Eay on Earth

آپ کن آنکھوں سے دنیا کو دیکھتے ہیں؟

میرے ملک کے”اہل حکمران“اختیارات کی آنکھوں سے دنیا کو دیکھتے ہیں۔اس لیئے انہیں صرف ملکی خزانے نظر آتے ہیں،غریب عوام کی خالی جیبیں دکھائی نہیں دیتیں۔ان کی کوشش ہے کہ ”حقِ حکمرانی“ ہاتھ سے جانے سے پہلے پہلے ملکی خزانے کی ایک ایک پائی سات سمندر پار واقع اپنے سوئس اکاؤنٹوں تک پوری رازداری سے پہنچا دیں کیونکہ کسے خبر ہے کہ کل”حکمرانی کا یہ تاج“ اُن کے سر پر سجا رہے یا نہ رہے۔اِن ”اہل حکمرانوں“ کو پاکستان اسٹیل مل ایک ”کباڑ خانہ“ نظرآتی ہے، جسے یہ ایک لے پالک بچے کی طرح کسی بھی من پسند”ساجھے دار“ کی جھولی میں بالکل بے دام ہی ڈالنے کے لیئے مرے جارہے ہیں، لیکن انہیں اپنی ”سونا اُگلتیں ملیں“ملک کا قیمتی اثاثہ دکھائی دیتی ہیں۔جنہیں ترقی دینے کے لیئے یہ ملک کے ہر بنک سے وسیع تر ملکی مفاد میں خوب قرضے لے بھی رہے ہیں اور معاف بھی کروا رہے ہیں۔
میرے ملک کے ”نااہل حکمران“ اپنے بچوں کی آنکھوں سے دنیا دیکھتے ہیں۔ اس لیئے اُنہیں ہر منصف کا اپنے خلاف کیئے جانا والا ہر فیصلہ ”بچگانہ“ سا نظر آتا ہے۔جس پر وہ منصفوں کو شہر کے ہر قریہ،ہر میدان اور ہر گلی کوچہ میں خوب جی بھر کر کوس رہے ہیں، اس اُمید پر کہ شاید منصفوں کو کوسنے سے اُنہیں مستقبل میں ملنے والی متوقع سزاؤں میں کچھ کمی واقع ہوجائے۔لیکن اِن ”نااہل حکمرانوں“کو سابق صدر فاروق لغاری،سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو اور سید یوسف رضاگیلانی کے خلاف سنائے جانے والے سارے کے سارے فیصلے ”مدبرانہ“ اور مبنی بر انصاف نظر آتے ہیں۔
میرے ملک کی بیوروکریٹ اپنے ماتھے کے ”اُوپر“ چڑھی آنکھوں سے دنیا کو دیکھتے ہے۔اس لیئے اگر انہیں فائل کے اُوپر ”کُچھ چائے پانی“ رکھ کر نہ دیا جائے تو یہ فائل کو کاغذوں کے قبرستان میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیئے دفن کردینا اپنا فرضِ منصبی سمجھتے ہیں اور اِن کے فنکارانہ ہاتھوں سے دفن کی ہوئی فائلیں ان کے علاوہ کوئی اور دوسرا پھر سے زندہ بھی نہیں کرسکتا۔فائلیں زندہ کرنے اور فائلوں کو پَر لگانے کا منتر صرف ایک گھاگ بیوروکریٹ ہی جانتا ہے اور وہ منتر ہے ”اُوپر کی کمائی“۔اس منتر سے بیوروکریسی کی”دفتری ِ اقلیم“کا ہر دروازہ آسانی سے کھولا جاسکتا ہے اور جب کوئی ادارہ ان کی ممنوع دنیا میں بغیر اس منتر کے داخلے کی کوشش کرتا ہے تو یہ آگ بگولہ ہوکر دفتروں کو تالے لگاکر قلم چھوڑ ہڑتال شروع کردیتے ہیں تاکہ ان کے چہیتے اور کماؤ پوت ”احد چیموں“ کو منطقی انجام تک پہنچایا نہ جاسکے۔
