Education Crisis in Sindh

سندھ کا تعلیمی نظام زبوں حالی کا شکار

سندھ حکومت کا دعوی ہے”سندھ میں ہر طرف ترقی کا دور رواں دواں ہے اور کوئی بھی شخص اس ترقی کا انکار نہیں سکتا“۔ہمیں بھی لگتا ہے کہ سندھ میں واقعی بڑی تیزی سے ترقی ہو رہی ہے مگرہمارے نزدیک یہ ترقی عوامی فلاح و بہبود کے شعبوں کے بجائے لاقانونیت،اقربا پروری اور بے قاعدگیوں میں ہی ہو رہی ہے۔یوں تو سندھ میں کونسا ایسا شعبہ یا محکمہ ہے جو زبوں حالی کا شکار نہیں لیکن جتنی دگرگوں حالت سندھ میں تعلیم کی ہے اُس کا موازنہ تو پاکستان کے باقی صوبوں کے ساتھ کرنا ہی بے کار ہے۔سیاسی مفادات نے سندھ میں تعلیم کے نظام کو ہر سطح پرتباہ کر کے رکھ دیا۔ جس کا ایک تازہ ثبوت سپریم کورٹ آف پاکستان کے حکم کے برخلاف سندھ کی 8 جامعات میں ریٹائرڈ افسران و وائس چانسلرز کو اُن کی پوسٹوں پر برقرار رکھناہے۔مذکورہ یونیورسٹیوں میں قائد عوام انجینئرنگ یونیورسٹی نواب شاہ،پیپلز میڈیکل یونیورسٹی و ہیلتھ سائنسزنواب شاہ، وٹرنری سائنس یونیورسٹی نواب شاہ، کراچی یونیورسٹی،شاہ عبداللطیف یونیورسٹی خیرپور،لیاقت میڈیکل یونیورسٹی جامشورواور سندھ یونیورسٹی جامشورو شامل ہیں۔جن کے وائس چانسلر سپریم کورٹ کے واضح احکامات کے باوجود بھی نہیں ہٹائے جارہے۔حالانکہ سپریم کورٹ کی جانب سے مختلف سرکاری محکموں اور جامعات میں تعینات ریٹائرڈ افراد کو ہٹائے جانے کے واضح احکامات کے بعد سندھ حکومت نے مختلف محکموں کے افسران کو فوری طور پر ہٹا دیا تھامگر سندھ کی مختلف جامعات میں تعینات وائس چانسلرز جو پہلے سے ریٹائرڈ افسران ہیں کو تاحال نہیں ہٹایا گیا۔

ان وائس چانسلر زکو ان کے عہدوں سے نہ ہٹانے کی بنیادی وجہ جو سامنے آرہی ہے وہ یہ ہے کہ پاکستان پیپلزپارٹی کی ایک طاقتور ترین شخصیت ان تمام وائس چانسلرز کی پشت پر کھڑی ہے۔اُس مقتدر شخصیت کا خیال ہے ان تمام وائس چانسلرز کو بیک وقت ان کے عہدوں سے ہٹانا سندھ میں پیپلزپارٹی کے لیئے سیاسی نقصان کا باعث بھی بن سکتا ہے۔ اعلی ترین تعلیمی اداروں میں سیاسی مداخلت کی یہ بدترین مثال ہے۔تعلیمی اداروں میں اقربا پروری اور سیاسی نوازشیں وہ مہلک عوامل ہیں جن کی وجہ سے آج سندھ کی یونیورسٹیاں عالمی درجہ بندی میں آخری نمبروں پر بھی شمار نہیں کی جاتی۔ ذرائع کے مطابق قائدِ عوام انجینئرنگ یونیورسٹی نواب شاہ کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر عبدالکریم بلوچ،پیپلز میڈیکل یونیورسٹی و ہیلتھ سائنسز نواب شاہ کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اعظم یوسفانی،وٹرنری سائنس یونیورسٹی کے وائس چانسلر کے بی میر بحر،شاہ عبداللطیف یونیورسٹی خیرپور کی وائس چانسلر پروین شاہ،سندھ یونیورسٹی جامشورو کے وائس چانسلرپروفیسر شفیع برفت،لیاقت میڈیکل یونیورسٹی جامشورو کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکڑ نوشاد احمد شیخ،کراچی یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر انجم خالداور سندھ مدرستہ الاسلام یونیورسٹی کے وائس چانسلر ریٹائرڈ افراد ہیں۔مگر تاحال سندھ حکومت نے انہیں اپنے عہدوں سے ہٹانے کے لیئے کوئی قدم نہیں اٹھایا۔جبکہ وزیراعلیٰ سندھ سیکریٹریٹ کے ذرائع کا موقف یہ ہے کہ ہماری جانب سے سیکشن افسر نے مورخہ 3 جولائی کو سندھ بھر کی جامعات کے وائس چانسلر ز کو لیٹر جاری کر کے انہیں ہدایت کی ہے کہ ان کی یونیورسٹیوں میں جو بھی ریٹائرڈ اہلکار ان کو فور طور پر ہٹایا جائے۔لیکن سندھ حکومت کے اس حکمنامے پر عمل کیوں نہیں ہو رہا اس پر وہ کوئی جواب دینے سے قاصر ہیں۔

