Murad Ali Shah and Waseem Akhtar

سندھ حکومت کا اداروں سے محاذ آرائی کا شوق کیا رنگ لائے گا؟

کفر ٹوٹا خدا،خدا کر کے،آخر کار پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین اور سابق صدر پاکستان آصف علی زردری کو اندرون سندھ میں پیپلزپارٹی کے عام کارکنان کا خیال آ ہی گیا۔آصف علی زرداری نے جب سے مفاہمتی پالیسی کے تحت پاکستان بھر میں بالعموم اور سندھ میں بالخصوص وڈیروں، جاگیرداروں اور کاروباری طبقے کو پیپلزپارٹی کی اگلی صفوں میں شامل کیا ہے اُس وقت سے ”روٹی،کپڑا اور مکان“ کا نعرہ پیپلزپارٹی کے حلقوں میں سنائی دینا بند ہوگیا تھا، اول تو پیپلزپارٹی کی اعلی قیادت عوامی اجتماعات کا رُخ ہی نہیں کرتی تھی اگر با امر مجبوری عوامی جلسے سے خطاب کرنا پڑ بھی جاتا تھا تو غریب کارکنان کو اعلیٰ قیادت سے کوسوں دور رکھا جاتا تھا۔عام کارکنان اور اعلیٰ قیادت کے درمیان اس دوری سے پیپلز پارٹی کے کارکنان میں سخت مایوسی پھیل رہی تھی۔جس کا تدارک وقت کی اہم ضرورت تھا،شاید اسی بات کا ادراک کرتے ہوئے آصف علی زرداری نے حیران کن طور گزشتہ دو ہفتوں سے زائد ہونے کو آیا ہے اپنا ڈیرہ اندرونِ سندھ میں مستقل طور پر لگالیاہے۔زرداری ہاؤ س نواب شاہ میں اپنے طویل قیام کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے آصف علی زرداری نے سانگھڑ، دادو، حیدرآباد، سیہون، نوشہروفیروز،خیرپور، لاڑکانہ و دیگر شہروں میں پیپلزپارٹی سندھ کے بلدیاتی نمائندوں،عہدیداروں اور پرانے دیرینہ کارکنان کے ساتھ بے شمار نششتیں اور ملاقاتیں کیں جن میں آصف علی زرداری کو بہت عرصہ بعد پیپلزپارٹی کے کارکنان کی طرف سے براہ راست شکایات اور مسائل سننے کا موقع میسر آیا۔ پیپلزپارٹی کے عام کارکنان نے بھی اس موقع سے بھرپور فائدہ اُٹھاتے ہوئے اپنی قیادت سے کھل کر سندھ حکومت کے دگرگوں حالات اور سندھ میں ضروریات ِ زندگی کی گرانی اور کمیابی کی وجہ سے غریب لوگوں کی جو حالت ہورہی ہے اُسے کھل کر بیان کیا۔کارکنان کی شکایات کے ازالے کے لیئے فی الحال کسی قسم کے کوئی اقدامات تو ہوتے نظر نہیں آرہے اور نہ وڈیروں،جاگیرداروں کی موجودگی میں اس بات کی بہت زیادہ اُمید کی جاسکتی ہے کہ جیالے پیپلزپارٹی میں دوبارہ کوئی اہم مقام حاصل کرنے میں کامیاب ہوسکیں گے۔ لیکن حالیہ دنوں میں ہونے والی ان ملاقاتوں سے اتنا ضرور ہوا ہے کہ پیپلزپارٹی کی اعلیٰ سیاسی قیادت اور عام کارکنان کے باہمی رابطے ایک دوسرے پر اعتماد میں اضافہ کا باعث ضرور بنے ہیں۔

