Imran Khan and Hassan Rohani

کاش اِس بار ایسا نہ ہو۔۔۔!

لمحہ فکریہ ہے کہ ایک عام مسلمان کو آج تک یہ بات سمجھ میں ہی نہ آسکی کہ آخر سعودی عرب اور ایران میں بنیادی تنازع اور جھگڑا کیا ہے۔کچھ لوگوں کے نزدیک یہ عرب اور عجم کی لڑائی ہے؟ چند لوگ اِس جھگڑے کو مذہبی اختلافات کا شاخسانہ قراردیتے ہیں؟ جبکہ کئی افراداِس لڑائی کو دو پڑوسی ممالک کی سرحدی جنگ سمجھتے ہیں؟ مگر مسلمانوں کے کچھ طبقات ایسے بھی ہیں جو دونوں ممالک کے اِس تنازع کو کاروباری رقابت قرار دے کر جلتی پر خوب تیل ڈالتے ہیں۔غرض جتنی منہ اتنی باتیں۔لیکن کس کی بات زیادہ درست ہے کچھ یقین سے نہیں کہا جاسکتا،ویسے ہونے کو تو یہ ہو سکتا ہے کہ اُوپر بیان کی گئی سب باتیں ہی درست بھی ہوں اور سعودی عرب وایران کے دیرینہ تنازع اور کشیدگی کا بنیادی سبب بھی ہوں۔بہر حال ایک چیز طے شدہ ہے کہ سبب جو بھی ہو یا نہ ہو لیکن اس حقیقت سے کسی طور مفر ممکن نہیں کہ دونوں ممالک کے تعلقات ہمیشہ سے ہی سخت کشیدہ چلے آ رہے ہیں اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اِس کشیدگی میں روز افزوں اضافہ ہی ہوا ہے کبھی کمی دیکھنے میں نہیں آئی۔ گو کہ ماضی میں کئی مسلمان ممالک خاص طور پر پاکستان کی طرف سے اِس کشیدگی کو ختم کروانے کے لیئے تواتر کے ساتھ چند مخلصانہ کوشش بھی کی جاتی رہی ہیں لیکن شومئی قسمت کہ یہ کاوشیں کبھی بھی نتیجہ خیز ثابت نہ ہوسکیں۔مگر تمام تر سفارتی ناکامیوں کے باوجود پاکستان کی یہ کوششیں اَب بھی پورے شد و مد کے ساتھ جاری ہیں۔ویسے تو بلادِ عرب میں تمام مسلمان ممالک اِس تنازع کو مزید گرم کرنے کے لیئے اسلامی سربراہی کانفرنس کے پلیٹ فارم تلے جمع ہورہے لیکن وزیراعظم پاکستان عمران خان اِس اُمید پر اسلامی سربراہی کانفرنس میں شرکت کے لیئے روانہ ہوئے تھے کہ سعودی عرب اور ایران کے تنازع کو پراَمن طور پر حل کروایا جاسکے۔پاکستان کی مثبت خواہش اپنی جگہ مگر نقارخانے میں طوطی کی آواز کسی کو سنائی دے جائے ایسا معجزہ تو ہونے والا نہیں حالانکہ سرزمین ِ عرب معجزوں کی سرزمین ہے پھر بھی جدید مسلمان رہنماؤں سے قدیم زمانوں کے معجزوں کی توقع کرنا، ایں خیال است،محال است و جنوں است۔

حیران کُن طور پر تنازع سعودی عرب اور ایران کے بیچ ہے لیکن اِس جھگڑے کا سارا فائدہ امریکہ بہادر اُٹھانا چاہتا ہے اور ایک ایران کو نشانہ بنا کر چین سمیت خطے کے کئی ممالک کو ٹھکانے لگانے کی اپنی پرانی خواہش پوری کرنا چاہتاہے۔خبریں گرم ہیں کہ امریکی بحری بیڑے بحریہ عرب کے پانیوں میں پہنچ چکے ہیں اور امریکہ کے بمبار طیارے فضاؤں میں گدھ کی مانند منڈلارہے ہیں۔اکثر تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ امریکہ کسی بھی وقت ایران پر لشکر کشی کر سکتا ہے بس اُسے کسی من پسند موقع کی تلاش ہے۔اَ ب دیکھنا یہ ہے کہ یہ موقع امریکہ بہادر کو کب ملتا ہے۔جب تک موقع نہیں ملتا اُس وقت تک تمام عرب و عجم مسلم ممالک کے پاس ٹائم ہی ٹائم ہے اَب چاہے تو وہ اِس وقت کو غنیمت جانتے ہوئے سعودی عرب اور ایران کے تنازع کا پراَمن تصفیہ کروادیں یا پھر ایک دوسرے کے خلاف الزامات سے بھرپور تقریریں کر کے اِس تھوڑے سے وقت کا بے دردی سے قتلِ عام کردیں۔



