iT Review 2018

پُرزے مشین کے بھی اَدب بولنے لگے

 سنہ دو ہزار اٹھارہ میں کمپیوٹر اور انسان کے مابین ہونے والا زبردست علمی مباحثہ جوکہ کمپیوٹر کی جیت پر منتج ہوا، اور چینی نیوز چینل پر ایک مکمل ”ڈیجیٹل نیوز اینکر“ کے بالکل حقیقی انداز میں خبریں پڑھنے کے عملی مظاہرہ کو دیکھنے کے بعد پہلی بار انسان کو یہ احساس تو ضرور ہوا ہوگا کہ اس دنیا پر مشینیں بھی حکومت کرسکتی ہیں۔شاید اسی مناسبت سے ہی معروف شاعر بدر عالم خلش نے کہا تھا کہ ”سر پیٹتا ہے ناطقہ حیراں ہے آگہی۔۔۔۔۔پرزے مشین کے بھی ادب بولنے لگے“۔دلچسپ بات تو یہ ہے کہ جدید مشینی اختراعات پر انسان کا حقِ حاکمیت آہستہ آہستہ انتہائی کم ہوتاجا رہا ہے اوراپنے استعمال کے لیئے خریدے گئے آلات ہمیں کس بے دردی سے مسلسل استعمال کیئے جارہے ہیں اب تو یہ سوچنے کی بھی کسی کے پاس فرصت نہیں رہی۔ ویسے تو سائنس،انفارمیشن ٹیکنالوجی اور سوشل میڈیا کے میدان میں صرف ایک سال میں اتنی زیادہ تبدیلیاں رونما ہوجاتی ہیں کہ اُن کا مکمل احاطہ کرنے کے لیئے پور ایک نوری سال درکار ہے مگر پھر بھی اس قول کو فیصل سمجھتے ہوئے کہ ”مختصر ہی،سب سے پُر اثر ہوتا ہے“۔سال گزشتہ کا اجمالی جائزہ پیش خدمت ہے۔
سالِ گزشتہ دنیائے سائنس سے پہلی اچھی خبر یہ سننے کو ملی کہ اٹلی کے ماہرینِ طب نے نینو ذرات پر مشتمل ایک ایسا اسپرے بنایا ہے جو پھیپھڑے سے ہوتا ہوا براہ راست دل تک پہنچ سکتاہے۔ اس اسپرے میں شامل نینو ذرات دوا خارج کرکے ہارٹ اٹیک کی صورت میں دل کو پہنچنے والے نقصان کا مکمل طور پر ازالہ کردیتے ہیں، یعنی اس اسپرے میں صرف گہرا سانس لینے سے ہی دل کی مرمت ہوجاتی ہے۔نینو ذرات پر مشتمل اس اسپرے میں شامل نینو پارٹیکلز درحقیقت اتنے چھوٹے ہیں کہ وہ پھیپھڑوں کے اندر موجود خانوں میں جذب ہوکر خون میں شامل ہو جاتے ہیں اور یوں یہ ذرات سیدھا دل میں جاکر اندر دوا خارج کردیتے ہیں۔جس سے ہارٹ اٹیک سے بروقت بچاؤ ممکن ہوجاتا ہے۔نیز اکتوبر 2018ء میں آسٹریلیا کے ماہرینِ نفسیات نے ایک ایسا انگریزی فونٹ بنانے میں کامیابی حاصل کرلی جو حیرت انگیز طور پر انسانی یادداشت کو بہتربناسکتاہے۔”سانس فورگیٹکا“ نامی یہ فونٹ کچھ اس طرح تخلیق کیا گیاہے کہ اسے پڑھنے میں تھوڑا وقت لگتا ہے اور اسی بنا پر اس فونٹ میں پڑھی جانے والی تحریر دیگر فونٹ کے مقابلے میں تادیر یاد رہتی ہے۔ یہ فونٹ آسٹریلیا کی آر ایم آئی ٹی یونیورسٹی کی ویب سائیٹ پر مفت دستیاب ہے۔اس فونٹ سے وہ طالب علم مستفید ہوسکتے ہیں جنہیں سبق یاد کرنے میں دقت محسوس ہوتی ہو۔ دوسری جانب رائل سویڈش اکیڈمی کی طرف سے سال 2018 کے نوبل انعام برائے طبیعیات تین ایسے سائنسدانوں کو مشترکہ طور پر دینے کا اعلان کر دیا گیا،جنہوں نے لیزر پر مبنی ایجادات کے ذریعے شعبہ فزکس کو ترقی دینے میں کلیدی کردار ادا کیا۔جیرارڈ مورو اور ڈونا اسٹرکلینڈ نے لیزر شعاعوں کو اتنے کم اور مختصر رقبے پر مرکوز کرنے میں کامیابی حاصل کی، جس کے ذریعے خلیوں اور وائرس جیسے خردبینی جانداروں کو ”لیزر شکنجے“ میں جکڑکر انہیں تباہ کرنے سے لے کر علاج معالجے تک، کئی کام بخوبی انجام دینے ممکن ہوسکے۔ پس نوبل انعام برائے طبیعیات کی نصف رقم ان دونوں ماہرین طبعیات میں مساوی طور پر تقسیم کی جائے گی جبکہ آرتھر ایشکن کو نوبل انعام برائے طبیعیات کی بقایا نصف رقم کا حقدار قرار دیا گیا کیونکہ انہوں نے ”ایٹو سیکنڈ لیزر“ ایجاد کی تھی۔ سائنسی اصطلاح میں ایک ”ایٹو سیکنڈ“سے مراد ایک سیکنڈ کے ایک ارب ویں حصے کا بھی ایک ارب واں حصہ ہوتا ہے۔ ایٹو سیکنڈ لیزر کی بدولت سائنس کی دنیا میں اب وہ مشاہدات بھی ممکن ہوگئے ہیں جو اس سے قبل نا ممکن خیال کیئے جاتے تھے۔اس کے علاوہ سال2018 میں کیمیا کا نوبل انعام تین ایسے سائنسدانوں کو دینے کا اعلان کیاگیا جنہوں نے ارتقاء کے عمل کو انسان کا تابع بناتے ہوئے نت نئے اینزائمز، پروٹین اور دواؤں کے طور پر استعمال ہونے والے دیگر مرکبات تیار کیے۔ نوبل انعام برائے کیمیا کا نصف حصہ امریکی خاتون کیمیا دان فرانسس ہیملٹن آرنلڈ کو دیا جارہا ہے کیونکہ انہوں نے پہلی بار خامروں میں directed evolution عملی طور پر ممکن بنایا اور یوں نئی قسم کے حیاتیاتی کیمیائی مرکبات تیار کرنے میں کامیابی حاصل کی اورانعام کا بقیہ حصہ امریکا کے جارج اسمتھ اور برطانیہ کے سر گریگوری ونٹر میں مساوی تقسیم کیا جائے گا کیونکہ ان دونوں صاحبان نے ”فیج ڈسپلے“ نامی ایک تکنیک وضع کی، جس کے ذریعے خاص طرح کے ”فیج وائرس“ استعمال کرتے ہوئے مفید پیپٹائڈ مرکبات اور اینٹی باڈیز حاصل کی تھیں۔دلچسپ بات یہ ہے کہ ماہرِطبعیات ڈونا اسٹرکلینڈ،نوبل انعامات کی 118 سالہ تاریخ میں وہ تیسری خاتون ہیں جنہیں فزکس کا نوبل انعام حاصل کرنے میں کامیابی حاصل ہوئی۔

اگر انفارمیشن ٹیکنالوجی کی بات کی جائے تو کہا جاسکتاہے کہ سال 2018 ء آئی ٹی کے شعبہ میں کئی خوشگوار اور حیران کُن تبدیلیوں کی نوید لے کر آیا خاص طور پر کمپیوٹر کے میدان میں برتری کی جنگ اس برس بھی پورے زور و شور کے ساتھ جاری رہی اور دنیاکے طاقتور ترین سپر کمپیوٹر کو منظر عام پر پیش کرنے کا سہرا ایک بار پھر امریکہ کے سر سجا۔ امریکی محکمہ توانائی کے زیر انتظام اوک رِج نیشنل لیبارٹری (او آر این ایل) نے دنیا کا طاقتور ترین سپر کمپیوٹر مکمل کرکے پیش کردیا،جو ایک سیکنڈ میں دو لاکھ ٹریلین حسابی سوالات حل کرسکتا ہے۔یہ کمپیوٹر اوک رج لیبارٹری کے ٹائٹن منصوبے کا حصہ ہے جسے سمّٹ کا نام دیا گیا ہے۔ اس میں 4608 سرورز ہیں اور ہر سرور میں دو عدد 22 کور آئی بی ایم پاور نائن پروسیسر لگے ہیں جبکہ گرافکس کیلیے جدید ترین کارڈز اور پروسیسرز بھی لگائے گئے ہیں۔ اس کی میموری 10 پی ٹا بائٹ کی ہے اور ڈیٹا کو سنبھالنے کیلیے خاص بینڈ وڈتھ رکھی گئی ہے۔ اس کمپیوٹر سے جینیاتی تحقیق اور بیماریوں کو سمجھنے میں بھی مدد لی جاسکے گی۔دوسری جانب 2018 ء کے وسط میں یونیورسٹی آف مشی گن کے ماہرین نے چاول کے دانے سے بھی مختصر دنیا کا سب سے چھوٹا کمپیوٹر بنالیا، جس کی لمبائی اور چوڑائی 0.3 ملی میٹر ہے۔ اسے مائیکرو موٹے کا نام دیا گیا ہے۔یہ کمپیوٹر روشنی کی مدد سے آن یا آف ہوتا ہے۔ اس میں ڈائیوڈز کے ذریعے کیپیسٹرز کا سوئچ کھولا اور بند کیا جاتا ہے اور یہ معمولی بجلی استعمال کرتا ہے لیکن یہ چھوٹے سے علاقے میں معمولی سی تبدیلی بھی نوٹ کرسکتا ہے جن میں خلیات کے گوشے، صحت مند خلیات کے مقابلے میں قدرے گرم رسولیوں کی شناخت اور دیگر حساس امور انجام شامل ہیں۔اسی بنا پر اسے طبی آزمائش مثلاً کینسر اور جسمانی امراض کے لیے استعمال کیا جاسکتاہے۔ یہاں تک کہ اس کی مدد سے گھونگھے جیسے ایک چھوٹے کیڑے میں بھی بایو کیمیکل عمل کی شناخت کی جاسکتی ہے۔نیز 2018 میں ہی ایک امریکی کمپنی ”نمبس ڈیٹا“ نے دنیا کی سب سے زیادہ گنجائش والی ہارڈ ڈسک پیش کردی، جس میں ایک دو نہیں بلکہ پورے 100 ٹیرابائٹ جتنا ڈیٹا سما سکتا ہے۔ اس ڈسک کو ”ایگزا ڈرائیو“ کا نام دیا گیا ہے۔یادرہے کہ ایک ٹیرا بائٹ میں 1,024 گیگا بائٹ ہوتے ہیں، یعنی اس میں 102,400 جی بی جتنا ڈیٹا سماسکتا ہے، یعنی عام ہارڈ ڈسک کے مقابلے میں تقریباً 205 گنا زیادہ۔ اس ڈرائیو کو 3.5 انچ جسامت والی ایکسٹرنل ہارڈ ڈسک ڈرائیو کے طور پر تیار کیا گیا ہے۔اس کے علاوہ 2018 ء میں انٹرنیٹ جائنٹ کمپنی گوگل کو قائم ہوئے بیس سال بھی بیت گئے،لیکن گوگل کی سالگرہ کی خوشی کچھ اس لیئے ماند پڑ گئی کہ یورپین یونین نے گو گل پر اپنے اینڈرائڈ موبائل سافٹ ویئر کو مارکیٹ پر حاوی کرنے کی خاطر حریف سافٹ ویئر کے خلاف اقدامات کرنے پر 4عشاریہ 3 ارب یورو جرمانہ عائد کردیا۔یورپی یونین کی جانب سے اب تک کسی بھی کمپنی پر عائد کیا جانے والا یہ سب سے بڑا جرمانہ ہے جب کہ2017 ء میں بھی یورپی یونین نے گوگل پر جرمانہ عائد کیا تھا جو 2.3 ارب یورو تھا۔ بظاہر گوگل کو اس ریکارڈ جرمانہ کی ادائیگی نے ذرہ برابر بھی متاثر نہیں کیا کیونکہ کمپنی کے پاس اس وقت 645 ارب یورو کی ملکیت موجود ہے لیکن پھر بھی دنیا بھر میں گوگل کی کاروباری ساکھ ضرور متنازعہ ہوگئی۔



