Shortage of Water in Sindh

سندھ واٹر کمیشن کے ہولناک انکشافات

سندھ حکومت صرف کراچی میں ہی کیا بلکہ پورے سندھ میں فراہمی و نکاسی آب کے سنگین مسائل کو حل کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہوگئی ہے جس کے باعث صوبائی حکومت کو سندھ بھر میں ہر طبقہ فکر کی طرف سے شدید تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے جبکہ دوسری جانب فراہمی ونکاسی آب کے اربوں روپے لاگت کے اہم ترین منصوبے مسلسل التوا اور کرپشن کی نذر ہونے کی وجہ سے حکومت سندھ سے آج کل عدلیہ بھی سخت باز پرس کر رہی ہے جس سے جان چھڑانے کے لیے پہلے مرحلے میں سندھ حکومت نے بلدیاتی اداروں کی حقیقت کو تسلیم کرتے ہوئے کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کو مکمل طور پر میئر کراچی کے کنٹرول میں دینے کا ایک بڑا اور مشکل فیصلہ کرلیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت نے بھی اس کی منظوری دے دی ہے کیونکہ پیپلز پارٹی نے سندھ بھر میں عام انتخابات کی بھرپور تیاریاں شروع کی ہوئی ہے۔ ایسے موقع پر فراہمی ونکاسی آب کے سنگین مسائل سے پیپلز پارٹی کو عام انتخابات میں سخت سیاسی نقصان پہنچنے کا اندیشہ لاحق ہے جبکہ دوسری طرف سپریم کورٹ کی جانب سے قائم کیے جانے والے واٹر کمیشن کی آئے روز کی پوچھ گچھ اور عوام کو صاف پانی فراہم کرانے کے عزم پر بھی سندھ حکومت انتہائی پریشانی کا شکار ہے جس کی وجہ سے وہ اپنی تمام تر توجہ اگلے انتخابات کی تیاریوں پر مرکوز رکھنے میں کامیاب نہیں ہو پارہی،اسی بات کا ادراک کرتے ہوئے سندھ حکومت کے اہم ترین رہنماؤں نے اس سلسلے میں فوری طور پر واٹر بورڈ میئر کراچی کے حوالے کر کے اس سنگین مسئلہ سے اپنی جان چھڑانے کا حتمی فیصلہ کرلیا ہے۔

