہ جائے تو پھر اِن عطائیوں کی ایجاد کردہ مصنوعات اور ادویات کو بھی آزمایا جاسکتاہے۔ جو تھوڑی سی مہنگی سی ضرور ہیں مگر اتنی بھی نہیں جتنی کہ آپ کی اور ہماری زندگی ہے۔
کورونا وائرس کے علاج کے نام پر کیا کچھ ایسا ہے جو اَب تک ”عالمی عطائیوں“ کی طرف سے پیش نہیں کیا جاچکا ہے۔ مگر ایک شئے جو واقعی کووڈ 19 کی بیماری اور اِس کے نتیجے میں انسانی جسم پر مرتب ہونے والے مضر اثرات سے بچا ؤ میں مدد گار ثابت ہوسکتی تھی۔ اُس کا کہیں ذکرِ خیر ہی نہیں ہورہا۔ ہماری مراد حضرتِ انسان کے چہرے کی اُس دل کش و دل نشین مسکراہٹ سے ہے جو کورونا وائرس کے نزول کے بعد اچانک سے کہیں غائب ہوگئی ہے۔ شاید انسانوں کو اندازہ نہیں ہے کہ اُن کے سپاٹ اور اُداس چہروں پر ہنسی کی واپسی ہی کورونا وائرس کو زمین سے واپس آسمان پر لوٹ جانے کا راستہ دکھاسکتی ہے۔ قبل اِس کے کہ ہمارے اِس مسکراہٹ بکھیرتے ہوئے جملہ پر بھی کوئی ناعاقبت اندیش، یاوہ گوئی یا بے پرکی بات کی تہمت دھر دے۔ کیوں نا! حفظِ ماتقدم کے طورپر زیرنظر مضمون میں کھل کھلا کر ہنسنے کے وہ تما م صحت افزا فوائد بیان کردیئے جائیں، جن پر مہر تصدیق سائنس کے دبستان سے بھی ثبت فرمائی جاچکی ہے۔

مسکراہٹ سے قوتِ مدافعت کو مضبوط بنائیں
دنیا کے تمام سائنس دانوں اور طبی ماہر ین اجماع ہے کہ کورونا وائرس سے بچنے کے لیئے سب سے زیادہ موثر ہتھیار انسان کی قوتِ مدافعت ہے اور کووڈ 19 کی بیماری سے صحت یابی میں سب سے فیصلہ کُن کردار قوت ِ مدافعت کا ہی ہے۔ شاید اِسی لیئے دانش و بنیش حلقوں کی جانب سے بار بار یہ زریں قول بتانے اور ذہن نشین کروانے کی کوشش کی جارہی ہے کہ کورونا وائرس کے ٹیسٹ کا نتیجہ مثبت آجانے کے بعد گھبرانے کی کوئی بات نہیں ہے۔ بلکہ کورونا وائرس کی تشخیص ہوجانے کے بعد تو خوش رہنا اور بھی زیادہ ضرور ی ہوجاتاہے کیونکہ نیشنل کینسر انسٹیوٹ کے مطابق مسکراہٹ ذہنی خلجان کو کم کرنے اور قوتِ مدافعت کو بڑھانے والے ہارمونز جیسے این کے سیل،بی سیل اور ٹی سیل کی کارگردگی کو بہتر بنانے میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ یوں سمجھ لیجئے کہ چند لمحوں کی مسکراہٹ سے انسان اپنی قوت مدافعت میں جتنا اضافہ کرسکتاہے، شاید اُتنا اضافہ تو ایک ہفتہ تک مسلسل ملٹی وٹامنز کی گولیاں کھانے سے بھی نہ ہو۔اِس لیئے کورونا کے پُرفتن دور میں زندگی بسر کرنے کا سب سے بہتر طریقہ یہ ہے کہ اپنے چہرے سے مسکراہٹ کو زیادہ دیرتک غائب نہ ہونے دیاجائے۔ کیونکہ ہنستے مسکراتے شخص سے تو کوروناوائرس بھی خوب خوف کھاتاہے۔