سوشل میڈیا کے لیئے 2018 ء کا سال انتہائی بُرا ثابت ہوا اورسوشل میڈیا پر اعتماد کرنے والے صارفین کی تعداد میں زبردست گراوٹ دیکھنے میں آئی۔سوشل میڈیا انڈیکس پر نظر رکھنے والی ایک برطانوی ویب سائیٹ کے2018 ء کے اختتام پر کیئے گئے سروے نتاتج کے مطابق ہر چار میں سے صرف ایک برطانوی سوشل میڈیا کو درست خبروں کے حصول کا ذریعہ سمجھتا ہے۔ تین کے خیال میں یہاں ملنے والی خبریں کُلی یا جزوی طور پر غلط ہوتی ہیں۔سروے کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ لوگ ایک بار پھر روایتی ذرایع ابلاغ کی جانب لوٹ رہے ہیں اور مصدقہ خبروں کے لیے نیوز چینل اور اخبارات سے رجوع کرنے لگے ہیں۔حیر ت انگیز طور پر دنیا بھر میں مقبول سوشل میڈیا ویب سائٹ ”فیس بک“ کی مقبولیت کا گراف تیزی سے نیچے آرہا ہے۔ 2018 ء میں فیس بک پر آنے والے وزیٹرز کی تعداد یعنی ”ٹریفک“ میں 50 فیصد تک کمی واقع ہوئی۔دو سال پہلے تک فیس بک پر وزٹس کی ماہانہ تعداد 8.5 ارب تھی جو 2018 کے وسط تک کم ہو کر 4.7 ارب ماہانہ رہ گئی۔ اس بات کا انکشاف ویب سائٹ ٹریفک پر نظر رکھنے اور تجزیہ کرنے والے آزاد پلیٹ فارم سمیلر ویب کی ذیلی ویب سائٹ ”مارکیٹ انٹیلی جنس ڈاٹ آئی او“ پر ایک تجزیہ نگار نے اپنے تازہ جائزے ”پیراڈائم شفٹ“ میں کیا ہے۔ جائزے کے مطابق ایک طرف فیس بُک پر آنے والے صارفین کی تعداد میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے جبکہ دوسری جانب یوٹیوب پر آنے والے افراد کی تعداد میں غیرمعمولی اضافہ ہوا ہے۔صرف یہ ہی نہیں 2018 کی پہلی سہ ماہی میں تحقیقی کمپنی کیمبرج اینالیکٹس کی جانب سے فیس بک کے 5 کروڑ صارفین کا ڈیٹا چرانے کا اسکینڈل منظر عام پر آنے کی منفی خبروں کی وجہ سے فیس بک کے کاروبار پر بھی انتہائی منفی اثرات مرتب ہوئے۔فیس بک کے بانی مارک زکربرگ کو ایک ہی دن میں بد ترین خسارے کا سامنا کرنا پڑگیا اور فیس بک شیئرز کی قیمت 119 ارب ڈالر تک گر گئی۔ جس کی وجہ سے فیس بک کے اثاثوں میں 16 ارب ڈالر تک کی کمی آگئی۔ سال ِ گزشتہ امریکی اسٹاک مارکیٹ میں ایک دن میں ہونے والی یہ سب سے بڑی گراوٹ تھی۔ اس کے علاوہ 2018 ء جاتے جاتے گوگل کی سوشل نیٹ ورکنگ سائیٹ،گوگل پلس کی موت کی خبر بھی سنا گیا۔گوگل پلس کو سات سال قبل فیس بک کا مقابلہ کرنے کے لیے لانچ کیا گیا تھا،لیکن اپنے لانچ سے اب تک گوگل پلس فیس بک کو ’ٹف ٹائم‘ نہیں دے سکی تھی۔