Bilawal Bhutto with PPP Manifesto

پیپلزپارٹی کے ہاتھوں سے سندھ کارڈ پھسلنے لگا

تحریک انصاف اور پاکستان مسلم لیگ ن کے بعد اب سندھ میں پاکستان پیپلزپارٹی میں بھی انتخابی ٹکٹوں کی تقسیم کے حوالے سے شدید تنازعات سامنے آگئے ہیں اور سندھ میں کم و بیش تین درجن سے زائد انتخابی نشستوں پرپیپلزپارٹی کے اپنے ہی مختلف اُمیدواروں نے آزاد حیثیت میں الیکشن میں حصہ لینے کا فیصلہ کر لیا ہے،جس کے باعث سندھ میں پیپلزپارٹی کی محفوظ ترین تصور کی جانے والی انتخابی نشستیں بھی خطرے میں پڑ گئیں ہیں،بظاہر پیپلزپارٹی ٹکٹوں کی تقسیم سے قبل سندھ میں اپنے آپ کو کسی بھی سیاسی جماعت کی بہ نسبت محفوظ تصور کر رہی تھی لیکن ٹکٹوں کی تقسیم کے بعد سندھ بھر میں پیپلزپارٹی کے لیئے بھی مشکلات پیدا ہوگئیں ہیں۔اگر پیپلزپارٹی نے اپنے ناراض رہنماؤں کے خدشات کو دور نہیں کیا تو اُسے قومی اور صوبائی اسمبلی کی 50 سے زائد یقینی نشستوں سے ہاتھ دھونا پڑسکتا ہے۔سندھ میں انتخابی ٹکٹ نہ ملنے پر اہم ناراض رہنما پیپلزپارٹی سے راہیں جد اکرنے لگے۔ضلع بدین سے سابق اراکین قومی اسمبلی غلام علی نظامانی،کمال احمد چانگ، ضلع دادو سے سابق ایم این اے طلعت حسین مہیسر،ضلع گھوٹکی سے سابق ایم این اے سردار علی گوہر مہر، نوشہروفیروز سے سابق صوبائی وزیر عبدالحق بھرٹ،سابق ایم پی اے ڈاکٹر ستار راجپر،تھرپارکر سے سابق ایم این اے فقیر شیر محمد بلالانی،جامشورو سے سابق صوبائی وزیر ڈاکٹر سکندر شورو،میر پور خاص سے سابق صوبائی وزیر سید علی نواز شاہ،نواب شاہ سے چوہدری عمران علی آرائیں اور دیگر نے پارٹی ٹکٹ نہ ملنے کے بعد پیپلزپارٹی کے نامزد کردہ امیدواروں کے خلاف الیکشن میں بھرپور مقابلہ کرنے کا اعلان ِ جنگ کردیا ہے۔جبکہ پیپلزپارٹی کے کئی سینئر رہنماؤں نے ٹکٹ نہ ملنے پر الیکشن مہم میں خاموشی کے ساتھ پارٹی مخالف اُمیدواروں کی حمایت کرنے کا عندیہ بھی دے دیا ہے۔جس کے بعد پیپلزپارٹی کے لیئے صوبہ سندھ کے کئی انتخابی حلقوں میں کامیابی حاصل کرنا ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے۔ذرائع کے مطابق قومی اسمبلی کے حلقے این اے 213 نواب شاہ سے الیکشن لڑنے والے پیپلزپارٹی کے سربراہ آصف علی زرداری کو بھی سخت ترین مقابلہ کا سامنا ہے۔سابقہ انتخابات میں اس حلقے سے ان کی بہن عذرا پیچوہو 85 ہزار ووٹوں کی واضح اکثریت سے کامیاب ہوئیں تھیں۔ان کے مقابلے میں سردار شیر محمد رند نے 32 ہزار ووٹ اور فنکشنل لیگ کے اُمیدوار نے 25 ہزار ووٹ لیئے تھے، مجموعی طور پر عذرا پیچوہو کے مقابل تمام اُمیدواروں نے ایک لاکھ 25 ہزار ووٹ لیئے تھے۔اس بار سردار شیر محمد رند جی ڈے اے کی طرف سے مشترکہ اُمیدوار کے طور پر سامنے آئے ہیں جنہیں پی پی مخالف ہر سیاسی جماعت کی حمایت بھی حاصل ہے۔اگر وہ تمام پیپلزپارٹی مخالف ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو آصف علی زرداری کی کامیابی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔دوسری طرف نوشہروفیروز سے بھی پیپلزپارٹی کے دو اہم ترین رہنماؤں عبدالحق بھرٹ اور ڈاکٹر ستار راجپر نے پیپلزپارٹی کے نامزد کردہ اُمیدواروں کا مقابلہ کرنے کا اعلان کردیا ہے۔پی ایس 35 سے پیپلزپارٹی نے عبدالحق بھرٹ کے بجائے ممتاز چانڈیو کو نامزد کیا ہے،جو سندھ حکومت کے اربوں روپے لاگت کے منصوبوں کے ٹھیکیدار بھی ہیں،آصف علی زرداری عبدالحق بھڑت کو منانے کے لیئے ان کے گھر چل کر گئے تھے،لیکن وہ تاحال الیکشن سے کسی صورت دستبردار ہونے کو تیار نہیں۔پی پی ذرائع دعوی کررہے ہیں کہ پارٹی قیادت اور عبدالحق بھڑت سے بات چیت جاری ہے،جس کی کامیابی کے قوی امکانات ہیں۔