مسکراہٹ بلڈ شوگر لیول کو متوازن بناتی ہے
کووڈ 19 بیماری کے متعلق طبی ماہرین کی رائے ہے کہ یہ مرض ذیابطیس یا عرف عام شوگر کے مریضوں کو بہت زیادہ اور خطرناک حد تک متاثر کرسکتاہے۔ کیونکہ ذیابطیس کے مریضوں کا مدافعتی نظام صحت مند انسانوں کے مقابلے میں بہت کمزور ہوتا ہے۔ یہ بات ذیابیطس ٹائپ ون اور ٹائپ ٹودونوں طرح کی بیماریوں کے مریضوں پر صادق آتی ہے۔ ٹائپ ون ذیابیطس میں اینٹی باڈیز جسم میں انسولین تیار کرنے والے خلیات کو نقصان پہنچاتی ہیں۔ اس بیماری میں انسولین کی ناکافی مقدار کی وجہ سے مریض کے جسم میں شوگر لیول مستقل طور پر زیادہ رہتا ہے۔ یہ عمل انسانی جسم کی مدافعتی قوت کو مستقل بنیادوں پر کم کر دیتا ہے۔ایسے حالات میں شوگر کے کسی مریض پر اگر کورونا وائرس کا حملہ ہو جائے، تو نتیجہ بہت خطرناک بھی ہو سکتا ہے۔ اس بات کا اطلاق ان مریضوں پر بھی لاگو ہوتا ہے، جو شوگر کے مریض ہوں اور چاہے اس مرض کے خلاف باقاعدگی سے ادویات بھی استعمال کر رہے ہوں۔مگر اچھی با ت یہ ہے کہ مسکراہٹ ذیابطیس کے مریضوں کے لیئے بھی ایک بہترین شفابخش علاج ہے اور 2012 میں کیئے گئے ایک تجرباتی مطالعے میں یہ حیران کن نتیجہ طبی ماہرین کے سامنے آیا ہے کہ ذیابطیس کے وہ مریض جو خوش مزاج تھے اور مسکرانے میں کنجوسی سے کام نہیں لیتے تھے۔ایسے مریضوں میں بلڈ شوگر لیول اُن مریضوں کی بہ نسبت مسلسل متوازن اور بہتر رہتا تھا، جو ہنسی مذاق سے اجتناب کرتے تھے۔

مسکراہٹ خون کے بہاؤ کو بہتربناتی ہے
ایک رپورٹ کے مطابق اٹلی،اسپین اور جرمنی میں بلند فشار خون یعنی ہائی بلڈپیشر کے مریضوں کو کورونا وائرس کی وجہ سے سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے اور اِن ممالک میں کووڈ 19 بیماری سے ہلاک ہونے والے بیشتر افراد ہائی بلڈ پریشر کے مرض میں مبتلا پائے گئے تھے۔ جس کے بعد سائنس دان اِس نتیجہ پر پہنچے کہ کورونا وائرس کے مریضوں کے لیئے ہائی بلڈ پریشر کا نتیجہ بھی کئی طرح کے اضافی خطرات کا سبب بن سکتاہے۔ کیونکہ ہائی بلڈ پریشر کی وجہ سے انسانی جسم کو تازہ خون فراہم کرنے والی شریانوں کو مستقل بنیادوں پر نقصان پہنچتا ہے۔ایسی صورت میں کورونا وائرس کا حملہ مریض کی زندگی کے لیے ایک بڑا امتحان بن جاتا ہے اور مریض کو علم اس وقت ہوتا ہے جب اُسے ہارٹ اٹیک ہوجاتا ہے یا کوئی دماغی شریان خون کے دباؤ کی وجہ سے پھٹ جاتی ہے۔مگر یہ خطرات بلڈپریشر کے اُن مریضوں کو بہت کم لاحق ہوتے ہیں جن کے چہرے اکثر و بیشتر مسکراہٹ سے سجے رہتے ہیں۔ایسا کہنا ہے یونیورسٹی آف میری لینڈ سینٹر کے طبی ماہرین کا۔ جنہوں نے یہ نتیجہ کئی برسوں تک کی گئی سائنسی تحقیق سے اخذ کیاہے۔ جس کے مطابق روزانہ چار،پانچ بار کھل کر ہنسنے سے بلند فشار خون کے مریضوں میں خون کابہاؤ ناقابلِ یقین حد تک بہتر ہوجاتاہے۔