چند روز پہلے سپریم کورٹ نے صاف پانی کی فراہمی سے متعلق کیس کا تحریری حکم جاری کرتے ہوئے جسٹس (ر) امیر ہانی مسلم کو 6 ماہ کے لیےسندھ واٹر کمیشن کا سربراہ مقررکیا تھا۔ واٹر کمیشن کے سربراہ جسٹس (ر) امیر ہانی مسلم نے حکومت سے پانی اور دیگر اسکیموں سے متعلق جاری کی جانے والی رقوم کا حساب طلب کرلیا۔سندھ ہائی کورٹ میں سپریم کورٹ کے جسٹس (ر) امیر ہانی مسلم کی سربراہی میں واٹر کمیشن کی سماعت ہوئی چیف سیکریٹری، سیکریٹری آبپاشی، سیکریٹری صحت فضل اللہ پیچوہو، ایم ڈی واٹر بورڈ سمیت دیگر حکام واٹر کمیشن کے روبرو پیش ہوئے۔واٹر کمیشن کے روبرو درخواست گزار شہاب استو نے دلائل میں کہا کہ صوبے میں پانی کی2300 اسکیمیں بنائی گئیں جن میں سے 953 اسکیمیں فعال نہیں ہیں 539 اسکیموں کو فعال کرنے کے لیے منتخب کیا گیا 4.59 ارب روپے ان اسکیموں کے لیے مختص کیے گئے 70 کروڑ روپے خرچ کیے جاچکے ہیں 40 کروڑ روپے حال ہی میں جاری کیے گئے مگر 70 فیصد پانی کا مسئلہ جوں کا توں ہے نااہلی کے باعث اسکیمیں بند پڑی ہیں۔جسٹس امیر ہانی مسلم نے ریماکس دیے میں یہاں فیصلے پر عملدرآمد کرانے آیا ہوں، مانیٹرنگ کے لیے نہیں آیا مہلت دے رہا ہوں کہ سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد کریں ورنہ سخت کارروائی کی جائے گی۔ یہ بتائیں کہ اسکیمیں مکمل نہ کرنے اور کرپشن کا کون ذمے دار ہے کیا آپ نے ذمے داران کا کوئی تعین کیا بتایا جائے سندھ حکومت نے طویل اور مختصر مدتی کیا منصوبہ بندی کی ہے۔جسٹس امیر ہانی مسلم نے سیکریٹری پبلک ہیلتھ سے مکالمے میں کہا کہ میرے پاس 2 اختیار ہیں، توہین عدالت کی کارروائی اور معاملہ نیب بھیجنے کا آپ کون سا آپشن پسند کریں گے میں کاغذی کارروائی پر یقین نہیں رکھتا عملی کام بتایا جائے 25اسکیمیں تیار پڑی ہیں مگر فعال نہیں کون ذمے دار ہے۔ کمیشن سربراہ نے سیکریٹری پبلک ہیلتھ تمیز الدین کھیڑو کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ درست کام کریں گے یا پھر گھر جائیں گے اگر آپ کے رویے کی رپورٹ سپریم کورٹ گئی تو خطرناک ہوگا پبلک ہیلتھ ڈپارٹمنٹ کی اسکیمیوں میں بے قاعدگیوں کا ذمے دار سیکریٹری ہی تصور کیا جائے گا۔

