Shahbaz Sharif Arrested

شہباز شریف کی گرفتاری کا اصل سیاق و سباق

آخر کار ماڈل ٹاؤن کے 14 شہداء کا خون ِ ناحق رنگ لے ہی آیا اور گزشتہ 35سالوں سے خود کو فرعون سمجھنے والے شہباز شریف بھی گرفتار ہو ہی گئے،گو کہ یہ گرفتار ی ماڈل ٹاؤن کیس کے بجائے آشیانہ ہاؤسنگ اسکینڈل کے اُس کیس میں ہوئی ہے جس میں لوگوں کے ہنستے بنستے آشیانوں پر کرپشن کی بجلیاں گرانے میں میاں شہباز شریف نے اپنے دورِ حکومت میں کوئی کسر نہ اُٹھارکھی تھی مگر اُس کے باوجود بھی توقع ہے کہ شہباز شریف کی اس گرفتاری سے ماڈل ٹاؤن کے شہدا ء کے مظلوم اہلِ خانہ کو کم ازکم اتنی اُمید تو ضرور ملی ہوگی کہ اس دنیا کا نظام کسی سیاست کے فرعون کے ہاتھ میں نہیں بلکہ ایک قادرِ مطلق کے دستِ منتقم میں ہے جو ظالم کی رسی کو ایک معینہ مدت تک دراز تو ضرورکرتا ہے لیکن ظالم کے ظلم کو بالکل فراموش ہرگز نہیں کرتا۔بلاشبہ شہباز شریف کے ظلم و جبر کی دراز رسی35 سال بعد کاتب تقدیر کی طرف سے کھینچ لی گئی ہے او راب ہر گزرتے دن کے ساتھ یہ مزید بھی کھینچی جائے گی اور اُس وقت کھینچی جاتی رہے گی جب تک ہر اُس مظلوم کو جو شہباز شریف کے ظالمانہ دورِ اقتدار کا شکار رہا ہے پور ا پورا انصاف نہیں مل جاتا۔

مقام ِ عبرت تو یہ ہے کہ شہباز شریف کی گرفتاری سے چند دن پہلے تک شریف خاندان کے غرور و تکبر کا یہ عالم تھا کہ میڈیا کے سامنے رانا مشہود کی صورت میں ان کا ایک سیاسی غلام پوری قوم کو چیخ چیخ کر یہ بتا رہا تھا کہ اُس کے آقاؤں کی زمین کے ہر شخص سے ڈیل ہوگئی ہے اور احتساب کا پہیہ خاندانِ شریفیہ کی خواہش کے عین مطابق روک دیا گیا ہے اور بہت جلد اُن کے آقا ایک بار پھر سے خادمِ اعلیٰ بن کر عوام الناس کو پامال کرنے کے لیئے آنے والے ہیں۔رانا مشہود کا یہ اعلان اتنا پھسپھسا سا تھا کہ اس پر عوام تو کیا خاک یقین کرتی،خود اُن کی پارٹی نے ہی اس کو قبول کرنے سے انکار کردیااور بہانہ یہ بنایا کہ یہ تو جناب رانا مشہود کی ذاتی رائے ہے۔اب ان سے کوئی پوچھے کہ کیاسیاسی غلاموں کی بھی کوئی ذاتی رائے ہوا کرتی ہے اور اگر ہوتی ہے تو یہ رائے اُس وقت سامنے کیوں نہیں آتی جب اُن کے آقا اقتدار میں اپنے پورے جاہ و ہشم کے ساتھ جلوہ افروز ہوتے ہیں۔کوئی کچھ بھی کہتا پھرے لیکن رانا مشہود کی پریس کانفرنس سُن کر سمجھنے والے، ابتداء میں ہی خوب سمجھ گئے تھے کہ رانا مشہود کا بیان شریف برادران کی طرف سے ”ڈیل پروڈکٹ“ کا ایک سیمپل ہے جو صرف اس لیئے مارکیٹ میں لانچ کیا گیا ہے کہ اگر عوام اور مقتدر حلقوں نے اُن کی ”ڈیل“ کا یہ سیمپل قبول کرلیا تو جلد ہی ”ڈیل کا ایکسٹرا لارج پیک“ بھی جمہوریت کی مارکیٹ میں متعارف کروادیا جائے گا بصورت دیگر رانا مشہود کو ”ڈیل“ کے سیمپل سمیت گرفتار کروا دیا جائے گا۔

