Sindh Water Commision Muslim Hani

سندھ واٹر کمیشن کے انقلابی اقدامات

عوامی مقبولیت‘ شاندار کارکردگی اور مثالی ساکھ کی بدولت جب سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج جسٹس امیر ہانی مسلم کو سندھ واٹر کمیشن کا نیا سربراہ مقررکیا گیا تو وکلاء برادری سمیت سول سوسائٹی اور عوامی سطح پر اس فیصلے کا زبردست خیر مقدم کیا گیاتھا۔اُس وقت سندھ کے اچھی شہرت کے حامل سرکاری افسران نے بھی اس تقرری کو سندھ کے مستقبل کے لیئے انتہائی خوش آئند قرار دیاتھا۔ البتہ کرپٹ عناصر کی صفوں میں کھلبلی ضرور مچ گئی اور کئی ایک کے چہرے فق ہوگئے‘ کیونکہ ان کو اپنی شامت آتی نظر آرہی تھی۔یہ لوگ ہائی کورٹ سے لے کر سپریم کورٹ تک جسٹس امیر ہانی مسلم کے جرات مندانہ‘ دلیرانہ‘ بااصول اورمنصفانہ فیصلوں کی وجہ سے ان کے بدترین مخالف بنے ہوئے تھے اور ان کے نزدیک جسٹس امیر ہانی مسلم کا نام سب سے نا پسندیدہ نام تھا۔لیکن جسٹس ا میر ہانی مسلم ریٹائرمنٹ کے بعد بطور واٹر کمیشن کے سربراہ جس طرح پہلے سے بھی زیادہ بلند ہمت اور مضبوط عزم کے ساتھ سامنے آئے ہیں،اسے دیکھ کر تو صرف یہ ہی کہاجاسکتاہے کہ اللہ تعالیٰ نے واقعی جسٹس امیر ہانی مسلم کوبڑی عزت اور محبت عطا کی ہے اور جب کسی انسان سے دوسرے انسان زبردست توقعات وابستہ کرلیں تو یقینی طورپر اس کے کندھوں پر بہت بڑی ذمہ داری آن پڑتی ہے اورذمہ داری کا یہ ہی وہ احساس تھا جس کے باعث جسٹس امیر ہانی مسلم نے واٹر کمیشن کی سربراہی سنبھالتے ہی حکومت سندھ پر اچھی طرح واضح کردیا تھا کہ سپریم کورٹ کے فیصلوں پر عملدرآمد کا وقت آگیا ہے اور اس سلسلے میں سرکاری افسران کی نا اہلیت اور بدعنوانی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔واٹر کمیشن کاسربراہ امیر ہانی مسلم کو مقررکئے جانے پر پاکستان کے چیف جسٹس جناب جسٹس میاں ثاقب نثار کی بھی ہرجگہ تعریف کی جارہی ہے کہ کیونکہ وقت نے ثابت کردیا کہ انہوں نے بالکل صحیح شخص کا انتخاب کیا ہے کیونکہ سندھ میں سرکاری اداروں کی کارکردگی‘ افسران کے پس منظر‘ اہلیت‘ قابلیت اورصلاحیت کے بارے میں جتناکچھ جسٹس ہانی جانتے ہیں اوراہم فیصلے دے چکے ہیں اتنی معلومات شاید کسی اور کے پاس نہ ہو اور واٹر کمیشن کی اب تک کی کارکردگی اوراس کے بعدمختلف منصوبوں اور اسکیموں کے کامیاب اطلاق سے ہی ا ن کا وسیع تجربہ اور معلومات کا اظہار ہورہا ہے۔



