Water Problem in Sindh

سندھ واٹر کمیشن کے نئے روح فرسا انکشافات

سندھ میں پانی کے بحران کے حل کے لیئے سپریم کورٹ آف پاکستان نے شہریوں کو صاف پانی کی فراہمی اور نکاسی آب کے نظام کے جائزے اور حل کے لیئے جو واٹر کمیشن تشکیل دیاہے،اُس کے کام کا اگر ماضی میں قائم کئے گئے کمیشنز کی کارکردگی سے موازنہ کیا جائے تو بلاشبہ اب تک کی کارروائی کو انتہائی متاثر کن اور نتیجہ خیز کہا جاسکتا ہے۔ جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ سندھ واٹر کمیشن کے سربراہ جسٹس (ر) امیرہانی مسلم ہائی کورٹ میں کمیشن کی سماعت کرنے کے ساتھ ساتھ حقیقت حال کا درست اندازہ کرنے کے لیئے میدانِ عمل میں بھی اُترے ہوئے ہیں،سندھ واٹر کمیشن کے سربراہ مسلسل سندھ بھر میں ہنگامی دورے کر رہے ہیں اور پانی کے بحران کا شکار ہر علاقے میں خود جاکر وہاں کے لوگوں کو پیش آنے والے مسائل و پریشانیوں کا اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کررہے ہیں۔سندھ واٹر کمیشن کے سربراہ کے حالیہ دوروں نے سندھ میں پانی کے بحران میں حکومتی اداروں کے براہِ راست ملوث ہونے کے ہولناک انکشافات بھی سامنے آرہے ہیں جس سے معلوم ہورہا ہے کہ سندھ میں پانی کی فراہمی کے مسائل اُس صورتحال سے بھی کہیں زیادہ سنگین ہے جو مختلف حکومتی اداروں کی طرف سے سپریم کورٹ کے سامنے پیش کی جاتی رہی ہے۔
گزشتہ دنوں سپریم کورٹ کی جانب سے قائم کردہ واٹرکمیشن کے سربراہ جسٹس ریٹائرڈ امیرہانی مسلم نے ریمارکس دیے کہ کراچی کوتباہ کرنے میں بڑا ہاتھ کے ڈی اے کاہے،1956 کے ماسٹر پلان پر جعلی مہر لگی ہوئی ہے، گجر نالے کی چوڑائی کیسے کم کردی گئی،کون ہے جو اس شہر کی حفاظت کرسکے؟کے ڈی اے اور کے ایم سی بھی حکومت کے ادارے ہیں،اداروں کی مانیٹرنگ کے لیے بھی تو کوئی ہوگا؟جو بھی کام کرنا ہو کسی ایک ادارے سے کرانے ہوں گے، گجرنالے کی چوڑائی کم کرنے پر کمیشن نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ گجرنالے کی چوڑائی کم کردی گئی ہے،یہ ایک سنگین مسئلہ ہے، تمام ادارے بیٹھ کر اس مسئلے کو حل کریں ورنہ لکھ کردیں،سپریم کورٹ تو اس معاملے کا کمیشن سے پوچھے گی، سندھ واٹرکمیشن نے ریمارکس دیے کہ ڈپٹی کمشنر ملیرایک نااہل شخص کو لگادیا گیا ہے،ڈپٹی کمشنرملیرنے کروڑوں روپے کا نقصان کیا ہے انہیں عہدے سے ہٹانے کا نوٹیفکیشن جاری کرکے رپورٹ پیش کی جائے۔واٹر کمیشن نے جونیئر افسر کو ڈی جی رورل ڈیولپمنٹ اتھارٹی لگانے پرسیکریٹری سروسزکی سرزنش کرتے ہوئے ڈی جی رورل ڈیولپمنٹ اتھارٹیز کو عہدے سے ہٹانے کا حکم دے دیا۔میئرکراچی وسیم اختر نے واٹر کمیشن کو بتایا کہ شہر تاروں کا جنگل بنا ہوا ہے،کراچی کے نظام کو مختلف ادارے کنٹرول کرتے ہیں،معمولی کاموں پر فٹ پاتھ اور سڑک کھود دی جاتی ہے،کے الیکٹرک،سوئی گیس اور پرائیویٹ کمپنیوں کو بھی وارننگ دی جائے،کوئی بھی کمپنی بغیراجازت فٹ پاتھوں اورسڑکوں کی کھدائی نہ کرے۔ڈی جی سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے کمیشن کو بتایا کہ عبداللہ ہارون روڈپرنجی ہوٹل کے قریب فٹ پاتھ پرکچراہے۔سربراہ کمیشن نے کہا کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے افسران سورہے ہیں؟کھدائی کاکہیں بھی مواد نظرآیا تو ذمہ دارسندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی ہوگی،ترقیاتی کاموں کے فوری بعد سڑکوں سے مٹیریل ہٹادیا جائے۔