وہی ہوا جس کا ڈر تھاکہ کسی نے بھی مسلم لیگ ن کے مشہورِ زمانہ ”ڈیل“ پروڈکٹ کو ذرا سی بھی گھاس نہ ڈالی اور شریف برادران کے پلان بی کے عین مطابق ساری رسوائی بیچارے رانا مشہود کے کھاتے میں آئی۔حیف ہے کہ دو گھنٹے بعد ہی رانا مشہود کو پتا لگ گیا کہ مسلم لیگ ن کے بڑوں کے نزدیک اُس کی سیاسی اوقات کیا ہے۔ اب رانا مشہود چاہے کتنے ہی وضاحتی بیانات دے لیں کہ میڈیا نے میرا بیان سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا ہے لیکن رانا صاحب کی کھوئی ہوئی نیک نامی اور مقام واپس آنے کا نہیں۔کاش کوئی دیرینہ ہمدرد پریس کانفرنس کرنے سے پہلے رانا مشہود کے کان میں جاکر بتا دیتا کہ شریف برادان سیاست میں اتنے سفاک واقع ہوئے ہیں کہ یہ ”رنگے ہاتھوں“ پکڑے جانے پر اپنے سونے کے سکّوں کو بھی ایک لمحہ میں کھوٹا بنا دیتے ہیں، جبکہ بیچارا رانا مشہود تو ویسے ہی ایک عام سا سکّہ تھا جب ہی تو اسے صرف دو گھنٹہ میں ہی کھوٹا بنا دیا گیا۔میرے خیال اب رانا مشہود کو یہ بات خوب اچھی طرح سمجھ میں آہی گئی ہوگی کہ میڈیا نے اُن کا بیان ”سیاق و سباق“ سے ہٹا کر پیش نہیں کیا بلکہ شریف برادران نے اُنہیں ایک مخلص کارکن کے”سیاق و سباق“سے ہٹا کر کسی ٹشو پیپر کی طرح استعمال کیا ہے اور یہ کوئی پہلا موقع نہیں ہے کہ جب شریف برادارن نے اپنا مطلب پورا کرنے اور اپنی جان بچانے کے لیئے کسی معصوم کارکن کو”سیاق و سباق“ سے ہٹ کر استعمال کر لیا ہو۔اس سے پہلے شریف برادران نہال ہاشمی، طارق فاطمی،پرویز رشید،دانیال عزیز اور چوہدری طلال حسین کو بھی بوقت ضرورت ”سیاق و سباق“ سے ہٹا کر کچھ ایسے استعمال کرچکے ہیں کہ آج اُن میں سے ایک بھی ملک کی کسی سیاسی کتاب کے ”سیاق و سباق“ نظر نہیں آتا۔

مگر اس بار اچھی بات یہ ہوئی ہے کہ نیب پنجاب نے میاں شہباز شریف کی گرفتاری آشیانہ ہاؤسنگ اسکینڈل میں پورے”سیاق و سباق“ کے ساتھ کی ہے۔جس کا ایک فوری فائدہ تو یہ ہوا ہے کہ مسلم لیگ ن اپنی تمام تر کوشش کے باوجود کم از کم یہ اعتراض تو نہیں اُٹھاپارہی ہے کہ شہباز شریف کی گرفتاری میں جمہوری”سیاق و سباق“ کا خیال نہیں رکھا گیا۔اب دیکھنا یہ ہے کہ نیب کے تفتیشی افسران کے سامنے شہباز شریف آشیانہ اسکینڈل میں کرپشن کرنے کا اعتراف فواد حسن فواد کے ”سیاق و سباق“ کے عین مطابق کرتے ہیں یا پھر اپنا ہی کوئی نیا ”سیاق و سباق“ گھڑ کر سنادیتے ہیں۔بہرحال جو کچھ بھی کرلیں اور جتنے چاہیں ہاتھ پیر مارلیں شہباز شریف کی جان اتنی آسانی سے نہیں چھوٹنے والی کیونکہ ابھی تو بے شمار ”سیاق و سباق“ والے کیس منطقی انجام تک پہنچنا باقی ہیں اور سب سے خطرناک ”سیاق و سباق“ تو ماڈل ٹاؤن کیس کی چارج شیٹ کا ہے۔بقول شاعر
مفقود ہوگیا ہے،سیاق و سباق سے
جو عمر بھر سیکڑوں اوراق میں رہا

حوالہ: یہ کالم سب سے پہلےروزنامہ جرات کراچی کے ادارتی صفحہ پر 07 اکتوبر 2018 کی اشاعت میں شائع ہوا

راؤ محمد شاہد اقبال

اپنا تبصرہ بھیجیں