صنعتی اداروں میں بہتری کا ہدف حاصل کرنے کے بعد اب سندھ ہائیکورٹ میں واٹر کمیشن سربراہ کی جانب سے سندھ کے سرکاری اسپتالوں میں صاف پانی کی عدم فراہمی کا نوٹس لیتے ہوئے اپنے انقلابی اقدامات کا آغاز کردیا گیاہے۔ ابتدائی طور پر واٹر کمیشن نے سندھ میں پانی کی فراہمی سے متعلق پاکستان کونسل آف ریسرچ اینڈ واٹر ریسورسز نے اپنی رپورٹ پر انتظامیہ کو تمام اسپتالوں میں فلٹریشن اور آر او پلانٹ لگانے اور کونسل کو ہر 2 ماہ میں پینے کے پانی کے مقدار کو ٹیسٹ کرنے کا حکم دیدیا ہے۔جبکہ سندھ ہائیکورٹ میں سندھ میں پانی کی فراہمی ونکاسی آب کی ابتر صورتحال سے متعلق پاکستان کونسل آف ریسرچ اینڈ واٹر ریسورسز نے اپنی رپورٹ بھی کمیشن کے روبرو پیش کردی گئی ہے۔ رپورٹ میں اندرون سندھ اور کراچی کے اسپتالوں کا تذکرہ کیا گیا۔ پاکستان کونسل آف ریسرچ اینڈ واٹر ریسورسز پانی کے 250 سیمپل ٹیسٹ کرانے کے بعد نتائج سے کمیشن سربراہ کو آگاہ کردیا۔ رپورٹ کے مطابق ملیر، کورنگی، قطر اور لیاری جنرل اسپتال میں مریضوں کو غیر معیاری پانی فراہم کیا جارہا ہے۔ اندرون سندھ کے اسپتالوں میں بھی پینے کا پانی غیر معیاری فراہم کیا جارہا ہے۔ اندرون سندھ میں سانگھڑ، ٹھٹھہ، تھرپارکر، گھوٹکی، لاڑکانہ سمیت دیگر 15 سے زائد اضلاع شامل ہیں۔ کمیشن کے روبرو پیش کی گئی رپورٹ میں کہا گیا کہ ڈبلیو ایچ او اسٹینڈرڈ کے مطابق اسپتالوں میں 85 فیصد پینے کا پانی غیر معیاری ہے۔ اسپتالوں میں ٹریٹمنٹ پلانٹ، فلٹریشن، الٹرا فلٹریشن انتہائی ضروری قرار دے دیا گیا۔ کمیشن نے رپورٹ ریکارڈ کا حصہ بناتے ہوئے متعلقہ افسران کو ہدایت جاری کردیں۔ کمیشن نے تمام اسپتال انتظامیہ کو حکم دیا ہے کہ تمام اسپتالوں میں فلٹریشن اور آر او پلانٹ لگانے کو اولین ترجیح دی جائے۔ کمیشن کے سربراہ جسٹس ریٹائرڈ امیر ہانی مسلم نے پاکستان کونسل آف ریسرچ اینڈ واٹر ریسورسز کو ہر دو ماہ میں پینے کے پانی کے مقدار کو ٹیسٹ کرنے کا بھی حکم دے دیا ہے۔جسٹس (ر) امیر ہانی مسلم کہتے ہیں نوابشاہ کے اسپتال میں 30 کروڑ روپے پانی صاف کرنے کے نام پر خرچ کیے گئے پھر بھی مریضوں کو آلودہ پانی پلایا جا رہا ہے۔سندھ ہائی کورٹ میں واٹر کمیشن کیس کی سماعت ہوئی۔ واٹر بورڈ، کینٹونمینٹ بورڈ اور ایم ایس نوابشاھ اسپتال سمیت مختلف عملدار پیش ہوئے۔دوران سماعت پاکستان کونسل آف ریسرچ اینڈ واٹر کی رپورٹ پیش کی گئی جس میں شہید بے نظیر آباد اسپتال میں مریضوں کو دیا جانے والا پانی خطرناک قراردیا گیا ہے۔ سربراہ کمیشن نے شہید بے نظیر آباد اسپتال کے ایم ایس کی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ 30 کروڑ روپے پانی صاف کرنے کے نام پر خرچ کیے پھر بھی مریضوں کو آلودہ پانی پلایا جا رہا ہے۔انہوں نے ریمارکس دیے کہ بہت ڈھیل دے دی، اب 30 کروڑ واپس کریں یا ریفرنس سپریم کورٹ کو بھیج دیا جائے گا۔ مشینری کی خریداری کے بلز میں غبن کا معاملہ زیر سماعت آیا تو، جسٹس (ر) امیر ہانی مسلم نے کہا کہ نہ خاص مشینری آئی اور نہ ہی صاف پانی دیا۔ جتنا پیسہ بٹورا اسکا 50 فیصد بھی لگاتے تو کچھ نظر آتا۔ایم ایس نے کہا کہ تیس آئٹم منگوائے ہیں، آپ بڑے ہیں جس کو چاہے بھیج دیں، کارٹیج تبدیل نہیں کئے کتنے کا آتا ہے، سیکرٹری فنانس، ہیلتھ اور ورکس اینڈ سروسز تینوں ملوث ہیں، آپ کو مریضوں کا درد ہے کہ نہیں، ایم ایس نواب شاہ پر کمیشن نے سخت اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ کتنے کنٹریکٹر ہیں جن کو ٹھیکے ہیں، یہ معاملہ کس کو بھیجیں نیب کو ایف آئی اے کو، پینے کا پانی نہیں ہیں کروڑوں روپے ادھر سے ادھر کر دئیے ہیں، نواب شاہ اسپتال کے ایم ایس فنڈز جاری ہونے سے متعلق تفصیلات پیش کرنے میں ناکام ہوگئے۔سربراہ واٹر کمیشن کے حالیہ اقدامات و احکامات کے بعد اُمید ہو چلی ہے کہ اب سندھ کے سرکاری ہسپتالوں کی حالتِ زار بھی بہتر ہوجائے گی،اگر ایسا ہوگیا تو بلاشبہ سندھ واٹر کمیشن کا یہ قابلِ فخر کارنامہ سندھ کی انتظامی تاریخ میں سنہری حرفوں سے لکھاجائے گا۔

حوالہ: یہ مضمون سب سےپہلے ہفت روزہ ندائے ملت لاہور میں 09 اگست 2020 کے شمارہ میں شائع ہوا۔

راؤ محمد شاہد اقبال

اپنا تبصرہ بھیجیں