جبکہ دوسری جانب ہائی کورٹ میں واٹر کمیشن کی سماعت میں واٹرکمیشن کی کارروائی جسٹس (ر) امیر ہانی مسلم کی سربراہی میں ہوئی کچرا اٹھانے والی چینی کمپنی کے عہدیداران بھی کمیشن میں پیش ہوئے ایم ڈی سائٹ، ایس ایس پی غربی، چینی کمپنی کی نمائندہ سولڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کے حکام، کراچی کے تمام ڈی ایم سیز کے چیئرمین بھی کمیشن میں پیش ہوئے چیئرمین بلدیہ وسطی ریحان ہاشمی نے موقف اختیار کیا ہمارے پاس کچرا اٹھانے کی مشینری نہیں ہمارا سولڈ ویسٹ مینجمنٹ پر شدید اعتراض تھا انتہائی مجبوری میں سولڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کو قبول کیا۔کمیشن سربراہ نے استفسار کیا کہ آپ کی مجبوریاں کیا ہیں سندھ حکومت سے آپ کے کیسے تعلقات ہیں ضلع وسطی میں ہر جگہ کچرا پڑا ہے 1209 جھاڑو دینے والوں میں سے کتنے مسلمان ہیں، ریحان ہاشمی نے بتایا 200 مسلمان جھاڑو دینے والے ہیں، کمیشن نے ریمارکس دیے کہ جو مسلمان گٹر صاف کرتے ہیں انھیں فوری نکالیں۔کمیشن کے سربراہ جسٹس (ر) امیر ہانی مسلم نے کہا کہ سیاسی بھرتیاں ہوں گی تو معاملات خراب ہوں گے کمیشن نے استفسار کیا سویپرز کی پوسٹ پر مسلمان کیسے بھرتی ہوئے، ضلع وسطی میں جا کر دیکھیں کہیں صفائی نہیں چیئرمین بلدیہ وسطی ریحان ہاشمی نے موقف اختیار کیا کہ ملازمین کی کمی کا سامنا ہے۔سیکریٹری بلدیات محمد رمضان نے موقف اختیار کیا کہ ڈسٹرکٹ میونسپل کارپوریشنوں کے 50 فیصد ملازمین نوکری پر آتے ہی نہیں ملازمین کی کمی کا معاملہ بعد میں جو ہیں وہ تو نوکری پر آئیں ریحان ہاشمی نے کہا کہ نکاسی آب کے نظام کی خرابی کے باعث سڑکیں تباہ ہورہی ہیں کچرا نہ اٹھائے جانے پر شہری سڑکوں پر کچرا پھینک رہے ہیں۔
چینی کمپنی کے ٹھیکے دار کمیشن کے سامنے پیش ہوئے کمیشن نے ریمارکس میں کہا کہ ضلع جنوبی میں چین کی کمپنی کی کارکردگی صفر ہے کمیشن نے چینی کمپنی کے ٹھیکیدار سے سوال کیا آپ کے پاس کچرا اٹھانے والی کتنی گاڑیاں ہیں کمپنی کے ٹھیکیدار نے بتایا 90 گاڑیاں کچرا اٹھارہی ہیں کمیشن نے ریمارکس دیے یہ 90 گاڑیاں کہاں ہیں یہ گاڑیاں کب کہاں سے کچرا اٹھاتی ہیں تفصیلات پیش کریں جب تک گاڑیوں کی تفصیل پیش نہیں کی جائے گی ٹھیکیدار یہاں سے نہیں جائے گا۔کمیشن کے سامنے چین کی کمپنی کا چینی افسر اور ترجمان پیش ہوئے چین کی کمپنی کے منیجر کے پیش ہونے پر کمیشن نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مالک کہاں ہے کیوں پیش نہیں ہوا یہ کمپنی کہاں ہے، لگتا ہے یہ کمپنی ادھر ادھر ہے کمیشن کے سامنے سیکریٹری بلدیات محمد رمضان چین کی کمپنی کے خلاف بول پڑے اور کہا کہ یہ ایجنٹ ہیں اصل مالکان کا پتہ نہیں۔سیکریٹری بلدیات نے کہا کہ ضلع شرقی میں بھی یہی کمپنی کچرا اٹھارہی ہے منیجر کمپنی نے بتایا کہ چین کی کمپنی کا مالک عبدالعزیز ہے جو چینی باشندہ ہے دوسری چین کی کمپنی کے سی ای او کمیشن کے سامنے پیش ہوئے سی ای او نے بتایا کہ ملیر اور ضلع غربی سے کچرا اٹھارہے ہیں دونوں اضلاع میں 80 گاڑیاں کچرا اٹھا رہی ہیں۔کمیشن نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملیر کی میں سٹرک پر کچرا خود دیکھا کمیشن نے ریمارکس دیے کہ آپ کی کارکردگی بھی اطمینان بخش نہیں۔ چینی کمپنی کی خاتون سی ای او نے کہا کہ میں انھیں کہتی ہوں کہ کام ایسے کرو مگر ملازمین کام نہیں کرتے کمیشن نے استفسار کیا کہ کیا آپ نے تحریری شکایت کی؟سی ای او نے کہا کہ متعلقہ حکام کو بار بار لکھ کردیا ملازمین اور ڈرائیور تعاون نہیں کرتے سیکریٹری بلدیات نے بتایا کہ ہم ملازمین کے خلاف کارروائی کرتے ہیں تو یونین اڑے آجاتی ہے۔کمیشن سربراہ نے استفسار کیا کہ کیا تھانے بند ہو گئے ہیں جو ملازمین دھمکیاں دے رہے ہیں ان کے خلاف مقدمات درج کرائیں۔ چین کی دوسری کمپنی کے افسران نے بتایا کہ ڈی ایم سیز کے ملازمین صرف 2 گھنٹے کام کرتے ہیں اور تنخواہ پوری مانگتے ہیں ان ملازمین کے پیچھے یونین کا ہاتھ ہے اس حوالے سے چیئرمین بلدیہ غربی نے بتایا کہ ملازمین 12 بار ہڑتال کرچکے ہیں یہ ایک مافیا ہے۔

حوالہ: یہ مضمون سب سے پہلے ہفت روزہ ندائے ملت لاہور 19 اپریل 2018 کے شمارہ میں شائع ہوا

راؤ محمد شاہد اقبال

اپنا تبصرہ بھیجیں