مسکرائیں کیونکہ یہ دل کا معاملہ ہے
چین، اٹلی اور امریکا سے جو تازہ ترین اعدادو شمار سامنے آرہے ہیں،اُن کو دیکھ کر امراض قلب کے ماہرین کو یقین ہوچلا ہے کہ کووڈ 19 بیماری دل کے پٹھوں کو بھی متاثر کرتی ہے۔اَب تک کی ابتدائی تحقیق میں کورونا وائرس کے ہر 5 میں سے ایک مریض میں دل کو ہونے والے نقصان کو دریافت کیا گیا، جو بعد ازاں ہارٹ فیلیئر یا موت کی جانب لے جاتا ہے، حیران کن طور پر ان میں سے بیشتر مریضوں میں تنفس کے مسائل ظاہر نہیں ہوئے۔اِس تحقیق سے یہ عندیہ ملتا ہے کہ کورونا وائرس پھیپھڑوں کے مخصوص ریسیپٹرز سے منسلک ہوتا ہے اور یہی ریسیپٹرز دل کے پٹھوں میں بھی دریافت کیے گئے ہیں۔علاوہ ازیں چند روز قبل چین کے ماہرین نے اِسی مناسبت سے2 تحقیقی رپورٹس جاری کی ہیں،جس میں کووڈ 19 کے مریضوں میں دل کے مسائل کے بارے میں تفصیل سے بتایا گیا ہے۔اِس تحقیق میں طبی محققین نے ہسپتال میں زیرعلاج 416 کورونا وائرس سے متاثرہ مریضوں میں سے 19 فیصد میں دل کو نقصان پہنچنے کی علامات واضح طورپر محسوس کیں،جس کے نتیجے میں کورونا وائرس کے باعث موت کا خطرہ بڑھ گیا۔جبکہ کورونا وائرس کے ایسے مریض جن کے دل کو نقصان پہنچا ان میں موت کی شرح 51 فیصد تھی۔لہٰذا طبی ماہرین کا مشورہ ہے کہ دل کے مریضوں میں اگر کورونا وائرس تشخیص ہوجائے تو انہیں اپنے دل کا بہت زیادہ خیال رکھنا چاہئے۔اِس سلسلے میں ادویات، ورزش اور اچھی خوراک کے ساتھ ساتھ اگر آپ مسکراتے بھی رہیں تو کیا ہی اچھی بات ہو۔اَب آپ چاہے جھوٹ مو ٹھ ہی ہنسیں لیکن ہنسیں ضرور کیونکہ آپ کی مسکراہٹیں ایک صحت مند دل کا باعث بنتی ہیں۔یونیورسٹی آف میری لینڈ میڈیکل سینٹر کی تحقیق کے مطابق مسکرانے سے ہمارے جسم میں کئی طرح کے ہارمون پیدا ہوتے ہیں۔جن میں آڈرینلین اور کارٹیزول بھی شامل ہیں۔ آڈرینیلن سے دل کی دھڑکن اور بلڈ پریشر میں بہتری آتی ہے۔ جب کہ کارٹیزول سٹریس یا دباؤ کا کلیدی ہارمون ہے جس سے خون کے بہاؤ میں شکر کا تناسب بہتر ہوجاتاہے۔ جس کی وجہ سے دل کے معاملات40 فیصد تک درست رہتے ہیں۔ طبی ماہرین کہتے ہیں کہ ایک گھنٹے میں کم سے کم بیس بار مسکرائیں،ویسے یہ تعداد بہت زیادہ معلوم ہوتی ہے لیکن آخر مسکرانے میں ہرج ہی کیا۔ذہن نشین رہے کہ آپ کی مسکراہٹ جہاں آپ کے دل کے لیئے مفید ہوتی ہے،وہیں یہ مسکراہٹ دوسروں کے مزاج کو ٹھیک رکھتی ہے۔

