Shahid Hameed Owner of Book Corner Jehlum

شاہد حمید، کبھی ہر کتاب کا سرورق تھا، اب پسِ ورق ہوا

عام طور پر قارئین ہر اچھی تحریر کو پسند کرتے ہیں،خوب صورت کتاب کو محبت سے اپنے پاس رکھتے ہیں اور اپنے پسندیدہ مصنف کی عقیدت میں مبتلا ہونے پر اعلانیہ فخرو مباہت کا دل کی اتہاہ گہرائیوں سے اظہار کرتے ہیں۔جبکہ کتاب چھاپنے والے پبلشر سے قارئین کی اکثریت،تمام زندگی اجنبی ہی رہتی ہے۔ دراصل کتاب کے رسیا و شائق ہمیشہ سے اِس مشہور ِ زمانہ مقولہ پر عمل پیرا رہے ہیں کہ ”ہمیں آم کھانے سے مطلب ہے،پیٹر گننے سے نہیں“۔بلکہ بعض اوقات تو قارئین کتاب کی اشاعت، قیمت اور معیار کو لے کر پبلشر ز کو کڑی تنقید کا نشانہ بنانے سے بھی گریز نہیں کرتے۔ لیکن جب بات آتی ہے بک کارنر کے بانی ومالک پبلشر جناب شاہد حمید کی تو کتاب پڑھنے والے ہی نہیں کتاب لکھنے والے بھی اُن کا تذکرہ انتہائی اَدب و احترام سے کرنے لگتے ہیں۔گزشتہ دنوں شاہد حمید کی رحلت کی خبر آنے کے بعد سے لے کر آج تک جس طرح سے اُردو زبان و ادب سے محبت رکھنے والے قارئین،مصنفین اور کالم نگاروں نے اُن کی ناگہانی موت پر اپنے دُکھ اور کرب کا اظہار کیا۔وہ یقینا کسی بھی پبلشرز کے لیئے اس لیئے بھی ایک اعزاز سے کم نہیں ہے کہ ہم تو وہ علم دوست قوم ہیں جسے بعض اوقات ادیب کے مرنے کی اطلاع بھی مرحوم کے چالیسویں یا برسی کے روز ہوتی ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ پاکستان میں بک کارنر سے بہتر اور اچھی کتابیں چھاپنے والے ادارے موجود نہیں ہیں۔ یقینا کئی ایک ایسے پبلشر وطن عزیز میں موجود ہیں،جن کے اشاعتی ادارے بک کارنر سے ہر لحاظ سے وسیع و عریض ہیں مگر قارئین کی اکثریت اُن کے بانی و مالک کے درست نام سے بھی واقفیت نہیں رکھتی۔جبکہ شاہد حمید،معیاری کتاب اور بک کارنر ایک دوسرے کے ہم نام ہوچکے ہیں۔ یعنی اگر کہیں دلکش و جاذب نظر کتاب کا ذکر چھڑ جائے تو غیر ارادی طور پر خیال بک کارنر اور شاہد حمید کی جانب مبذول ہوجاتاہے۔