گوگل کی جانب سے گوگل پلس کے بند کیے جانے کے حوالے سے جاری بیان میں اعتراف کیا گیا ہے کہ گوگل پلس صارفین کا ڈیٹا بڑے پیمانے پر ہیک کرلیا گیا تھا۔ یہاں تک کے صارفین کے ان باکس تک ہیکرز نے رسائی حاصل کرلی تھی۔ ہیکرز نے اس کام کے لیے مارچ 2018 میں ’بگ‘ کا استعمال کیا تھا تاہم اب بگ کو مکمل طور پر ختم کرلیا گیا۔تاہم گوگل پلس کو بگ سے آزادی دلانے کے باوجود اسے مکمل طور پر بند کرنے کا فیصلہ صارفین کی سطح پر کم توجہ ملنے کے باعث بھی کیا گیا ہے۔ گوگل انتظامیہ کا مزید کہناتھاکہ ہیکرز نے 5 لاکھ صارفین کا ڈیٹا ہیک کیا تاہم صارفین کے ڈیٹا کے منفی استعمال کے شواہد نہیں ملے ہیں۔

ٹاپ ٹرینڈز
2018 پاکستان میں رونما ہونے والے جو اہم ترین واقعات کے ٹرینڈ ٹاپ ٹین رہے اُن میں پہلے نمبر پر ہیش ٹیگ ”جسٹس فار زینب“ رہا۔قصور میں سات سالہ معصوم بچی زینب کو زیادتی کے بعد قتل کرنے کے واقعے پر سوشل میڈیا صارفین نے اپنے شدید دُکھ اور کرب کا اظہار کیا۔دوسرے نمبر پر پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی تیسری شادی ”مبارک عمران خان“ کا ہیش ٹیگ ٹوئٹر پر ٹاپ ٹرینڈ کرتا رہا۔کسی نے عمران خان کو مبارکباد دی تو کسی نے انکی تیسری شادی کو ہیٹ ٹرک کہا۔تیسرے نمبر پرپی ایس ایل فائنل کی وجہ سے کراچی سوشل میڈیا پر ٹاپ ٹرینڈ بنا رہا۔چوتھے نمبر پر پاکستانی فاسٹ باؤلر حسن علی کا واہگہ بارڈر پر خوشی منانے کا ”جنریٹر اسٹائل“ کا ہیش ٹیگ ٹوئٹر پر ٹاپ ٹرینڈ بن گیا۔چھٹے نمبر پر مئی کے پورے ماہ کراچی کی شدید گرمی ٹوئٹر پر ٹاپ ٹرینڈ کرتی رہی۔ساتویں نمبر پر ریحام خان کی کتاب ٹاپ ٹرینڈ بنی رہی۔آٹھویں نمبر پر ’ایون فیلڈ ریفرنس“کا ہیش ٹیگ دنیا بھر میں ٹاپ ٹرینڈ پر رہا جبکہ احتساب عدالت کی جانب سے شریف خاندان کے خلاف ایون فیلڈ ریفرنس کے فیصلے میں تاخیر نے نئی بحث کو جنم دے دیا۔ساتویں نمبر پر ”وزیراعظم عمران خان“ کا ہیش ٹیگ رہا۔نویں نمبر پر شعیب ملک اور ثانیہ مرزا کے گھر 8سال بعد ننھے مہمان کی آمد کی اطلاع کا ہیش ٹیگ ”بے بی مرزا ملک“ٹاپ ٹرینڈبنا رہا۔دسویں نمبر پر Begging# ٹاپ ٹرینڈ رہا۔ عمران خان کے دورہ چین کے موقع پر پی ٹی وی کی جانب سے خطاب کے آغاز میں اسکرین پر بیجنگ کے بجائے بیگنگ لکھ دیا گیا۔لفظ بیگنگ کے انگریزی میں معنی ”بھیک مانگنے“ کے ہیں۔تاہم اس غلطی کو چند سیکنڈز میں ہی درست کرلیا گیا تھا۔

حوالہ: یہ مضمون سب سے پہلے روزنامہ جنگ کے سنڈے میگزین میں 13 جنوری 2019 کے شمارہ میں شائع ہوا۔

راؤ محمد شاہد اقبال
Latest posts by راؤ محمد شاہد اقبال (see all)

اپنا تبصرہ بھیجیں