Two Hindu Sisters Converted in Islam

سندھ میں دو بہنوں کا قبولِ اسلام، ایک تحقیق طلب معاملہ

یہ ایک حقیقت ہے کہ پاکستان میں سب سے زیادہ ہندو صوبہ سندھ میں رہائش پذیر ہیں اور یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ سندھ میں بسنے والے ہندو اکثر و بیشتر سندھ کے سیاستدانوں یا جاگیرداروں کے ہاتھوں ناروا،انسانیت سوز سلوک کا شکار بھی ہوتے رہتے ہیں۔دلچسپ بات یہ ہے کہ سندھ میں آباد ہندوؤں کے ساتھ ہونے والی ظلم و زیادتی کے حوالے سے کبھی یہ بریکنگ نیوزسننے میں نہیں آتی کہ کس غریب ہندو گھرانے کو کس وڈیرے نے زمینوں سے بے دخل کردیا یا کس ہندو نوجوان کو سرعام سڑکوں پر صرف ایک جاگیردار کی نافرمانی کرنے پر مارا پیٹا گیایا یہ کہ کتنے ہندو خاندانوں کے معصوم بچے غذائی قلت کے باعث تھر کے ہسپتالوں میں سسک سسک کر مر گئے۔انتہائی افسوس کی بات ہے کہ اِن خبروں میں سے کوئی بھی خبر کبھی بین الاقوامی میڈیا کی توجہ اپنی جانب کھینچنے میں کامیاب نہیں ہوپاتی سوائے اِس ایک خبر کے دو ہندو بہنوں روینا اور رینا سے زبردستی کلمہ پڑھوا کر نکاح کر لیا گیا۔اس قسم کی خبروں سے چونکہ پاکستان میں کام کرنے والی نام نہاد این جی اوز میں کام کرنے والے اونچے اونچے لوگوں کے خرچے پورے ہوتے ہیں۔اس لیئے یہ خبریں خاص طور پر نہ صرف بین الاقوامی میڈیا میں پلانٹ کروائی جاتیں ہیں بلکہ اِن پر مغربی ممالک کی طرف سے خوب”فرمائشی شورو غوغا“ بھی کروایا جاتاہے۔ اِس بار نئی بات یہ ہے کہ دو ہندو بہنوں روینا اور رینا کے قبول اسلام کے مسئلہ پر چیخ و پکار کرنے میں بھارتی وزیرخارجہ سشما سوراج صاحبہ بھی پیش پیش ہیں۔یہ وہی بھارتی وزیرخارجہ ہیں جن کے اپنے ملک میں فقط گائے کے گوشت کا ایک پارچہ لے جانے پر خاندان کے خاندان موت کے گھاٹ اُتار دیئے جاتے ہیں۔شاید معصوم سشما سوراج نہیں جانتی کہ ڈھرکی سے تعلق رکھنے والی دو بہنوں روینا اور رینا کا تعلق ہندو مذہب سے نہیں ہے بلکہ یہ مینگھواڑ ہیں جنہیں پنجاب میں بھیل کہا جاتا ہے۔ جنہیں بھارت میں بھی کبھی ہندو تسلیم نہیں کیاگیا۔ہندو مت کی پوری تاریخ اُٹھا کر دیکھ لیں معلوم ہوجائے گا کہ تلنگوانے‘ دلت‘ بدھ‘ جین‘ سکھ اور بھیل کبھی بھی ہندو نہیں شمار کیئے گئے ہیں۔اب وہ الگ بات ہے کہ ہندو توا کے پجاریوں نے آج کل بھارت کو ہندو ریاست بنانے کے فراق میں زبردستی انہیں بھی ہندو قرار دینا شروع کردیا ہے۔