یہ کالم بھی پڑھیئے: لگتا ہے کہ کسی نے جادو کروا دیا ہے

ویسے تو شاہد حمید کی شخصیت میں بے شمار ایسی نمایاں خوبیاں بدرجہ اتم پائی جاتی تھیں،جو انہیں دیگرتمام ہم عصر پبلشرز سے ممتاز بناتی تھیں۔ مثلاً کتاب سے دیوانہ وار عشق کرنا،مصنف کی عزتِ نفس اور حقوق کا خیال رکھنا،قارئین کی پسند و ناپسند کو اہمیت دینا اور کتاب کے معیار پر کسی بھی طرح کا سمجھوتہ نہ کرنا لیکن میں بطور ایک قاری کے شاہد حمید کی جس خوبی سے سب سے زیادہ متاثر یا مستفید ہوا ہوں،وہ ذرا مختلف سی ہے۔ سادہ لفظوں میں یوں سمجھ لیجئے کہ مجھ جیسے چھوٹے شہروں میں بسنے والے کتاب کے عام سے قارئین تک کتاب کی آسان و سہل رسائی کا جو جدید ترین و موثر طریقہ بحیثیت ایک پبلشر شاہد حمید نے متعارف کروایا،وہ ہم جیسے”متلاشیانِ کتاب“کے لیئے ایک نعمت غیر متبرکہ سے کم نہیں ہے۔ جی ہاں! میر ی نظر میں پاکستان میں کتاب کی آن لائن فروخت کا اوّلین آغاز شاید حمید کا ایسا کارنامہ ہے، جس کی اہمیت و افادیت کا بڑے شہروں میں بسنے والے کتاب کی دلدادہ قارئین، اگر درست ادراک کرنا بھی چاہیں تو شاید کبھی نہ کر سکیں۔ واضح رہے کہ سرکاری سرپرستی میں چلنے والی عوامی لائبریریاں پاکستان کے صرف چند بڑے شہروں میں ہی پائی جاتی ہیں۔ جبکہ وطن عزیز کے ٹھیک ٹھاک آبادی رکھنے والے اکثر شہر بھی عوامی لائبریری کی سہولت سے نہ جانے کب سے محروم چلے آرہے ہیں۔ کہنے کو توہماری جنم بھومی اور لاکھوں کی آبادی والے شہر نواب شاہ کو 1906 میں انگریزوں نے ضلع کا درجہ دے دیا تھا لیکن 2021 میں بھی یہ شہر ایک عدد سرکاری عوامی لائبریری کا حقدار نہ قرار پا سکا۔ بابائے اُردو مولوی عبدالحق کی کوششوں سے قیام پاکستان کے فوراً بعد نواب شاہ شہر کے عین وسط میں ایک لائبریری قائم کرنے کی مخلصانہ کوشش ضرو رکی گئی تھی،لیکن 80 کی دہائی کے اواخر میں بعض مقامی سیاست دانوں نے انتظامیہ کی ملی بھگت سے اُسے کاروباری مرکز میں تبدیل کر کے اپنا نقد کمیشن کھرا کر لیا تھا۔ جبکہ نیشنل فاؤیشن کی چھوٹی سے بچ جانے والی واحد لائبریری بھی 1996 میں میاں محمد نواز شریف کی دو تہائی مینڈیٹ تلے کچلی گئی تھی اور اُس کے بعد تو پھر”شہر میں کتابوں کی روشنی نہ رہی“۔

المیہ تو یہ ہے کہ چھوٹے شہروں میں آنہ لائبریری،روپیہ لائبریری، کتاب میلے اور پرانی کتابوں کا اتوار بازار سجانے کے سانحات اور حادثات رونما ہونے کی پختہ روایت بھی کبھی فروغ نہ پاسکی۔مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ پرانی کتابوں کی خریداری کے لیئے، کتاب کی لَت میں مبتلاء چند دوستوں کے ہمراہ دو،چار بار نواب شاہ سے اُردو بازار کراچی جانے کا جوکھم بھی اُٹھایا مگر بدقسمتی سے جب جب ہم نے کراچی میں قدم رکھا،تب تب شہر کے حالات بگڑ گئے اور یوں خالی ہاتھ واپس لوٹ آئے۔ نیز کئی بار کراچی میں رہنے والے کسی عزیز رشتہ دار کو اچھی پرانی کتابیں خریدکر بھیجنے کا فریضہ بھی تفویض کیا تو جواب میں ایسی ایسی پرانی کتابیں موصول ہوئیں کہ کسی عزیز کے تعاون سے پرانی کتاب خریدنے سے توبہ تائب کرنے میں ہی عافیت جانی۔ وہ کہتے ہیں نا کہ جب سارے دروازے بند ہوجائیں تو اللہ سبحانہ و تعالیٰ اپنے بندہ پر رحمت فرماتے ہوئے اچانک غیب سے کوئی کشادہ دروازہ کھول ہی دیتاہے۔ پس! ہم جیسوں ”کتاب خوروں“کے لیئے2010 میں شاہد حمید نے بک کارنر جہلم کی ویب سائٹ سے آن لائن کتاب خریداری کا بابرکت دروازہ کھول دیا۔