کیوں نا!آج مسکراتے،مسکراتے سو جائیں
جب سے کورونا وائرس نے دُنیا کو اپنی لپیٹ میں لیا اور اِس عالمی وبا کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے دُنیا بھر میں لاک ڈاؤن نافذ کرنے کی احتیاطی حکمت عملی کو اختیار کیا گیا ہے۔لاک ڈاؤن سے جہاں کورونا وائرس کے پھیلاؤ میں خاطر خواہ کمی واقع ہونے کے شواہد میسر آئے ہیں،وہیں لاک ڈاؤن کے بعد سے گھروں میں قید بعض افراد کی آنکھوں سے نیند کی دیوی روٹھ گئی ہے کیونکہ کورونا وائرس کے خوف، ہر وقت کی فراغت سے پیدا ہونے والی بے چینی اور بے روزگاری کی اُلجھنوں کی وجہ سے اکثر لوگ مایوسی کا شکار ہوکر شدید بے خوابی کے مرض میں مبتلا ہوگئے ہیں۔جس کی وجہ سے اِن لوگوں کی قوتِ مدافعت رفتہ رفتہ کمزور ہوتی جارہی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ بھر پور نیند کا براہِ راست تعلق ہماری قوت مدافعت سے ہے اگر ہم اپنی نیند پوری کریں گے تو اُس صورت میں ہی ہماری قوت مدافعت مضبوط ہوگی اور ہم کورونا وائرس سے بھی بچ سکتے ہیں۔ کیونکہ جب ہم سوتے ہیں تو ہمارے جسم میں ایک پروٹین پیدا ہوتا ہے جس کا نام ”سائٹوکائنز‘‘ ہے، اِس پروٹین کے ساتھ دوسرے پروٹینز کا ایک بڑا گرو ہ ہوتا ہے جو ہمارے قوت مدافعت کے خفیہ خلیوں میں چُھپ کر انفیکشن اور سوزش جیسی بیماریوں سے لڑ رہے ہوتے ہیں۔ماہرین کے مطابق نیند کا اچانک سے غائب ہونے کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہم نے مسکرانا چھوڑ دیا ہے۔کیونکہ ہماری مسکراہٹ Serotininکو افزودگی میں بھی نہایت اہم کردار ادا کرتی ہے۔ واضح رہے کہ Serotininایک Neuro Hormoneہے جو کہ نیند، تکلیف، مزاج اور خود اعتمادی بحال کرنے میں نہایت ممد اور معاون ہوتا ہے۔ یعنی مسکراہٹ ایک ایسی نیند آور قدرتی دوا ہے جو کہ بے خوابی کو دور کرتی ہے اور نیند کو ہماری آنکھوں کے قریب لاتی ہے۔پھر کیوں نہ آج سے ہم سب ہی مسکراتے مسکراتے سونے کی عادت ڈال لیں۔

