Sindh Secretariat on Fire

سندھ سیکریٹریٹ بھی شعلوں کی نذر ہوگیا

پنجاب میں نیب کی طرف سے کرپٹ بیوروکریٹ کے خلاف سخت ترین احتسابی کارروائیوں میں احد چیمہ کی گرفتاری اور بیوروکریسی کی طرف سے نیب کو دباؤ میں لانے کے لیئے دی جانے ہڑتال کے بُری طرح ناکام ہونے کے بعد سندھ میں بھی بیورو کریسی لرز کر رہ گئی ہے۔جس کا ایک ثبوت پنجاب میں بیوروکریسی کی ہڑتال ناکام ہونے کے اگلے دن سندھ سیکریٹریٹ میں آتشزدگی کے واقعے کو بھی قرار دیا جارہا ہے۔تفصیلات کے مطابق سندھ سیکریٹریٹ کی بلڈنگ میں پانچ بجکر تیس منٹ پر اچانگ آگ لگی، آگ عمارت کے عقبی حصے میں لگی۔ جس نے دیکھتے ہی دیکھتے کئی منزلوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ فائر بریگیڈ کی چار گاڑیوں نے موقع پر پہنچ کر آگ بجھائی۔ آتشزدگی سے محکمہ ورکس اینڈ سروسز، محکمہ ریونیو، محکمہ خوراک، اور محکمہ صحت کے دفاتر کو شدید نقصان پہنچا۔ پولیس کے مطابق کچھ محکموں کا ریکارڈ آگ سے متاثر ہوا ہے تاہم آگ کو مزید پھیلنے سے پہلے ہی بجھا دیا گیا۔ تجزیہ کاروں کا کہنا تھا کہ چھٹی کے دن اچانک آگ لگنا انتہائی معنی خیز ہے، سندھ سیکریٹریٹ میں لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیجز حاصل کرنے کے بعد معاملے کی جو رپورٹ چیف سیکریٹری کو پیش کی گئی اُس میں کہاگیا ہے کہ سندھ سیکریٹریٹ کے سات فلورز میں سے صرف تھرڈ فلور کو سب سے زیادہ نقصان پہنچا ہے۔آتشزدگی کے باعث محکمہ سوشل ویلفیئر، تعلیم اور صحت کا دفاتر میں موجود ریکارڈ جل گیا جب کہ دفاتر میں موجود فرنیچر بھی جل کر خاکستر ہوگیا۔ آگ ہارون گاہو کے ڈیلنگ کیلئے مخصوس کمرے کے برابر میں لگی تاہم محکمہ ورکس اینڈ سروسز کے آگ سے متاثرہ دو کمروں کو سیل کردیا گیا ہے۔اطلاع ملنے پر متعلقہ محکموں کے افسران بھی پہنچ گئے، عمارت کے جس حصے میں آگ لگی وہاں وزیراعلیٰ سندھ سمیت دیگر وزراء کے دفاتر بھی قائم ہیں۔اطلاع ملتے ہی فائربریگیڈ کی چار گاڑیاں آگ بجھانے پہنچیں اورایک گھنٹے کی جدوجہد کے بعد آگ کو قابو کرکے کولنگ کا عمل شروع کردیا، چھٹی کی وجہ سے عمارت میں صرف چوکیدار موجود تھے۔ جبکہ محکمہ فائر بریگیڈ کی طرف سے آتشزدگی کے اس واقعہ کی جو تحقیقاتی رپورٹ جاری کی گئی ہے وہ چیف سیکریڑی کو پیش کی گئی ابتدائی رپورٹ سے یکسر مختلف ہے، محکمہ فائر بریگیڈ کی رپورٹ انکشاف کیا گیا ہے کہ سندھ سیکریٹریٹ میں آتشزدگی کا معاملہ اتنا سادہ نہیں ہے جتنا حکومتی اداروں کی طرف سے پیش کیا جارہا ہے۔