بہرحال ہمیں اس دروازے کے کھلنے کی خبر 2011 میں ہوئی اور تب سے آج تک جب بھی کسی کتاب ضرورت پڑی،بک کارنر کی ویب سائٹ پر گئے اور اپنی من پسند کتاب انتہائی ارزاں نرخوں پر خرید لی۔ ویسے تو آج کل ہر بک پبلشرز کی ویب سائٹ پر آن لائن کتاب خریدنے کی سہولت دستیاب ہے۔ مگر جو امتیاز اور سہولت بک کارنر کی ویب سائٹ پر مہیا ہے، وہ کسی دوسرے پبلشرز کی ویب سائٹ پر دستیابی کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ مثال کے طور پر بک کارنر ہر دو چار ماہ بعد ”آن لائن کتاب میلہ“ کا اہتمام کرتا ہے،جس میں 70 فیصد تک رعایتی قیمت پر کتابیں قارئین کو دستیاب ہوجاتی ہیں۔ علاوہ ازیں بک کارنر کی ویب سائٹ پر پاکستان کے ہر پبلشرز کی شائع کردہ کتاب آن لائن فروخت کے لیئے موجود ہوتی ہے۔جبکہ دیگر پبلشرز کی ویب سائٹ پر صارف کو فقط اُن کے ادارہ کے تحت شائع شدہ کتابیں ہی آن لائن خریدنے کی سہولت فراہم کی جاتی ہے۔علاوہ ازیں بک کارنر کا ”قارئین دوست“عملہ ایک فرمائشی فون کال پر ایسی نادر و نایاب کتاب کی فراہمی بھی ممکن بنا دیتا ہے،جو کہیں سے بھی دستیاب ہونے کا قطعی اِمکان نہیں ہوتا۔یعنی بک کارنر کے بانی و مالک شاہد حمید کے پیشِ نظر اپنے ادارے کی شائع کردہ کتابیں بیچ کر نفع کمانے سے زیادہ اہم ترین ترجیح، عام افراد تک کتاب کی رسائی کو سہل و آسان بنانا تھا اور بلاشبہ وہ اپنے اس مقدس مقصد میں کامیاب بھی رہے۔

مزید یہ بھی پڑھیں: میرا قاتل، میرا چاہنے والا نکلا

کہا جاتاہے کہ کتاب لکھنا ہی فن نہیں بلکہ کتاب چھاپنا اس سے کئی گنا بڑا فن ہے۔مگر میرے خیال میں کسی بھی کتاب دوستی کے دعویدار شخص کے لیئے اصل فن تو معیاری کتابیں،ارزاں نرخوں پر زیادہ سے زیادہ قارئین تک پہنچانا ہے اور اس فن میں صرف ایک ہی شخص ید طولیٰ رکھتا تھا اور اُس کانام شاہد حمید تھا۔ میں شاہد حمید سے کبھی نہیں ملااور نہ ہی کبھی اُن کی تعمیر کردہ کتابوں کی عظیم اقلیم، بک کارنر میں قدم رکھنے کا اتفاق ہواہے۔ بلکہ سچ تو یہ ہے کہ جہلم شہر کا بھی چار،پانچ بار صرف ریلوے اسٹیشن ہی دیکھا ہے، وہ بھی اسلام آباد جاتے اور وہاں سے آتے ہوئے۔ مگر جسمانی و مادی تعلقات کے اس قدر نامعتبر حوالے کے بعد بھی شاہد حمید کی یادیں،ہنر،خلوص نیت اور محبت میرے کمرے کے بک شیلف سے ہمہ وقت جھلکتی رہتی ہے۔ یقینا جب تک میری کتابوں کی الماری میں خوب صورت، معیارہ،دلکش اور دیدہ زیب کتابیں جلوہ افروز ہیں تب تک شاہد حمید جیسے کتاب پرور محسن کا کتابی چہرہ ہر کتاب کے پسِ ورق سے مسکرامسکرا کر مجھے اپنے احسانات سے زیرِ بار کرتا رہے گا۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ سے دُعاہے کہ وہ شاہد حمید کو قلم اور الکتاب کے صدقے میں غریق رحمت کرے اور امر شاہد اور گگن شاہد کو بک کارنر کو نئی منازل کی سمت لے جانے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین۔
قبروں میں نہیں ہم کتابوں میں اُتارو
ہم لوگ محبت کی کہانی مرے ہیں

حوالہ: یہ کالم سب سے پہلے روزنامہ جرات کراچی کے ادارتی صفحہ پر 05 اپریل 2021 کی اشاعت میں شائع ہوا۔

راؤ محمد شاہد اقبال
Latest posts by راؤ محمد شاہد اقبال (see all)

اپنا تبصرہ بھیجیں