مسکراہٹ طویل زندگی کی ضامن بھی
زیادہ مسکرانا درحقیقت آپ کی عمر بڑھا دیتا ہے۔یعنی مسکراتے رہنے والے لوگ نہ صرف زندگی سے زیادہ لطف اندوز ہوسکتے ہیں بلکہ ایک نئی تحقیق کے مطابق وہ ایک لمبی زندگی بھی پاتے ہیں۔برطانیہ میں ایک طویل مدت تک کی جانے والی تحقیق میں تقریباََ چار ہزار زیر مشاہدہ افراد سے کہا گیا ہے کہ وہ کسی ایک مخصوص دن کے اپنے احساسات کا حساب رکھیں۔اِس تحقیق کے لیے بہت سادہ طریقے استعمال کیے گئے۔”مثبت اثرات کے کے لیے پیمانہ مختلف مشاہدوں کا مجموعہ تھا۔ خوش رہنے والے لوگ کیا محسوس کرتے تھے،ان احساسات کے دوران وہ اپنے آپ میں کتنی گرم جوشی محسوس کرتے تھے اور وہ کس قدر مطمئن تھے۔ اوران سب کوپانچ نکات پر مشتمل ایک سادہ پیمانے پر پرکھا جاتا۔“اگلے پانچ سالوں کے دوران محقیقین نے زیرمشاہدہ افراد میں اموات کی شرح پر نظر رکھی۔ ”اس عرصے کے دوران سائنس دان اس نتیجے پر پہنچے کہ جن لوگوں کے مزاج میں خوش مزاجی یا مسکرانے کی عادت زیادہ تھی ان کی موت کے امکانات کم رہے اور زیادہ ہنسی مذاق کرتے رہنے والے لوگوں کے مقابلہ میں دوسرے گروہ یعنی ہر وقت سنجیدہ رہنے والے افراد میں مرنے کے خطرات 35 فیصد تک بڑھ گئے تھے۔ایسی ہی ایک تحقیق امریکا کی وینی اسٹیٹ یونیورسٹی کی جانب سے بیس بال کھلاڑیوں پر کی گئی تھی۔ جس میں یہ بات سامنے آئی کہ جو کھلاڑی زیادہ مسکراتے ہیں ان کی اوسط عمر لگ بھگ 80 سال ہے جو امریکا کے عام شہریوں کی اوسط عمر سے دو سال زائد ہے۔اسی طرح مسکراہٹ سے دور رہنے والوں کھلاڑیوں کی اوسط عمر 73 سال رہنے کا تخمینہ لگایا گیا۔اس کا سادہ سا مطلب یہ ہوا کہ چند لمحوں کی ہنسی سے باآسانی طبعی عمر کی دوڑ کو دراز کیا جاسکتاہے۔یوں اچھی خوراک کے ساتھ دل فریب مسکراہٹ کو بھی اپنی عادتِ ثانیہ کا لازمی حصہ بنالینے سے زندگی میں ممکنہ طور پر کچھ برس تو باآسانی بڑھائے ہی جاسکتے ہیں۔

ہردرد کے دوا ہے مسکراہٹ
ہم اکثروبیشتر کبھی کہیں تو کبھی کہیں درد میں مبتلا رہتے ہیں، جب کہ کورونا وائرس سے متاثرہ مریض میں ظاہر ہونے والی بنیادی علامات میں سے ایک سردرد کی علامت بھی ہے۔ مگر اَب درد جسم میں کہیں بھی اور کسی بھی وجہ سے ہو گھبرانے کی قطعی ضرورت نہیں ہے کیونکہ یونیورسٹی آف آکسفورڈ کے طبی ماہرین کے ایک تحقیقی مقالے کے مطابق ہنسنے سے ہر طرح کے درد میں واضح کمی واقع ہوسکتی ہے۔تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ 5 سے 10 منٹ تک وقفہ وقفہ سے مسکرانے سے اینڈوفن نامی کیمیکل انسانی جسم پیدا ہوتا ہے۔ جو جسم میں درد کا باعث بننے والے ہارمونز کو معتدل کردیتا ہے۔یوں جسم درد کے متاثرہ مقام پر راحت و آرام محسوس کرنے لگتاہے۔ پس اگلی مرتبہ آپ کو سردرد کی شکایت محسوس ہوتو اپنے معالج سے رجوع کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے چہرے پر مسکراہٹ سجانے کی کوشش بھی ضرور کیجئے گا ہوسکتا ہے کہ اِس طرح آپ کا سردرد بغیر کسی دوا کے ہی رفع ہوجائے۔ ہمارے خیال میں درد کو آرام پہنچانے کا اِس سے سستا،آسان اور فوری نسخہ کوئی ہو ہی نہیں سکتا۔

