Opposition Protest in Assembly

سندھ حکومت کو اپوزیشن کا چیلنج

آخر کار پاکستان پیپلزپارٹی سندھ میں لگار تار تیسری بار حکومت بنا کر حصولِ اقتدار کی ہیٹ ٹرک مکمل کرنے میں کامیاب ہو ہی گئی اور سیدمراد علی شاہ ایک بار پھر سے وزیراعلی سندھ کے اہم ترین منصب کے حقدار قرار پائے۔جس سے ایک بات تو ثابت ہو گئی کہ پیپلزپارٹی بدستور سندھ میں روایتی سیاست و طرزِحکومت کی علمبردار رہے گی اور وفاقِ پاکستان کی طرف سے تبدیلی کی آنے والے ہواؤں کو سندھ میں داخل ہونے سے روکنے کی بھرپور کوشش اور ضرورت پڑنے پر سخت مزاحمت بھی کرے گی۔ اپنے اسی سیاسی ہدف کو ذہن میں رکھتے ہوئے سندھ حکومت نے تشکیل ِ کابینہ میں تمام تر انحصار پرانے اور تجربہ کار سیاسی چہروں پر کر رہی ہے کیونکہ اس مرتبہ اپوزیشن بہت زیادہ طاقتور نظر آرہی ہے، اس وجہ سے پیپلزپارٹی سندھ کابینہ میں نئے چہروں کو شامل کرکے مستقبل قریب میں کوئی خطرہ مول لینا نہیں چاہتی کیونکہ اب پیپلزپارٹی کی مرکزی قیادت کو اچھی طرح سمجھ آگیا ہے کہ پی ٹی آئی وفاق میں حکومت کے ساتھ ساتھ سندھ میں بھی اپوزیشن کا ایک بہت بڑا رول ادا کرنے میں کوئی کسر اُٹھا نہ رکھے گی اور قدم قدم پر سندھ حکومت کو زچ کرنے کی اپنی سی بھرپور کوشش کرے گی۔

اس لیئے سیاسی تجزیہ کاروں کی رائے ہے کہ سندھ میں اپوزیشن کا بھرپور مقابلہ کرنے کے لئے سندھ حکومت کو ماضی کے مقابلے میں اپنی طرز حکمرانی کو یکسر بدلنا ہوگا کیونکہ پی ٹی آئی، متحدہ قومی موومنٹ اور جی ڈی اے کے ملاپ سے بننے والی ایک مضبوط ترین اپوزیشن کو صرف اُسی صورت میں ٹف ٹائم دیا جاسکتا ہے کہ جب سندھ حکومت سندھ کی عوام کو حقیقی معنوں میں کچھ ڈلیور کرنے کی پوزیشن میں نظر آئے بصورت ِدیگر60سے زائد ارکان پر مشتمل ایسی اپوزیشن جس کی وفاق میں بھی حکومت ہو کا سامنا کرتے ہوئے ذرا سی بھی کمزوری دکھانا سندھ حکومت کو مکمل طور پر مفلوج بھی کرسکتا ہے۔مگر ساتھ ہی یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ پی ٹی آئی اور ایم کیو ایم کسی بھی صورت فطری اتحادی قرار نہیں دیئے جاسکتے، ان دونوں کے درمیان ہونے وا لے نو نکاتی معاہدے کے باوجود دونوں جماعتوں کے درمیان نظریاتی اختلافات اب بھی موجود ہیں،پیپلزپارٹی کے لیئے یہ ہی وہ مثبت بات ہے جسے آگے جاکر پیپلزپارٹی اپنے حق میں استعمال کرسکتی ہے۔اگرپی پی پی اپوزیشن کی اس کمزوری سے فائدہ اُٹھا کرایم کیو ایم کے ساتھ ماضی کی طرح سندھ میں اتحاد کرنے کی کوئی کوشش کرتی ہے توپھر سب سے بڑا سوال یہ پیدا ہوجائے گا کہ پیپلز پارٹی کے پاس ایم کیو ایم کو دینے کیلئے کچھ دستیاب بھی ہوگا یا نہیں۔