مسئلہ صرف تعلیمی میں اداروں میں تقرری و تنرلی کا ہی نہیں ہے بلکہ سندھ میں تعلیم کا پورا نظام ہی کرپشن کے عفریت کے پنجوں تلے آیا ہوا ہے۔پیپلز پارٹی نے گذشتہ 8سالہ دورِ حکومت میں سندھ کی تعلیم پر 832.96 ارب روپیہ خرچ کیا ہے مگر اتنی بڑی رقم خرچ ہونے باوجود سندھ کے تعلیمی نظام میں بہتری کیوں نظر نہیں آرہی۔اس سوال کا جواب دینے کو کوئی تیار نہیں۔سوائے کچھ نئی یونیورسٹیوں اور کالجوں کے کیمپس قائم کرنے کے۔یہ اربوں روپے کا خرچ کاغذوں میں دکھایا تو جاتا ہے مگر عملی طور اس کا کوئی نتیجہ نظر نہیں آتا۔2009-10 ؁ء میں سندھ حکومت نے تعلیم کے لیئے 40 ارب سے زیادہ کا بجٹ رکھا، اسی طرح مالی سال 2010-11 ؁ء کے بجٹ میں 60 ارب روپے،مالی سال 2011-12 ؁ء میں بجٹ میں 70 ارب روپے،مالی سال 2012-13 ؁ء میں 111.96 ارب روپے، 2013-14 ؁ء کے بجٹ میں 133 ارب روپے، 2014-15 ؁ء کے بجٹ میں 134 ارب روپے، 2015-16 ؁ء میں 144 ارب روپے،2016-17 ؁ء کے بجٹ میں 160 ارب روپیہ خرچ کیا ہے سندھ کی تعلیم پر اتنی بڑی رقم خرچ کرنے کے باوجود تعلیم کا ایک بھی شعبہ ایسا نظر نہیں آتا جس کی صورت حال تسلی بخش قرار دی جاسکے۔
حد تو یہ ہے کہ سندھ میں کل 40 ہزار 63 سرکاری اسکول ہیں جن میں سے 5384 اسکول ایسے ہیں جو کئی سالوں سے تعلیمی سرگرمیوں کے لیئے بند ہیں۔ سندھ اسکول ایجوکیشن کی طرف سے جاری کردہ سالانہ رپورٹ کے مطابق بدین میں 115،دادو میں 215،حیدرآباد میں 36،ٹھٹھہ میں 342،جامشورو میں 123،مٹیاری میں 98،ٹنڈوالہیار میں 88،ٹنڈو محمد خان 16،سجاول میں 401،کراچی سینٹرل میں 9،کراچی اپر میں 4،کراچی جنوبی میں 23،کراچی شمالی میں 9،ملیر میں 33،کراچی کورنگی میں 2،اسکول بند ہیں اسی طرح جیکب آباد میں 64،لاڑکانہ میں 23،شکارپور میں 263،کشمور میں 307،قمبر شہدادکوٹ میں 242، خیرپور میں 330،سکھر میں 94،گھوٹکی میں 179،میرپورخاص میں 280،تھرپارکر میں 909،عمرکوٹ میں 334،سانگھڑ میں 357،نوشہروفیروز میں 215 اور شہید بے نظیر آباد میں 273 سرکاری اسکول بند ہیں۔ ان میں سے اکثر اسکول مقامی بااثر وڈیروں کی اوطاقوں یا اُن کے مال مویشی کے باڑوں میں تبدیل ہوچکے ہیں۔سندھ حکومت بند اسکولوں کے حوالے سے کوئی وجہ بتانے کے بجائے یہ کہہ کر اپنی جان چھڑا لیتی ہے کہ سابق وزیراعلی سندھ ارباب غلام رحیم اور دیگر لوگوں نے سندھ میں ضرورت سے زیادہ اسکول کھول دیئے تھے۔تعلیمی زبوں حالی پر سندھ حکومت کے اس لایعنی موقف سے آپ سندھ میں تعلیم کے حوالے سے اُس کی سنجیدگی کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔دراصل تعلیمی میدان کا سارا بگاڑ سیاسی مداخلت کی وجہ سے ہے اور اس کا حل صرف ایک ہی ہے کہ سیاسی قیادت یہ پختہ عزم کر لے کہ سندھ میں تعلیم کے تمام معاملات میں ہمیشہ میرٹ کو فوقیت دی جائیگی اور سیاسی مداخلت سے اجتناب برتا جائے گالیکن کیا ایسا ہو سکے گا۔بظاہر اس کے امکانات ذرہ برابر بھی نظر نہیں آتے۔

حوالہ: یہ مضمون سب سے پہلے ہفت روزہ ندائے ملت لاہور 20 جولائی 2017 کے شمارہ میں شائع ہوا

راؤ محمد شاہد اقبال
Latest posts by راؤ محمد شاہد اقبال (see all)

اپنا تبصرہ بھیجیں