میرے ملک کے سرمایہ دار ”منافع“ کی سفید آنکھوں سے دنیا کو دیکھتے ہیں۔اس لیئے اُنہیں ”زائد المیعاد“ روزمرہ استعمال کی عام چیزوں میں پوشیدہ ہزاروں جان لیوا خطرات میں سے ایک بھی خطرہ نظر نہیں آتا کہ ان سب کی نظریں صرف اور صرف اپنے حاصل ہونے والے منافع پر جمی ہوئی ہوتیں ہیں۔ شاید اسی لیئے یہ اپنی غیر معیاری چیزوں کے معیار کی قسمیں کھا کھا کر اُنہیں سادہ لوح گاہکوں کو بیچتے ہیں کہ اس طرح مال فروخت کرنے سے ان کا منافع کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔ یہ سرمایہ دار اتنے عقلمند ہیں کہ اپنے ملک کی بنی ہوئی ایک بھی چیز کو نہ تو خود ہاتھ لگاتے ہیں اور نہ ہی اپنے بچوں کو ہاتھ لگانے کی اجازت دیتے ہیں۔ ان کے حلق میں تو پانی بھی صرف ”امپورٹڈ“ ہی اُترتا ہے کیونکہ یہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ اُن کی برادری سے تعلق رکھنے والے دیگر سرمایہ دار بھی ”منافع“ کی سفید آنکھوں سے ہی دنیا کو دیکھتے ہیں۔
میرے ملک کے جاگیر دار ”بدمست طاقت“ کی آنکھوں سے دنیا کو دیکھتے ہیں۔اس لیئے یہ اپنے مقابل ہر شخص کو فقط اپنا مزارع یا غلام سے زیادہ کچھ نہیں سمجھتے،یہ ہی وجہ ہے عبدالمجید اچکزئی جیسے جاگیردار نے اپنی لینڈ کروزر کے سامنے آنے والے غریب ٹریفک سارجنٹ عطاء اللہ کوفقط اس لیئے کچل دیاکہ اس کے نزدیک اپنی تیزرفتار گاڑی کو بریک لگانا،اُسکی جاگیردارانہ قبائلی آن،بان اور شان کے سخت خلاف تھا اور شاہ رخ جتوئی جس نے شاہ زیب خان کو صرف اس گستاخی پر قتل کردیا کہ اُس نے شاہ رخ جتوئی کے ناپاک ارادوں سے اپنی بہن کو بچانے کی ایک چھوٹی سی کوشش کی تھی۔
میرے ملک کے تنگ نظر مذہبی رہنما ”چندے“ کی آنکھ سے دنیا کو دیکھتے ہیں۔اس لیئے اُنہیں ہر ذخیرہ اندوز،رشوت طلب کرنے والا، منافع خور اور ظالم شخص صرف اس لیئے دین اسلام کا مدد گار اور فرشتہ صفت نظر آتا ہے کہ وہ ان کی طرف سے کاٹی گئی ”چندے کی رسیدوں“ میں لکھی ہوئی من چاہیں رقمیں، بغیر کسی چوں چراں کیئے فوراًان کو ”ہدیہ“کر دیتا ہے جس کے جواب میں یہ اُسے ”پروانہ بخشش“ عنایت کرکے کسی بھی رنگ و نور سے سجی پاک صاف محفلِ نعت یا میلاد میں ”مہمانِ خصوصی“ کی مسندِ عالیشان پر اپنے سے بھی اُوپر بٹھا دیتے ہیں۔
میرے ملک کے دانشور ”مصلحت“ کی آنکھوں سے دنیا کو دیکھتے ہیں۔اس لیئے فی الحال یہ کسی بھی موضوع پر یقین سے کچھ نہیں کہہ پارہے کیونکہ انہیں کچھ بھی یقین سے کہنے سے پہلے ”مزاجِ یار“ کی طرف دیکھنا پڑرہا ہے۔یہ ایسی بات کہنے سے اپنے آپ کو روک لینے میں خاص مہارت رکھتے ہیں جن سے ان کی شہرت کی بلندی میں کمی واقع ہونا کا ذرہ برابر بھی اندیشہ پایا جاتا ہو،چاہے پھر وہ بات کائنات کی سب سے بڑی سچائی ہی کیوں نہ ہو۔ ہاں یہ ہر اُس بات کو کہنے میں ذرا تامل یا تاخیر سے کام نہیں لیتے جس سے انہیں شہرت ملنے کی ذرا بھی اُمید ہو۔چاہے پھر یہ بات کائنات کا سب سے بڑا جھوٹ ہی کیوں نہ ہو۔
میرے ملک کے صاحبِ اختیار لوگ جن آنکھوں سے چاہیں دنیا کو دیکھتے ہوں لیکن میرے ملک کی عوام آج کل ”اُمید“ کی روشن اور چمکتی ہوئی آنکھوں سے دنیا کو دیکھ رہے ہیں۔ ”اُمید“ کی اِن آنکھوں سے عوام کو ملک کی ستر سال کی تاریخ میں پہلی بار پورا پورا انصاف ہوتا ہوا نظر آرہا ہے۔چاہے کسی اور کونظر آئے یا نہ آئے۔

حوالہ: یہ کالم سب سے پہلے روزنامہ جرات کراچی کے ادارتی صفحہ پر 08 اپریل 2018 کی اشاعت میں شائع ہوا

راؤ محمد شاہد اقبال

اپنا تبصرہ بھیجیں