مسکراہٹ ایک ورزش
مسکرانے سے چہرے کے 123، گردن کے 60 اور پیٹ کے 90 مسلز ہلتے ہیں اور اِن کی اچھی خاصی ورزش ہوجاتی ہے۔ اَب جو شخص کبھی مسکراتا نہیں ہے اُس کے یہ درج بالا مسلز جامد رہنے کی وجہ بے شمار عوارض کی آماجگاہ بن جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر مصر میں کی گئی ایک سائنسی تحقیق کے مطابق ہر وقت سنجیدگی اور خفگی کے نتیجہ میں آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے،گردن کے گرد جھریاں اور پیٹ کے اطراف میں اضافی چربی جیسی مسائل کا سامنا ہو سکتا ہے۔اِن مسائل پر بیک وقت قابو پانے کا سب سے آسان اور سستا علاج صرف مسکرانا ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ جدید سائنس میں کھلکھلا کر ہنسنے کو بھی باقاعدہ ورزش تصور کیا جاتاہے اور مغربی ممالک میں بے شمار ایسے کلینکس قائم ہوچکے ہیں جو لوگوں کو بھاری فیسوں کے عوض درست انداز میں ہنسنا سکھاتے ہیں۔ طبی اصطلاح میں مسکرانے کی اِس ورزش کو ”لافنگ تھراپی“ کے منفرد نام سے پکارا جاتاہے۔

وبا کے دنوں میں مسکراہٹ کے ہدیے
حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ تعالی عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ”تمہارا اپنے مسلمان بھائی کے لیئے مسکرا دینا بھی صدقہ ہے“۔ اب سائنس نے بھی اس حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو صحیح ثابت کردیا ہے۔معروف بین الاقوامی ٹیک کمپنی ہیولیٹ پیکارڈ کی ایک تحقیق کے مطابق کسی دوست، رشتے دار بلکہ کسی اجنبی کے چہرے پر مسکراہٹ دیکھنے سے بھی ہمارے دل اور دماغ میں ایسی خوشی کی لہر پیدا ہوتی ہے جو چاکلیٹ کھانے یا پیسوں کے حصول وغیرہ سے بھی زیادہ طاقتور اور مفید ہوتی ہے۔ خاص طور پر کسی بچے کی مسکراہٹ کو دیکھنا زیادہ فائدہ مند ثابت ہوتا ہے۔
تحقیق میں یہ بھی نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ مسکراہٹ ایک سے دوسرے فرد تک باآسانی منتقل ہوجاتی ہے، یعنی جب کوئی مسکراتا ہے تو اسے دیکھ کر دوسرے فرد کیلئے اپنی مسکراہٹ کو روک پانا بہت مشکل ہوجاتا ہے۔یوں ایک شخص کی مسکراہٹ لمحہ بھر میں پورے ماحول زعفران زار بنادیتی ہے۔ سائنس دانوں کا ماننا ہے کہ ایک انسان جب کسی کو مسکراتے دیکھتا ہے تو دوسرے انسان میں بھی مسکراہٹ کے اعصابی پٹھے Mirror Neurons حرکت میں آجاتے ہیں۔ دراصل Mirror Neuronsایک انسان کو دوسرے انسان کے جذبات پہچاننے میں مدد کرتے ہیں اور انہیں اعصابی پٹھوں کی وجہ سے ایک مسکراہٹ دوسری مسکراہٹ کو اپنی طرف کھینچتی ہے۔علاوہ ازیں تحقیقات کے نتائج نے یہ بھی ثابت کیا ہے ایک مسکراہٹ Neuro Transmittersمیں ہیجان پیدا کرنے کی اتنی ہی صلاحیت رکھتی ہے جتنی کہ 2000چاکلیٹس۔یادر ہے کہ چاکلیٹ ایک نہایت ہی لذت آمیز خوراک اس لئے گردانی جاتی ہے کیونکہ یہ Serotinin Dopamineاور Endorphinsکو متحرک کرتی ہے۔ جب کہ انسانی مسکراہٹ ہزاروں چاکلیٹس سے بھی زیادہ مفید ہوتی ہے۔ اِس لیئے ہماری گزارش ہے کورونا وائرس کی عالمی وبا کے دنوں میں اپنے اردگرد پریشان حال اور تفکرات میں گھرے لوگوں میں مسکراہٹ کے ہدیے زیادہ سے زیادہ سے تقسیم فرمائیں تاکہ ہرجگہ مایوسی کے بجائے اُمید کی فصلیں لہلہائیں۔

حوالہ: یہ مضمون سب سے پہلے روزنامہ ایکسپریس کے سنڈے میگزین میں 17 مئی 2020 کے شمارہ میں شائع ہوا۔

راؤ محمد شاہد اقبال

اپنا تبصرہ بھیجیں