آصف علی زرداری کوایک طویل عرصہ بعد عام کارکنان کے درمیان اتنا وقت گزار کر اندازہ ہو گیا ہوگا کہ سیاست میں اصل طاقت کارکنان کی ہوتی ہے۔اگر کارکنان آپ کی پشت پر کھڑے ہوں تو آپ بڑے سے بڑے فیصلے بھی باآسانی لے سکتے ہیں۔شاید یہ ان سیاسی ملاقاتوں اور نششتوں کا ہی اعجاز ہے کہ حالیہ دنوں میں سندھ حکومت کی طرف سے وفاق کے خلاف پے درپے چند بڑے فیصلوں لیئے گئے ہیں جن میں سب سے بڑا فیصلہ سندھ سے نیب کا قانون ختم کرنے کا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق جس طرح عجلت اور نازک وقت میں یہ فیصلہ کیا گیا ہے اسکے آنے والے دنوں میں سندھ کی سیاست اور پیپلزپارٹی کے مستقبل پر بہت گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔بظاہر آصف علی زرداری نے اس فیصلے کے ذریعے ملک کے مقتدر حلقوں کو اپنی سیاسی خوداعتمادی اور طاقت کا پیغام دینے کی کوشش کی ہے۔اب دوسری طرف اس پیغام کا کیا مطلب لیا جائے گا اس کا اندازہ تو آنے والے دنوں میں ہو جائے گا۔سر دست تو نیب کا قانون ختم کرنے کے لیئے سندھ حکومت کی طرف سے جو بھی دلیلیں دی جارہی ہیں اسے سندھ کے عوامی حلقوں میں کسی بھی سطح پر قبول نہیں کیا جارہا۔کیونکہ صرف سندھ ہی کیا ملک بھر میں کسی کو پیپلز پارٹی کی اس بات پرذرہ برابر بھی اعتبار نہیں کہ وہ نیب کے مقابلے میں کرپشن کے خاتمے کے لیئے اس سے زیادہ موثر قانون لے کر آئے گی۔اس میں کوئی شک نہیں سندھ کے عوام کی اکثریت صوبائی خودمختاری کے حق میں ہے مگر یہاں پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ صوبہ کے جن جن محکموں پر سندھ حکومت پہلے ہی سے مکمل اختیار رکھتی ہے کیا ان کی کارکردگی گزشتہ دس سالوں میں تسلی بخش قرار دی جاسکتی ہے؟اگر اس کا جواب نفی میں ہے تو پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ سندھ حکومت کرپشن کے خلاف کوئی نیا ادارہ بنا کر اُسے کامیابی سے چلا سکے گی۔

پیپلزپارٹی کی اعلیٰ قیادت کو یہ بات بھی سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیئے کہ نیب کے قانون کو سندھ میں ختم کرنے سے پیپلزپارٹی کے کارکنان کے نیب کیسیز ختم نہیں ہو جائیں گے بلکہ وہ اپنی جگہ پربدستور موجود رہیں گے اور آنے والے وقت میں پیپلز پارٹی کے گلے کا پھندا بن سکتے ہیں۔ویسے بھی سندھ کے علاوہ پاکستان کے ہر صوبے سے پیپلزپارٹی قریب قریب ختم ہی ہوچکی ہے اس لیئے حالات کا تقاضہ تو یہ تھا کہ 2018 کے الیکشن قریب ہونے کی وجہ سے پیپلز پارٹی سندھ میں ایک وسیع تر انتخابی مہم کا آغاز کرتی، تاکہ اسے سندھ کے آنے والے نئے سیاسی منظر نامہ میں فیصلہ کن مقام برقرار رکھنے کا موقع ملتا۔اتنے نازک موڑ پر پیپلزپارٹی کی طرف سے سندھ میں انتخابی مہم کے بجائے اداروں سے محاذ آرئی کا ماحول گرم کرناسمجھ سے بالاتر ہے۔مانا کہ آصف علی زرداری ملکی سیاست میں اپنے حیران کن فیصلوں کے لیئے ہی جانے جاتے ہیں لیکن کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ جب انسان دوسروں کو زیادہ حیران کرنے میں کامیاب نہ ہوسکے تو پھراپنے لیئے بے وجہ کی پریشانیاں پیدا کر لیتا ہے۔ کیا ابھی ایسے حالات ہیں کہ پاکستان پیپلزپارٹی سندھ میں اپنے لیئے بے وجہ کی پریشانیاں مول لے سکے۔

حوالہ: یہ مضمون سب سے پہلے ہفت روزہ ندائے ملت لاہور 13 جولائی 2017 کے شمارہ میں شائع ہوا

راؤ محمد شاہد اقبال
Latest posts by راؤ محمد شاہد اقبال (see all)

اپنا تبصرہ بھیجیں