کراچی کی عوام اس وقت کراچی میں کام کرنے والی ہر سیاسی جماعت پر پوری طرح نظر رکھے ہوئے ہے کہ کراچی کی ترقی میں کونسی سیاسی جماعت متحرک کردار ادا کرتی ہے۔ کراچی میں بھتہ مافیا اوراسٹریٹ کرائم ایک بار پھر سے زور پکڑ رہے ہیں۔ اب اس کا مکمل خاتمہ کرنے میں کونسی سیاسی جماعت بھرپور سیاسی و انتظامی اقدامات کرے گی اور کون اس راہ میں رکاوٹ ڈالے گی اس کا اندازہ آنے والے چند دنوں میں ہی ہوجائے گا۔ویسے اس حوالے سے سندھ حکومت ماضی میں کوئی اچھا ریکارڈ نہیں رکھتی کیونکہ اپنی حکومت کے گزشتہ ادوار میں سندھ حکومت رینجرز کو اختیارات دینے میں ہمیشہ لاپرواہی اور لیت و لعل سے کام لیتی رہی ہے۔قوی اُمید یہ ہی ہے کہ سندھ اسمبلی کے ایوان میں آنے والے پانچ سالوں میں جس قدر شور شرابہ اور ہلچل رہے گی، گذشتہ دس سالوں میں سے اس کی ایک مثال بھی پیش نہیں کی جاسکے گی، اس کی وجہ یہ ہے کہ گذشتہ دس سا لوں میں انتہائی کمزور اپوزیشن کا پیپلز پارٹی کو سامنا نہیں رہا۔

جبکہ اس بارنامزد گورنر عمران اسماعیل نے حلف اٹھانے سے پہلے ہی عندیہ دیدیا ہے کہ وہ سندھ حکومت کو ذرہ برابر بھی رعایت نہیں دیں گے، وہ سندھ کے مختلف اضلاع کے دورے کریں گے اور وہ صوبے کے مسائل کے حل کیلئے بھرپور توجہ دیں گے جبکہ انہوں نے یہ بھی صاف صاف بتادیا ہے کہ گورنر ہاؤس کے اخراجات کو کم کرنے کی کوشش کریں گے اور اس سلسلے میں کمیٹی جو کام کرے گی اس کی تجاویز پر عمل کریں گے۔عمران اسماعیل کی نامزدگی تحریک انصاف کی طرف سے پاکستان پیپلزپارٹی کو سندھ کو یہ واضح پیغام دے رہی ہے کہ پی ٹی آئی سندھ میں پی پی پی کو ٹف ٹائم دینے کا سنجیدگی سے سوچ رہی ہے، شاید یہ ہی وجہ ہے کہ عمران اسماعیل نے گورنرکا حلف نہیں اٹھایاتاہم دونوں جانب سے تندوتیز بیانات کا سلسلہ جاری ہے۔جیسے نامزد گورنر سندھ کی طرف سے بلاول ہاؤس کی دیوار کو مسمار کرنا،بلدیاتی نمائندوں کے اختیارات کو یقینی بنانا اور کراچی کے ہر منصوبے کا تھرڈ پارٹی آڈٹ کرانا ایسے اقدامات ہیں جو سندھ حکومت کسی کسی صورت چین سے حکومت نہیں کرنے دیں گے۔نامزد گورنر سندھ عمران اسماعیل کے بیان پر ردعمل کااظہار کرتے ہوئے پی پی پی کے نومنتخب رکن سندھ اسمبلی اور پی پی پی کراچی ڈویژن کے صدرسعیدغنی کا کہا ہے کہ عمران اسماعیل عوام کے ووٹوں سے نہیں بلکہ جھرلو کے ذریعے منتخب ہوئے ہیں عمران خان نیازی ایم کیو ایم کے زیرسایہ سندھ کو مسخر کرنے میں کامیاب نہیں ہونے دیں گے جبکہ عمران اسماعیل کراچی کی فکر چھوڑ کر پی ٹی آئی کا گندصاف کریں اور سندھ پولیس کو غیرسیاسی کرنے کے اعلان سے پہلے عمران اسماعیل یاد رکھیں گورنرشپ مکمل طور پر ایک غیرسیاسی عہدہ ہے۔عمران اسماعیل اور پی ٹی آئی کے عزائم سے ظاہرہوتا ہے کہ ان کا آئندہ کا ہدف پیپلزپارٹی کو اندرون سندھ میں کمزور کرنا ہوگا جس کے لیے ابتداء ہی سے کام کا آغاز کردیا گیا ہے۔

حوالہ: یہ مضمون سب سے پہلے ہفت روزہ ندائے ملت لاہور 30 اگست 2018 کے شمارہ میں شائع ہوا

راؤ محمد شاہد اقبال
Latest posts by راؤ محمد شاہد اقبال (see all)

اپنا تبصرہ بھیجیں