شہاب اوستو نے کہا کہ اندورن سندھ 25 فلٹر پلانٹس تیار ہیں مگر چلائے نہیں جارہے یہ معاملہ نیب کو بھیجا جائے بدین، ٹنڈومحمد خان، نوشہروفیروز، بینظیر آباد سمیت دیگر اضلاع میں 25 فلٹر پلانٹس تیار ہیں سندھ حکومت سے پوچھا جائے کہ ان پلانٹس سے شہریوں کو پانی فراہم کیوں نہیں کیا جارہا 44 اسپتالوں میں انسلیٹرز تک موجود نہیں اسپتالوں کا فضلہ ٹھکانے لگانا بڑا مسئلہ بن چکا ہے بیشتر بڑے اسپتالوں میں فضلہ ٹھکانے لگانے کا کوئی انتظام نہیں صاف پانی کے معیار کو جانچنے کے لیے صوبے میں کوئی ایک بھی بین الاقوامی معیار کی لیبارٹری موجود نہیں۔سندھ کے دوسرے بڑے شہر حیدر آباد میں 4 فلٹر پلانٹس ہیں سارے بند پڑے ہیں اگر یہ پلانٹس فعال کردیے جائیں تو شہریوں کو گٹر کا پانی نہ پینا پڑے ادارہ فراہمی و نکاسی آب کراچی نے آج تک نہیں بتایا کہ پانی کی لائنوں میں سیوریج کا پانی کہاں سے شامل ہورہا ہے 200 ملین گیلن پانی سرے سے فلٹر ہی نہیں کیا جاتا کہاں کہاں پانی کی لائنیں سیوریج لائنوں سے ملی ہوئی ہیں نہیں بتایا جارہا پانی چور مافیا اور واٹر بورڈ کی آپس میں ملی بھگت ہے۔کراچی میں 40کروڑ گیلن سیوریج کا پانی جمع ہوتا ہے کراچی کے 3 ٹریٹمنٹ پلانٹس اب بھی غیر فعال ہیں ان پلانٹس پرتعینات 230 ملازمین تنخواہ لے رہے ہیں معاملہ نیب کو بھیجا جائے ان 3 پلانٹس سے 15کروڑ گلین سیوریج کا پانی ٹریٹ کیا جا سکتا ہے اگر سندھ حکومت چاہے تو کراچی کے شہریوں کو ایک سال میں 100فیصد صاف پانی مہیا کرسکتی ہے 111 اسکیمیں 2007 سے غیر فعال ہیں اور ان کی لاگت بڑھتی جا رہی ہے پی سی ون ایک لاٹری ہوتی ہے جہاں سب کا حصہ طے ہوتا ہے کیک کا تھوڑا سا حصہ عوام کو ملتا ہے اگر ان کا اختیار ہو تو پورا کیک کھا جائیں۔شہاب اوستو نے مزید انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ منچھر جھیل پوری طرح تباہ ہوچکی ہے پورا سندھ بیمار پڑا ہے بیوروکریٹس کے بچے تو باہر رہتے ہیں غریب کہاں جائیں گے کب تک ایسا چلے گا کمیشن خود ان اسکیموں کا معائنہ کرسکتا ہے انگریز افسر اونٹ پر بیٹھ کر معائنہ کرتا تھا یہاں سیکریٹری60 لاکھ کی گاڑی میں آتا ہے مگر کہتا ہے کبھی معائنہ نہیں کیا، سیکریٹری کی گاڑیاں عوام کے ٹیکس سے آتی ہیں یہ عوام کو جواب دہ ہیں۔
کمیشن سربراہ نے سیکریٹری صحت فضل اللہ پیچوہو سے استفسار کیا یہاں کوئی باقاعدہ ڈمپنگ سائٹ موجود ہے بھی یا نہیں جس پر سیکریٹری صحت نے کہا کہ باقاعدہ کوئی ڈمپنگ سائٹ موجود نہیں کمیشن کے سربراہ نے کہا کہ کیا انسانی زندگی کی قیمت 70 لاکھ سے زیادہ ہے سیکریٹری صحت نے کہا کہ مجھے اسپتالوں میں انسیلیٹر لگانے کے لیے ایک ارب روپے درکار ہیں کمیشن سربراہ نے کہا کہ لائٹس لگانے کے لیے7ارب روپے لگائے جارہے ہیں انسان زندہ ہوں گے تو روشنی دیکھیں گے۔ یہاں شہر کا کچرا تک نہیں اٹھایا جارہا کچرا اٹھانے والے ٹرک انتہائی خطرناک ہیں شہریوں میں خطرناک بیماریاں پھیل رہی ہیں۔کیا ریاست کے اندر ریاست بنائی گئی ہے آج کل میڈیا سب کچھ دکھا رہا ہے کہ کیا ہو رہا ہے سیکریٹری صحت نے کہا کہ میں میڈیا کا مشکور ہوں میڈیا یہ بھی بتائے کہ میری ترقی 2008 سے رکی ہوئی ہے فضل اللہ پیچوہو کے جواب پر کمرہ عدالت میں قہقہہ گونجنے لگے سیکریٹری صحت نے جواب دیا کہ خدا کی قسم ہم کام کررہے ہیں اور بہت کررہے ہیں ہمیں کریڈٹ بھی دیں عدالت میں موجود افراد نے سیکریٹری صحت کی باتوں پر قہقہہ لگایا کمیشن سربراہ نے کہا کہ آپ کام کررہے ہیں میں خود بھی بغیر بتائے اسپتالوں کا دورہ شروع کروں گا۔آپ ہمارے ساتھ دورے کریں اور جائزہ لیں اگر پورے سندھ میں صرف پبلک ہیلتھ ڈپارٹمنٹ ہی ٹھیک طرح سے کام کرنا شروع کر دیں تو80 فیصد کام ٹھیک ہوسکتے ہیں۔

حوالہ: یہ مضمون سب سے پہلے ہفت روزہ ندائے ملت لاہور 08 فروری 2018 کے شمارہ میں شائع ہوا

راؤ محمد شاہد اقبال
Latest posts by راؤ محمد شاہد اقبال (see all)

اپنا تبصرہ بھیجیں