Imran Khan and Muhammad bin Salman Bilboard

سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کا دورہ پاکستان

بلاشبہ حفظِ مراتب کا سب سے زیادہ ادراک بادشاہ ہی رکھتے ہیں،اس لیئے جب بھی بادشاہوں کا دل چاہتا ہے وہ غلاموں کو اپنی خدمت میں کورنش بجالانے کے لیئے طلب فرمالیتے ہیں جبکہ برابر کی حیثیت والے کے پاس بادشاہ خود چل کر جاتے ہیں تاکہ اُن کی عزت افزائی فرمائی جاسکے۔ ایسا ہمیشہ سے ہوتا آیا ہے اور آئندہ بھی ہوتا رہے گا۔ اِس جملے کو سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی پاکستان آمد پر ایک بر محل تبصرہ کے طور پر لیا جاسکتا ہے۔ کیونکہ پاکستان کے سابق وزیراعظم میاں محمد نوازشریف اور سابق وزیراعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف کو جب بھی سعودی حکمرانوں کی جانب سے اپنی خدمت میں کورنش بجالینے کے لیئے طلب فرمایا جاتا تھا تو مسلم لیگ ن کے رہنما خوشی کے مارے ایسے جھوم اُٹھتے تھے کہ لاکھ کوشش کے باوجود بھی اپنے چہرے سے ”غلامانہ جذبات“ کا اظہار کیئے بغیر نہ رہ پاتے تھے۔دور کیوں جاتے ہیں پچھلے برس ہی کی تو بات ہے۔خیر سے جب چھوٹے میاں یعنی شہباز شریف کو سعودی عرب کے شاہی دربار کی طرف سے ایک عدد سعودی جہاز بھیج کر انتہائی عجلت میں طلب فرمایا گیا تھا توموصوف ”سعودی طیارے“ کی سیڑھیوں پر کھڑے ہوکر الوداع کہنے کے لیئے آنے والوں کو اپنے دونوں ہاتھ لہرالہرا کر خوشی سے ایسے نہال ہو رہے تھے جیسے اُن کی طلبی نہ ہورہی ہو بلکہ اُن کی کوئی دیرینہ ”سیاسی طلب“ پوری ہورہی ہو۔گزشتہ چالیس برسوں کے درمیان کئی بار ایسے نازک مناظر پاکستانی عوام کو تسلسل کے ساتھ دیکھنے کو ملتے رہے ہیں کہ جب شریف خاندان کی”خوئے غلامی“ نے تاریخ کے اوراق میں درج ”خاندانِ غلاماں“ کو بھی کچھ شرمندہ شرمندہ سا کر دیا ہو۔

مگر حیرت تو اِس پہ ہے کہ اب وہی مسلم لیگ ن کے زعماء اور شریف خاندان سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے خود چل کر وزیراعظم پاکستان جناب عمران خان کے پاس آنے پر صدمہ کی انتہائی دردناک حالت میں ہیں۔صدمہ کی شدت کا اندازہ میاں نواز شریف کے فقط اِس ایک بیان سے بخوبی لگایا جاسکتاہے جس میں اُن کا کہناتھا کہ”ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے حالیہ دورہئ پاکستان میں جتنا کچھ امدادی پیکج کے نام پر ریاستِ پاکستان کو دینے کا اعلان کیا گیاہے یہ سب کچھ میرے ساتھ طے ہوا تھا“۔اس ”مزاحیہ بیان“ کا سادہ سا مطلب تو یہ ہوا کہ پیچیدہ بین الاقوامی حالات کی وجہ سے میاں صاحب سے اِس امدادی پیکج کے اعلان کرنے میں اتنی زیادہ تاخیر ہوگئی کہ میاں صاحب خود جیل میں پہنچ گئے اور تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان پاکستان کے وزیراعظم بن گئے۔وہ تو خدا کا شکرہوا کہ میاں نواز شریف نے صدمہ کی ترنگ میں آکر اپنے بیان میں یہ نہیں فرمادیا کہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور وزیراعظم پاکستان عمران خان کے مابین ملاقات بھی میں نے ہی طے کروائی ہے۔اگر میاں صاحب وفورِ جذبات میں آکر یہ بھی فرمادیتے تو آپ سوچیں کہ یہ ”لطیفہ“ گنیز آف ورلڈ ریکارڈ میں کس نمبر پر آتا؟۔