ہماراہ مشورہ ہے کہ اِس نازک ترین صورتحال میں ایرانی قیادت اور ایرانیوں کو بھی ٹھنڈے دل سے سوچنا چاہئے کہ اگر وہ واقعی امریکہ سے جنگ لڑ کر اُسے نیست و نابود کرنا چاہتے ہیں تو پھر اُنہوں نے اپنے میزائل،توپ اور جنگی طیاروں کا رُخ سعودی عرب کی طرف کیوں کیا ہوا ہے۔ کمال کی بات ہے کہ ایران میں نعرے امریکہ کے خلاف لگائے جارہے ہیں اور فضائی حملے کرنے کی حکمت عملیاں سعودی عرب کے خلاف بنائی جارہی ہیں۔اب ایران کو کون سمجھائے کہ سعودی عرب میں گرنے والے بم امریکہ میں نہیں پھٹیں گے بلکہ اِن سے معصوم اور بے گناہ مسلمانوں کا ہی خون بہے گا۔جبکہ دُکھ کی بات یہ ہے کہ ایران میں گرنے والے بموں سے بھی فقط مسلمان ہی لہولہان ہوں گے اور کسی امریکی کو خراش تک بھی نہیں آئے گی۔مجھے اچھی طرح یاد ہے جب امریکہ نے عراق پر حملہ کیا تھا۔ تب بھی ہم روز عراقی قیادت سے سنتے تھے کہ عراق کے پاس ایک مضبوط فوج اور جدید ہتھیاروں کا ایک بھنڈار ہے۔ عراقی دعوے سُن سُن کر مجھے امید چلی تھی کہ عراقی فوج بے شک امریکہ کے مقابل کمزور سہی مگر ایک بھرپور مزاحمت ضرور کرے گی۔ مگر ہوا کیا،آخر کار بس یہی خبریں سننے کو ملیں کہ امریکہ عراق کے فلاں علاقے میں گھس گیا اور کوئی مزاحمت نہ ہوئی۔ یوں ایک ایک کر کے امریکہ عراق کے تمام علاقوں میں گھس گیااور عراقی فوج اپنے جدید اسلحے سے کویت کی اینٹ سے اینٹ بجا کر یہ سمجھتی رہی تھی کہ امریکہ نیست و نابود ہورہا ہے۔حالانکہ عراق اور کویت میں بھڑکنے والی جنگی آگ کادھواں بھی امریکہ کی سرحدوں سے ہزاروں میل دور ہی کہیں تحلیل ہوگیا تھا۔اگر امریکہ کچھ پہنچا تھا تو وہ تھا عراق اور کویت سے لوٹا گیا قیمتی مالِ غنیمت۔

آج وہی خوش گمانیاں ایک بار پھر سے پھیلائی جا رہی ہے۔ جبکہ ہمارے اردگرد ایسے بیوقوفوں کی آج بھی کمی نہیں ہے جو سمجھتے ہیں کہ جب سعودی عرب اور ایران ایک دوسرے پر حملہ کریں گے تو امریکہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیئے نیست و نابود ہوجائے گا۔یاد رکھیں! بلادِ عرب میں شروع ہونے والی نئی جنگ کی آوازیں بھی امریکہ تک نہیں پہنچ پائیں گی لیکن دنیائے اسلام ضرور بالضرور آپس کی اِس لڑائی سے لر ز کر رہ جائے گی کیونکہ امریکہ کبھی بھی پہلا حملہ ایران پر کرنے کی بدنامی و رسوائی مول نہیں لے گا بلکہ وہ مسلمان ممالک کو ہی آپس میں ایک دوسرے کے خلاف لڑنے پر مجبور کردے گا اور جب یہ ممالک لڑ لڑ کے نڈھا ل ہوجائیں گے تو پھر عالمی اِمن قائم کرنے کے نام پر مالِ غنیمت لوٹنے کے لیئے اِن ملکوں میں اپنی فوجیں بہ حفاظت اُتار دے گا۔یہ امریکہ کا پرانا طریقہ وردات ہے جو کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔ مگر صد افسوس کہ مسلمان ممالک کی ذہنی افلاس میں مبتلا قیادت سب کچھ جانتے بوجھتے بھی ہر بار پوری دلجمعی کے ساتھ اپنے دشمن کے اِس جال میں باآسانی پھنس جاتی ہے۔کاش اِس بار ایسا نہ ہو اور سعودی عرب و ایران کے تنازع کا پرامن طور پر تصفیہ ہوجائے۔تاکہ عالمِ اسلام ایک نئی عالمی جنگ کا ایندھن بننے سے بچ جائے۔

حوالہ: یہ مضمون سب سے پہلے ہفت روزہ ندائے ملت لاہور میں 13 جون 2019 کے شمارہ میں شائع ہوا۔

راؤ محمد شاہد اقبال

اپنا تبصرہ بھیجیں