جہاں تک بات روینا اور رینا کے قبول اسلام کے بعد نکاح کرنے کی ہے تو وہ معاملہ دونوں بہنوں کی طرف سے اسلام آباد ہائی کورٹ میں دیئے گئے بیان کے بعد کافی حد تک صاف ہوگیا ہے کہ بظاہر معاملہ اتنا بھی سادہ یا یک طرفہ نہیں ہے جتنا کہ بین الاقوامی میڈیا پر بنا کر پیش کیا جارہا ہے۔اسلام آباد ہائی کورٹ کے باہر میڈیا کے سامنے دونوں بہنوں کا اصرار تھا کہ”انہوں نے پوری رضاو رغبت سے دین ِ اسلام کو قبول کرنے کے بعد پسند کی شادی کی ہے اور اُنہیں کسی نے بھی اغوا نہیں کیا“۔ عدالت عالیہ کے باہر دیئے گئے اِس بیان نے اِس مذموم پروپیگنڈہ کی قلعی کھول کر رکھ دی ہے کہ سندھ میں ہندوؤں کے قبول اسلام کے پیچھے کسی بھی قسم کا جبر کارفرما ہے۔اہم ترین بات یہ ہے کہ دونوں بہنوں نے جس جگہ اسلام قبول کیا ہے وہ کوئی عام جگہ نہیں ہے۔ بلکہ بھرچونڈی شریف ایک قدیم تاریخی درگاہ ہے اور سندھ میں قائم باقی درگاہوں سے کئی تاریخی و واقعاتی حوالوں سے کچھ مختلف بھی ہے۔یہ درگاہ صرف سندھ نہیں بلکہ پاکستان بھر کے خوش عقیدہ مسلمانوں کے لئے مرجع تجلیات ہے اور پچھلی ایک ڈیڑھ صدی سے اس کی شہرت یہی رہی ہے کہ وہاں غیر مسلم جا کر قبول اسلام کرتے ہیں۔ اِس درگاہ کے مشہور صوفی بزرگ سندھ میں حافظ الملت کے نام سے مشہور ہیں، جبکہ ان کے خلفا میں کئی نامور علما اور بزرگوں کے نام آتے ہیں۔ حضرت مولانا عبید اللہ سندھی، جو پہلے ایک سکھ تھے،وہ بھی اسی درگاہ عالیہ پر آ کر مسلمان ہوئے تھے۔مشہور تاریخی تحریک ریشمی رومال شروع کرنے والے زیادہ تر اکابر کا تعلق بھی اسی درگاہ سے رہا ہے۔اس نسبت سے غیر مسلموں کے قبول اسلام کے معاملے میں یہ درگاہ انتہائی متحرک خیال کی جاتی ہے۔درگاہ بھرچونڈی شریف والے روایتی طور پر نومسلموں کی بھرپور مدد و اعانت کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں مالی مدد بھی بہم پہنچاتے ہیں کیونکہ سندھ کے کسی بھی علاقے میں ایک ہندو کے مسلمان ہونے کا مطلب اپنے پورے خاندان سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیئے کٹ جانا ہوتا ہے۔اس لیئے نومسلموں کو عدالتی کیس کے لئے تمام تر قانونی معاونت کا انتظام بھی یہی لوگ کرتے ہیں۔ شایدانہی مسائل سے بچنے کے لیئے درگاہ بھرچونڈی شریف والے کسی غیر مسلم کو مسلمان کرنے سے پہلے اپنی سی پوری تحقیق کرتے ہیں، برتھ سرٹیفکیٹ کی چھان بین کی جاتی ہے، خود اور اپنے گھر کی عورتوں کے ذریعے آنے والی ہندو لڑکیوں سے تفصیلی بات چیت بھی کی جاتی ہے،کیونکہ درگاہ سے تعلق رکھنے والے منتظمین کو بخوبی اندازہ ہے کہ اگر کوئی غلطی ہوگئی یا سکینڈل بنا تو ہمیشہ ہمیشہ کے لیئے درگاہ کی ساکھ خراب ہوجائے گی۔

جبکہ یہ منفی پروپیگنڈہ کے صرف نوجوان ہندو لڑکیاں ہی سندھ میں قبول اِسلام کرتی ہیں بلکل غلط ہے۔حقیقت یہ ہے کہ ہندو نوجوان اوربزرگ زیادہ بڑی تعداد مسلمان ہوتے ہیں لیکن چونکہ اِن کا قبول ِاسلام بین الاقوامی میڈیا کے لیئے خبر کی حیثیت نہیں رکھتا اِس لیئے یہ خبریں صرف چند قومی و علاقائی اخبارات کے اندرونی صفحات میں دب کر رہ جاتی ہیں۔اگر اِن سب خبروں کو ایک جگہ جمع کیا جائے تو منکشف ہوگا ہندو لڑکیوں کے قبول ِاسلام کے مسئلہ کو کس طرح غلط اعداود شمار کی مدد سے حقائق سے یکسر مختلف رنگ دے کر پیش کیا جاتا رہاہے۔ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کا کہنا ہے کہ ہر ماہ 25 ہندو لڑکیوں کو زبردستی مسلمان بنایا جاتا ہے،لیکن ہیومن رائٹس کمیشن یہ نہیں بتا تا کہ ان 25 میں سے کتنی ہندو لڑکیاں بعد ازاں واپس اپنے گھروں کو لوٹ آتی ہیں یا کتنی کی طلاقیں ہوجاتیں ہیں کیونکہ اتنی بڑی تعداد میں زبردستی اغوا یا نکاح کے بعد طلاقیں بھی ضرور ہوتی ہوں گی اور چند ایک فرار بھی ضرور ہوسکتی ہیں۔ بہرحال اچھی بات یہ ہے کہ اس وقت یہ سارا متنازعہ فی معاملہ اسلام آباد ہائی کورٹ کی نظر میں بھی ہے۔ اِس لیئے ہر فریق کوخاطر جمع رکھنی چاہئے واقعہ کی تمام تر تحقیقات کے بعد جو بھی حتمی فیصلہ عدالت فرمائے گی اُس میں کسی فریق کے ساتھ بھی بال برابر بھی ظلم و زیادتی نہیں ہوگی کیونکہ پاکستان کی اعلیٰ عدلیہ پہلے ہی مشہور زمانہ آسیہ کیس میں ثابت کر چکی ہے کہ وہ اپنے فیصلے آئین و قانون کی روشنی میں مبنی بر انصاف کرتی ہے اور کسی بھی طبقہ کے دباؤ میں آتی۔اس لیئے ضروری ہے کہ ہماری ذاتی رائے جو بھی ہو لیکن ہمیں روینا اور رینا معاملہ میں کسی حتمی نتیجہ پر پہنچنے سے پہلے عدالت کے فیصلہ کا انتظار ضرور کرنا چاہئے۔

حوالہ: یہ مضمون سب سے پہلے ہفت روزہ ندائےملت لاہور 04 اپریل 2019 کے شمارہ میں شائع ہوا

راؤ محمد شاہد اقبال

اپنا تبصرہ بھیجیں