Tahir Ul Qadri Speech

سیاست دان کی ریٹائرمنٹ۔۔۔!

سمجھ میں نہیں آرہا کہ ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کے سیاست سے ریٹائرمنٹ لینے کے اعلان پر خوشی سے صفحہ قرطاس پر ہنستی مسکراتی لکیریں بناؤں یا پھر اُن کے اِس فیصلہ پر اپنے کالم میں ”تحریری افسردگی“ کا اظہار کروں۔سچ پوچھئے! تو دونوں کیفیتیں ہی بیک وقت اظہار کی متقاضی ہیں۔ ڈاکٹر محمد طاہر القادری کے سیاست سے اعلانِ ریٹائرمنٹ پر دلی مسرت تو کچھ اِس لیئے بھی ہے کہ آج تک پاکستانی سیاست میں کسی سیاست دان کو سیاست سے ریٹائرمنٹ لیتے ہوئے نہیں دیکھاکیونکہ ہمارے ملک میں سیاست کو ایک ایسا”مقدس پیشہ“سمجھا جاتا ہے جس کی ڈکشنری میں لفظ ریٹائرمنٹ درج ہی نہیں ہے۔ شاید اِسی لیئے ہمارے ملک میں ڈاکٹرز، اُستاد،انجیئنرز،بیوروکریٹ،جنرل،شاعر اور ادیب حتی کے دانشور بھی اپنی زندگی کے کسی نہ کسی حصہ میں آکر ریٹائر ہو ہی جاتے ہیں لیکن سیاست دان اپنے آپ کو ہمیشہ سے ”ریٹائرمنٹ“ کی علت سے محفوظ و ماموں گردانتے آئے ہیں۔ حد تو یہ ہے کہ بعض سیاست دانوں کو تو پاکستانی سیاست سے مرنے کے بعد بھی ”جبری ریٹائر“ نہ کروایا جاسکا۔ایسے مخدوش سیاسی حالات میں اگر کوئی سیاستدان، ملکی سیاست سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کردے تو ایک خوشی کا احساس ہونا بالکل فطری سا امر ہے کہ چلو بہت دیر بعد ہی سہی! لیکن پاکستانی سیاست میں کوئی تو ایسا دلاور سیاست دان پیدا ہوا جس نے سیاست سے سبکدوش ہو نے کا اعلان کرنے کا بھی حوصلہ فرمایا۔ لیکن دوسری طرف بقول پروین شاکر۔دل کو خوشی کے ساتھ ساتھ ہوتا رہا ملال بھی

یعنی ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کے سیاست سے اعلانِ ریٹائرمنٹ نے خوشی کے ساتھ ساتھ طبیعت میں ایک عجیب سی پژمردگی اور افسردگی کا احساس بھی پیدا کردیا ہے کیونکہ موصوف پاکستانی سیاست میں اعلیٰ تعلیم یافتہ،متوسط طبقے کے واحد ایسے غیر روایتی نمائندہ سیاست دان تھے۔جنہوں نے بغیر کسی سیاسی پلیٹ فارم کا حاشیہ بردار بنے فقط اپنی قوتِ گفتار کی بدولت میدانِ سیاست میں زبردست قسم کی کامیابیاں سمیٹیں۔یوں ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کے اعلانِ ریٹائرمنٹ سے جہاں پاکستانی سیاست میں مڈل کلاس طبقے کی کامیابی کی آخری اُمید بھی ہمیشہ ہمیشہ کے لیئے دم توڑ گئی،وہیں یہ بھی ثابت ہو اکہ واقعی موجودہ نظامِ سیاست میں متوسط اور پڑھے لکھے افراد کی قطعاً کوئی گنجائش باقی نہیں رہی۔



ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کے اندازِ سیاست سے لاکھ اختلافات رکھنا والا شخص بھی کم ازکم اُن کی اِس خوبی کا ضرور اعتراف کرے گا کہ وہ اپنے طرزِ سیاست سے پاکستان کے سیاسی اُفق پر کئی خوشگوار تبدیلیاں متعارف کروانے کا موجب بنے۔ مثال کے طور پر سیاسی جلسوں اور احتجاج میں خواتین اور بچوں کی ایک کثیر تعداد کو پنڈال تک کھینچ کر لانے کا اولین آغاز بھی اُن ہی کی سیاسی جماعت نے کیا۔ جبکہ سیاسی دھرنے کے دوران اپنے سامعین اور ناظرین کو مدلل انداز میں آئین ِ پاکستان کی مشکل ترین قانونی دفعات کے بارے میں آسان سے آسان اندازمیں آگاہی فراہم کرنے کا تمام تر سہرا بھی اُن ہی کے سر بندھتا ہے۔خاص طور پر آرٹیکل 62 اور 63 کے ایک ایک لفظ کو انہوں نے پاکستانی عوام کو پانی کی طرح ذہن نشین کروا کر عوامی گفتگو کا روز مرہ بنادیا۔اِس کے علاوہ پاکستان کے نیوز چینلز پر براہِ راست کئی کئی گھنٹوں تک بلاکسی کمرشل وقفہ کے نشر کی جانے والی سیاسی تقاریر کا اعزاز بھی فقط ڈاکٹر طاہرالقادری کی تقاریر کو ہی حاصل ہے۔ مگر دوسری جانب یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ پاکستانی سیاست میں فقیدالمثال کامیابیاں حاصل کرنے کے باوجود بھی وہ کبھی پاکستان کے کرپٹ سیاسی نظام کا حصہ نہ بن سکے۔افسوس کا مقام تو یہ ہے کہ وہ اپنی سیاست کی راہ میں جانیں قربان کرنے والے 14 مظلوم کارکنوں کو بھی تاحال انصاف دلوانے میں کامیاب نہ ہوسکے۔ یقینا ایسے فرسودہ نظامِ سیاست سے جس کے نزدیک ظالم اور مظلوم کے درمیان کوئی خطِ تنسیخ قائم کرنا ہی نہ ممکن ہوسکے،اُن کا ریٹائرمنٹ لینا ہی بنتا تھا۔

یاد رہے کہ پاکستان میں سیاسی نظام کی تبدیلی ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کی ایک دیرینہ آرزو تھی اور اپنے اِسی مقصد کے حصول کے لیئے ہی وہ عملی طور پر سیاست کا حصہ بھی بنے حالانکہ ابتداء میں ہی اُن کے کئی ہمدرد اورسیاست کے اسرارو رموز جاننے والوں نے انہیں بار بار سمجھانے کی کوشش کی تھی کہ سیاست کی پُر خار وادی کا مسافر بننے سے کہیں زیادہ بہتر ہے کہ وہ تعلیم و تبلیغ کے میدان میں اپنے کمالات دکھائیں اور ایسے بلند اخلاق لوگوں کی کھیپ تیار کرنے میں اپنی توانائیاں صرف کریں جو معاشرہ میں رہتے ہوئے خاموشی کے ساتھ اِس فرسودہ سیاسی نظام کی تطہیر کا باعث بن سکے۔لیکن ڈاکٹر طاہرالقادری نے اپنے ہمدردوں کے فصیح و بلیغ مشورہ کے مطابق فرد کی تبدیلی سے نظام کو تبدیل کرنے کے سہل راستے کو منتخب کرنے کے بجائے نظام کو تبدیل کرنے کے بعد معاشرے کو تبدیل کرنے کا مشکل اور کھٹن راستہ کا انتخاب کیا اور آخری نتیجہ سب کے سامنے ہے کہ آج ڈاکٹر طاہرالقادری کو مایوس ہوکر سیاست سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیئے ریٹائرمنٹ کا اعلان کرنا پڑرہا ہے۔اگر کوئی سمجھے تو یہ اعلان موجودہ کرپٹ سیاسی نظام کے خلاف ایک چارج شیٹ ہے۔

ڈاکٹر طاہرالقادری کے سیاست سے ریٹائرمنٹ کے فیصلے نے موجوہ سیاسی نظام کے حق میں رطب اللسان رہنے والے معزز دانشوروں کے سامنے کئی ضرور ی سوالات کو جنم دے دیا ہے۔مثلاً ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کے سیاست سے لاتعلقی اختیار کر لینے کے فیصلے سے کیا واقعی پاکستانی سیاست کے مزاج اور احوال پر کوئی فرق پڑے گا؟یا یہ کہ وزیراعظم پاکستان عمران خان جو کے کبھی خود بھی ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کے سیاسی کزن بھی ہوا کرتے تھے اِس فیصلہ سے اُن کے کانوں پر کوئی جوں رینگے گی؟اور کیا عمران خان اُن وجوہات کو کبھی جاننا چاہیں گے کہ آخر کیوں اُن کے سیاسی کزن کو اُن کے دورِ حکومت میں ہی سیاست کو الوداع کہنا پڑا؟۔ آخری اور سب سے اہم سوال تو یہ ہے کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کے ذمہ داران اگر عمران خان کی حکومت میں بھی اپنے قرار واقعی انجام تک نہ پہنچ سکے تو پھر ڈاکٹر محمد طاہرالقادری ماڈل ٹاؤن کے مظلوموں کا لہو کس کے ہاتھوں پر تلاش کریں گے؟۔بقول انور شعور
مباحثوں کا ماحصل فقط خلش، فقط خلل
سوال ہی سوال ہیں،جواب ایک بھی نہیں

حوالہ: یہ کالم سب سے پہلے روزنامہ جرات کراچی کے ادارتی صفحہ پر 26 ستمبر 2019 کی اشاعت میں شائع ہوا۔

راؤ محمد شاہد اقبال

اپنا تبصرہ بھیجیں