ضلع بدین بھی سندھ کا ایک اہم ترین حلقہ ہے جو کسی زمانے میں پیپلز پارٹی کا سیاسی گڑھ سمجھا جاتا تھا، وہاں سے بھی پی پی کے لیئے کچھ اچھی خبریں نہیں آرہی ہیں۔اطلاعات ہیں کہ ضلع بدین کے علاقے ماتلی سے تعلق رکھنے والے پیپلز پارٹی کے سابق ایم این اے غلام علی نظامانی پارٹی سے اپنی راہیں الگ کرتے ہوئے جی ڈی اے کا حصہ بن گئے ہیں، جبکہ اسی علاقے کے سابق ایم این اے کام چانگ بھی انتخابی ٹکٹ نہ ملنے پر پارٹی سے سخت ناراض ہیں اور آزار اُمیدوار کی حیثیت سے الیکشن لڑنے کا اعلان کرچکے ہیں۔اس حلقے سے ایم این اے کی سیٹ کے لیئے جی ڈی اے نے ڈاکٹرذوالفقار مرزا کو نامزد کیا ہے،جن کا مقابلہ پیپلزپارٹی کے میر غلام علی تالپور کرینگے،اس حلقے میں فنکشنل لیگ کے اثرورسوخ اور سیاسی اثرات کے سبب پیپلزپارٹی کے جیتنے کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ضلع تھرپارکر کے پی ایس 56 سے سابق ایم این اے فقیر شیر محمد بلالانی نے پی پی کے اُمیدوار ڈاکٹر مہیش ملانی سے مقابلے کا اعلان کردیا ہے۔جس سے پارٹی قیادت سخت پریشان ہے۔اس حلقے میں بھی مہیش ملانی کی پوزیشن بے حد کمزور بتائی جارہی ہے،کیونکہ نئی حلقہ بندی کے نتیجے میں تقریباً دس ہزار سے زائد مہیش ملانی کے حمایتی ووٹرز دوسرے حلقے پی ایس 57 کا حصہ بن گئے ہیں، جبکہ تھرپارکر میں غوثیہ جماعت کا بھی کافی ووٹ بینک ہے اور شاہ محمود قریشی نے بھی فقیر شیر محمد بلالانی کو اپنی بھرپور حمایت کا یقین دلایا ہے،جس کی وجہ سے ان کی کامیابی کے امکانات یقینی ہیں۔ضلع گھوٹکی سے تعلق رکھنے والے سابق ایم این اے سردار علی گوہر مہر بھی پیپلزپارٹی سے الگ ہوکر جی ڈی اے کا حصہ بن گئے ہیں۔ضلع دادو کے علاقے میہڑ سے تعلق رکھنے والے سابق ایم این اے طلعت مہیسر پیپلزپارٹی چھوڑ کر پی ٹی آئی میں شامل ہوچکے ہیں۔جس سے پی ٹی آئی کے اُمیدوار لیاقت جتوئی کی پوزیشن مضبوظ ہوئی ہے،جبکہ پیپلزپارٹی کے اُمیدواروں عمران ظفر لغاری اور فیاض احمد بٹ کے لیئے مسئلہ بڑھ گیا ہے۔لاڑکانہ سے ٹکٹ نہ ملنے پر سابق ایم پی اے عزیز جتوئی ناراض ہیں،پیپلزپارٹی نے تعلقہ ڈوکری کے اس علاقے کے این اے 201 پر جس شخص خورشید احمد جونیجو کو نامز کیا ہے،اُن کا اس علاقے سے کوئی تعلق نہیں۔حالیہ بلدیاتی انتخابات میں انڑ گروپ نے اس تعلقہ سے پیپلزپارٹی کو شکست دی تھی،اس بار انڑ گروپ کے اُمیدواروں کو اللہ بخش انڑ اور عادل انڑ کو جی ڈی اے کی مکمل حمایت حاصل ہے، اس غیر متوقع سیاسی صورت حال کی بدولت لاڑکانہ کے وہ حلقے بھی جو ہمیشہ سے پیپلزپارٹی کے لیئے انتہائی محفوظ تصور کیئے جاتے تھے، وہاں پر بھی سخت مقابلہ کا امکان پیدا ہو گیاہے، یہ سیاسی حالات بلاشبہ پی پی قیادت کے سیاسی مستقبل کے لیئے خطرناک ہیں۔

حوالہ: یہ مضمون سب سے پہلے ہفت روزہ ندائے ملت لاہور 5 جولائی 2018 کے شمارہ میں شائع ہوا

راؤ محمد شاہد اقبال
Latest posts by راؤ محمد شاہد اقبال (see all)

اپنا تبصرہ بھیجیں