محکمہ فائر بریگیڈ کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق 24 فروری کو سہ پہر 5 بجکر 48 منٹ پر فائر بریگیڈ کے ہیڈکوارٹرز میں اسلام الدین شخص کے ٹیلی فون نمبر02132632557 سے کال موصول ہوئی اور انھوں نے بتایا کہ سندھ سیکریٹریٹ میں آگ لگ گئی ہے جس پر محکمہ فائر بریگیڈ نے فوراً ردعمل دیتے ہوئے سینٹرل فائر اسٹیشن سے فائر ٹینڈر موقع پر بھیجے اور ساتھ ہی فائرٹینڈر کی مدد کے لیے صدر، بولٹن مارکیٹ، لی مارکیٹ، لیاری اور منظورکالونی فائر اسٹیشن سے مزید فائر ٹینڈر روانہ کیے گئے۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ فائر ٹینڈر بروقت جائے حادثہ پر پہنچا تو عملے نے دیکھا کہ سندھ سیکریٹریٹ کی عمارت کا مرکزی دروازہ کھلا ہوا تھا اور بڑی تعداد میں کاغذات اور سرکاری دستاویزات میں آگ لگی ہوئی تھی اور لفٹ کے سامنے کاغذات کا ڈھیر لگا ہوا تھا اور جب فائر ٹینڈر کا عملہ عمارت میں داخل ہوا تو حیران رہ گیا کہ عمارت کی تمام 6 منزلوں پر تیزی سے آگ پھیل رہی تھی۔فائر بریگیڈ کے عملے نے دیکھا کہ لفٹ اور عین ڈک کے سامنے زمین پر کاغذوں کا ڈھیر لگا ہوا تھا اور دھاتی فائل کیبنٹس میں بھی جلے ہوئے کاغذات کا ڈھیر لگا تھاجس سے شبہات پیدا ہوتے ہیں کہ واقعہ آتشزدگی کا نہیں ہے بلکہ واقعہ آتش زنی کا ہے۔محکمہ فائر بریگیڈ کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ فائربریگیڈ کے عملے نے کامیابی سے مختصر وقت میں تمام منزلوں پرلگنے والی آگ کو بجھادیا تاہم آگ لگنے کی وجہ معلوم نہ ہو سکی۔ تعطیل ہونے کی وجہ سے تمام محکموں کے دفاتر بند تھے اس وقت کسی بھی سرکاری ملازم اور غیر متعلقہ شخص کے سیکریٹریٹ کی عمارت میں موجود ہونے کا سوال پیدا نہیں ہوتا۔
سندھ کی تمام اپوزیشن جماعتیں اس آتشزدگی کے واقعہ کو ایک حادثہ تسلیم کرنے سے مسلسل انکاری ہیں، وہ اسے سندھ حکومت کی ایک سوچی سمجھی سازش قرار دے رہی ہیں۔ تحریک انصاف سندھ کے صدر ڈاکٹر عارف علوی اور خرم شیر زمان نے اس واقعہ پر کہا کہ”پی این ایس سی کی عمار ت میں بھی دو بار آگ لگ چکی ہے۔ سندھ سیکریٹریٹ میں آگ لگی نہیں، لگائی گئی ہے۔ مقصود یہ تھا کہ ریکارڈ خاکستر ہوجائے۔ ریکارڈ جلانے کی ریت پرانی ہے۔ ان واقعات میں اربوں کی کرپشن کے نشانات مٹا دیئے گئے۔ آتشزنی کے واقعات کی تحقیقات کے لیے جو کمیٹیاں قائم کی جاتی ہیں ان کی کوئی رپورٹ سامنے نہیں آتی۔ کروڑوں، اربوں روپے کی خورد برد چھپا لی جاتی ہے۔ ہم چیف جسٹس سے تحقیقاتی ٹیم کے ذریعے تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہیں۔ دوسری جانب جماعت اسلامی سندھ کے جنرل سیکریٹری ممتاز حسین سہتو نے نیو سندھ سیکریٹریٹ میں آتشزدگی اور اہم ریکارڈ غائب ہونے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ سندھ سیکریٹریٹ میں آتشزدگی کا نوٹس لیکر واقعہ کی آزادانہ تحقیقات کی جائے۔ انتظامی لحاظ سے صوبہ کی سب سے اہم عمارت میں آگ لگنے اور پہلے فلور سے دیکھتے ہی دیکھتے ساتویں منزل تک کو آگ کا اپنی لپیٹ میں لینا حکومتی نا اہلی کا واضح ثبوت ہے۔ جس میں اہم ریکارڈ کے غائب ہونے کا بھی خدشہ ہے۔ سندھ حکومت کی کرپشن، میرٹ کا قتل اور اقربا پروری کی پالیسیوں سے ہر شعبہ زبوں حالی کا شکار اور کرپشن میں ڈوبا ہوا ہے۔ پنجاب کے بعد سندھ میں بیورو کریسی کا گھیرا تنگ کرنے کے پیش نظر حالیہ واقعہ بھی نشانات مٹانے کا شاخسانہ لگتا ہے۔ جماعت اسلامی کے صوبائی رہنماء نے زور دیا کہ مذکورہ واقعہ کا نوٹس، تمام ریکارڈ محفوظ اور اصل حقائق سے قوم کو آگاہ کیا جائے۔جبکہ سندھ سیکریٹریٹ میں آتشزدگی کے معاملے پر فنکشنل لیگ کی نصرت سحر عباسی نے سندھ اسمبلی میں تحریک التوا جمع کرائی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ چھٹی کے روز سندھ سیکریٹریٹ کے اہم دفاتر میں آگ لگنا معنی خیز ہے، آگ لگنے کی نہ صرف تحقیقات بلکہ سندھ اسمبلی میں اس معاملے پر بحث کی جائے کیونکہ آتشزدگی سے سندھ حکومت کا اہم ریکارڈ جل گیا ہے جسکی تحقیقات انتہائی ضروری ہے،محکمہ خوراک کے 7 ارب روپے کا ریکارڈ جل گیا چیف جسٹس صاحب نوٹس لیں نیب واقعے کی تحقیقات کرے انہوں نے الزام عائد کیا کہ آگ لگی نہیں لگائی گئی ہے چیف سیکرٹری کی کسی کمیٹی پر اعتبار نہیں ہے۔ یہاں یہ اہم ترین بات بھی پیشِ نظر رہے کہ کراچی شہر میں سرکاری دفاتر میں آتشزدگی کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے بلکہ اس سے قبل بھی کراچی میں سرکاری عمارتوں میں آتشزدگی بے شمار واقعات رونما ہوچکے ہیں جن میں درجنوں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع کے علاوہ لاکھوں روپے کا نقصان بھی ہوا اور حسن اتفاق سے یہ واقعات بھی ہمیشہ چھٹی والے دن ہی پیش آئے جس کے نتیجے میں بھی اہم ترین سرکاری ریکارڈ کئی بارجل کر خاکستر ہوچکاہے۔

حوالہ: یہ مضمون سب سے پہلے ہفت روزہ ندائے ملت لاہور 15 مارچ 2018 کے شمارہ میں شائع ہوا

راؤ محمد شاہد اقبال
Latest posts by راؤ محمد شاہد اقبال (see all)

اپنا تبصرہ بھیجیں