اپوزیشن کچھ بھی کہے لیکن ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے حالیہ دورہئ پاکستان نے ایک بات تو سب پر بالکل ہی صاف کردی کہ سعودی عرب کے پاکستان کے ساتھ دیرینہ تعلقات کسی شریف خاندان،چوہدری برادارن یاخان کی ”ذاتیات“ کے مرہونِ منت نہیں ہیں بلکہ پاکستان اور سعودی عرب کے مابین دوستی کا رشتہ دو مسلم ریاستوں کا ایک عظیم ترین رشتہ ئ اُخوت پر مبنی ہے۔ جس کی مستحکم بنیاد یں چودہ سو سال پہلے میرے آقا و مولا سرورِ کائنات حضرت محمد مصطفی ﷺ نے یہ ارشاد فرما کر رکھ دیں تھیں کہ ”مومن کے لیئے مومن کی مثال ایک عمارت کی ہے۔جس کے مختلف حصے ایک دوسرے کو مضبوط کرتے ہیں“]صحیح بخاری[۔ ہمارے لیئے بدقسمتی کی بات یہ رہی کہ چند مفاد پرست سیاستدان اِس حدیث کو یکسر فراموش کر بیٹھے اور گزشتہ کئی دہائیوں سے اپنی چرب زبانی سے عوام النّاس کو یہ باور کروانے کی ناکام کوشش کرتے آ رہے تھے کہ سعودی عرب کے پاکستان کے ساتھ مضبوط رشتہ دوستی کی اصل بنیادیں اُن کے نام نہاد”خاندانی تعلقات“ پر ٹکی ہوئی ہیں۔ شاید حکمرانی کے نشے میں وہ بھول بیٹھے تھے کہ سعودی حکمرانوں نے اگر اُن کے خاندان کو کسی مشکل وقت میں اپنے ”حلقہ ئ غلامی“ میں شامل کیا تھا تو وہ بھی صرف اور صرف اِس نسبت سے کہ وہ مملکتِ خداداد پاکستان کے حکمران تھے۔آج جبکہ اُن کے پاس یہ نسبت نہیں ہے تو اُن کی حیثیت ”مایوس تماشائی“ سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔

16 سال بعد بلادِ سعودی عرب کی طرف سے اہم ترین شخصیت کا دورہئ پاکستان کرنا، دونوں ملکو ں کی ریاستوں کے درمیان نئے فقیدالمثال تعلقات کانقطہ آغاز کہا جاسکتاہے۔ اِس دورے کے حاصل ہونے والے ثمرات میں فقط یہ دیکھنا کہ سعودی عرب سے پاکستان کو مالی مراعات کی مد میں کیا کچھ ملے گا ایک ثانوی حیثیت سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔ اصل چیز جوولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے دورے میں ہمارے لیئے باعثِ اطمینان اور ہمارے دشمنوں کو خائف کرنے کے کافی ہوگی۔ وہ یہ ہے کہ خطہ ئ عرب و عجم میں پاکستان اور سعودی عرب تاریخ میں پہلی بار باہم مل جُل کر وسیع پیمانے پر اپنی تجارتی و دفاعی سرگرمیوں کا ایک ساتھ آغاز کرنے جارہے ہیں۔جس میں معیشت،سیاحت، ادب و ثقافت، تعلیم اور عسکری و دفاعی محاذ سمیت کئی دیگر شعبہ جات میں دونوں ملکوں کے درمیان وسیع تر تعاون کا ایک نیا دَر کھلنے والا ہے۔صدشکر کہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور وزیراعظم پاکستان عمران خان یکساں طور پر اپنے اپنے ملک میں تبدیلی کا ایک روشن استعارہ بن کر اُبھرے ہیں۔نیز دونوں ہی دلی طور پرنہ صرف کرپشن کے خلاف ہیں بلکہ کرپشن کے خاتمہ کا عزمِ صمیم بھی رکھتے ہیں۔ اس لیئے شنید یہ ہی ہے کہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کا وژن 2030 اور پاکستان کے سی پیک پروجیکٹ کاایک دوسرے کی مدد کے ساتھ کامیابی سے ہمکنار ہونا،تمام عالمِ اسلام کی تقدیر بدلنے کے مترادف ہوگا۔

حوالہ: یہ کالم سب سے پہلے روزنامہ جرات کراچی کے ادارتی صفحہ پر 18 فروری 2019 کے اشاعت میں شائع ہوا

راؤ محمد شاہد اقبال

سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کا دورہ پاکستان” ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں